اسلام یا سیکولرازم: اسلامی یونیورسٹی میں مکالمہ، ایک تبصرہ — عمر جرار

0

انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں اسلام اور سیکولرازم کے موضوع پر طلبہ نے ایک مکالمے کا اہتمام کیا جس میں فرنود عالم، حاشر ابن ارشاد، زبیر صفدر اور شاہنواز فاروقی صاحب نے گفتکو کی۔ اس سماج میں جہاں اعتدال پسندی کو دیس نکالا دیا جاچکا، یہ مجلس ایک تازہ ہوا کے جھونکے سے کسی طور کم نہیں۔ اس سے پہلے کہ اس گفتگو پر تبصرہ کیا جائے، قارئین کی سہولت کے لیے اختصار کے ساتھ مجلس میں ہونے والی باتوں کا احاطہ کرتے ہیں۔

پیش بندی میں جناب حاشر ابن ارشاد نے تقریب اور جمعیت کے منتظمین کی تعریف کی اور مباحثے کو مکالمے کا نام دیا۔ موضوع کی حساسیت کا اقرار کرتے ہوئے سیکیولرازم کی تعریف کرنے سے پہلے اس کی ضروریات پر زور دیا۔ آپ کے مطابق یہ سوچ کی تبدیلی کا نام ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ اس بیٹھک سے پہلے اسلام پسندوں سے متعلق کچھ غلط فہمیاں تھیں جو کسی طور کم ہوئیں۔ آپ کے نزدیک سیکیولرازم ایک سیاسی بندوبست کا نام ہے جو فرد کے لیے نہی بلکہ ریاست کے لیے ہے۔ اسی طرح مذہب فرد کے لیے ہے نا کہ ریاست کے لیے۔ اس کے بعد مائیک فرنود صاحب سنبھال لیتے ہیں اور سیکیولرازم کے اردو مطلب اور اصل تعریف پر بحث شروع ہوجاتی ہے۔ فرماتے ہیں کہ سیکیولرازم لادینیت نہیں ہے۔ یہ دراصل دین میں دلچسپی ہی نہی رکھتا۔ یہ متنوع الخیال، مختلف العقائد معاشروں میں بقائے باہمی کا تقاضا کرتا ہے۔ سیکیولرازم فرد کی مذہبی آذادی، کسی مذہب کے اقرار یا انکار اور فکری اظہار کی مکمل آذادی دیتا ہے۔ مذہب جب فرد کے ذاتی یا ریاستی معاملات مین مداخلت کرتا ہے تو اس سے سیکیولرازم پریشان ہوجاتا ہے۔

اس کے بعد سوال کیا جاتا ہے کہ جب مذہب ریاست کے معاملات میں مداخلت کرے تو سیکیولرازم پریشان ہوتا ہے تو کیا مذہب پر اسی قسم کا قدغن لگانے سے مذہب کو اس کے پیدائشی حق سے محروم نہیں کیا جارہا۔ اس پر شاہنواز فاروقی صاحب گویا ہوتے ہیں اور اب تک کی گئی گفتگو کو خلاف واقعہ قرار دیکر سیکیولرازم کو مذہب دشمن اور خدا دشمن نظریہ قرار دیتے ہیں۔ اپنی بات کے اثبات کے لیے آکسفورڈ ڈکشنری کے صفحہ 1062 سے لفظ سیکیولرازم کی تعریف کے حوالہ جات دیتے ہیں۔ اس کے بعد کہتے ہیں کہ سیکیولرائزیشن کا مفہوم انسانوں کو مذہب سے آذاد کرکے سائنس کے تابع کرنا ہے۔ یہ مذہبی حوالوں کو تحلیل کرکے وحی و رسالت کا انکار کرتا ہے۔ سیکیولرازم کے مطابق اخلاقیات حالات اور وقت کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔ سیکیولر مورالٹی ایک ریلیٹیو مورالٹی ہے جس میں اخلاقیات کا معیار بدلتا رہتا ہے، جیسے کہ جنسی تعلقات سے متعلق سیکیولر رویے۔ یہ خدا سے بے نیاز ہے اور معاشرے کی نوبل اقدار کے خلاف ہے۔

زبیر صفدر صاحب نے سیکیولرازم کو ابہامات کا مجموعہ قرار دیا کہ اس کا واحد مقصد کنفیوژن پیدا کرنا ہے۔ اسلام کو چودھویں کے چاند سے مشابہت دی اور سیکیولرازم کو کسی گمنام ستارے سے۔ آپ کے نزدیک اسلام کے ماننے والوں کے ذاتی افعال کو لیکر اسلام پر تنقید کی جاتی ہے اور اسلام کی تاریخی حیثیت سے انکار کیا جاتا ہے۔ آگے چل کے مذہب اور دین کے تصور پر حاشر ابن ارشاد صاحب متکلم ہوتے ہیں کہ یہ ایک ہی کونسیپٹ ہے۔ دین کے ضابطۂ حیات ہونے کی بات بہت بعد میں کی گئی۔ ابتداء میں یہ سیاسی بندوبست سے الگ رہا ہے۔ آپ کے نزدیک ویسٹ فیلیا ٹریٹی کے بعد پتا چلتا ہے کہ مذہب میں بھی سیاسی بندوبست کا اہتمام ہے۔ فرنود عالم صاحب بات کو آگے بڑھاتے ہیں کہ یہ سیکیولرازم اور مذہب کا مسئلہ ایک سیاسی مسئلہ ہے۔ اس کے لیے آپ اس بات کا حوالہ دیتے ہیں کہ پولیٹیکل اسلام اور نان پولیٹیکل اسلام میں تشریحات کا فرق ہے۔ بدھ ازم کا حوالہ دیتے ہیں کہ اس میں رسالت کا تصور نہی لیکن یہ بھی ایک مذہب ہے۔ بات یہ ہے کہ انسانوں کو جس طریقے پر یقین ہو اس پر عمل کرنے کی آذادی ہو۔ چوبیس اسلامی ممالک ایسے ہیں جن میں سیکیولر نظام حکومت قائم ہے۔ ہم ہندوستان میں بھی ہم سیکیولر نظام چاہتے ہیں۔ اسی لیے citizen ammendment bill of india کے خلاف ہیں۔ جس طرح ہم ہندوتوا کی مخالفت کرتے ہیں اسی طرح پاکستان میں بھی ہندووں کو آذادی ملنی چاہیے۔

فاروقی صاحب گویا ہوتے ہیں کہ معلوم 6000 سال انسانی تاریخ میں سیکیولرازم کا کوئی تصور نہی۔ یہ جدید مغربی تصور ہے جسکا مقصد مذہب کو ختم کنا ہے۔ یہ خدا کا انکار کرتا ہے۔ سیکیولرازم میں انسان کو خالق مان کر پوجا جاتا ہے. یہ مادہ پرست نظام ہے۔ اس کے برعکس مذہب میں انسان کو شعورِ بندگی کی بنیاد پر جانا جاتا ہے جو خدا کی رضا چاہتا ہے۔ مذہب کے مطابق انسان روح، نفس اور جسم کا مجموعہ ہے جبکہ سیکیولرازم کے مطابق انسان محض مادہ ہے۔ دونوں نظام تصور علم میں بھی متصادم ہیں۔ ایک کے نزدیک اخروی کامیابی ہی حقیقی کامیابی ہے جبکہ دوسرا کہتا ہے کہ دنیاوی مال و متاع ہی حتمی جیت ہے۔ اسلام انسان کو ضابطے کا پابند کرتا ہے جبکہ سیکیولرازم ایسی کوئی پابندی نہی لگاتا۔

زبیر صفدر صاحب کہتے ہیں کہ اسلام کا تصور دین ایسا نہیں کہ انسان ذاتی حیثیت میں مذہبی ہو اور اجتماعی طور پر سیکیولر۔ اسلام وہ ہے جس کا ماخذ قرآن ہے جس میں ارشاد ہوتا ہے
“ادخل فی السلم کافہ”
سوال یہ ہے کہ کیا اسلام ذندگی گذارنے کا ضابطہ نہی دیتا۔ کیا معاشی، معاشرتی و فوجداری قوانین کا بیان نہی موجود قرآن میں؟ اسلام اپنی اساس میں محض فرد کے لیے نہی بلکہ معاشرے کے لیے ہے۔

فرنود صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارا مسئلہ ہے ہی یہ کہ مذہبی عقیدے اور سیاسی معاملات میں تصادم ہے۔ مذہب مابد الطبیعیات metaphysical ہے۔ اس میں دو جمع دو پانچ ہوسکتے ہیں اور اسے فلسفے کی بنیاد پر جانچا بھی نہی جاسکتا۔ جبکہ سیاست ایک مادی شے ہے، ہم اسے محسوس کرسکتے ہیں اور اسے عقل کی بنیاد پر پرکھ سکتے ہیں۔ جبکہ مذہب سیاسی و غیر سیاسی میں منقسم ہے۔ اس میں توہین رسالت ایکٹ ایسی چیزیں ہیں۔ یہ منطقی نہی ہے۔ اس میں حزب اللہ اور حزب الشیطان کا تصور ہے۔ ریاست کو ایسا کوئی حق نہی کہ وہ انفرادی عمل اور مذہبی معاملات میں مداخلت کرے۔ مذہب کے تصور گناہ پہ ریاست کو قانون سازی نہیں کرنی چاہیے۔ سیکیولرازم کے مطابق انسان کو مذہب پر محض اس لیے عمل کرنا چاہیے کہ خدا اس کا تقاضا کرتا ہے نا کہ ریاست ایسا کرنے کے لیے مجبور کرے۔

فاروقی صاحب اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ سیاست اور ریاست کو الگ کرنا جدید مغرب کی سوچ ہے۔ ایسا اس وجہ سے ہوا کہ وہاں عیسائیت کی اصل تعلیمات کھو گئیں اور اخلاقیات کا کوئی ضابطہ موجود نہ رہا۔ اس کے برعکس ہمارے پاس اسلام قرآن و حدیث کی صورت میں اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔ عقل وحی کے تابع ہے جس سے اسے روشنی ملتی ہے۔ معاشرے میں بنیادی قوانین ایک سے رہتے ہیں۔ زبیر صاحب بات آگے لے کر چلتے ہیں کہ اسلام کے قوانین عالمگیر ہیں جو زماں اور مکاں کے اعتبار سے بدلتے نہی۔ ریاست محض فرد کے لیے ہی نہی بلکہ معاشرے کے لیےبھی قوانین بناتی ہے۔

حاشر صاحب اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ آپ جس چیز کو درست سمجھیں اس پر عمل کریں۔ وحی کی تشریح بھی عقل ہی سے کی جاتی ہے۔ ریاست اور سیاسی نظم انسان بناتے ہیں۔ اب یہ بتائیں کہ ہم بہتر ذندگی کے لیے سیکیولر ممالک کا ہی رخ کیوں کرتے ہیں۔ جبکہ مذہب جنگوں کا سبب بنتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم یہودیوں کے خلاف تھی۔ حضرت موسی اور فرعون اور حضرت ابراہیم اور نمرود کی لڑائی کو سیاسی جھگڑا قرار دیا۔ فاروقی صاحب اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ سیکیولر معاشروں میں خانہ جنگی نے انسانیت کا بڑے پیمانے پر قتل کیا ہے. اسلام نے تو یورپ کو علم کے نور سے منور کیا جبکہ اب سیکیولر مذہب کو کم عقلی سے نتھی کرتے ہیں۔ امریکہ روس اور چین میں سیکیولر سوچ کے زیر اثر کروڑوں لوگ قتل کیے گئے ہیں۔ آج یورپ میں عورت کو بے لباس ہونے کی اجازت تو ہے لیکن اسکارف پہ پابندی ہے۔ حضرت موسی کی فرعون کے ساتھ جنگ بھی اسی بنیاد پر تھی کہ فرعون اللہ کا انکار کرکے انا ربکم العلٰی کا اعلان کرتا تھا۔ یہی نمرود اور حضرت ابراہیم کی لڑائی تھی کہ وہ بھی مادیت کو الٰہ مانتا تھا۔ ریاست مذہب کو تسلیم کیے بنا فرد پر شرعی قوانین کا اطلاق کر ہی نہی سکتی۔ مذہب کی روح یہ ہے کہ انسان جنگلوں، پہاڑوں سے نکل کر رہبانیت ترک کرے اور معاشرتی ذندگی گذارے۔ اب سیکیولرازم پھر یہی چاہتا ہے کہ مذہبی لوگوں کو پھر سے جنگل نشین کردیا جائے۔

فرنود صاحب وحی کا انکار کرتے ہیں لیکن اقرار کرنے سے گریزاں ہیں۔ اس کے لیے اپنے بچپن سے فرشتوں کی کہانی سناتے ہیں اور اب اس بات پر قائم ہیں کہ فرشتے صرف قصے کہانیوں میں ہیں۔ وہ اسلام کو اب بھی 4+4=5 ہی سمجھتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ قرآن پر جب آنکھ بند کرکے یقین کرنا ہے تو اس پر سوال نہیں اٹھاسکتے۔ اسی طرح اسلام کونسا مانا جائے۔ خارجیت اسلام کا تصور ہے۔ خلافت کی جنگیں اس کی مثال ہیں تو کس کو سہی سمجھا جائے۔ داعش کا اسلام مانا جائے کہ بوکو حرام کا۔ متحدہ مجلس عمل کو درست مانیں یا تحریک طالبان کو، دونوں ہی شوبز کے خلاف ہیں۔ ایک اغوا کرتا ہے تو دوسرا گرفتار کرواتا ہے۔ کیا آپ کسی مذہب کی تبلیغ پر پابندی لگاسکتے ہیں؟ کسی ایک شہری کو بھی اس کے بنیادی حق سے محروم نہی کیا جاسکتا۔ اگر سیکیولرازم والے کسی کو قتل کرتے ہیں تو اس کے لیے وہ کوئی تاویل یا دلیل نہیں گھڑتے۔ جبکہ اہل مذہب ابن رشد اور ڈاکٹرعبد السلام پر پابندی دلیل کے ساتھ لگاتے ہیں۔

صفدر صاحب ان باتون کے جواب میں کہتے ہیں کہ اسلام نے کہاں 4+4 کو 5 کہا ہے۔ اسلامی قوانین ان کے لیے ہیں جو اسلام قبول کرچکے۔ ان میں انفرادی و اجتماعی کی تفریق نہی۔ اسلام کی تاریخ میں نشیب و فراز ہیں اور یہ انسانی المیہ ہے۔ فرقے بھی تبھی نظر آئیں گے جب اسلام کو اس کی اصل ہے ہٹ کر دیکھیں. آپ مولانا مودودی یا کسی اور سکالر سے نہی بلکہ قرآن پڑھیں اور اس سے دین سیکھیں۔ میرا جسم میری مرضی سیکیولر تصور ہے جسے کسی طور قبول یا برداشت نہی کیا جاسکتا۔ اس سے ہمارے معاشرتی و خاندانی نظام کا شیرازہ بکھر جائیگا۔ اس سے معاشرتی اقدار منہدم ہوجاتی ہیں۔

آخر میں حاشر ابن ارشاد صاحب کہتے ہیں کہ ابھی تو ہم عورت اور مرد کو ایک جگہ بٹھانے سے قاصر ہیں تو میرا جسم میری مرضی کو سمجھنا تو دور کی بات ہے۔ یہ ایک خلط مبحث ہے۔ اخلاقیات ایک وسیع موضوع ہے۔ بس معاشروں میں مذہب کا دخل نہیں ہونا چاہیے اور نا ہی افراد کی تعداد کا معاملہ ہونا چاہیےکہ اس سے بچے پیدا کرنے کی دوڑ نہیں لگانی۔

اس طرح تقریب اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔

اس تمام تفصیل سے کچھ نکات سامنے آتے ہیں جن پر بات کی گئی۔ مکالمے کا اپنا ایک ماحول ہوتا ہے وہاں فی البدیہہ گفتگو کی جاتی ہے۔ کچھ سوال جواب طلب رہ جاتے ہیں اور کچھ نئے پیدا ہوتے ہیں۔ سیکیولرازم کے حامی یعنی فرنود اور حاشر صاحب کی باتوں کا نچوڑ یہ رہا کہ

1- سیکیولرازم الحاد نہیں بلکہ دین سے جداگانہ نظام ہے
2- مذہب فرد کے لیے ہے جبکہ سیکیولرازم ریاست کے لیے
3- یہ دین اور مذہب کو ایک ہی چیز مانتے ہیں
4- وحی اور فرشتوں کے وجود کو نہی مانتے
5- مذہب اندھی تقلید کا نام ہے
6- مذہب سوچ اور شعور پر پابندی لگاتا ہے
7 – فرد کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کرتا ہے اور
8- فرد کی انفرادی ذندگی کی آذادی کو سلب کرتا ہے۔ اور
9- تشدد کو جواز مہیا کرتا ہے

اب ان اعتراضات پر بات کرتے ہیں
سیکیولرازم الحاد ہے یا نہیں، اور اس کی کس نے کیا تعریف کی اس سے پہلے الحاد سے جان پہچان کرلینا بہت ضروری ہے۔

الحاد atheism کو جہاں سے بھی پڑھنا چاہا اس کی ایک ہی طرح کی تعریف ملی جو الفاظ کے بدلاؤ کے باوجود ایک یہی مفہوم دیتی ہے کہ الحاد کسی خدا کے ہونے کے انکار کا نام ہے۔ مذہب محض اشخاص یعنی انبیاء کرام کی اپنی ایجادات ہیں۔ وحی نام کی کوئی چیز وجود نہی رکھتی اور فرشتوں کا وجود قصے کہانیاں ہیں۔ اس دنیا کا کوئی خالق نہی بلکہ یہ خود بخود وجود میں آئی۔ انسان اپنی موجودہ جسمانی حالت یا ساخت کو ایک ارتقائی عمل سے پہنچا۔ اب ایسے تمام افراد جو اس قسم کے نظریات کو مانتے ہیں اور ان کا پرچار کرتے ہیں ملحد کہلاتے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہی پڑتا وہ اس اصطلاح کو اپنے لیے استعمال کریں یا نہ کریں۔

اب سیکیولرازم کی طرف آتے ہیں۔ عام آدمی کو سیکیولرازم کے بارے میں وہی پتا ہے جو وہ اپنے اردگرد دیکھتا ہے۔ اس بات میں کوئی دورائے نہی کہ اس کی تعریف میں ابہام پایا جاتا ہے۔ انقلاب فرانس کے دنوں سے اب تک اس فلسفے کو سیاسی اغراض کے لیے استعمال کیا گیا۔ دنیا کے مختلف ممالک میں معروضی حالات کے زیر اثر سیکیولر سوچ کے حامل افراد سیکیولرازم کی مختلف توجیہات کے ساتھ وکالت کرتے ہیں۔ اختصار سے کام لیتے ہیں اور بس اپنے ملک میں موجود سیکیولر سوچ کے حامل افراد کو دیکھتے ہیں۔ یہاں کم از کم دو طرح کے سیکیولر افراد ملتے ہیں۔ ایک مذہبی سیکیولر اور دوسرے وہ جو مذہب میں یقین نہی رکھتے۔ مذہبی سیکیولر وہ لوگ ہیں جو طالبانائزیشن کے خلاف ہیں۔ یہ مذہب کو جدید پیرائے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ رواداری اور مذہبی آذادی کی بات کرتے ہیں۔ تشدد والی سوچ سے متنفر ہیں۔

ایک دوسری قسم ان سیکیولرز کی ہے جو اپنا بیک گراؤنڈ تو مذہبی بتاتے ہیں لیکن بذات خود مذہب کا انکار کرتے ہیں۔ اس سب کا ذمہ دار وہ حوادث زمانہ کو ٹھہراتے ہیں اور اپنے ارد گرد ہونے والے واقعات کے زیر اثر ان کا مذہب سے یقین اٹھ گیا ہے۔ ایسے لوگ انبیاء کرام کو اللہ کی طرف سے مبعوث نہی مانتے بلکہ ان کے نزدیک یہ اپنے اپنے زمانہ کے اسکالرز تھے جنہوں نے لوگوں کو اپنی باتوں سے متاثر کیا۔ وحی اور دیگر الہامی پیغامات کو نہی مانتے کہ ان کے نزدیک فرشتوں کا کوئی وجود نہی۔ اس دوسرے گروہ کے نظریات کو جب الحاد کے نظریات کے متوازی رکھ کر دیکھیں تو بس اتنا سا فرق نظر آتا ہے کہ ملحد اس بات کا اعلانیہ اعتراف کرلیتے ہیں۔ اب وہ خواہ ہیومنسٹ سیکیولر ہوں یا ایتھیسٹ اس سے فرق نہی پڑتا۔ اب ایک بات تو طے ہے کہ جو لوگ اللہ کے اس کائینات کا خالق ہونے اور رسولوں اور نبیوں کو اس کی طرف سے مبعوث ہونے کا یقین نہ رکھیں وہ ملحد ہیں۔ جو سیکیولر سوچ رکھنے والا اللہ کے ہونے کا قائل ہے وہ ملحد نہی اور جو اللہ کے ہونے کا منکر ہے وہ ملحد ہے۔

دوسرا نکتہ جو زیر بحث رہا وہ یہ کہ مذہب فرد کے لیے ہے اور یہ اس کی ذات تک ہی ہے، ریاست کو اس میں دخل نہی دینا چاہیے۔ جہاں تک مذہب کی بات ہے تو یقینا یہ فرد کا ذاتی معاملہ ہے کہ اس نے کونسا مذہب اختیار کرنا ہے، یا کرنا بھی ہے یا نہی۔ تاریخ شاہد ہے کہ لوگوں کا مذہب اسلحہ کے زور پر نہی بدلا جاسکتا۔ سپین میں مسلم کشی ہو یا جرمنی میں ہولوکاسٹ، لوگ قتل ہوگئے لیکن اپنے عقائد سے نہی پھرے۔ مذہب تبلیغ سے پھیلے ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نےاسلام کی دعوت کا آغاز مکہ میں کیا۔ پہلی اسلامی ریاست 622 عیسوی میں مدینہ میں قائم ہوئی۔ یہ کسی جنگ کے نتیجے میں نہی بلکہ اکائیوں کے مابین ایک سوشل کونٹریکٹ کے تحت قائم کی گئی۔ اس سے قبل معلوم انسانی تاریخ میں انسانوں پر حکومت کرنے کے لیے قوانین تو بنائے گئے لیکن میثاق مدینہ اپنی نوعیت کا پہلا چارٹر تھا جو مختلف العقائد گروہوں کی ایک ہی معاشرے میں بقا کا ضامن تھا۔ لوگوں کو انفرادی و اجتماعی دونوں حیثیتوں میں معاشرت.، معیشت اور عبادات کی آذادی کا حق دیا گیا۔ کسی کو زبردستی اسلام میں داخل نہی کیا گیا اور نہ ہی کسی قسم کی معاشرتی و معاشی پابندی لگائی گئی۔ بس ایک ضابطہ سوشل کونٹریکٹ کے طور پر طے ہوا کہ جو غیر مسلم ہیں ان پر ان کے مذہب کے قوانین لاگو ہونگے اور جو مسلم ہیں ان کو اسلام کی تعلیمات کی پیروی کرنا ہے۔ کسی کو آذادی رائے کی آڑ میں کسی دوسرے مذہب کے معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہی دی گئی۔ مذہب کا اختیار کرنا فرد کی مرضی پر ہی منحصر رکھا گیا۔

لیکن جب کوئی شخص ایک مذہب اختیار کرتا ہے تو وہ ایک کمیونٹی کا حصہ بن جاتا ہے۔ وہ اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ اختیار کیے گئے مذہب کے قوائد و ضوابط کی پابندی کرے گا۔ اب اگر وہ شخص بالفرض مسلمان ہے اور کسی ایسی ریاست میں رہتا ہے جہاں اکثریت غیر مسلم ہیں تو وہاں اس کو اسلام کے بنیادی اعمال و عقائد کے ساتھ ساتھ اس ملک کے ان تمام قوانین کی بھی پاسداری کرنا ہوگی جن سے اس کے مذہب پر کوئی فرق نا پڑے۔ کبھی آپ نے نہی سنا ہوگا کہ فلاں سیکیولر ملک میں مسلمان ہم جنس پرستی کے قانون کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرنے نکلے ہوں۔ یا کبھی ایسا نہی سنا کہ کسی سیکیولر ملک مین مسلمانوں نے شراب خانوں کے خلاف احتجاج کیا۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کی سیدھی سہ وجہ ہے کہ یہ قوانین اس ملک کی اکثریتی آبادی نے اپنے سماج کی اکثریت کے لیے چنا ہے۔ اگرچہ اسی سماج سے ان کے ہم مذہب یا یوں کہیے ہم نظریہ لوگ بھی ایسے قوانین کے خلاف ہیں لیکن اس کے لیے کسی مسلم کیونٹی نے دخل اندازی نہی دی۔

اسی طرح ایک مسلمان جب ایک ایسے ملک میں رہتا ہےجہاں کی اکثریت آبادی مسلمان ہے اور اسلامی قوانین کا اطلاق ہے تو اس صورت میں بھی اسے اسلام کے بنیادی عقائد و اعمال کے ساتھ ساتھ اس سوشل کونٹریکٹ کی پاسداری کرنا ہے جو آئین کی صورت میں موجود ہے۔ پاکستان کی بات کریں تو یہاں سیکیولر سوچ اس بات پر پریشان ہے کہ آئین مسلمان کی تعریف کیوں کرتا ہے۔ یہ کیوں کہتا ہے کہ مسلمان ایسا شخص ہے جو اللہ کی وحدانہت اور اس کے خالق و مالک ہونے کے ساتھ ساتھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری رسول مانے۔ حالانکہ سیکیولرازم کو تو مذہب سے سروکار ہی نہی ہونا چاہیے۔ اس کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ اسلامی قوانین کا اطلاق مسلمانوں پر ہوتا ہے یا غیر مسلموں کو بھی ان کا پابند کیا گیا ہے۔ ہر گز نہی، کسی غیر مسلم پر ایسی کوئی پابندی نہی کہ وہ ان قوانین کی پابندی کرے جو اسلام نے مسلمانوں کے لیے لازم کیے۔ سیکیولرازم کے حامی ہندوستان کی مثال ہر جگہ دہتے ہیں کہ دیکھیں جی مسلمان وہاں سیکیولرازم کی حمایت کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں مخالفت۔ یہ بات واضح ہوجانی چاہیے کہ مسلمان پاکستان میں جس طرح غیر مسلموں کو حقوق دیتے ہیں ویسے ہی ہندوستان میں اپنے مذہبی،سیاسی و معاشی حقوق چاہتے ہیں۔ جس طرح ہمارے تعلیمی اداروں اور شہروں میں ہولی منائی جاتی ہے ہندوستان میں ایسے عید قربان کا سوچ بھی نہی سکتے۔ عید تو چھوڑیے وہاں تو گائو رکھشک سرعام مسلمانوں کو ذبح کردیتے ہیں اور قانون سیکیولرازم آنکھوں پر لپیٹے سویا رہتا ہے۔

بات ہورہی تھی سوشل کونٹریکٹ اور آئین کی تو پاکستان میں بھی دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ایک ضابطہ ضرور ہے جو ملک کی تمام آبادی پر نافذ ہوتا ہے۔ آذادی اظہار کی آڑ میں کسی بھی فرد کو ایسی اجازت نہی جو انتشار کا باعث ہو۔ اور یہ کچھ غلط بھی نہی۔ ایک طرف تو آئین کی حرمت کی بات کی جاتی ہے حالانکہ آئین اس ملک کے جاگیرداروں اور وڈیروں نے بنایا ہے جن میں سے اکثر کو تو آئین کے نون کے نقطے کا مفہوم بھی نہی پتا ہوگا۔ دوسری طرف اس بات کی اجازت کیسے مل جائے کہ کوئی شخص اس ملک کی اکثریت آبادی کے مذہبی شعائر پہ مذاق کرے۔ کوئی شخص اسلام کو حق نہی مانتا تو وہ نا مانے لیکن کیا یہ امر خلاف عقل و فہم نہی کہ اپنی سوچ کے زیراثر اکثریت کے جذبات کو مجروح کیا جائے۔ مہذب اقوام ایسا کرنے کی کبھی اجازت نہی دیتی۔ رہی بات یہ کہ ریاست اس میں مداخلت کیوں کرتی ہے تو ایک بات بتائیے کہ ایسے معاملات جو تخریب کا سبب ہوں ان کا سدباب کس نے کرنا ہے؟ اگر ریاست نے نہی کرنا تو کیا یہ خون ریزی کا سبب نہی ہوگا؟ لوگ تشدد کی طرف اسی وقت آتے ہیں جب انہیں لگے کہ انصاف ان کی پہنچ سے دور ہے۔

یہ بات صاف ہے کہ مذہب فرد کا ذاتی معاملہ ہی ہے لیکن جب فرد ایک سماج کے ساتھ جڑتا ہے تو سماج کے ساتھ قائم معاہدے کی پاسداری بھی اس پر فرض ہوجاتی ہے۔ سماج کا اجتماعی شعور ہی قوانین کی تشریح ہوتی ہے۔ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جہاں کی آبادی نے اسے اسلامی جمہوریہ ہی بنایا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اس بات کو آئین میں بہت بعد میں تسلیم کیا گیا لیکن تحریک پاکستان نے اس کے خد و خال واضح کردیے تھے کہ اس خطے کے جن مسلمانوں کو رہنے کے لیے ایک علیحدہ اسلامی ریاست چاہیے تھی انہوں نے ایک جمہوری عمل سے اس کا حصول ممکن بنایا۔ اب کوئی اس پر اعتراض کرتا ہے تو وہ اس سماج کو اس کے شعوری اور جمہوری حق سے محروم کرنے کی سوچتا ہے۔ اس کے برعکس جب سیکیولرازم کو دیکھتے ہیں تو وہ اقدار جو انسانیت سے متعلق ہیں وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان عوام کو فراہم کرتا ہے۔ یہاں عمومی حالات میں مندر بھی محفوظ ہیں اور گرجے بھی۔ ہمارے ساتھ تمام مذاہب کے لوگ رہتے ہیں، کام کرتے ہیں۔ تجارت، صنعت و حرفت اور ملازمت میں ہم اکٹھے ہیں۔ اگر یہ بات کی جائے کہ کسی خاص محرک کے زیر اثر کہیں کسی عبادت گاہ کا نقصان ہوا ہے تو کیا مساجد محفوظ ہیں؟ انتشار و دہشت گردی نے کس طبقہ کو بخشا ہے ؟ بلاتخصیص نسل و مذہب سبھی دہشت گردی کا شکار رہے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ یہ سب مخصوص محرک کے زیر اثر ہوا ہے۔ ایسا نہی کہ ایسے محرکات کو کوئی قانونی جواز مہیا کیا گیا ہے بلکہ ایسے عناصر کو سزائیں دی جاتی ہیں جو کسی بھی قسم کا انتشار پیدا کرتے ہیں۔

معاملات تب بگڑتے ہیں جب سیکیولرازم ایسی سوچ کو اس معاشرے میں پروان چڑھانا چاہے جو نا تو اس آریائی خطے کی سماجی نفسیات کو قبول ہے اور نہ ہی اس ملک کی اکثریتی آبادی کی مذہبی تعلیمات کے مطابق ہے۔ اگر کوئی شخص مسلمان نہی ہے تو وہ چاردیواری میں وہ سب کچھ کرے جس سے سماج میں خرابی نہی ہوگی، اسے اجازت ہے لیکن ایک مسلمان کو ایسا کرنے کی اجازت نہی جو اس کے مذہب کے خلاف ہو۔ ایسا کرتا ہے تو اس کے لیے ایک تعذیری نظام قائم ہے۔ یہ اس لہے نہی کہ اس کا ذاتی فعل تھا اور گناہ کیا تو اس کو سزا دی جائے بلکہ ایسے افعال پر سزا دی جاتی ہے جن سے دوسروں کی حق تلفی ہوتی ہے۔ سیکیولرازم اس ضمن مین منفی کردار ادا کرتا ہے۔ سیکیولرازم ناپختہ اذہان کو بات کرنے کی ایسی آذادی دیتا ہے کہ کم فہم لیکن اپنے تئیں ارسطو بنے پھرتے کل کے چھوکرے مذہب پر تنقید کے چکر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب کی شان میں گستاخی کر بیٹھتے ہیں۔ انہیں اپنی رائے کے اظہار کا تو پتا ہے لیکن یہ نہی پتا کہ بقائے باہمی کے اصول کیا ہیں۔ انہیں باہمی احترام کا شعور نہی۔ نیا نیا سیکیولر پن اور سماج کی حرکیات و نفسیات سے لاعلمی ان سے ایسی غلطیاں سرزد کرواتی ہے جو کہ قابل تعذیر ہیں۔

آج یہ اظہار رائے کے چکر مین سماج کی نفسیات سے کھیل رہے ہیں کل کو ان کا دل کرے کہ انسان تو بے لباس پیدا ہوتا ہے تو کیوں نا ایسے ہی پھرا جائے اور ایک طبقہ دنیا میں گھوم بھی رہا ہے کسی ملک میں۔ تو بتائیں کہ ایسا کرنے کی اجازت بھی دیدی جائے پھر تو۔ ہے تو یہ بھی فرد جا ذاتی معاملہ۔ اسی طرح جب میرا جسم میری مرضی جیسے نعرے لگیں اور ہم جنس پرستی کو پروموٹ کرنے کی بات اس پلیٹ فارم سے کی جائے جسے سیکیولر حلقے استعمال کرتے ہیں تو خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ ایسا نہی کہ یہ جرائم اس معاشرے میں ناپید ہوں، ہوتا ہے یہ سب لیکن اسے جرم سمجھا جاتا ہے اور لوگ جرائم کو پردے کے پیچھے کرتے بھی ڈرتے ہیں۔ سیکیولرازم شخصی آذادی کی آڑ میں ان جرائم کو قانونی رعایت بلکہ حق دلوانے کی سعی کا ہی نام ہے۔ سیکیولرازم انسانیت کو جنگل راج کی طرف لے جانا چاہتی ہے جہاں جس کا جو کرنے کو دل چاہے کرے۔ ایسا تو اس دنیا میں ناممکن ہے۔ معاشرے بقائے باہمی کے اصول پر کاربند ہیں اور بقائے باہمی کا مطلب قطعا انفرادیت نہی ہے۔ انفرادیت اجتماعیت کی ضد ہے۔ شعور ہمیں سوچ کی انفرادیت تو دیتا ہے لیکن یہ کہیں نہی کہتا کہ اپنی اس انفرادیت کو دوسروں پر بھی تھونپ دیا جائے۔ بات وہی ہے کہ اگر کسی کو اللہ کے رب ہونے پر اور انبیاء کرام کو اس کی طرف سے مبعوث ہونے پر ایمان نہی تو یہ اس کا ذاتی فعل ہے۔ جس طرح ماننے والے نا ماننے والوں کو خنجر کی نوک پہ نہی منواسکتے ایسے ہی نا ماننے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ ماننے والوں کی دل آذاری حق اظہار رائے کی آڑ میں نہ کریں۔ ایسا کرنے کی صورت میں ریاست کی کچھ ذمہ داریاں ہیں جو جب وہ پوری کرتی ہے تو زیکیولرازم کو ناگوار گذرتا ہے اور جب ریاست اس سے پہلو تہی برتے اور فرد یا افرد جذبات کے زیر اثر بالکل ویسے ہی غیر قانونی طریقوں سے اظہار رائے کا جواب اظہار رائے یا عمل حق استعمال کرتے ہوئے دیں تو بھی تشدد جنم لیتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ سیکیولر حلقے اس اظہار رائے کے حق پر کوئی تعمیری سوچ پیدا کرلیں تو بہت سے معاملات حل ہوجاتے ہیں۔ رہی بات کسی کے ملحد ہونے یا نا ہونے کی تو وہ واقعی اس کا ذاتی فیصلہ ہے۔ بس اتنا خیال رہے کہ ملحد اپنے نظریات کو اپنے تک رکھے،دوسروں کی دل آذاری نہ کرے۔

اس موضوع پہ درج ذیل تحاریر بھی پڑھئے:

سیکولر ریاست: غیر جانبداری کا سراب۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نور الوہاب

سیکولرزم: یہ جنگ آپ ہر حال میں ہار جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید احمد غامدی


سیکولرزم کیا ہے؟ بنیادی فکر کو کھوجتی ایک تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عمر فرید

سیکولرزم اور دو قومی نظریہ تاریخ کی عدالت میں ۔۔۔ ابوبکر

پاکستانی سیکولرازم: مغالطوں کا پہاڑ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد الیاس

سیکولرازم اور ریاست: ایک متبادل بیانیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذیشان ہاشم

سیکولرازم اور لبرل ازم : وقت کی ضرورت؟ داود ظفر ندیم

جمہوریت، سیکولرازم اور الہامی احکام : مجاہد حسین

سیکولرازم: چند بنیادی غلط فہمیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انوار احمد

امام حسین اور سیکولرازم ———- فیضان جعفری الخوارزمی
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20