عمران خان کیا کریں؟ —– احمد الیاس

0
  • 1
    Share

عمران خان جیسے مخلص انسان کی محنت کو جہانگیر ترین اینڈ کمپنی کے ہاتھوں برباد ہوتے دیکھنا ایک دردناک تجربہ ہے۔ خان صاحب اس وقت اصل تحریک انصاف سے اور اپنی حقیقی قوت یعنی عوام سے بالکل کٹ چکے ہیں اور اپنے ان وزراء کے نرغے میں ہیں جو دیگر پارٹیوں سے آئے ہیں اور جن کی سوچ اس تحریک انصاف کے نظریے سے نہیں ملتیں جسے ۲۰۰۹ اور ۲۰۱۲ کے درمیان مجھ جیسے نوجوانوں نے جوائن کیا تھا۔ بہرحال، کچھ تسلی خان کے اس ٹریک ریکارڈ کو دیکھ کر ہوتی ہے کہ میاں صاحب کے برعکس وہ اپنی غلطیوں سے کبھی نہ کبھی سیکھ جاتے ہیں۔ (اگرچہ اس دوران کچھ نئی غلطیاں دریافت کرلیتے ہیں)۔ تاہم یہ حقیقت بھی سامنے آجاتی ہے کہ اپوزیشن کے طور پر خود کو ثابت کرنے کی طرح حکومت کے طور پر خود کو ثابت کرنے کے لیے بائیس سال نہیں ہیں بلکہ چار سال سے کم کا قلیل عرصہ بچا ہے جو آنکھ جھپکنے میں گزر جائے گا۔ بہرحال ہم جیسے غریب لوگ تو درد دل بیان کرسکتے ہیں یا جس طرز عمل کی ہمیں خان صاحب سے توقع ہے، وہ بتا سکتے ہیں۔

۱۔ عمران خان صاحب کو جو پہلا کام کرنا چاہیے وہ یہ کہ اپنے وزراء وغیرہ کو شٹ اپ کال دینی چاہیے۔ فواد چودھری، فردوس عاشق، فیاض الحسن، فیصل واوڈا، زرتاج گل جیسے وزرا کی تحریک انصاف حکومت میں وہی حیثئیت ہوگئی ہے جو نون لیگ میں مریم اورنگزیب، طلال چودھری، دانیال عزیز کی تھی۔ یہ لوگ اپنی موجودگی سے عوام کو حکومت سے متنفر کر دیتے ہیں۔ خدارا میڈیا پر ریگولر ترجمانی کے لیے ندیم افضل چن، شفقت محمود، ولید اقبال، عندلیب عباس جیسے سنجیدہ، معتدل اور سوفٹ سپوکن لوگوں کو آگے کریں۔ اور یہ ترجمان بھی فردوس آپا کی طرح روزانہ ٹی وی پر آنے کی بجائے اور اپوزیشن پر جا بے جا تنقید کرتے رہنے کی بجائے کسی اہم واقعہ یا حکومت کے اچھے اقدامات کے بارے مطلع کرنے کے لیے ہی نپے تلے انداز میں میڈیا سے گفتگو کریں۔

۲۔ اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنانا اب بند کردیں۔ آپ نے دہائیوں سے براجمان پارٹیوں کا بیڑا غرق کردیا، یہی بہت کارنامہ ہے۔ اب یہ سب مردہ ہوچکے ہیں۔ مردوں کو کوڑے مارتے رہنے کی بجائے کرنے کے کام کریں۔ نیب کے معاملات میں بالکل نہ بولیں۔ اس چیپٹر کو ابھی کچھ عرصے کے لیے بند کردیں۔ جب آپ بہتر گورننس کر کہ دکھا دیں گے تو آپ کی پوزیشن مضبوط ہوجائے گی۔ پھر بے شک ان سب کو پھانسیوں پر لٹکا دیجئیے گا۔ اگر آپ خدمت کے وقت پر خدمت کرنے کی بجائے ابھی سارا وقت اور توانائی ان لوگوں سے لڑنے میں لگا دیں گے تو آپ وہی غلطی کریں گے جو نواز شریف نے وقت سے پہلے ہی اور درکار خدمت کیے بغیر ہی اسٹیبلشمنٹ سے بار بار الجھ کر کی۔ نواز شریف بھی اردگان نہیں بنے تھے اور آپ بھی ابھی اردگان نہیں بنے۔ لہذا سنبھل کر۔ اپوزیشن کو فی الحال اس طرح اگنور کریں کہ آپ انہیں سنجیدگی سے ہی نہیں لیتے اور ان کی باتوں کی یا جیل میں آنے جانے کی آپ کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اس طرح یہ خود ہی آہستہ آہستہ غیر متعلق ہوجائیں گے۔

۳۔ تحریک انصاف کا خان صاحب سے بہتر ترجمان کوئی نہیں ہے۔ وہ اچھے سپیکر نہ ہونے کے باوجود اچھے کمیونیکیٹر ہیں کیونکہ دل سے بولتے ہیں اور لوگوں تک ان کے لیول پر آکر اپنی بات پہنچا لیتے ہیں۔ لہذا ہر دو ہفتے بعد یا کم از کم ماہانہ بنیادوں پر قوم سے خطاب کیا کریں۔ مختلف تقریبات میں نہیں، بلکہ نیشنل ٹیلی ویژن پر پرائم ٹائم میں ترجیحی طور پر براہ راست خطاب۔ اور اس خطاب میں سارا فوکس صرف عوام کو یہ بتانے پر ہونا چاہیے کہ آپ نے گزشتہ دو ہفتے یا ایک ماہ میں ان کے لیے کیا کیا ہے؟ نیز حکومت پر ہونے والی مختلف قسم کی تنقید پر مدلل انداز میں دفاع کریں یا اپنی مجبوریاں اور مسائل سمجھائیں۔ یہ خطاب بہ طور وزیراعظم کے ہی ہونا چاہیے، چئیرمین تحریک انصاف کے طور پر نہیں۔

۴۔ آپ کا اصل اثاثہ عام آدمی ہے اور عام آدمی کا پاکستان اسلام آباد سے نہیں بلکہ کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ سے چلتا ہے۔ لہذا ہر لانگ ویک اینڈ (جمعہ، ہفتہ، اتوار) آپ کا ان شہروں میں سے کسی ایک میں گزرنا چاہیے۔ مہینے کا پہلا ویک اینڈ کراچی میں، دوسرا لاہور میں، تیسرا پشاور میں اور چوتھا کوئٹہ میں۔ اس دوران ساری صوبائی قیادت کو اگلے ماہ کے لیے ٹاسک دیں اور گزشتہ ماہ کے دئیے ہوئے ٹاسک کا حساب لیں۔ تفصیلی ہوم ورک نہ کرنا اور تفصیلات و جزئیات پر دھیان نہ دینا آپ کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ صوبائی دارالحکومتوں کے یہ دورے گورنر ہاؤس اور سی ایم ہاؤس تک محدود نہیں ہونے چاہییں بلکہ شہروں کے کاروباری و سیاسی حلقوں اور عوام سے بھی باقاعدگی سے ملتے رہیں۔

۵۔ کراچی، فیصل آباد، جنوبی پنجاب، کے پی کے۔۔۔ ان علاقوں کے لوگوں نے آپ پر اعتماد کیا ہے اور ماضی میں ان علاقوں کو وہ توجہ نہیں ملی جو ملنی چاہیے۔ لہذا یہ علاقے آپ کی ترجیح ہونے چاہییں۔ بالخصوص کراچی کے حوالے سے تو آپ کو اپنا شناختی کارڈ کراچی کے پتے پر بنوا کر خود کو کراچی والا ہی سمجھنا چاہیے اور اسی لحاظ سے اس شہر کی خدمت کرنی چاہیے۔ اسی طرح فیصل آباد کو خاص اہمیت جو ملنی چاہیے تھی وہ نہیں مل رہی۔ یہ دونوں پاکستان کے صنعتی شہر ہیں جنہوں نے آپ پر حیرت ناک اعتماد کیا اور ان کے آگے بڑھنے سے پورا پاکستان آگے بڑھے گا۔ سیاسی طور پر بھی بہت ضروری ہے کہ آپ طویل المدتی منظر نامے میں مختلف گڑھ بنائیں، جیسا کہ نون لیگ نے وسطی پنجاب اور پی پی نے اندرون سندھ کو بنایا۔ تاہم پاکستان نواز وفاقی جماعت ہونے کے ناطے آپ کے گڑھ پورے پاکستان میں بکھرے ہونے چاہییں۔

۶۔ لاہور میں میاں اسلم اقبال کو، کے پی میں عاطف خان کو سی ایم بنائیں۔ جہانگیر ترین اور پرویز خٹک سے بلیک میل ہونا چھوڑ دیں۔ زیادہ سے زیادہ ان کے ناراض ہونے سے کیا ہوگا؟ حکومتیں گرجائیں گی؟ گرنے دیں۔ جب آپ حکومت کرکے اپنا مقصد ہی پورا نہیں کر پارہے تو کیا فائدہ۔ کراچی میں بھی کنٹرول علی زیدی وغیرہ سے لے کر نجیب ہارون جیسے نظریاتی لوگوں کو دیں۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا طوطی بولتا ہے ابھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ کیانی
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20