پاکستانی فلمیں جو ہم نے سینما ہال میں دیکھیں — اظہر عزمی

0

ٹی وی والے گھر میں فلم دیکھنے کون کون آتا؟

(ایک اشتہاری کی باتیں)

کوئی بہت ہی بڑا عابد و زاہد ہی ہوگا جو یہ کہہ دے کہ اس نے بچپن میں کوئی فلم ہی نہیں دیکھی۔ پہلے پی ٹی وی پر اتوار کو دوپہر میں پاکستانی فلم آتی تھی جس کے لئے پہلے سے تیاریاں مکمل کر لی جاتیں۔ فوتگی کے علاوہ ہر پروگرام بعد کے لئے رکھ لیا جاتا۔ اکثر گھروں میں دوپہر کا کھانا پہلے ہی پکا لیا جاتا۔ گھر گھر ٹی وی نہیں تھا۔ اس لئے جس جس گھر میں ٹی وی ہوتا ہے۔ اس گھر کی عورتیں گھر کی اوپری صفائی پر دھیان دیتیں اور آنے والیوں کی اندورنی نظروں پر نظر رکھتیں۔

فلمیں دیکھنے کی شوقین لڑکیاں اور عورتیں جس عورت کے گھر ٹی وی ہوتا اس سے دوستی گانٹھ لیتیں۔ چھوٹے موٹے سلائی کڑھائی کے کام بھی کردیا کرتیں اور ساتھ ساتھ سنا بھی دیتیں “ارے اس گھر کو تو ہم اپنا ہی گھر سمجھتے ہیں”۔ یہ تو چھوڑیں خاندان کے وہ رشتہ دار جو مہینوں سالوں میں منہ دکھاتے وہ بھی اتوار کو نہ صرف اپنا منہ لے آتے بلکہ دوپہر کا کھانا منہ تک بھر کے تناول کرتے

جہاں ٹی وی رکھا ہوتا اس کی اتوار کے لئے وی آئی پی صفائی ہوتی۔ گھر والی صفائی کرتے ہوئے بڑبڑاتی جاتی”ایک تو شیطان کی آنت ٹی وی کیا گھر میں آیا ہے۔ روز روز کوئی نہ کوئی بہانے بہانے سے ڈرامہ دیکھنے چلا آتا ہے۔ گھر نہ ہوگیا سینما گھر ہوگیا”۔ بات صحیح تھی شام سے رات تک کوئی نہ کوئی ٹی وی والے گھر میں آدھمکتا۔ یہ میں آپ سے 70 کی دھائی کی باتیں کر رہا ہوں۔

ٹی وی والے گھر کی عورت صفائی ستھرائی کرتی تو دوسری طرف فلم دیکھنے کے لئے آنے والی بچیاں ٹافیاں، سپاریاں اور دیگر چیزیں رات یا پھر صبح صبح خرید کر رکھ لیتیں کہ فلم دیکھتے ہوئے چپکے چپکے کھائیں گے۔ سہلیاں کوشش کرتیں کہ ساتھ ساتھ بیٹھیں اور جہاں موقع ملے کھی کھی کرتی رہیں، ڈانٹ کھاتی رہیں۔ بچے اور جوانوں کے لئے نیچے سفید یا کسی اور رنگ کی چادر بچھا دی جاتی۔ بڑی عمر کے مرد و خواتین کرسیوں اور صوفہ پر براجمان ہوتے۔ ٹی وی کی گھر والی فلم سے زیادہ یہ دیکھتی کہ آنے والی عورتوں (جن میں سے دو ایک آگ لگاوا ہوتیں) میں سے کس کی نظر گھر کے کس حصہ پر ہے کیونکہ وہ جانتی تھی کہ فلم کے بعد اس کے گھر کی ایک فلم چلنی ہے جس میں اس کے پھوڑپن کو فلم کی بڑی اسکرین کی طرح بڑھا چڑھا پیش کیا جائے گا۔

فلم دیکھنے بھی بڑے ڈرامے ہوتے۔ ہیروئن پر کوئی ظلم ہو رہا ہوتا تو ہیروئن سے زیادہ دیکھنے والیوں کا حال پروین شاکر کے اس مصرعہ جیسا ہوتا

اور ہم نے روتے روتے دوپٹہ بھگو لئے

اسی طرح قہقہہ بھی خوب نکلتے۔ ایسے میں چھوٹی لڑکیوں کو عورتیں چٹکیاں نوچتیں۔ اگر وہ تب بھی نہ مانتیں تو کوئی بڑی عمر کی عورت ڈانٹتے ہوئے کہتی “بڑی بے کہنے کی ہوتی جارہی ہیں یہ لڑکیاں۔ اب اگر کوئی ہنسی تو ساری بتیسی نکال کر رکھ دوں گی”۔ فلم میں اگر اس وقت کے حساب سے کوئی ایسا ویسا منظر آجاتا تو بزرگ پہلو بدلنے لگتے یا پھر کھنکھارنے لگتے۔ اب تو خیر زمانہ ہی بدل گیا جو کچھ فلموں میں اب دکھایا جا رہا ہے، اس وقت کے بزرگ ہوتے تو ٹی وی ہی توڑ دیتے۔ میں نے تو اب یہ دیکھا کہ فلم میں کوئی ایسا ویسا منظر اجائے تو بڑی عمر کے لوگ وہاں سے اٹھنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ باقی تو کوئی اٹھنے کا سوچتا بھی نہیں۔ فلموں کو چھوڑیں پہلے ہم انڈیا ڈراموں کی بے حیائئ کا رونا روتے تھے۔ اپنے ڈرامے دیکھکر آپ بلاتامل کہہ سکتے ہیں۔۔۔ ہم کسی سے کم نہیں۔

یہ امتحان ہر ہفتہ ہوتا۔ کہیں نہ کہیں گھر کی صفائی ستھرائی میں کوئی کمی رہ ہی جاتی اور ٹی وی والی کو کوئی نہ کوئی کسی کا تبصرہ سنا ہی دیتی۔ بیوی شوہر سے کہتی کہ میں اتوار کے اتوار اس شو سے تنگ آگئی ہوں۔ شوہر سمجھاتا “ارے دو ڈھائی کی تو بات ہے۔ کیا لیتے ہیں۔ فلم دیکھتے اور چلے جاتے ہیں۔” بیوی کا تو پارہ چڑھ جاتا “کیا لیتے ہیں، کیامطلب؟ ارے میری جان لے لیتے ہیں۔ وہ منہ بسورتی روتی گاتی ہیروئن سے زیادہ تو میری جان عذاب میں ہوتی ہے۔ صفائی ستھرائی کرو اور پھر کسی نہ کسی کو پانی پلاتی رہو۔ اور وہ جو آپ کی چچی امی ہیں ناں۔ چائے پیئے بغیر تو جیسے فلم دیکھنا گناہ ہے۔ ان کے گھر جاو تو بھوٹے منہ پانی کا نہیں پوچھتیں۔ ۔ ۔ اور وہ منیر خالو۔ ۔ ۔ ۔ ارے شوگر کے مریض ہیں تو گھر میں بیٹھیں۔ گھڑی گھڑی پانی اور پھر واش روم۔ پانی بھی صحیح طرح نہیں بہاتے۔

دیکھیں بات شروع کی تھی فلم دیکھنے سے اور لے کے بیٹھ گیا گھروں میں فلم دیکھنے کی کہانیاں۔ ماضی کا یہی تو مسئلہ ہے بات شروع کرنا اور پھر اس کو ایک ڈگر پر رکھنا خود ایک بڑا مسئلہ ہے۔

زندگی میں پہلی فلم جو ہم نے نایاب سینما ناظم آباد میں اپنے والد اور چھوٹے بھائی بزمی کے ساتھ دیکھی وہ تھی روڈ ٹو سوات۔ یہ فلم پورے محلہ میں مشہور تھی جس میں موٹر سائیکل کے کمالات بچوں میں بڑے مقبول تھے۔ فلم اس وقت تو بہت ہلکی سی یاد ہے۔ بعد میں جب بڑے ہوئے تو ایک بار پوری فلم دیکھی کہ بچپن کا سرمایہ تھی۔ اتنا یاد ہے کہ ہم دونوں بھائی والد کے ہاتھ پکڑے جارہے ہیں۔

روڈ ٹو سوات کے اداکاروں میں کمال، نسیمہ خان، مقصود ملک (موٹر سائیکلسٹ)، ماہ پارہ، لہری اور حنیف شامل تھے۔ اس فلم کا دو گانے مجھے آج بھی یاد ہیں۔
1۔ چلے ہیں دل والے روڈ ٹو سوات
2۔ یہ ادا یہ ناز یہ انداز آپ کا دھیرے دھیرے پیار کا بہانہ بن گیا۔
یہ فلم غالبا 1970 میں ریلیز ہوئی تھی۔

یہ سینما ہال کی پہلی فلم تھی۔ اس کے بعد طویل تریں وقفہ یا بندش ہی کہہ لیں۔ میٹرک کے بعد عرشی سینما (اب ختم ہوچکا ہے اور اس کی جگہ نیچے دکانیں اور اوپر فلیٹ بن چکے ہیں) عائشہ منزل میں فلم بندش دیکھ کر یہ بندش ختم ہوئی جب والد صاحب نے کہا کہ تم اب اپنے چچا زاد (اطہر نجمی) اور ماموں زاد بھائی (فضل عباس عرف دنی) کے ساتھ فلم دیکھنے جا سکتے ہو۔ فلم بندش (ریلیز 1980) واقعی بہت اچھی، صاف ستھری فلم تھی جس کے ستارے ندیم شبنم، غیر ملکی اداکارہ ڈائینا کرسٹینا، طالش، علاوالدین اور طلعت حسین تھے۔ ڈائریکٹر نذر الاسلام تھے۔ اس فلم کے بھی دو گانے پہت مشور ہوئے۔ موسئقار روبن گھوش تھے۔

اچھا اچھا لاگو رے (نیرہ نور، اے نیر)
سونا نہ چاندی نہ کوئی محل ( اخلاق احمد)
یہ فلم لگاتار دو دن دیکھی۔

اب آتے پہلی ہندوستانی فلم جو جناب ہم نے وی سی آر پر نہیں بلکہ سینما کی سلور اسکرین پر دیکھی۔ ہندوستان کے ایک اداکار شیخ مختار تھے انہوں نے ایک وہاں ایک فلم بنائی نورجہاں، شیخ صاحب اس کے فلم کے پروڈیوسر بھی تھے وہ پاکستان آئے۔ یہاں حکومت سے بات کی اور ہندوستانی فلموں پر پابندی کے باوجود اس فلم کی خصوصی طور پر اجازت دے دی گئی۔ سلور اسکرین پر ہمارے ہوش میں پہلی ہندوستانی فلم تھی۔ مجمع ٹوٹ پڑا اور ہم بھی۔ فلم واقعی بہت شاندار تھی کیوں نہ ہوتی اس میں مینا کماری (نورجہاں) جو تھیں۔ ان کے مقابل تھے پردیپ کمار (شہزادہ جہانگیر)۔ شیر افگن کا کردار لحیم شحیم شیخ مختار نے ادا کیا تھا۔ ہندوستان میں یہ فلم 1967 میں ریلیز ہوئی۔ یہاں سالوں بعد سینما کی زینت بنی اور خوب چلی۔

اس کے بعد اطہر نجمی اور فضل عباس دنی کے ساتھ عرشی سینما ہی میں ٹینا (محمد علی، بابرہ شریف، فیصل، وسیم عباس وغیرہ) اور ہانگ کانگ کے شعلے (جاوید شیخ، بابرہ شریف، مصطفی قریشی، رنگیلا اور ادیب)۔ لیجئے جناب ! اپنے وقتوں کی کامیاب تریں فلم آئینہ کا ذکر نہ کروں تو گناہ کے زمرے میں آجاوں گا۔ مجھے بھی یہ فلم دیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔ آئینہ شاید پاکستان کی فلمی تاریخ میں کسی بھی ایک سینما (اسکالا) پر سب سے زیادہ عرصہ لگی رہنے والی فلم کا اعزاز رکھتی ہے۔

یقین جانیئے بس پوری زندگی یہی چند ایک فلمیں یا ایک دو انگریزی فلمیں سینما ھال میں دیکھی ہیں جو میرا خیال ہے بہت زیادہ “قابل تعریف” ریکارڈ نہیں۔ یہ میرا “اثاثہ کمتری” ہے۔ بس جو کچھ دیکھا ہے وہ سب انگلیوں پر یاد ہے۔ ہمارے زمانہ میں فلم دیکھنا ایک ایونٹ ہوا کرتا تھا۔ سینما ہال فیش شو کا منظر پیش کیا کرتے تھے۔ کچھ لڑکے اور لڑکیاں تو ہیرو ہیروئن سے زیادہ سج دھج کر آتے۔ کچھ لوگ جو فیملی کے ساتھ آتے پہلے سے بکنگ کرا لیتے۔ چھڑے چھانٹ یا لڑکوں کا گروپ فلم شروع ہونے سے پہلے آتا اور لائن میں لگ کر یا دھکم پیل سے ٹکٹ خریدتا۔ ٹکٹیں بلیک میں فروخت بھی کی جاتیں۔ ھال میں ٹکٹیں خریدنے والی لائن کو سیدھا رکھنے کے لئے اکثر سینما گھروں میں مکرانی بھائی موجود ہوتے۔ کبھی کبھی ناخوشگوار صورت حال بھی پیش آجاتی۔ 80 کی دھائی میں ملک بھر میں انڈین فلموں کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ ایسے میں پاکستانی فلمیں کون دیکھتا۔ شاید پاکستانی سینما کسی حد تک مقابلہ کر جاتا مگر رہی سہی کسر جنرل ضیا کے زمانے کی سخت پالیسیوں نے کردی۔

اب کراچی کا پرانا سینما کلچر ختم ہوگیا ہے۔ نئے نئے سینما ھالز بن گئے ہیں مگر ابھی تک ان سینما ھالز میں فلم دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ دیکھیں کب نصیب یاوری کرے اور کوئی پاس مل جائے۔ اپنے پلے سے تو فلم دیکھنے کا کوئی پروگرام نہیں۔ ویسے بھی اب دو ڈھائی گھنٹے کی فلم دیکھنے کی ہمت بھی نہیں رہی ہے۔

یہ بھی دیکھئے: دانشِ عصر: احمد جاوید۔۔۔۔۔۔۔ (فلم، سوشل میڈیا، ٹکنالوجی اور گلوبل ولیج) گفتگو: خرم سہیل
(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: