اسلام میں پروٹسٹنٹ تحریک… فرحان کامرانی کے جواب میں — علی عبداللہ

0

فرحان کامرانی کی تحریر “اسلام میں پروٹسٹنٹ تحریک کی مختلف صورتیں” پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ بقول مصنف وہ ایک غیر جانبدار تحریر پیش کر رہے ہیں مگر اس کے باوجود انہوں نے ایک خاص نظریے اور طبقے کی فکر کو اجاگر کیا ہے۔ تاریخی حقائق پیش کرتے ہوئے کنجوسی اور یک طرفہ انداز اپنایا ہے۔ مزید تحریک دیوبند اور وہابی تحریک کو انھوں نے پروٹسٹنٹ تحریک سے تشبیہ دینے کی کوشش کی ہے۔ عربستان کی بات پھر کبھی سہی، اس تحریر میں تحریک اہل دیوبند کے نظریات، اس تحریک سے پہلے شاہان ہند اور ان کے مذہبی حالات اور ساتھ ساتھ لارنس آف عریبیہ اور شریف مکہ پر چند مختصر باتیں پیش کروں گا۔ فرحان کامرانی کے مطابق، پروٹسٹنٹ تحریک کے اہم ترین نظریات یہ تھے،

1- خدا اور انسان کے درمیان سے Interpreter of faith یعنی علما، امام اور مشائخ کو نکال دینا۔
2۔ روایتی/ قدیمی مذہب کی اکثر روایات و عقائد کی تردید اور تمام یا اکثر روایات و رسوم کو اصل دین سے جدا اور بعد کی اختراعات گرداننا۔
3۔ الہامی کتب کی شخصی تعبیرات۔

پروٹسٹنٹ بنیادی طور پر چرچ کے آپسی اختلافات کے نتیجے میں وجود میں آئی جو چرچ کی بدعنوانیوں اور برائیوں کو بے نقاب کرتی تھی۔ مثال کے طور پر جعلی معافی نامے اور بائبل کی تشریح پر پابندی اس تحریک کو متحرک کرنے کا سبب بنی۔ اب اگر برصغیر پر نظر ڈالیں تو تحریک دیوبند مکمل طور پر انگریز سرکار کے خلاف مزاحمت اور مسلمانان ہند کے مذہبی، سیاسی اور ملی تشخص کو اجاگر کرنے کی خاطر وجود میں آئی تھی۔ اس تحریک کا پہلے سے موجود اسلام سے کسی قسم کا اختلاف نہ تھا۔ یہ بات یاد رہے کہ اہل دیوبند کا کوئی الگ اعتقاد یا فقھی مکتب فکر نہیں اور مسلک کے اعتبار سے بھی وہ کوئی جدید فرقہ نہیں ہے بلکہ یہ وہی قدیم اہل سنت والجماعت کا مسلسل سلسلہ ہے جو سلف صالحین سے چلا آ رہا ہے۔ پروٹسٹنس اگر خدا اور بندے کے مابین علماء اور مشائخ کو نکال دیتے ہیں تو اس کے برعکس اہل دیوبند اپنے مشائخ کی صحبت اور زندہ شیخ کی بیعت کو بہتر عمل مانتے ہیں اور عملی طور پر اس کے قائل بھی ہیں۔ دیوبند کے نامور علماء بیعت شدہ تھے اور آگے بیعت کرنے کے مجاز بھی تھے، جن میں مولانا قاسم نانوتوی رح جو کہ حضرت امداد اللہ مہاجر مکی سے بیعت تھے۔ مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا شاہ رفیع الدین، مولانا اشرف علی تھانوی اور دیگر کئی علماء اور مشائخ نہ صرف بزرگان کی بیعت میں تھے بلکہ آگے مریدین کو بیعت کرتے بھی تھے۔

فرحان کامرانی کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ برصغیر میں تحریک دیوبند سے پہلے روایتی اور قدیم اسلام موجود تھا، جس پر شاہان ہند اور دیگر لوگ عمل کرتے تھے۔ اگر اسی بات کو دیکھا جائے تو دور اکبری اور جہانگیری میں روایتی قدیم اسلام کا کیا حال تھا ملاحظہ کیجیے۔ اکبر کے دور کے سب سے زیادہ ثقہ راوی ملا عبدالقادر بدایونی کے مطابق، “صحابہ کی شان میں سیر کی کتابوں کے پڑھنے میں جو الفاظ بادشاہ کی زبان سے نکلتے تھے خصوصاً خلفاء ثلاثہ، فدک اور جنگ صفین کے ذکر کے وقت جو کچھ کہا جاتا تھا کان اگر ان کے سننے سے بہرے ہی ہوتے تو بہتر ہوتا۔ میں اپنی زبان سے ان کو ادا نہیں کر سکتا۔” اسی طرح ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ،” ارکان دین کے ہر رکن اور اسلامی عقائد کے ہر عقیدہ کے متعلق خواہ ان کا تعلق اصول سے ہو یا فروع سے متعلق تمسخر اور ٹھٹھے کے ساتھ طرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا کیے جانے لگے۔”

پھر ایک اور مقام پر ملا کہتے ہیں کہ،” ملت اسلامی کا سارا سرمایہ حادث و بد عقلی کا مجموعہ ٹھہرایا گیا اور اس کے بنانے والے العیاذ باللہ عرب کے وہ چند مفلس بدو قرار پائے جن میں سب کے سب مفسد اور بٹ مار اور راہزن تھے۔” برصغیر کا یہ روایتی اور قدیم اسلام صرف بادشاہ نہیں بلکہ عوام الناس اور پھر آنے والے زمانوں تک کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا اور اصل دین کی روح غائب ہونے لگی۔ لہذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ تحریک دیوبند فرسودہ روایات، من گھڑت رسومات اور بدعات کے بارے آگاہی کا عملی استعارہ بھی تھا اور ساتھ ہی ساتھ انگریز سرکار کے خلاف متحد ہو کر مسلمانان ہند کی دینی، سیاسی اور روحانی تربیت بھی کرنے کا اہل تھا۔

مصنف کا یہ بھی کہنا ہے کہ منصور حلاج انہی پروٹسٹنٹ نظریات سے ٹکراؤ کا شکار ہوا اور انھی تحاریک کی وجہ سے اسلام میں روحانیت کی گنجائش نہیں بلکہ مجاہدہ بھی اضافی چیزیں سمجھی جانے لگی ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو اہل دیوبند منصور حلاج کو مقبولین میں شمار نہ کرتی۔ “القول المنصور فی ابن منصور” اگر پڑھیں تو معلوم ہو گا مولانا اشرف علی تھانوی رح فرماتے تھےکہ”ابن منصور کامل موحد اور مسئلہ توحید کے بڑے محقق تھے۔” یعنی فرحان کامرانی صاحب تاریخی حقائق پیش کرتے کرتے یک طرفہ انداز اپنانے لگے۔ تحریک دیوبند کسی بھی شکل میں پروٹسٹنٹ تحریک کے ساتھ موازنے پر نہیں آ سکتی اور نہ ہی اس کی روح پروٹسٹنٹ روح سے مشابہہ ہے۔ اہل دیوبند تصوف کے چاروں سلسلوں، چشتیہ، قادریہ، سہروردیہ اور نقشبندیہ کے قائل ہیں اور ان سلسلوں میں ایک خاص مقام بھی رکھتے ہیں تاکہ روحانیت اور تصوف کے ساتھ ساتھ زندہ شیخ کے ساتھ تعلق رہ سکے۔

یہاں تک واضح ہوا کہ تحریک دیوبند اور پروٹسٹنٹ میں کسی قسم کی مماثلت موجود نہیں ہے۔

آگے فرحان کامرانی کا کہنا تھا کہ خلافت عثمانیہ آل سعود اور لارنس کے گٹھ جوڑ سے ٹوٹی اور بیچارہ شریف مکہ اس کا شکار ہو گیا۔ نجانے مصنف نے کہاں اور کونسی تاریخ اٹھا کر دیکھی جس میں یہ لکھا تھا۔ حالانکہ اگر غیر متعصب ہو کر تحقیق کی جائے تو معلوم ہو گا شریف مکہ کی بغاوت، فرانسیسیوں اور لارنس کے ساتھ مل کر خلافت عثمانہ کے خلاف شروع ہوئی۔ ڈاکٹر محمد عزیر صاحب اپنی کتاب “تاریخ سلطنت عثمانیہ” میں لکھتے ہیں کہ،

“10 جون 1916 کو شریف مکہ یعنی شریف حسین نے عرب میں ترکوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ 14 جون کو مکہ اور یکم جولائی کو جدہ پر قابض ہو گیا۔ لارنس کی برسوں کی کوششیں بارآور ہوئیں اور اکتوبر 1916 میں شریف حسین نے شاہ حجاز ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس کا لڑکا امیر فیصل عربی فوجوں کو لے کر ترکوں کے مقابلے میں شام کی طرف بڑھا، لارنس اور دوسرے انگریز افسر اس کے ساتھ تھے۔”

اتنا ہی نہیں بلکہ یوجین روگان اپنی انٹرنیشنل بیسٹ سیلر کتاب” دی عربز اے ہسٹری” میں لکھتے ہیں کہ،

” By the summer of 1915,sharif hussain ibn Ali of Mecca entered into correspondance with british high commission in egypt, Sir Mac Mahon. In the course of their eight month correspondance which ran untill March 1916,Mac Mahon promised British recognition of an independent Arab kingdom to be ruled by sharif hussayen and his hashmite dynasty, in return for the Hashmites leading an Arab revolt against ottoman rule”

یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ عرب بغاوت کا سب سے المناک واقعہ مدینہ منورہ کی جنگ تھی، جس میں شریف حسین کے تینوں بیٹے، عبداللہ بن حسین، علی بن حسین اور فیصل بن حسین اپنے اپنے دستوں کے ساتھ شامل تھے اور انہی میں ٹی ای لارنس اور فرانسیسی افسر بھی شامل تھے۔ مزید اس بارے حسین میک موہن، skykes picot, اور فیصل وائزمین معاہدات پڑھے جا سکتے ہیں۔

اس ساری تحریر کا مقصد کسی خاص طبقے کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ یہ مقصود ہے کہ تاریخی حقائق کو مسخ کر کے یا تڑوڑ مروڑ کر ملغوبے کی شکل میں پیش کرنے کی بجائے مکمل واضح اور مستند حقائق کے ساتھ پیش کرنا چاہیے تاکہ سادہ لوح عوام کشمکش کا شکار ہونے کی بجائے مزید تحقیق کہ جانب قدم بڑھا سکے۔ فرحان کامرانی نے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر نیوٹرل رہنے کی بجائے یک طرفہ انداز سے مخصوص نظریات پیش کیے ہیں اور زبردستی تحریک دیوبند کو پروٹسٹنٹ روح سے جوڑنے کی کوشش کی ہے جو کہ بے بنیاد ایک فرضی خیال سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

نوٹ: اس مضمون کے لیے درج ذیل کتب سے استفادہ حاصل کیا گیا ہے۔
1۔ تاریخ خلافت عثمانیہ از ڈاکٹر محمد عزیر
2۔ حضرت مجدد الف ثانی، ترتیب و تدوین اکرام چغتائی
3۔ اکابر علماء دیوبند
4۔ سیرت منصور حلاج از مولانا ظفر احمد عثمانی
5۔ دجال 3 از ابو لبابہ شاہ منصور
6۔ The Arabs: A history by Eugene Rogan

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20