اربابِ اقتدار! پہلے اپنے حصہ کا کام، پھر مدرسہ اصلاحات — باسط حلیم

0

موجودہ حکومت کئی دفعہ اپنے عزائم کا اظہار کرچکی ہے اور وزارت تعلیم اس حوالہ سے کام بھی کررہی ہےکہ مدارس کا نظام بھی حکومت کی سرپرستی میں اسی طرح آجانا چاہیے جس طرح عصری تعلیم کا نظام کام کررہا ہے۔

مدارس کامکمل حکومتی سرپرستی میں چلایا جانا خوش آئیند ہے۔ مدارس پہلے اپنے مدد آپ اپنے معاشی معاملات سمبھال رہے ہیں حکومت مدارس کی سرپرستی کرے گی تو مدارس کو ایک مرکزی تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ معاشی سرپرستی بھی میسر ہوگی۔ لیکن طبقہ علما حکومت کے اس فیصلہ کو ماننے کو تیار نہیں، اس کی کئ وجوہات ہیں۔

۔ حکومتوں کا مقصد مدارس کے نظام کو بہتر کرنا نہیں ہے وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت مدارس اور علماکو پابند کرنا چاہتی ہے جس طرح سعودی عرب میں خانہ کعبہ کے امام تک کو حکومت کی طرف سے جاری یا سینسرڈ خطبہ دینا ہوتا اسی طرح پاکستان میں بھی وہی بات کی جاسکے جس کی حکمران اجازت دے۔

۔ علما یہ سمجھتے ہیں کہ عصری نظام تعلیم اور نصاب میں بہت خامیاں ہیں، وزارت تعلیم ان خامیوں کو دور کرے، پہلے اپنے نظام میں اصلاح کرے پھر مدارس اصلاحات کی بات کرے۔ عصری نظام تعلیم کی فرسودگی کا عالم یہ ہے کہ سلیبس بن جائے تو اس کی نظرثانی اور ترمیم و اضافہ کا کوئی مستقل نظام موجود نہیں ہے۔ مطالعہ پاکستان (بارہویں جماعت) میں گزشتہ دس بارہ سال سے موازنہ دبیر و انیس کو مولانا الطاف حسین حالی سے منسوب کیا جارہے ہے۔ ہنوز 2019 میں شائع کی گئی کتاب میں بھی یہ غلطی موجود ہے۔ مذہب اور ادب کے طالب علم کو معلوم ہے کہ موازنہ دبیر و انیس مولانا حالی کی تصنیف نہیں بلکہ مولاناشبلی نعمانی کی تالیف ہے۔مدارس کے نصاب کی تاریخ کا جائزہ لیں تو مدارس کا قدیم نصاب عصری اور دینی دونوں علوم میں رسوخ پیدا کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔مدارس میں علوم کی قدیم تقسیم یوں تھی۔

Image result for Madrassah Reforms"۔الیہیات
۔ریاضیات
۔طبیعات

اس مرکزی تقسیم کے ذیل میں مدارس میں تقریباً تمام علوم کے مبادیات پڑھادیے جاتے تھے۔ آج کا طبیعات کا طالب علم طبیعات اور مابعدازطبیعات میں فرق کرنے سے قاصر ہے۔ مدارس کا نصاب بھی اپ گریڈ کیا جانا چاہیے مگر عصری تعلیم کے لیے بنایا گیا سلیبس زیادہ شدت کے ساتھ متقاضی ہے کہ اسے بدلا جائے۔

۔علما حکمران طبقہ پر شک کرتے ہیں کہ مدارس اصلاحات کے نام پر مذہبی تعلیم کا ستیاناس کردیا جائے گا۔ ان کا یہ خدشہ حکمران طبقہ کی ترجیحات کی بنیاد پر ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر واقعی ہمارے حکمران پاکستان کو ریاست مدینہ بنانا چاہتے ہیں اور مدارس کی بھی سرپرستی کرنا چاہتے ہیں تو عملاَ ثبوت دیا جائے۔آئین میں موجود اسلامی دفعات اور سزاؤں کو بحال کیا جائے، سود کا ملک سے خاتمہ کیا جائے، آئین میں موجود غیر اسلامی دفعات کو اسلامائز کیا جائے اور پچھلی یا موجودہ حکومت نے جو غیر اسلامی دفعات منظور کی ہیں ان کو ختم کیا جائے۔ نیز اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو دستورو قانون کا حصہ بنایا جائے۔ قارئین جانتے ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل کو اب مقصدی کونسل بنا دیا گیا ہے، من پسند علماکو ممبر بنایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود جوسفارشات نظریاتی کونسل نے مقننہ کے سامنے رکھی ہیں ریاست مدینہ کے دعویدار انہیں قانون کا حصہ بناکر اپنا اعتماد بحال کریں۔

۔ مختلف یونیورسٹیز میں شعبہ دینیات کے تحت اسلامیات میں سپیشلائزیشن کروائی جارہی ہیں۔ بالخصوص اسلامیہ یونیورسٹی اسلام آباد اور شیخ زایداسلامک سنٹر جامعہ پنجاب لاہور۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان اداروں کی فکلٹی، انفراسٹرکچر اور تحقیقی ماحول بہترین ہے لیکن پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرلینے کے باوجود طالب علم میں اتنی استعداد پیدا نہیں ہوپاتی جتنی درس نظامی کرنے کے بعد پیدا ہوتی ہے کیونکہ یونیورسٹیز کے کریڈٹ آرز میں اصول ہی پڑھائے جاسکتے ہیں متون نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان یونیورسٹیز میں مدرسہ فاضلین کو ایم فل اور پی ایچ ڈی میں داخلہ کے لیے ترجیح دی جاتی ہے۔

۔مدارس کے خودمختارنظام کے حامیوں کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ عصری تعلیم میں معاشرتی ناانصافی پائی جاتی ہے۔ کئی طرح کے نصاب پڑھائے جارہے ہیں۔ لہذا پہلے عصری نظام موثر اورسب کے لیے یکساں بنایا جائے پھر مدارس کے حوالہ سے بات کی جائے۔

۔مدارس منتظمین کا کہنا ہے کہ مدارس کے نظام کو دیکھنے والا ادارہ وفاق المدارس حکومتی سرپرستی میں کام کرتا ہے۔ اس ادارے کو مکمل طور پر وزارت تعلیم میں لاکر مزید فعال کردینا ہی کافی ہوگا۔

۔یہ بھی امر واقعہ ہے کہ حکومت اکیلی عصری تعلیمی ضروریات پوری نہیں کرسکتی۔ نجی شعبہ کی مدد سے عصری تعلیم کا خواب بہت حد تک پورا ہورہا ہے۔ ایسے میں مدارس کو اپنی سرپرستی میں لینا حکومتی اخراجات میں اضافہ کرنا ہے۔ مدارس اپنی مدد آپ چل رہے ہیں۔حکومت پر بوجھ نہیں ہیں۔

– ان تمام تحفظات کے باوجود مدارس کے نظام کو وزارت تعلیم کے تحت لانا مستحسن قدم ہے لیکن اس کے لیے کنسینس ڈویلپ کیا جائے۔ اور اسلامی نظریاتی کونسل کو فعال اور موثر بنایا جائے۔ نظریاتی کونسل میں تمام مذہبی قوتوں کو نمائندگی دی جائے۔ اس پر علما کا اتفاق کروایا جائے۔ اس کے بعد نظریاتی کونسل کو یہ کام تفویض کیا جائے کہ وہ مدارس کے نظام کا ایک متفقہ خاکہ پیش کرے جس میں اہل مدرسہ کے تمام تحفظات کو دور کیا گیا ہو۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات حکومت من وعن مانے۔ تب مدارس حکومتی سرپرستی میں آسکتے ہیں۔یہ بات بھی گوش گزاررہے کہ چند مخصوص مذہبی نمائندوں کو بٹھا کر حکومت کوئی نظام متعارف نہیں کرواسکتی۔ ایسی حکومت جو عام معاملات میں اپوزیشن جماعتوں کو ملانے کی بجائے یا آئین سازی کی بجائے آرڈینینس کا سہارا لے وہ کس طرح مذہبی طبقہ سے اپنا اعتماد بحال کرسکتا ہے؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: