علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو پڑھنے کا ایک زاویہ افضل بھی ہے (حصہ دوم) ——– علامہ مفتی محمد ارشد القادری

0

تازہ کن انداز صدیق وعمر (صدیق و فاروق کا اندازِ حکومت)
افضل رضویؔ نے بڑی دیانت اورصاف گوئی سے کام کیاہے۔ ان کا کہنایہ ہے کہ ہم اہل مغرب کے سردخانہ کی کیابات کریں اور ان کی وادی سردرائی کی کیا مذمت کریں کہ ہمارا اپنا حال بھی آج کل بہت پتلا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم خودبھی نقطۂ انجمادتک پہنچے ہوئے ہیں ان حالات میں ہمارا خود بچنا تبھی ممکن ہے کہ ہم حرارت ایمانی سے سرشار رہیں اور اس حرارت کوقائم رکھنے میں ہمیں حضرت امیرالمؤمنین ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اورحضرت عمر فاروق ا عظم رضی اللہ عنہ کا اندازِ حکومت اختیارکرنا ہو گا۔ اقبال ساری زندگی امت مسلمہ کی توجہ اسی جانب مبذول کرواتے رہے۔

تازہ کن آئین صدیق و عمر
جوں صبابر لالہ صحرا گذر

سچی بات یہ ہے اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے اندر کی دنیا کو جس انداز حکیمانہ میں کمال فنی مہارت کے ساتھ افضل رضویؔ نے طشت ازبام کیا ہے وہ انہی کا حصہ ہے اور ایسے ماہر فن ایسے حق شناس اور ایسے تجلی کو الفاظ کا جامہ پہنانے والے بہت کم ملتے ہیں اگر مل جائیں تو ان کی قدر دل و جان سے کرنی چاہیے اور ان کو خراج تحسین پیش کرنے میں کسی کنجوسی کوپاس بھی نہ بھٹکنے دیناچاہیے بلکہ کھلے دل سے اظہار تسلیم و وقار کرنا چاہیے یہی اہلِ حق کا شیوہ ہے۔

گُلِ لالہ کارنگ سرخ ہوتاہے۔ اگرچہ اس کا رنگ عام نظرکوتو کوئی خاص پیغام نہیں دیتا مگر قلندرِ لاہور جیسے مردِ کامل کی نظر اس کی ایک خاص توجیہہ کرتی ہے اور اس کے اس جوہرنایاب کی طرف اشارہ کرتی ہے وہ کہتے ہیں اس کی سرخی کاباعث دراصل عشق ہے اسی نقطۂ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے افضل رضویؔ لکھتے ہیں۔

’’گُلِ لالہ سرخ اس لیے ہوتاہے کیونکہ اس کی پتیوں میں عشق کی رنگ آمیزی ہے۔ اورعاشق کے رگ و پے میں عشق کا شورہوتاہے اگرعاشق کا سینہ چیر کر دیکھاجائے تو اس میں اس کے عشق ہی کی خون ریزی دیکھنے کو ملے گی۔‘‘ (دربرگ لالہ و گُل(105/1)

اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے تو نباتات کا ذکر کر کے اس میں سے حقائق کا ایک نیا باب وا کیا تھا جسے عام آدمی کی نظر نہ دیکھ پائی اُس رمز شناس حقیقت نے خوب دیکھاپھراس حقیقت کو الفاظ کا جامہ کافیہ و ردیف کی پابندی کے ساتھ پہنا کر ساری دنیا کے صاحبان عقل و شعور کے دربار میں پیش کر دیا۔ پھر بھی بہت سارے رموز پردۂ اخفا میں رہ گئے۔

ہے کوئی حسین ایسا حسینوں میں!
ان رموز کو زبان حقیقت شناس سے افضل رضویؔ نے اس طرح خیر خواہان، ملت کی بارگاہ میں پیش کیا کہ علم و فن اصل وفرع،حقائق شناسی،شرافت و دیانت اورعقل و شعوراس پرعش عش کر اٹھے۔ اقبالؒ کہتے ہیں۔

سراپا حُسن بن جاتا ہے جس کے حُسن کاعاشق
بھلا اے دل ہے حسین ایسابھی ہے کوئی حسینوں میں

اگرچہ گُل و لالہ کا ذکر دراصل اللہ تعالیٰ کے عطاکردہ حسن و جمال کی وحدت سرائی ہے۔ کہیں اس کے رنگ کا ذکر کرکے اس کی تشبیہ خون سے کی گئی ہے کہیں اس کو گلشن کا حُسن لاجواب قرار دیاگیاہے۔ یہاں تک کہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے یہ تمنا کی ہے کہ جب میں مرجاؤں تومیری خاک سے گُل و لالہ پیداہوجائیں جومیری سعادت مندی کاسبب بن جائیں میرا سوزوگدازان سے ہویداہو۔

اس نقطۂ نظر کے اظہار کو ذرامزید بّین کرنے کے لیے افضل رضویؔ نے اپنے قلم کو تحرک دیکر خوب نکھار پیدا کیا وہ یقیناً اس خدمت کے سرانجام دینے پر لائق تحسین و داد ہیں۔ وہ نباتات کے حوالے سے اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے رقم طراز ہیں۔

’’جب مجھے موت اپنی آغوش میں لے لے تومیری خاک سے گُلِ لالہ پیداکرنا تاکہ میراسوز اور فریاد گُلِ لالہ کی صورت میں باقی رہے۔ ‘‘(دربرگ لالہ و گُل109/1)

ترجمان حقیقی:
بہت سارے صاحبانِ علم و دانش نے مختلف زاویوں سے علامہ اقبالؒ کے جذبات سعیدہ کی ترجمانی کی ہے۔ میں نے چالیس سال علامہ اقبا ل رحمۃ اللہ علیہ کو پڑھاہے میرے نزدیک اقبال جستجو کانام ہے جہد مسلسل کانام ہے ایک نہ تھکنے والی،نہ جھکنے والی اور نہ بکنے والی شخصیت کانام ہے لیکن اب جب میں نے افضل رضوی ؔکی کتاب”دربرگ لالہ و گُل”کی جلد اوّل کو پڑھا ہے تو ان کی ترجمانی کاانداز اتنا محققانہ اوراتنا حکیمانہ ہے کہ مجھے بھی اقبال بعض پہلوؤں سے منزل ہی نظرآنے لگے ہیں جس سلیقے سے افضل رضوی ؔنے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی ذات و صفات پران کی شاعری کے ایک پہلو، یعنی ”تفہیم ِاقبال آئینہ نباتات میں“ کو پیش کیاہے اس میں وہ اپنے ہم زمانہ شناسان اقبال پر فوقیت لے گئے ہیں۔ ہم افضل رضویؔ کو اک زمانے میں اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا ترجمان حقیقی سمجھتے ہیں جس طرح انہوں نے اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو پیش کیا اس میں اقبال رحمۃ اللہ علیہ صرف ایک مختلف الانواع شاعر ہی نہیں بلکہ وہ ملت اسلامیہ کی جانِ جاں ہیں حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کواس اندازپر یقیں سے پیش کرنے کا شرف اس زمانے میں افضل رضویؔ کو حاصل ہوا،ساری دنیامیں جہاں جہاں اردوکوجاننے،پڑھنے اور سمجھنے والے موجود ہیں ان پرلازم ہے کہ وہ کم از کم ایک بار تو افضل رضویؔ کی مصنفہ ”دربرگ لالہ و گُل“ کو پڑھ لیں۔ ان شاء اللہ بہت کچھ مترشح ہوگا۔

فریاد کرنے کا جو انداز اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اختیارکیا اور پھر جس انداز سلیمانہ میں افضل رضوی ؔنے اس کی ترجمانی کی وہ واقعی اپنےاندر ایک مذرتِ لازوال رکھتی ہے۔ وہ توبعد از وفات بھی ملت حنیفہ سے فریاد پر فریاد کرنے کے تمنائی ہیں۔

بنا کر دند خوش رسمے بخون و خاک غلطی دن
خدارحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

اقبال رحمۃ اللہ علیہ زندہ باد، ناشر اقبال افضل رضوی پائندہ باد:
افضل رضوی ؔزبورعجم کی غزلوں اور نظموں کاذکر کرتے ہوئے لالہ کاذکر چھیڑتے ہیں اور لالہ کاایک خاص معنی متعین کرتے ہیں لیکن یادرہے یہ معنی کلام اقبال رحمۃ اللہ علیہ سے ہرگز ہٹاہوانہیں ان کی ساری شاعری کے تناظر میں ان کے باطنی جذبات کے عین مطابق ہے اور حقیقت کا عکاس ہے۔

کسی طرح ایک ہزارسال سے سوئے ہوئے مسلمان جاگ جائیں اور وہ دعاکرتے ہیں کہ ان کی آواز سے مغموم کلی(مسلمان) کی گرہ کھل جائے اور گلِ لالہ کے داغ (مسلمان کے دل کے داغ)میرےکلام کی باد نسیم پھرسے تازہ کردے۔ علامہ کہتے ہیں میری شاعری مسلمانوں کی افسردگی کو دورکرنے کا ذریعہ بنے اور مسلمانوں کے دل میں اللہ کی محبت کا داغ پھرسے تازہ ہوجائے۔ (دربرگ لالہ و گُل131/1)

مصلح اُمت:
رج بالا جذبات اس محقق کے ہیں جس نے ایک مدت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو بطور مصلح اُمت پڑھا ہے اے کاش پاکستان کے لیڈران کو بھی کبھی اتنی فرصت ملے کہ وہ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو بطور مفکر پاکستان اور بطور مصوّر پاکستان ہی پڑھ لیں اگر اتناہی ہوجائے تو بہت حد تک ملت اسلامیہ میں بطورخاص مسلمانان پاکستان میں جذبہ امانت و صداقت ودیانت پیداہوجائے گا۔ لگتایوں ہے کہ ملک سے دور جا کر ملک میں رہنے والوں کی نسبت ملک کی وفاداری کا جذبہ بڑھ جاتاہے اور انہیں لفظ ملت کی غالباً صحیح سمجھ آجاتی ہے اسی لیے تو افضل رضوی ؔکے جذبات اس قدر صاف ستھرے،نفیس اور شفاف ہیں دل بے اختیار ان کی طرف داری کرنے پر مجبور ہوجاتاہے۔ اور ان کو خراج تحسین پیش کرنے لگتا ہے۔

علامہ رحمۃ اللہ علیہنے وحدت الوجود کے حوالے سے بھی بات کی ہے اور وحدت الشہود کے حوالے سے بھی،لیکن وہ ان دونوں نقطہ ہائے نظرکی اختلاف کو نزاع لفظی قراردیتے ہیں اس کی تفصیلات میں نے اپنی کتاب”وحدت الوجود”میں بیان کردی ہیں اگر آپ چاہیں تووہاں سے مطالعہ فرمالیں تخلیق کائنات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے افضل رضویؔ لکھتے ہیں۔

’’ہمارے چہار سو پھیلی ہرشے تخلیق آدم کے باعث ہے اور آدم کی تخلیق اس لیے کی گئی کہ ربّ العالمین رحمۃ للعالمین کا ظہور چاہتاتھا لالہ کوحدیث اور نصیحت کے طورپر پیش کیا گیا ہے۔‘‘ (دربرگ لالہ و گُل،139/1)

اس مقام پر افضل رضوی ؔنے ایک تو کمال کی بات یہ کہی کہ لالہ کو ہدایت اور نصیحت کے طورپر پیش کیاگیاہے اور دوسری بات بلوغ الہرا م کے مرتبہ پرہے کہ ساری کائنات اور اس کے تمام حُسن و جمال کی تخلیق کاباعث رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات والا صفات ہے۔ یہ بات صرف اور صرف و ہ کہہ سکتاہے جو اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی شاعری کی روح تک رسائی رکھتاہواور علامہ رحمۃ اللہ علیہ کو صرف ایک شاعر محض نہ جانتا ہوبلکہ ان کی فکرکی عمیق را ہیں معلوم ہوں اور اُن گہری راہوں کو کھُلی آنکھوں سے دیکھ رہاہو۔ افضل رضوی ؔدیدۂ بینارکھتے ہیں۔ وہ کوئی بات محض ظن و تخمین سے نہیں کرتے بلکہ حقائق کی روشنی میں خود حقیقت کے بہت قریب ہوکرکرتے ہیں وہ دلکھتے ہیں۔

اقبالؒ کا یہ سفر جاری رہتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زندہ رود (علامہ) موقع غنیمت جان کر شاہ ہمدان کے حضور بیان کرتے ہیں کہ

’’دیکھئے انسان،انسان کا قتل کررہاہے۔ اور اہلِ کشمیر پر ہونے والے ظلم و ستم کو دیکھ کر میرا دل تڑپ تڑپ جاتا ہے۔‘‘ (دربرگ لالہ و گُل143/1)

افضل رضوی ؔاگرچہ اقبال کے روحانی سفرکو تخیلاتی سفر،کانام دیتے ہیں۔ دراصل یہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا روحانی سفر ہے جوانہوں نے اپنے پیرومرشد حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ کی رفاقت میں طے کیا اس مبارک سفرکو روحانی زبان میں سیرالی اللہ کانام دیاگیاہے ساری کائنات کا یہ روحانی سفر علامہ اقبا ل رحمۃ اللہ علیہ نے کمال زندہ دلی کے ساتھ طے کیا اگرچہ اس مبارک سفر یعنی سیرالی اللہ کے اندر بھی کئی مقامات ہیں مثلاً مقام عبور مقام استقرار وغیرہ جن کا تفصیلی ذکر کبھی دوسرے مقام پر کردوں گا۔

اس روحانی سفر میں اقبال نے اپنا روحانی نام”زندہ رود”رکھاہے۔ اس کا مطلب ہوتاہے “حیات جاویداں کی مسلسل و پیہم بہتی ہوئی ندی”اب آپ اس اندازِ سخن سے خود اندازہ لگاسکتے ہیں کہ یہ روحانی سفرکس قدر باعث عروج تھا اور آخر میں یہ سفر کس قدر استقرار کا باعث بناہوگا اور پھر بھی روحانی سفر کتنے مضبوط مقامِ نزول کا حامل ٹھہراہوگا۔

ہر فرماں و شاداں نہیں:
افضل رضوی ؔنے جس اچھوتے انداز میں اقبال کو آئینہ بناکر نباتات کی اصل رنگ و بوکو دکھانے کی کوشش کی ہے وہ اس انداز حکیمانہ میں بہت کامیاب رہے ہیں سچی بات یہ ہے کہ فقیرکسی کی تشریحات سے جلد متاثر نہیں ہوتا مگر افضل رضویؔ نے اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی شاعری کے صرف ایک رُخ یعنی نباتات میں اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا تبحُّر،کو موضوع بناکر واقعی اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو ایک ہمہ جہت محقق، مدقق اور شاعر سلیم الطبع ثابت کردکھایاہے اس کا رنامے پرہم بہت فرماں و شاداں ہوئے ہیں لہذا:

افضل رضوی شناسائے روحِ اقبال زندہ باد
افضل رضوی ناطقہ نباتات زندہ باد

بے مثل تناظر:
اس میں کوئی شک نہیں،اقبال رحمۃ اللہ علیہ سروردوجہاں راحتِ قلب و جاں سید جن و انساں سے سچاعشق رکھتے ہیں اور ان کا عشق واقعہ قابلِ داد ہے وہ اپنے زمانہ کی نقشہ کشی کرتے ہیں افضل رضویؔ اسی تناظر میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

’’دورِ حاضر کا مسلمان معاشرتی اور معاشی دونوں اعتبار سے انحطاط کا شکار ہو چکا ہے انہوں نے اس کی وجہ صرف اور صرف قرآن سے دوری قرار دی ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ دور میں بھی صورت ویسی ہی ہو گئی ہے جیسے سو سال (100) پہلے تھی قوم بے راہ روی کا شکار ہے جھوٹے بلند و بام نعرے لگانے والے قوم کو بے وقوف بنا رہے ہیں اور حیران کُن بات تو یہ ہے کہ موجودہ دور کانام نہاد پڑھا لکھا طبقہ جسے دین کی ابجد نہیں آتی وہ دین کی تشریحات کرتا نظر آتا ہے۔ بس ایک طوفانِ بدتمیزی ہے جو چہار سُو پھیلا ہوا ہے کاش ایسے پُرفتن دور میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کوئی غلام اس قوم کی راہنمائی کے لیے سامنے آجائے جس کا ماضی مال و دولت کی خواہش سے پاک ہو جس کے پیشِ نظر صرف اور صرف مسلمان قوم کی بھلائی ہو جسے اپنی نمودونمائش سے کوئی سروکار نہ ہو جو لوگوں کو بے وقوف بنا کر جھوٹے نعروں کے پیچھے نہ لگائے۔ (دربرگ لالہ و گُل 151-152/1)

بھلا یہ کیسے فراموش کر دیا جائے کہ ملت اسلامیہ کو آج پھر ایک عظیم و جلیل مردِحق آگاہ مطلوب ہے جو اس ملت کی راہنمائی کرے۔ افضل رضوی نے حالاتِ زمانہ پر گہری نظر ڈالتے ہوئے وہ بات کہی ہے جس کی فی الحقیقت مسلمانوں کو ضرورت تھی اب سوال صرف یہ ہے کہ ان صفات کا جامع بندہ کہاں سے تلاش کیا جائے جس کا حوالہ افضل رضوی نے دیاہے۔ دین کی تشریحات کرنے والا ایسا مردجو ہوسِ مال و زر سے پاک ہو۔ وہ کہاں سے لائیں۔

ایک نیا گلستاں:
افضل رضوی چونکہ خودملتِ اسلامیہ کا دردرکھنے والے مردلاجواب ہیں لہذا انہوں نے خود اس سوال کے جواب کی طرف راہنمائی کی ہے۔ اقبال ہی کی زبانی بیان کرتے ہیں وہ سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ عالی میں التجا کرتے ہیں۔

’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پا س تو آپ کے حضور پیش کرنے کے لیے بس دل ہے اسے قبول کر لیجئے کیونکہ میری مشتِ غبار سے ایسا دل (لالہ) پیداہواہے کہ جس کاخون میرے پہلو سے ٹپک رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ میرے عشق کے سوزسے ایک نیا گلستاں پیدا کر دے۔ ‘‘(دربرگ لالہ و گُل152/1)

افضل رضوی کا کمال لاجواب:
یوں تو بہت لوگوں نے حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی شاعری کو ایک فکری شاعری قراردیااوراس میں سے بہت ساری فکری راہیں معلوم کی ہیں اور ان فکری راہوں کوکئی زاویوں سے متعارف کروایاہے۔ یہ سب یقینا علامہ اقبال کے کمالات ہی کا فیض ہے۔ لیکن افضل رضوی ؔنے جس طرح”دربرگ لالہ و گُل”میں اقبال کو نباتات کے آئینے میں اتاراہے اور پھر اس زاویے سے جس طرح عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دریابہائے ہیں وہ افضل رضوی ہی کاکمال لاجواب ہے۔ وہ “لالہ”کودل کہتے ہیں اور “دل”کولالہ اب خود ہی غورفرمائیے کیاآج تک کسی سے اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی یوں ترجمانی ہوپائی ہے یہ کارنامہ سرانجام دینااور اقبال کو آئینہ نباتات میں اس قدر حسین اور دیدہ زیب دکھانا یہ افضل رضوی ؔہی کی وہ فکری کاوش ہے جس کا تعلق خالصتہً روحانی دنیاسے ہے۔ ۔ ۔

جاری ہے۔ ۔ ۔

حصہ اول کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

حصہ سوم کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20