یہ انیس بیس کا چکر ۔۔۔۔ شازیہ ظفر

0

اے نئے سال بتا تجھ میں نیاپن کیا ہے
ہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے
روشنی دن کی وہی تاروں بھری رات وہی
آج ہم کو نظر آتی ہے ہر بات وہی
آسماں بدلا ہے افسوس نا بدلی ہے زمیں
ایک ہندسے کا بدلنا کوئی جدت تو نہیں
اگلے برسوں ہوں گے قرینے تیرے
کسے معلوم نہیں بارہ مہینے تیرے
تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی شام نئی
ورنہ ان آن آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی

کوئی نئی بات نہیں ھے۔۔۔بس انیس بیس کا ھی چکر ھے سارا۔۔۔ مگر کوئی سمجھنے کو تیار ھی کب ھے۔۔۔۔۔خدا لگتی کہیں تو اس انیس بیس کے چکر نے ھمیں تو چکرا کے ھی رکھ دیا ھے۔۔۔۔
صبح سویرے ناشتہ بناتے ھوئے ساس والدہ کی آوازیں کانوں میں پڑ رھی تھیں۔۔۔۔ ” پتا نہیں کب جائے گی یہ سردی۔۔۔روز اتنی ھی شدت ھے مجال ھے جو انیس بیس کا بھی فرق پڑا ھو ایسی سردی تو انڈیا میں پڑا کرتی تھی جب ھماری اماں اپنے ھاتھ سے روئی کی بنڈیاں بنا کر ھر بچے کو کپڑوں کے نیچے پہنا دیا کرتی تھیں۔۔سردی سے بچاؤ بھی ھو جاتا اور سردی کی بیماریوں سے بھی۔۔۔”

ابھی یہ قصہ سن ھی رھے تھے کہ شوھرِنامدار کی پکار کانوں میں پڑی۔۔۔ ذرا واڈورب میں سے میرا براؤن کوٹ نکال دینا۔۔ ھم نے جا کے واڈروب کا جائزہ لیا اور آواز لگائی کونسا والا بھئی یہاں تو سارے کوٹ ھی ایک سے ھیں۔۔۔رھنے دو میں خود ھی لے لیتا ھوں۔۔۔ جھنجھلاھٹ بھری آواز میں چاکلیٹی اور بادامی کو چھوڑ ایک کافی کلر کا کوٹ واڈروب میں سے نکالا گیا 🙄۔۔۔۔۔ ایک تو آپ مردوں کے لباس کے رنگوں میں انیس بیس کا ھی تو فرق ھوتا ھے پہچاننا دشوار ایک ھم خواتین ھیں اتنے آرام سے نشانی بتا دیتے ھیں۔۔۔ذرا وہ براؤن شال نکال دو جو فیروزی اورگلابی کے درمیان میں ھے۔۔۔😜
ناشتے سے فراغت ھوئی تو مالی محترم کی آمد کے ساتھ انکی داستان شروع ھوگئی۔۔۔ ایک تو جب بھی انھیں گاؤں جانا ھو کبھی ڈائیرئکٹ نہیں بتاتے۔۔۔۔ھمیشہ کسی دوسری باجی کے رویئے کو ڈھال بنا کے اطلاع فراھم کرتے ھیں۔۔۔۔ باجی دیکھیں ذرا گلی نمبر چھ والی باجی کو۔۔ جیسے ھی میں نے بتایا کہ اگلے ھفتے مجھے گاؤں جانا ھے اور میں دس روز کے لیے رشید کو کام پہ لگا کے جا رھا ھوں۔۔ فوراً ھی غصہ کرنے لگیں کہ ابھی دومہینے بھی نہیں ھوئے تمھیں گاؤں سے آئے۔۔۔ میں نے کہہ دیا رشید کے اور میرے کام میں انیس بیس کا بھی فرق ھوا ناں تو بیشک آپ میری تنخواہ کاٹ لینا۔۔۔اففف یہ انیس بیس۔۔۔

ذرا بیکری سے کچھ سامان لے رھے تھے کہ ایک عزیزہ مل گئیں۔۔۔ اتنے عرصے سے کہاں غائب ھیں آپ ھمارے پوچھنے پر بولیں ارے بھئی اس جِم سے اس جِم بس یہی کھیل کھیل رھی ھوں وزن بڑھ گیا تھا اتنے جم بدلے مگر مجال ھے جو انیس بیس کا بھی فرق پڑا ھو۔۔اب سب چھوڑ دیا۔۔ایویں پاگل بناتے ھیں یہ لوگ۔۔۔ھاتھ میں پکڑے فرنچ فرائز کے ڈبے میں سے گرما گرم فرائز کھاتے انھوں نے مذید دوچار باتیں کی اور اپنی راہ چل پڑیں
ھمیں ٹیلر سے کپڑے لینا تھے وھاں پہنچے اور رسید دکھائی تو جواب ملا باجی پرسوں لیجیئے گا ابھی تیار نہیں ھوئے آپ کے کپڑے۔۔۔ ابھی تک کیوں نھیں سلے۔۔ یہ پوچھنے کی دیر تھی کہ ٹیلر ماسٹر صاحب شروع ھوگئے۔۔۔ باجی لوڈشیڈنگ ھی اتنی ھے کیا کریں ھم بھی۔۔ اس تبدیلی کو ووٹ دیا تھا کہ اب حالات بہتر ھونگے مگر کچھ نہیں ھوا۔۔۔ یقین کریں انیس بیس کا بھی فرق نہیں پڑا ویسا ھی ھے سب کچھ
گھر پہنچے صاحبزادے پیپر دے کر آ چکے تھے۔۔۔ کیسا ھوا ؟؟ یہ پوچھنے کی نوبت ھی نہیں آئی اور وہ باچھیں کھلاتے ھوئے خود ھی شروع ھوگئے۔۔۔ ایسا اعلی پیپر ھوا ھے ناں مما کے بس۔۔۔ رات میں پڑھائی بند کرنے لگا تھا کہ بس آخر آخر میں چند سوال اور کرلیئے۔۔۔اور میں دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ سب ویسے کے ویسے ھی پیپر میں آئے ھوئے تھے۔۔انیس بیس بھی اِدھر اُدھر نہیں ھوئے۔۔۔🙄

آج تو پورا دن اسی انیس بیس کے چکر میں ھی گذر گیا سارے کاموں سے فرصت پانے کے بعد سیل فون اٹھایا تو سوشل میڈیا پہ بھی ھر کوئی انیس کے جانے اور بیس کے آنے کی مبارکبادیں بھیج رھا ھے۔۔۔رنگارنگ وش کارڈز ھر طرف سے موصول ھو رھے ھیں۔۔۔ ایک تانتا سا بندھا ھوا ھے۔۔۔
دل چاھا کہ اعلان کرکے بتائیں کہ دنیا والو۔۔۔ کیوں اتنا ھلکان ھو رھے ھو کچھ بھی نہیں بدلنے والا۔۔ ھم بھی وھی رھیں گے حالات بھی وھی۔۔۔ سرکار بھی وھی اور اسکی چکربازیاں بھی وھی سب کچھ ایسا ھی رھے گا۔۔۔۔ اب انیس بیس کے فرق پہ کیا خوشیاں منانیں۔۔۔ بیٹھو ایک طرف مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ھے۔۔۔
سو ھم بھی اب چپ ھی رھتے ھیں۔۔۔ وہ ٹھیک ھی تو کہا ھے شاعر نے
کس کس کا غم کھائیے کس کس کو رویئے
آرام بڑی چیز ھے منہ ڈھک کے سویئے

واقعی۔۔ کیا منہ ڈھک کے سونے لگے آپ لوگ۔۔۔۔؟؟ اچھا جاتے بس ایک بات تو سنتے جایئے۔۔۔ ارے بھئی مانا کہ انیس بیس کا ھی فرق ھے مگر ھے تو نیا سال ناں۔۔۔تو خدا کرے کہ انیس سے بیس کا یہ سفر سبھی کو راس آئے۔۔۔۔ اور نیا سال ھم سب کے لیے مبارک ثابت ھو۔۔۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: