سوئٹزر لینڈ کی سمندری حدود اور جھوٹ کے پاؤں —— فرحان کامرانی

0

حال ہی میں ایک 17 یا 18 سال پرانی بھارتی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا، اس فلم کا نام ”اجنبی“ اور اس کے ہدایت کار عباس مستان ہیں۔ یہ فلم ایک عام سی سسپنس تھرلر فلم ہے مگر اس فلم میں چند باتوں سے کچھ بہت اہم انسانی فہم کی اغلاط کا پتہ چلتا ہے، اس فلم میں سوئٹزر لینڈ دکھایا جا رہا ہے، ایک منظر میں سوئٹزر لینڈ سے موریشس کے سفر کا تخمینہ فی فرد 25 ہزار امریکی ڈالر بتایا گیا ہے۔ یہ رقم آج بھی کسی بھی ملک کے سفر اور 5 دن کے قیام کے لیے بہت بڑی ہے لیکن جیسے یہ فرض کر لیتے ہیں یہ کوئی بہت ہی زیادہ لگژری، بہت ہی زیادہ رئیسانہ سفر ہوگا مگر اس کے بعد تو ایک ایسی بات اس فلم میں ہوئی کہ ہنس ہنس کے پیٹ میں بل پڑ گئے۔ فلم کے ولن کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ سوئٹزر لینڈ کے ساحل سے پانی کے جہاز میں سنگاپور جا رہا ہے، خیر فوراً اس جہاز پر ہیرو بھی پہنچ جاتا ہے۔ اب اس طرح کا مکالمہ آتا ہے کہ ”تھوڑی ہی دیر میں ہم سوئٹزر لینڈ کی بحری حدود سے نکل جائیں گے!“ اس مزاحیہ انکشاف پر ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی۔ جغرافیے کی کوئی بھی کتاب اٹھائیے (بلکہ اب کتابوں کی معذوری کب باقی رہی ہے) اور دیکھئے کہ سوئٹزر لینڈ کی سرحدیں کن ملکوں سے ملتی ہیں اور کہاں سے یہ ملک سمندر سے ملتا ہے۔ سوئٹزر لینڈ کے مشرق کی تھوڑی سی سرحد آسٹریا سے ملتی ہے جب کہ اس کے شمال میں جرمنی ہے، جنوب میں اٹلی اور مغرب میں فرانس۔ سوئٹزر لینڈ کا کوئی ساحل نہیں ہے، یہ افغانستان کی طرح ”لینڈ لاکڈ“ ملک ہے، پھر فرض کر لیجئے کہ آپ سوئٹزر لینڈ کو اٹلی ٹھیکے پر دے دیجئے تو اس طرح سوئٹزر لینڈ کو میڈیٹیرین سمندر تک راستہ مل جائے گا۔ اگر آپ یوں بھی کر لیں تو بھی سنگار پور جانا اتنا طویل سفر ہو گا کہ یہ چند ماہ لے گا۔ اب دنیا میں کروز شپ کبھی بھی اتنے لمبے سفر نہیں کرتے۔ یہ تو بہت بڑا سفر ہے، پاکستان سے سعودی عرب کا سفر تو اس سے بہت چھوٹا ہے مگر کئی دہائیوں قبل وہ بھی سمندری جہاز پر ہونا بند ہو گیا۔ ابھی بھی ساری دنیا میں پانی کے جہاز تو چلتے ہیں مگر وہ 95 فیصد تجارتی جہاز ہوتے ہیں۔

اس فلم میں موجود اِن دو اغلاط کا ایک خاص تناظر ہے۔ پہلی بات یعنی موریشس کے سفر کے بے پناہ قیمت دراصل دھونس دینے اور شان بگھارنے کی نفسیات سے برآمد ہوتی ہے۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ فلم ساز کو لگتا ہے کہ فلم کے ناظرین اس قدر غریب لوگ ہیں کہ وہ کون سا کبھی سوئٹزر لینڈ چلے جائیں گے اور وہاں سے موریشس کا سفر کریں گے؟ ویسے بھی جب کی یہ فلم ہے تب نہ تو ہوائی جہاز کے کرائے یوں فوراً انٹرنیٹ سے معلوم ہوتے تھے نہ ہی ہوٹلوں کے کرائے یا ٹور گائیڈز کی اجرتیں۔ آج آپ کراچی، لاہور یا دنیا کے کسی بھی کنارے پر بیٹھ کر سوئٹزر لینڈ سے موریشس کے پورے سفر کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں اور پورا بجٹ بنا سکتے ہیں۔ مگر جب یہ فلم بنی تھی تب یہ سب صرف محدود طبقہ جانتا تھا جو خود سفر کرتا رہتاتھا۔ اِسی بات کا فلم کے ہدایت کار نے فائدہ اٹھایا اور دھونس جما دی،۔ ’سڑکی‘ زبان میں کہیے تو ”بھرم مار دیا“ پھر سوئٹزر لینڈ کو سمندری حدود والی بات بھی دراصل اسی خیال سے برآمد ہوئی ہے کہ ہدایت کار کو لگتا ہے کہ فلم کے ناظرین کون سا کبھی سوئٹزر لینڈ جانے والے ہیں تو انہیں کیا پتہ چلے گا کہ سوئٹزر لینڈ کا ساحل ہے یا نہیں۔ اسی طرح سوئٹزر لینڈ سے سنگا پور کروز شپ بھیجنے کے پیچھے بھی ناظرین کا پست تصور کارفرما ہے۔ عباس اور مستان نے فلم بین کو نرا احمق سمجھ رکھا ہے جو جغرافیے تو کیا ’کامن سینس‘ سے بھی صریحاً عاری ہے۔ اِس فلم میں موجود ان چھوٹی چھوٹی اغلاط سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ انسان دوسروں کے پست تصور کی وجہ سے بڑی حماقت کر جاتا ہے۔جب کسی کو لگتا ہے کہ کچھ بھی کہہ دو، دوسرا کب تحقیق کرنے والا ہے؟ یا یہ کہ دوسرا کب اس بات کو جان سکتا ہے؟ یا کون اتنا غور کرے گا؟ یا کس کو یہ بات یاد رہے گی؟ بہت سے جھوٹے اسی منطق سے کچھ بھی بول جاتے ہیں۔

ہمارے ایک عزیز ایک عرصے تک امریکا میں مقیم رہے اور وہاں کی شہریت لے لی۔ پھر واپس وطن آئے۔ آپ اکثر اپنی کتب کی بابت گفتگو فرمایا کرتے کہ جب آپ نے وطن کو خیرباد کہا تھا تو آپ کے پاس بے پناہ کتب تھیں جو ایک بڑے سے شلف میں محفوظ تھیں اور وہ شلف اب انکے ماموں کے گھر میں رکھا ہے۔ وہ اکثر اُس میں موجود کتب کے بابت بتاتے۔ کوئی کسی کتاب کا ذکر کرے تو وہ فرماتے کہ انہوں نے وہ کتاب پڑھ رکھی ہے اور اُن کے اُس کتب کے شلف میں محفوظ ہے جو ان کے ماموں کے گھر میں امانتاً رکھا ہے۔

ایک روز انہوں نے میرے ہاتھ میں ’مقدمہ ابن خلدون‘ دیکھی تو بولے کہ صرف مقدمہ ابن خلدون ہی نہیں بلکہ تاریخ ابن خلدون کی 10 جلدیں بھی ان کے شلف میں محفوظ ہیں۔ یہ 2004ء کی بات تھی۔ 2009ء میں وہ صاحب مکمل طور پر پاکستان منتقل ہو گئے اور میں اُن کے گھر گیا۔ اُن کے گھر میں ایک کمرے میں ایک تین فٹ اونچا اور تین فٹ چوڑا قدیم شلف پڑا تھا۔ میں نے اُس کی چند کتب اٹھائیں تو ہر کتاب پر اُن ہی صاحب کے دستخط موجود تھے اور تاریخی 80ء اور 90ء کی دہائی کے اوائل کی تھیں۔ میں سمجھ گیا کہ یہی وہ عظیم تاریخی شلف ہے جس کے قصیدے میں نے 2004ء میں سنے تھے۔ اب میں نے اُس ’عمرو عیار‘ کی زنبیل میں ’ابن خلدون‘ کو تلاش کرنا شروع کیا تو مجھے اس میں ’ابن صفی‘ اور ’ابن انشاء‘ کے علاوہ کچھ نہ ملا۔ خیر میرے محترم عزیز اُس وقت اُس کمرے میں داخل ہوئے تو میں نے اُن سے پوچھا کہ یہ وہی شلف ہے جو آپ کے ماموں کے یہاں تھا، وہ چونک گئے اور بولے کہ ”’ہاں یہ وہی ہے مگر تم کو کیسے پتہ چلا کہ میرا شلف ماموں کے یہاں تھا؟“ میں مسکرایا اور سمجھ گیا کہ موصوف یہ بھی بھول چکے ہیں کہ وہ اس شلف کی کس قدر دھونس ہم پر جما چکے ہیں۔

دوسروں کا پست تصور رکھنے والے ایسے مواقع پر بہت برُے پھنستے ہیں اسلئے کہ تین فٹ کا شلف ’محمود حسین لائبریری‘ نہیں بن سکتا۔ اسلئے کہ سمندر کھسک کر سوئٹزر لینڈ میں داخل نہیں ہو سکتا اور اسلئے بھی کہ آج جو معلومات حاصل کرنا مشکل ہے، کل اُسے حاصل کرنا بالکل سہل ہو سکتا ہے۔ وقت بدل سکتا ہے اور وقت بدلتا ہے مگر جھوٹ کے پاؤں تو آج کی تاریخ میں بھی نہیں ہوتے تو وہ کل تک ساتھ کیوں دے گا؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20