بزرگی بہ شکل است: سعود عثمانی ——– ڈاکٹر اشفاق احمد ورک

0

آج اپنے ماضی پہ سرسری سی نگاہ بھی دوڑاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ پوری زندگی مسائل، مایوسیوں اور مولویوں سے بھری پڑی ہے۔ بچپن میں متعدد بار ایسا ہوا کہ میری کسی بات یا حرکت پر آس پڑوس کی کوئی خاتون کہہ اُٹھتی: ’’توبہ توبہ اس کے تو پیٹ میں داڑھی ہے۔‘‘

معلوم نہیں وہ داڑھی آج تک پیٹ سے باہر کیوں نہیں آ سکی؟ شاید ہمارے ہاں مولوی کے موجودہ تصور سے خوف زدہ ہے، لیکن اتنا ضرور ہوا ہے کہ اندر کی وہ داڑھی باہر کی داڑھی سے میچ Match ہو گئی ہے کہ آج مزاج کی فریکوینسی جہاں بھی ملتی ہے، وہ آگے سے مولوی ہی نکلتا ہے۔ یہ سلسلہ میرے زمانۂ طالب علمی میں پروفیسر عبد الجبار شاکر اور شیخ ظفر اقبال سے شروع ہوا تھا وہ دن اور آج کا دن۔

میں حدودِ مولوی سے باہر نہ جا سکا

کسی دیدۂ بینا کا خیال ہے کہ عام سے عام آدمی کی زندگی میں بھی تین مواقع ضرور آتے ہیں جب وہ مرکزِ نگاہ ہوتا ہے، یعنی پیدائش، شادی اور موت۔ ذرا غور فرمائیں ہمارے ہاں ان تینوں مواقع پر حضرت مولوی پوری طرح قابض ہے۔ ہماری زندگی میں بھی بات تین مواقع تک ہی رہتی تو قابل مذکور نہ تھی مگر یہاں تو قدم قدمر پر کوئی نہ کوئی مولوی یوں کھڑا ہے جیسے متنازعہ پلاٹ کا قبضہ لینے آیا ہوا ہے۔ حکیم جی تو مجھے کئی بار خوشخبری سنا چکے ہیں کہ ’’میاں تمہاری آدھی بخشش تو ان مولویوں کی وجہ سے ہو جائے گی‘‘۔ ساتھ وہ یہ وضاحت بھی کرتے ہیں کہ ’’ان کی محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کو برداشت کرنے کی وجہ سے‘‘۔

کالج سے یونیورسٹی پہنچا تو جماعتی مولویوں کی محبت میں دوسروں کو بھائی کہنے کی عادت اتنی راسخ ہو گئی کہ کئی بار گھر آکے والدہ کو بھی امی بھائی کہہ دیا کرتے تھے۔ پھر یہ سلسلہ یونیورسٹی میں ڈاکٹر تحسین فراقی، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی، پروفیسر مرغوب حسین طاہر، ’’سیارہ‘‘ کے حفیظ الرحمان احسن، سیالکوٹ میں اسلم قریشی اور شیخوپورہ میں پروفیسر افضل علوی، ڈاکٹر حسن کلیم، نور محمد اولکھ اور ایچ سی ایم کے جاوید سندھو سے ہوتا ہوا سعود عثمانی تک آن پہنچا ہے۔

سعود عثمانی سے میری ملاقاتوں کا سلسلہ زیادہ طویل نہیں ہے، پھر بھی دیکھتے ہی دیکھتے خلوص اور محبت کا یہ تعلق پاکستانی روپے میں خسارے کی طرح بڑھتا ہی چلا گیا ہے مگر اب ہمارے اس میل ملاپ کے بیچ میں اپنے ہی یار دوست ظالم سماج کی طرح کھڑے ہو گئے ہیں کہ جب سے ان کی کتاب چھپی ہے وہ مجھے ان پر قلم اُٹھانے پر اس طرح اُکساتے رہے ہیں جیسے کسی شکاری کو ترغیب دی جاتی ہے کہ میاں بندوق سنبھالو نیا شکار آیا ہے۔

پھر مجھے بھی خوش فہمی تھی کہ ایک نظر ان کا کلام پڑھوں گا، ان سے دو چار ملاقاتیں ہوں گی اور چڑھا دوں گا قلم کو کمان پر۔ یہ تو بہت بعد میں کھلا کہ جس طرح تصوف کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ خود صوفی کی ذات ہوتی ہے، بالکل اسی طرح ان کا خاکہ لکھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی دونوں چیزیں ہیں۔ سو میں نے پورے دس روز تک نہ ان کی کتاب کو ہاتھ لگایا ہے اور نہ ان سے ہاتھ ملایا ہے، تب کہیں جا کے اس قابل ہوا ہوں کہ ان کے بارے میں قائم آہنی امیج میں شکوک و شبہات کا تھوڑا بہت زنگ لگا سکوں۔ وگرنہ تو ان کی شرافت، خلوص اور محبت کے کانٹے اتنے نوکیلے ہیں کہ پلک جھپکتے میں خاکہ نگاری کے غبارے سے ساری ہوا نکال کے رکھ دیتے ہیں۔

سعود عثمانی کا نام سب سے پہلے میں نے ارشد نعیم کی زبان سے سنا تھا۔ نام سنتے ہی ذہن میں جو تصوراتی ہیولہ قائم ہوا وہ ایک بزرگ کا تھا۔ بعد میں ادارہ اسلامیات پر پہلی ملاقات ہوئی۔ چہرے پر گھمبیر اور پرعزم داڑھی، سر پر سفید ٹوپی، عمر میں گڑ بڑ، پہلا تاثر مزید گہرا ہو گیا۔ پہلی بار ان کا کلام میں نے ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب کے ساتھ ’’دریچہ‘‘ کے زیر اہتمام منائی جانے والی شام میں سنا۔ کلام میں پختہ کاری، ٹھکے ہوئے مصرعے، مفہوم و معانی کی کئی کئی پرتیں اور پڑھنے کا وہی استادانہ رنگ، میں ان کی بزرگی پہ آنکھیں کھول کے ایمان لے آیا۔ پھر کبھی کبھی تو یہ اپنی دکان پہ بھی اتنے سنجیدہ ہو کے بیٹھے ہوتے ہیں کہ اپنے ہی بڑے بھائی لگنے لگتے ہیں۔ آپ میرے ان بیانات کو مزاح نگاری ہرگز نہ سمجھئے، ابھی تو ان کی بزرگی کے اتنے مزید ٹھوس ثبوت تلاش کیے جا سکتے ہیں کہ یہ حفیظ جالندھری کا معروفِ زمانہ مصرعہ گنگنانے کے قابل بھی نہ رہیں گے۔

کتاب پر چھپی تصویر میں اگرچہ عمر کے بارے میں انہوں نے خاصی مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے۔ اس تصویر کو دیکھ کے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ ان کی عمر ہماری فلمی ہیروئن ک خود بتائی ہوئی عمر سے بھی کم ہو گی مگر ان کے حلیے، شرافت اور کلام کے معیار کو دیکھ کے تو ان کی بزرگی پہ بیعت کرتے ہی بنتی ہے۔ ویسے بھی حکیم جی کا خیال ہے کہ ’’بزرگی بہ شکل است نہ بسال‘‘۔ ان کے سب سے بڑے حمایتی لالہ بسمل میرے دلائل کے جواب میں اپنی ساری کوششوں اور تحقیق کے باوجود ان کی جوانی کا صرف ایک ہی ثبوت پیش کر پائے ہیں کہ ’’مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا‘‘۔ اپنے اس بیان کی تائید میں وہ جیب سے یونانی دوائوں والا رنگین اشتہار نکال کے دکھانا بھی اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

خاکہ نگار جب بھی اپنا نیا شکار چُنتا ہے اس کی حتی الوسیع کوشش ہوتی ہے کہ مطلوبہ شخصیت کی زیست کے چند نرم گرم گوشے جلد از جلد تلاش کر لیے جائیں۔ اس کی نجی زندگی میں گمراہی کا کوئی نہ کوئی روشن دان ڈھونڈ لیا جائے یا کھول لیا جائے، کیونکہ ایسی کوئی کھڑکی کھلی مل جائے اور اس میں تھوڑا بہت خاکہ نگار کا خُبثِ باطن شامل ہو جائے تو سبحان اللہ، خاکہ لکھنے کا مزا آ جاتا ہے۔ سعود عثمانی کا خاکہ لکھنے سے قبل میں ان کے شاعر ہونے کی بنا پر خاصا پُرامید تھا۔ اسی اُمید پہ میرے تخیل نے ان کی شخصیت اور شاعری کی خوش رنگ عمارت کے گرد خوش گمانیوں کے بہت گھوڑے دوڑائے مگر ہر بار بچپن میں سنی ہوئی وہ پہیلی سامنے آن کھڑی ہوتی کہ:

چونے گزمسیت تے بوہا کوئی وی ناں

ہم نے ایک بار پھر سوچ لیا کہ خاکہ بھی ہمیں ان کی شخصی معاونت اور کردار کی رنگینیوں کے بجائے محض ذاتی تجربے کے زور پر لکھنا ہو گا۔ حکیم جی تو ایسے مواقع کی ٹوہ میں رہتے ہیں۔ ہمیں پریشانی میں دیکھ کے ان کو بڑی روحانی مسرت ہوتی ہے۔ اس بار بھی ہماری مشکل کو بھانپ کر اندر ہی اندر نہال ہوتے ہوئے یوں گویا ہوئے:

’’اور لگائو ان بلیک اینڈ وائٹ لوگوں سے یاریاں! اور سر پکڑے بیٹھے رہو۔ میں نہ کہتا تھا کہ تحسین فراقی کے بجائے عتیقہ اوڈھو کا خاکہ لکھو، سعود عثمانی کی جگہ سعود اور میرا پہ زورِ قلم صرف کرو، تن کی مراد پائو گے۔ شہرت اور رنگینیاں یوں تمہارا پیچھا کریں گی جیسے پولیس شریف آدمی کا کرتی ہے۔ اب پکائو سا گودانے کی کھیر۔‘‘

Image result for سعود عثمانی"سعود عثمانی کے مزاج اور شخصیت میں نستعلیقیت کا شیرہ اتنا گاڑھا ہے کہ عام لوگ تو محض اسی وجہ سے ان کے حلقۂ احباب میں آنے سے گھبراتے ہیں۔ پھر نام ایسا ہے کہ جس کے درست مخرج کے لیے حلق کے پائوں پکڑنا پڑتے ہیں۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ حلق کے لیے ’’عین‘‘ کی ادائیگی تو پاکستان کے لیے قرضے کی ادائیگی کے مترادف ہے۔ اب جتنے ’’ع‘‘ ان کے نام میں ہیں اتنے تو اُردو حروفِ تہجی میں بھی نہیں۔ اوپر سے کتاب کا نام بھی رکھا تو اس ’’قاف‘‘ کے ساتھ کہ جسے حلق کے ذریعے سر کرنا کوہ قاف سر کرنے کے برابر ہے۔

اور پھر یہ بھلا کیا دوستی ہوئی۔ احترام و مروت میں لتھڑی ہوئی، تقدس و عقیدت سے شرابور، تکلف و تردّد کی ماری ہوئی کہ ان سے میڈونا کا بھی ذکر کرنے لگیں تو ان کی شکل دیکھ کے منھ سے مدینہ نکل جاتا ہے۔ کوک شاستر پہ تبصرہ کرتے ہوئے ان پہ نظر پڑ جاتے تو بات پکی روٹی پہ جا کے ختم ہو جاتی ہے۔

حساب کتاب اور رکھ رکھائو کا یہ عالم ہے کہ گھر میں بچوں کو شرارتیں بھی شیڈول کر کے دی ہوئی ہیں۔ کبھی کبھی وسعت نظری اور کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچوں کو آگاہ کرتے ہیں:

’’دیکھو! آج پونے تین بجے تم چار نمبر والی شرارت کر لینا اور ہاں چھوٹے تم بھی خوش ہو جائو، اگلے ہفتے اسی وقت شرارت کی تمہاری باری ہے، شرارت کا نمبر تمہیں بعد میں بتا دیا جائے گا۔‘‘

اوپر سے ان کے بچے بھی اتنے سمجھ دار اور شریف ہیں کہ انہیں تمام شرارتوں کی سزائیں منھ زبانی یاد ہیں، یہ انہیں جب بھی کسی شرارت کا موقع عطا کرتے ہیں، بچے انگلیوں پہ جزا و سزا کا حساب کر کے چپکے ہو رہتے ہیں۔

یہ سعود محض ان کے نام ہی کا حصہ نہیں بلکہ ان کی شخصیت، شہرت، شاعری اور کاروبار بھی روز بروز سعودی منازل طے کرتے چلے جا رہے ہیں۔ نزول ان کے ہاں کلام کے علاوہ زندگی کے اور کسی شعبے میں نظر نہیں آتا۔ گھاٹے کے سودے سے تو یہ اس قدر گریزاں ہیں کہ غزل میں نقصان کا قافیہ تک باندھنا گوارا نہیں کیا۔ اس وقت یہ لاہور کے سب سے بڑے تجارتی مراکز انارکلی اور مال روڈ کے سنگم پر ایک بہت بڑے کتابی ادارے کے مالک بھی ہیں اور اسے چلا بھی رہے ہیں مگر ہر آئے گئے سے اتنے خلوص، مروت، عاجزی اور انکساری سے پیش آتے ہیں جیسے پتوکی کے دکاندار ہوں یا چوری کا مال بیچ رہے ہوں۔

شروع شروع میں جب ان کے گھر والوں نے اچھے بھلے کاروبار میں شاعری کو ٹانگ اڑاتے دیکھا۔ وہ پہلے تو اسے انارکلی کی رنگینیوں کا کرشمہ سمجھے کیونکہ جتنا انارکلی کے یہ قریب ہیں اتنا تو شہزادہ سلیم بھی نہیں تھا۔ جس کے ازالے کے لیے شاعر کو انارکلی کی بغلی گلی کے ایک تنگ و تاریک حجرے میں جا قید کیا مگر انہیں جلد ہی احساس ہو گیا کہ ’’زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی‘‘ تو انہوں نے انارکلی سے مناسب فاصلے پر ’’دہلی ہائوس‘‘ کے نام سے ایک نیا قفس خریدا اور دھرتی سے ان کا ناطہ توڑنے کے لیے دفتر کے بہانے دوسری منزل پہ جا بٹھایا مگر مات ایک بار پھر گھر والوں ہی کی ہوئی کہ شاعر کا موجودہ ٹھکانہ میکدہ شاعری (پاک ٹی ہائوس) سے گھوڑے اور مہمیز کے فاصلے پر نکلا۔ ان کے گھر والوں سے تو ٹی۔ وی انتظامیہ والے سیانے ہیں جو رات کو اس وقت تک مشاعرہ نشر کرنے کا رِسک نہیں لیتے جب تک کسی ایک بھی تندرست آدمی کے جاگنے کا امکان موجود ہو۔ نتیجہ یہ کہ سعود عثمانی کا معاملہ کلام سے کتاب تک جا پہنچا۔

Image result for سعود عثمانی"ان کی کتاب اپنے ظاہر و باطن کے اعتبار سے اتنی مکمل اور متنوع الجہات ہے کہ اسے چھیل جھبیلے محبوب سے لے کر نک چڑھے واعظ اور ناصح تک کو تحفے میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کے پیچھے چھپی تصویر میں چہرے کے تل کو اس قدر نمایاں کیا گیا ہے کہ مجھے تو یہ نوشی گیلانی کے تل کا جواب لگنے لگا ہے۔ کسی صاحب نے ان کی شاعری پہ بڑی خوبصورت بات کی ہے کہ ان کی کتاب کو کہیں سے بھی کھول کے پڑھا جاسکتا ہے وگرنہ ہمارے ہاں چھپنے والی پچانوے فیصد کتابیں ایسی ہیں کہ جن کو کہیں سے بھی کھول کے بند کیا جا سکتا ہے بلکہ ان میں بہت سے شعر ہولڈر تو ایسے بھی ہیں جن کا کلام پڑھ کے بند کروانے کا زیادہ دھیان کتاب کی بجائے شاعری کی طرف جاتا ہے۔

ان کا گھر ’’زکی ہائوس‘‘ سمن آباد میں ڈاکٹر سیّد عبد اللہ کے پڑوس میں واقع ہوا کرتا تھا اور ایک زمانے میں اسی گھر میں ایم۔ اے اُردو کی کلاسز بھی ہوتی رہی ہیں۔ اس حساب سے سعود عثمانی اہل زبان ہی نہیں اُردو کے ہائوس میٹ بھی ہیں۔ آج اسی وساطت سے اس علاقے کا نام ’’اُردو نگر‘‘ ہے اور یہ اب تک اسی اُردو نگر میں رہتے ہیں۔ ان کا کلام اور گفتگو سن کے اندازہ ہوتا ہے کہ اُردو ان کے گھر سے پھیل کے محض ایک ظاہری علاقے تک ہی محیط نہیں ہوئی، بلکہ اُردو کی ایک دلکش بستی ان کے اندر بھی پوری آب و تاب کے ساتھ بس چکی ہے۔

مشفق خواجہ ہمارے بڑے معروف دانشور، نقاد اور محقق ہیں۔ مختلف ادبا و شعرا کے بارے میں ان کے چٹپٹے فقرے ضرب الامثال کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے ایک بار کسی نوجوان شاعر کی خوبصورت گیٹ اپ کے ساتھ چھپی کتاب کے بارے میں ایک بڑا ظالم فقرہ لکھا تھا کہ ’’نوے گرام کے کاغذ پہ بیس گرام کی شاعری چھپی ہے۔‘‘ بڑ بے رحم تجزیہ تھا اور اس سے بھی دلفریب فقرہ۔ پتہ نہیں اس رائے کے بعد نئی اُردو شاعری کو کس کی نظر لگ گئی کہ وہ ایک عرصے تک تھوڑے بہت فرق کے ساتھ اسی فقرے کے گرد گھومتی دکھائی دی۔ میں نے جب سے اُردو شاعری کے آسمان پہ سعود عثمانی کی ’’قوس‘‘ کا مشاہدہ کیا ہے۔ میرا بڑا جی چاہتا ہے کہ میں مشفق خواجہ صاحب کو مخاطب کر کے کہوں کہ خواجہ صاحب آنکھیں کھولیے اور دیکھیے کہ سو گرام کے کاغذ پہ ہزار گرام کی شاعری چھپی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سُرورِ عنبر دست ۔۔۔۔۔۔۔۔ آبِ گم کے بشارت (مسرت علی سرورؔ) پر ڈاکٹر اسلم فرخی کا خاکہ
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20