علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو پڑھنے کا ایک زاویہ افضل بھی ہے (حصہ سوم) ——– علامہ مفتی محمد ارشد القادری

0

کہیں ایسا نہ ہو جائے:
میں سچ کہتا ہوں خود میں نے کئی بار اقبال رحمۃ اللہ علیہ پر بات کرنے کا سوچا تھا اگرچہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ پر بات کرتا بھی رہتا ہوں مگرا س طرح کہہ نہ پایا جس طرح افضل رضویؔ نے کہہ ڈالا میراحال تویہ ہے۔

ارادے باندھتاتھا باندھ کر پھر توڑ دیتا تھا
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے

بہر نوع صاحبِ “دربرگ لالہ و گُل”نے خوب جانفشانی کرکے پوری تحقیق کے ساتھ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی شاعری کا ایک نیارُخ صاحبان علم و فن کی خدمت میں پیش کیا ہے اس اندازِ سلیمانہ پرافضل رضویؔ مبارک باد ی کے مستحق ہیں۔ ان کی مصنفہ کا مطالعہ کرنے سے دل و جان راحت پاتے ہیں۔ رضو ی صاحب نے اپنی کتاب میں “گل”کو الگ موضوع بنایاہے وہ رقم طراز ہیں۔

’’علامہ اقبال ؒ ایسے گُل گشت تھے جو سیر گلشن کو نکلے توانہوں نے فطرت کے اس سحر انگیں حُسن کو اپنے جمالیاتی ذوق کی تسکین تک نہ رکھا بلکہ اس کا ناطہ فکرو فلسفے سے جوڑا اور حقائق زندگی کی پردہ کشائی کاکام لیا۔‘‘ (دربرگ لالہ و گُل158/1)

چونکہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں گُل کی اہمیت بہت زیادہ ہے اس لیے انہوں نے گُل کوکئی پہلوؤں سے متعارف کروایا ہے اس طرح ا س کا ہر پہلو قابلِ داد ہے جب افضل رضوی ؔنے گُل پر بات کی توعلامہ کمال الدین دمیری رحمۃ اللہ علیہ کی یادیں تازہ کردیں ان کے بعد یہ اندازاورکہیں شایدہی نظرآیاہوکہ انہوں نے شیرپربات کی تواس کے ایک ہزار1000نام گنوادیے افضل رضوی ؔنے بھی تعارف گُل میں اسی روش کی پیروی کی ہے۔ تعارف گُل پرخوب نوک قلم کو شرف بخشتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں جب کوئی اصل و فرع کا ماہر بات کرتاہے تواس کی بات میں ایک خاص ربط ہوتاہے اورایک خاص اثر ہوتاہے۔ حضرت علامہ اقبال کو ان کی شاعری کے ایک زاویہ یعنی دربرگ لالہ وگُل کے اعتبار سے بات کرتے ہوئے افضل رضویؔ کہتے ہیں۔

”پس جوکوئی بھی اپنی اصل سے جداہوتاہے زبوں حالی اس کا مقدربن جاتی ہے۔ “(دربرگِ لالہ و گُل162/1)

قوت و حیات کامدار:
اہلِ علم کے ہاں اصل سے مرادنظر یہ ہوتاہے۔ دوسرے لفظوں میں اصل عقیدے کانام ہے اور فرع عمل کوکہتے ہیں۔ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں کسی کا اپنے نظریے سے ہٹنااس کی موت ہوتاہے اور اپنے عقیدے پرقائم رہنا۔ اپنے نظریہ کی پاسداری کرنااور اپنی اصل سے کبھی جدائی اختیار نہ کرنا یہ دراصل علامت زندگی ہے او ر اس سے علیحدگی اصلاً مترادف موت ہے موت و حیات کامدار نظریہ ہے۔

اقبال رحمۃ اللہ علیہ چونکہ انقلابی شاعر ہیں۔ ان کی زندگی جامد نہیں تھی اسی طرح ان کی شاعری بھی اپنے اندر انقلابی روح رکھتی ہے۔ افضل رضویؔ نے اسی نقطۂ نظرکی ترجمانی کرتے ہوئے خوب لکھّاہے۔

”ایسا شاعر جوقوموں کی زندگی میں انقلاب برپاکردے وہ مرتانہیں بلکہ اپنی فکر اور دانائی کی بدولت عدم سے بھی راہنمائی کرتاہے۔ “(دربرگِ لالہ و گُل195/1)

یہ وہ عظیم نقطہ ہے جس کی تفہیم ضروری ہے اگر اس نقطۂ عظیمہ کی سمجھ آجائے توزندگی میں مثبت قرارآجاتاہے۔ بندۂ مؤمن مرکربھی اپنے ماننے والوں کی عدم سے یعنی آخرت کی زندگی سے قبر سے مددکرتارہتاہے اور یہ سب باذن اللہ ہوتاہے۔

کلام اقبال رحمۃ اللہ علیہسارے کاسار ادراصل اہلِ ایمان کی تربیت کرکے ان کو اس مقام تک لانے کا نام ہے جہاں سے وہ ساری امت کی رہنمائی کرسکیں۔ اسی دقیق نقطہ کو واضح کرنے کے لیے افضل رضوی نے اپنازور کلام صرف کیاہے وہ لکھتے ہیں۔

’’جب انسان خودی کے تینوں مراحل طے کرلیتاہے تووہ مقام مردمؤمن پرفائز ہوجاتاہے۔ گویاوہ روحانی منازل طے کرکے اس مقام تک رسائی حاصل کرتا ہے۔‘‘ (دربرگ لالہ و گُل 198/1)

میں ایک عرصہ تک یہی سمجھتا رہاکہ افضل رضویؔ ایک عام ادیب ہے،لیکن مشرشح ہواوہ روحانی منازل سے بھی باخبرہے۔ اس وقت میں روحانی منازل پر تفصیلی بات تونہیں کرپاؤں گا چونکہ یہ قضیہ بیان کلام پیش آیاہے لیکن اختصاراً کہہ دیتاہوں اقبال رحمۃ اللہ علیہ خود تخلیہ اورتحلیہ،محاسبہ اورمحاصرہ،مجاہدہ اور مشاہدہ کے مقامات سے آگاہ تھے ان مشکل اور دقیق مقامات سے افضل رضوی کاآگاہ ہونایہ کوئی چھوٹی سی بات نہیں پوری دنیاکے ماہرین اقبالیات کو چاہیے وہ افضل رضویؔ کی “دربرگ لالہ و گُل”ضرورپڑھیں بہت نافع ہوگی۔

اس میں شک نہیں اقبال رحمۃ اللہ علیہ کاکام ملت اسلامیہ کی بیداری خوشحالی اور عزت رتبہ کاظہورہے ان کی باطنی کیفیت کو جس طرح افضل رضوی ؔنے آشکارکیاہے وہ اپنی مثال آپ ہے و ہ لکھتے ہیں۔

’’میں مثل گُل اپنا سینہ چیرکرآئینے کی طرح تمہارے سامنے رکھ دیتا ہوں تاکہ تم اپنی تصویر اس میں دیکھ سکو وہی تصویر جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی تھی گویا وہ مسلمانوں کو ان کا شاندار ماضی دکھاکر مستقبل سنوارنے کی طرف مائل کررہے ہیں‘‘ (دربرگ لالہ و گُل200/1)

افضل رضویؔ کی یہ عبارت جودربرگ لالہ و گُل کا حُسن آشکار ہے۔ اس پرہرنوجوان کو بطورخاص پڑھنا چاہیے اور اس کی تہہ تک پہنچ کر اس پر عمل کرنے کی طرف فوراً آگے بڑھناچاہیے۔ اب یہ کہ مسلمانوں کی ترقی کیونکر ممکن ہے اس نقطۂ لطیفہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے افضل رضویؔ نے کمال بات کی ہے اگر صرف یہ ایک جملہ اُن کے قلم سے منصّۂ شہود پرآجاتا تواقبال رحمۃ اللہ علیہ کی کُلی فکرکاضامن تھا،آئیے آپ بھی پڑھیے وہ جملہ۔

”رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دینے کا مطلب یہ ہے کہ موت قبول کرلی جائے۔ “(دربرگ لالہ و گُل201/1)

اپنی خبر کو خبر نہ ہو:
ساری ملت اسلامیہ کو دعوت دیتاہوں افضل رضویؔ کے اس جملہ کو باربار پڑھیں اور پھر اس پر ہزارزاویوں سے سوچیں ان شاء اللہ یہ ایک جملہ ملت کی تقدیربدلنے کے لیے شافی ہوگا یہ ایک حقیقت ابدی ہے کہ زندگی نام ہی سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں گُم ہوجانے کا ہے۔

ان کی وِلا میں ایسا گما دے خدا ہمیں
ڈھونڈا کریں پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو

ملتِ اسلامیہ کی خدمت چودہ سوسالہ تاریخ میں بے شمار نفوسِ قُدسیہ نے کی اگر ان باکمال لوگوں کے نام گنوانا شروع کردوں تو پھر الگ ایک کتاب بن جائے گی چونکہ اس وقت میرے سامنے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہہیں اور ان کی خدمات پر روشنی ڈالنے والے افضل رضویؔ ہیں اس لئے اسی حوالے سے بات کروں گا رضویؔ صاحب لکھتے ہیں۔

”امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ کاوعدہ ہے کہ وہ حدودو زمان سے آزادہے۔ “(دربرگ لالہ و گُل 203/1)

کاش اہلِ ایمان کو اپنی یہ خوبی ازبررہے۔ ہر قوم کے عروج کا ایک وقت ہوتاہے پھرزوال آتاہے اور آخر وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔ لیکن مسلمانوں پر زوال توآسکتاہے لیکن یہ قیامت تک باقی رہیں گے ان کا مٹ جانا ناممکن ہے لہذااپنی ترقی اور پائیدار امن کے لیے ہمہ وقت سرگرم عمل رہناچاہیے۔ یہی ان کی بقاء کی ضمانت ہے۔ اگر مسلمان خصوصاً ان کی نوجوان نسل اپنی اصل کو فراموش کردے تو آئندہ ان کی شوکت سخت خطرے میں پڑھ سکتی ہے لہذا حزر یاجماعت المسلمین۔

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے نظریات وعقائد کی تصریح کرتے ہوئے افضل رضویؔ لکھتے ہیں:

”علامہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ملت کانظام آئین کے بغیر قائم نہیں ہوسکتا اور ملت محمدیہ کا آئین قرآن پاک ہے۔ “ (دربرگ لالہ و گُل204/1)

قانونِ اصلی صرف قرآن ہے:
افضل رضویؔ نے افکارِ اقبال کو جس اچھوتے اندازمیں لالہ و گُل میں تلاش کیااور کمال عرق ریزی کرکے جس طرح دورِ حاضر کے مسلمانوں کی خدمت میں اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے آئینے میں اسلام اوراہلِ اسلام کی عظمت کو دکھایا ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔ اللہ کرے یہ آئینہ سلامت رہے کبھی ٹوٹنے نہ پائے۔ اس میں کوئی شک نہیں یہ ایک حقیقت ثابتہ ہے۔

Quran is the constitution of Islam and all the Muslims are pure slaves of beloved Mustafa (Sallallahoalaihiewassalam) the last prophet of Allah Almighty.

افضل رضوی نے جس طرح ملت، حقیقتِ ملت،استحکام ملت اور نصب العینِ ملت کو الفاظ ومعافی کاجامہ پہنایاہے وہ بھی انہی کو زیباہے۔ وہ علامہ اقبال ؒ کی ایک نظم کا حوالہ دیتے ہوئے کیا خوب لکھتے ہیں۔

”در معنی ایں کہ جمیعت حقیقی ازمحکم گرفتن نصب العین ملیہ است و نصب العین امت محمدیہ فقط و نشر توحید است“ (دربرگ لالہ و گُل205/1)

اشارات الی الحق:
اس میں کوئی شک نہیں کہ ملت اسلامیہ کی بنیاد اصلاً عقیدہ توحید پر ہے اور اس ملت کا نصب العین ہی عقیدہ توحید کو ہر وقت یادرکھنا اور اس کو دلائل کے ساتھ دوسروں تک پہنچانا ہے اسی کانام ہے،کارِ مؤضانہ،اسی کو عزم،نظم اور جزم سے تعبیر کیاجاتاہے یہی ایک سچے مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ساری زندگی اپنے خالق و مالک اللہ تعالیٰ جل شانہ کی اطاعت اوراس کے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت میں گزارے۔

افضل رضویؔ نے اپنی گفتگو کا موضوع تولالہ و گُل کو بنایامگران دونوں لفظوں کو وہ وہاں تک لے گئے کہ یہ الفاظ بجائے خود اشارت الی الحق بن گئے اوردلالت علی التوحید والرسالہ بن گئے۔

حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے کلام میں گُل و لالہ کو موضوع بناکر دراصل حقیقت انساں کورو شناس کردیاہے اور اس کی رفعت کو متعارف کروایاہے۔ افضل رضوی اسی راز کی پردہ کشائی کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

”سورج، چاند اور ستارے اس ذات کی مظاہر ہیں جب کہ انسان کا دل اس ذات کا سربستہ راز ہے۔ “ (دربرگ لالہ و گُل(208/1

خبرسے نظر تک!
افضل رضوی ؔنے جس طرح اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی شاعری میں سے لالہ و گُل کاانتخاب کرکے اس پر تحقیق کی ہے بلکہ تحقیق جلیل کی ہے وہ انہی کاحصہ ہے۔ سورج،چانداور ستاروں کومظاہرذات کہنااور انسان کے دل کو سربستہ،راز قرار دینا یہ کوئی چھوٹی بات نہیں یہ بات وہی کہہ سکتاہے جو الفاظ سے معانی تک رسائی حاصل کرے۔ جوخبر سے نظرتک جاپہنچے اور قال سے حال تک پروازکرجائے۔ ایسے شخص کے قلم سے جو جملے نکل جاتے ہیں تو وہ صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ معافی کی تصویرہوتے ہیں وہ صرف خبر نہیں ہوتے بلکہ نظر بن جاتے ہیں وہ صرف قال تک جزم نہیں کرتے بلکہ حال بن جاتے ہیں۔

میں دورِ حاضر کے ان تمام نوجوانوں کو مشورہ دوں گا جو اردوجانتے ہیں وہ ضرور افضل رضوی ؔکی کتاب”دربرگ لالہ و گُل” کا مطالعہ کریں۔ ان شاء اللہ نافع ہوگا۔

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے گلستان میں سیر کرتے ہوئے افضل رضویؔ ایک جگہ لکھتے ہیں۔

”اللہ کی قربت صرف اور صرف عجز ونیاز اختیار کرنے سے ملتی ہے۔ “(دربرگ لالہ وگُل220/1)

یہی وہ مقام ہے:
افضل رضویؔ نے یہاں اس حقیقت کااظہار وبیان کیاہے جو ایک صوفی کے ہاں عملاً پائی جاتی ہے اور ان لوگوں کی صحبت میں رہنے والا اپنی ذات کو فراموش کرکے اپنے رب کی حمدوستائش میں لگ جاتاہے وہ یہ بھول جاتاہے کہ میں بھی کوئی شے ہوں اس کا یہ طرز زندگی اُس کی شہرت سعادت اور عزت دائمی کاسبب بن جاتاہے۔ یہی وہ مقام ہے جس کو علماء اپنے لیے باعث شرف جانتے ہیں اور مرنے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اپنی نفی کرتے ہیں اور یہ سارا عمل اظہار عجزونیازکے لئے ہوتاہے۔ ہرانسان لذت کاخواہاں ہوتاہے اس حقیقت سے کوئی صاحب عقل راہ فرار اختیار نہیں کرسکتا افضل رضوی لکھتے ہیں۔

”اصل چیز خوراک کی ظاہری لذت نہیں بلکہ باطنی لذت ہے جو صرف اور صرف اللہ کے ساتھ تو لگانے سے ملتی ہے۔ “(دربرگِ لالہ وگُل271/1)

لذت کی دو قسمیں:
اس میں کوئی شک نہیں لذت بڑی چیز ہے اب سوال صرف اتنا ہے کہ عارضی اورظاہری لذت ہی کمال ہے یا کچھ اور،افضل رضویؔ افکارِ اقبال کے چونکہ بہت قریب ہیں اس لیے انہوں نے لذت کی دوقسمیں بیان کی ہیں۔ ایک کا نام ظاہری لذت رکھا اور دوسری کو باطنی لذت قراردیا پھر دونوں میں مابہ الامتیاز کرتے ہوئے باطنی لذت کو اولیّت دی اور اس کے حصول کا ذریعہ اللہ تعالیٰ سے لَولگانا قراردیا یہ واقعی ایک بہت بڑی بات ہے جو دورِ حاضر میں انٹر نیٹ کی دنیامیں عُنقا ہوکے رہ گئی ہے لیکن آج بھی ایسے حق شناس اور ایسے حق گو مردموجود ہیں جو دونوں لذتوں میں امتیاز کرناجانتے بھی ہیں اور ان کی ترجمانی کرنے پر ان کو قدرت بھی حاصل ہے افضل رضوی انہی میں سے ایک ہیں میرادل تو چاہتاہے میں مذکورہ کتاب کے محاسن کو اور نکھاروں اور لکھتاہی چلاجاؤں؛لیکن طوالت کاخوف دامن گیرہے اس لیے اس پر اکتفاء کررہاہوں اگراس کی دوسری جلد بھی آئی تو میں اس پربھی ارقام کر وں گااور و ہ زاویہ الگ ہو گا۔

حصہ اول کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

حصہ دوم کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: