چین کے لیے مواقع، اور ہمارے لیے بھی! ۔۔ Michael J. Mazarr

0

چین نے کم و بیش تین عشروں تک جو پالیسی اپنائی وہ خاصی کارگر ثابت ہوئی اور اس کے نتیجے میں چین کو معاشی و سیاسی سطح پر وہ استحکام حاصل ہوا، جس کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ مگر اب ایسا لگتا ہے کہ چین کی مجموعی پالیسی بحران کا شکار ہے۔ امریکا نے کچھ مدت قبل تائیوان کے معاملے میں اپنے موقف میں تبدیلی کا عندیہ دیا ہے مگر پھر فوراً ہی یہ ارادہ ترک کردیا۔ تائیوان کو چین اپنا باغی صوبہ قرار دیتا ہے۔ اِسے ’’ون چائنا‘‘ پالیسی کہا جاتا ہے۔ امریکا نے چند ماہ کے دوران ’’ون چائنا‘‘ پالیسی اور بحیرۂ جنوبی چین میں پائے جانے والے تنازعات کے حوالے سے چین سے معاملات خاصے غیر معمولی اور قدرے انتباہی انداز سے نمٹائے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ چین سے بامقصد اور تعمیری تعلقات کا راگ بھی الاپا جارہا ہے۔

پورے یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ سب کچھ کس سمت لے جارہا ہے مگر ایک بات طے ہے … یہ کہ اگر امریکی قیادت کسی نہ کسی طور چین کو اپنے زیر اثر رکھنا چاہتی ہے تو کسی نئے عالمی نظام کے چلانے اور اُس کی عمدہ کارکردگی کی ضمانت دینے والے ملک کی حیثیت سے امریکا کا کردار قبول کرنے کے معاملے میں چین کا تذبذب بلکہ مشکلات پیدا کرنے والا رویہ امریکی قیادت کو بہت کچھ سکھا سکتا ہے۔

حال ہی میں سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں بین الاقوامی اقتصادی فورم کے اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ نے خاصی جاندار اور متاثر کن تقریر کی، جس میں انہوں نے عالمی معیشت کو ایک لڑی میں پرونے اور قوانین پر عمل کی بنیاد پر عالمی نظام تشکیل دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے عالمی سطح پر ترقی و حکمرانی کے حوالے سے قابل عمل ایجنڈا پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس پر ابتدائی ردعمل شکوک سے مُزیّن تھا۔ چین چاہتا ہے کہ کوئی بھی نیا عالمی نظام امریکا تنہا تشکیل نہ دے۔ وہ اس کام میں نمایاں حد تک معاونت کرنے کا خواہش مند ہے۔ یہ امریکا کے لیے اچھا موقع ہے۔ اگر وہ کسی نئے عالمی نظام کی تشکیل میں چین کو ساتھ ملاتا ہے تو چین کی رضامندی کا حقیقی جائزہ لینے کا موقع بھی ملے گا۔

چینی صدر کی تقریر میں اور بہت کچھ تلاش کرنے کی کوشش لاحاصل رہے گی۔ اُنہوں نے ڈیووس اکنامک فورم کو چین کے متبادل اقتصادی اقدامات پیش کرنے اور ایشیا میں خراب ہوتی ہوئی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا۔ ان کی پوری تقریر اس امر کی مظہر تھی کہ چین کچھ کرنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں اسے مغربی طاقتوں بالخصوص امریکا سے اشتراکِ عمل کی توقع ہے۔ صدر شی جن پنگ کی تقریر کو چین کے طویل المیعاد عزائم، منصوبوں اور مقاصد میں کسی بڑی تبدیلی کے مظہر یا خواہش کے روپ میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ مگر خیر اس کا یہ مطلب نہیں کہ چین نے جو تاریخی موقع فراہم کیا ہے اُسے بالکل ہی نظر انداز کردیا جائے۔

امریکا نیا عالمی نظام لانا چاہتا ہے مگر دو عوامل ایسے ہیں جنہوں نے اس حوالے سے چین کے امریکا سے اشتراکِ عمل کی راہ میں دیواریں کھڑی کردی ہیں۔ اول تو یہ کہ ہر ابھرتی ہوئی قوت اپنی صلاحیت اور سکت سے کہیں زیادہ عزائم کو پروان چڑھانے لگتی ہے اور موجودہ قوتوں کو دھکا مارکر اسٹیج سے گرانا چاہتی ہے اور دوم یہ کہ چین مزاجاً خود کو ایشیا کا لیڈر سمجھتا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ چینی قیادت کو اس بات کا بھی شدید احساس ہے کہ امریکا اور یورپ نے مل کر چین کو صدیوں دبانے اور عالمی سیاست و سفارت و معیشت کے اعتبار سے پیچھے رکھنے کی کوشش کی ہے۔

جو کچھ چند عشروں کے دوران ہوا ہے اُس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چین موجودہ عالمی نظام، اِس کے اطوار اور اداروں سے ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ عالمی تجارتی تنظیم سے عالمی بینک اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں سے تعلقات کی نوعیت، بیرونی تجارت کے حوالے سے غیر معمولی پابندیوں کے اطلاق، سائبر میڈلنگ اور دوسرے بہت سے معاملات میں چینی رویے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ چینی قیادت موجودہ عالمی نظام میں شمولیت اختیار کرنے سے زیادہ اِسے نقصان پہنچانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔

بات ایسی نہیں کہ سمجھ میں نہ آسکے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جو دنیا ابھری اس میں چین ابتدا میں تو کمزور اور متذبذب تھا مگر پھر اس نے طاقتور ہونا شروع کیا۔ تین عشروں سے بھی زائد مدت کے دوران چین ایک بھرپور عالمی قوت بن کر ابھرا ہے، جس کے نتیجے میں اس کا اعتماد بھی بڑھا ہے۔ وہ اب زیادہ کھل کر سامنے آنا چاہتا ہے۔ کئی بین الاقوامی اداروں میں وہ اہم رکن کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین نے اب تک اقوام متحدہ کے مجموعی نظام کو قبول کیا ہے اور اُسے مستحکم کرنے میں اپنا کردار عمدگی سے ادا کیا ہے۔ اس نے جوہری عدم پھیلاؤ اور دنیا بھر میں امن قائم کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کے اقدامات کی بھرپور حمایت بھی کی ہے۔

۱۹۶۰ء کی دہائی کے بعد سے چین کی ترقی کا سفر شروع ہوا۔ اس نے ایک مخصوص رفتار سے اپنی قوت میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ ایک طرف تو چینی قیادت اس بات کی خواہش مند رہی ہے کہ عالمی اداروں اور نظام کا حصہ بن کر اپنی طاقت میں اضافہ کرے اور دوسری طرف امریکا یہ چاہتا ہے کہ چین کو اپنے ساتھ ملاکر عالمی نظام کو زیادہ سے زیادہ مستحکم کرے۔ دونوں بڑی قوتیں اپنے اپنے مقصد کے حصول میں بہت حد تک کامیاب رہی ہیں۔ صدر شی جن پنگ نے ڈیووس میں اپنی تقریر میں بھی کہا کہ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ عالمی اداروں کے ساتھ مل کر چلنا ہی درست رجحان ہے اور اِسی صورت بہتر انداز سے کام کیا جاسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اس وقت جو کچھ کر رہا ہے اُس سے ہٹ کر بھی بہت کچھ کرسکتا ہے۔ چینیوں کی نفسی ساخت میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ اُن سے نا انصافی روا رکھی گئی ہے، انہیں دباکر رکھا گیا ہے۔ مزید طاقت حاصل کرنے پر چین کی طرف سے ایسے اقدامات بھی سامنے آسکتے ہیں جن کا بنیادی مقصد صدیوں ڈھائے جانے والے مظالم کا بدلہ لینا ہو۔ واشنگٹن کے پالیسی ساز بھی یہی سمجھتے ہیں کہ چین اپنا کھویا ہوا کردار بحال کرنے پر مائل ہوسکتا ہے۔ ایسے میں اُس کی طرف سے طاقت کے استعمال کا امکان بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ واشنگٹن میں یہ احساس بھی شدت سے پایا جاتا ہے کہ چین کے عزائم کو ایک مشترکہ نظام کی حدود میں مقید نہیں رکھا جاسکتا۔

وقت آگیا ہے کہ چین کے عالمی کردار کا تعین کیا جائے اور اُسے ساتھ مل کر کام کرنے پر رضامند کیا جائے۔ ڈیووس میں صدر شی جن پنگ نے جو تقریر کی وہ اس حوالے سے بہت کچھ بیان کرتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ امریکا اور یورپ کو چین کے حوالے سے ایک اہم موقع ہاتھ لگا ہے۔ ایک طرف چین کچھ کرنا چاہتا ہے یعنی وہ اپنے لیے وسیع تر عالمی کردار تلاش کر رہا ہے اور دوسری طرف امریکا اور یورپ بھی چین سے لاحق خطرے کو کم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ چین سے کوئی بڑا باضابطہ معاہدہ معاملات کو درست کرنے کی راہ میں اہم سنگِ میل ثابت ہوسکتا ہے۔

صدر شی جن پنگ کی تقریر اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ چین عالمی نظام میں اپنے لیے معقول کردار چاہتا ہے۔ اس کردار کے عوض وہ بڑی طاقتوں سے بھرپور اشتراکِ عمل کے لیے بھی تیار ہے۔ امریکا اور یورپ کے لیے یہ فیصلے کی گھڑی ہے۔ چین کے عزائم سے خوفزدہ ہونے اور عمل کی دنیا میں کچھ کرنے سے گریز کی راہ پر گامزن رہنے کے بجائے امریکا اور اس کے حلیف چینی قیادت سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم آپ کی بات پر بھروسا کرنے اور آپ کو عالمی نظام میں ایک بڑا کردار دینے کو تیار ہیں مگر اس کی چند شرائط ہوں گی۔ اور اگر چینی قیادت گرین سگنل دے تو شرائط پر رفتہ رفتہ عمل کرایا جاسکتا ہے۔ اِسی صورت ایک نیا اور زیادہ مستحکم عالمی نظام فروغ پاسکتا ہے۔ چین کی بڑھتی ہوئی قوت سے ٹکرانے کے بجائے اُسے عالمی نظام کا حصہ بناکر اُس سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کی صورت ہی میں دنیا کو پرامن رکھا جاسکتا ہے۔ چین کی بڑھتی ہوئی قوت کو بروئے کار لانے کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً چند کلیدی معیارات بھی نافذ کیے جاسکتے ہیں۔

عالمی نظام کو جامع اور مستحکم بنانے کے تین بنیادی اصول ہیں:

٭ عدم جارحیت

٭ قانون کی حکمرانی

٭ معیاری تجارت

ان میں سے ہر درجے میں امریکا اور دیگر بڑی قوتیں چین کو ساتھ ملاکر چل سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں چین سے اپنی مرضی کا کردار ادا کروانا بہت زیادہ مشکل نہ رہے گا۔ عالمی معاملات میں چین کے دعوؤں اور قضیوں نیز عالمی تجارت سے متعلق چین کی شکایات اور خدشات دور کرنے میں مرحلہ وار ہی کامیابی مل سکتی ہے۔ چین جو کچھ چاہتا ہے اس کے حوالے سے امریکا اور اس کے حلیفوں کے اقدامات سے چین کو اسی جوش و خروش کا مظاہرہ کرنا چاہیے، جو صدر شی جن پنگ کی بیان کردہ پالیسی کے حوالے سے پایا جاتا ہے۔

چینی قیادت عالمی نظام کے ساتھ چلنے کو تیار دکھائی دے رہی ہے۔ امریکا اور یورپ مل کر چین کو نئے اور تیزی سے ابھرتے ہوئے عالمی نظام کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ یہ بنیادی اقدام چینی قیادت کے عزائم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کا موقع بھی فراہم کرے گا۔ اس صورت میں امریکی پالیسی میں بھی واضح تبدیلی دکھائی دے گی، جس کا اب تک مقصد یہی رہا ہے کہ چین کو کسی نہ کسی طور امریکی قیادت میں کام کرنے والے عالمی نظام کے دائرے میں لے آیا جائے۔ یہ پالیسی اب کام نہیں کرسکتی۔ اس وقت چین کسی بھی سطح پر اس موڈ میں نہیں ہے کہ کوئی اس پر اپنی رائے یا مرضی مسلط کرے۔ وہ کسی بھی نظام کا حصہ بننے کو تیار ضرور ہے مگر اپنی شرائط پر اور اپنی سہولت کے مطابق۔ عالمی تجارت اور اقتدارِ اعلیٰ سے متعلق قضیوں اور مناقشوں میں چین کی پالیسی بہت حد تک ویسی ہی ہے جیسی پتھر پر لکیر ہوا کرتی ہے۔ بیشتر بین الاقوامی معاملات میں وہ اب تک قائدانہ کردار سے گریز کرتا آیا ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہوسکتا ہے کہ اُسے امریکا اور یورپ پر پورا یقین نہیں۔

صدر شی جن پنگ نے جو کچھ کہا ہے اس کی بنیاد پر چین سے اشتراکِ عمل بڑھانے میں کچھ ہرج نہیں۔ امید یہی ہے کہ چین عالمی نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر چلنے کو ترجیح دے گا۔ اور اگر ایسا نہ بھی ہوا تو زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا؟ یہی نا کہ وہ موجودہ عالمی نظام کی چُولیں ہلادے گا! اگر ایسا ہوا تب بھی امریکا کے لیے الگ سے کچھ کر دکھانے کا موقع ضرور پیدا ہوگا۔

(Michael J. Mazarr رینڈ کارپوریشن میں سینئر پولیٹیکل سائنٹسٹ اور نئے پائیدار عالمی نظام کی تیاری سے متعلق منصوبے کے سربراہ بھی ہیں۔)

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: