برگد، بابل کی شخصیت کے گرد گھومتی آپ بیتی — نعیم الرحمٰن

0

اردو نثری اور شعری ادب میں ماں کے حوالے سے بہت عمدہ تحریریں موجود ہیں۔ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفراللہ خان نے ’’میری والدہ ‘‘ کے نام سے دلچسپ خاکہ لکھاہے، جو ان کی آپ بیتی میں بھی شامل ہے۔ مشہورادیب، دانشور اور بیوروکریٹ قدرت اللہ شہاب کے اپنی والدہ کے بارے میں خاکہ ’’ماں جی‘‘ بہت مشہور ہوا۔ جو قدرت اللہ شہاب نے اپنے افسانوی مجموعے ’’سرخ فیتہ‘‘ اور آپ بیتی ’’شہاب نامہ‘‘ کا بھی حصہ بنایا۔ حال ہی میں وفات پانے والے افسانہ نگار محمد حامد سراج نے اپنی والدہ پر بھرپور رپورتاژ ’’میا‘‘ پوری کتاب لکھ ڈالی۔ جس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ کئی اور شعراء اور ادیبوں نے ماں کے حوالے سے دل کو چھونے والی تحریریں لکھی ہیں۔ والدکے بارے میں بھی کچھ خاکے اور مضامین لکھے گئے۔ لیکن ڈنمارک میں مقیم شاعرہ، افسانہ نگار اور ماہرِ تعلیم صدف مرزاکی آپ بیتی’’برگد‘‘ ان کے والد کی شخصیت کے گرد گھومتی ہے۔ بیٹیاں عموماً باپ کی شخصیت کے حصارمیں رہتی اور اس کے قریب ہوتی ہیں۔ کوئی بیٹی پیا دیس جاکر بھی بابل سے دور نہیں ہو پاتی، اس لیے ایسی تحریرکی امید کسی بیٹی ہی سے تھی۔ صدف مرزاکی پوری آپ بیتی اباجی کے گرد ہی گھومتی ہے۔

آپ بیتی کے نام ’’برگد‘‘ رکھنے کے بارے میں صدف مرزا طویل واقعہ بیان کیا ہے۔ ’’ڈاکٹر عبداللہ نے مہمان نوازی کا انت کرتے ہوئے مجھے نہ صرف دہلی کی یادگاروں سے ہمکلام ہونے کا موقع دیا بلکہ جاوید اختر سے میری ملاقات کا اہتمام بھی کرڈالا۔ جاوید اختر کو میری ڈینش شعروادب کی کتاب کے بارے میں علم تو تھا، سو دریافت کیاکہ آج کل کیا لکھ رہی ہوں۔ میں نے بتایاکہ اپنے والدکے بارے میں ایک کتاب تحریر کرنے کی کوشش میں مصروف ہوں۔ اچھا۔ نام کیا رکھا ہے؟ نام سادہ سا ہے۔ میں نے کہا۔ میرے پیارے اباجی۔ صدف مرزا۔ انہوں نے ایک لمحہ توقف سے کہا، کیا یہ نام حتمی ہے؟ جی حتمی تو نہیں لیکن میرے ذہن میں ایک سادہ سے نام کے طور پر یہی خیال ہے۔ اچھا تو پھر کچھ اور سوچو۔ یہ نام ایک عام سی بیٹی تو تجویز کرسکتی ہے لیکن ’نہیں‘ جیسی نظم کہنے اور جرات سے پڑھنے والی صدف مرزا اس عام سے عنوان کے پیچھے نہیں کھڑی ہوسکتی۔ میں ایک لمحے کے لیے تو بالکل گنگ رہ گئی۔ مجھے نہ صرف ان کی یادداشت کی داد دینا پڑی بلکہ اس احساس نے ممنون کردیا کہ انہیں میری نظم کا عنوان بھی یاد ہے۔ میں نے ایک لحظے کے بعد کہا ’’برگد‘‘ پہلے یہ نام سوچا تھا، پھر خیال آیا کہ یہ ایک عام سا استعارہ ہے۔ دراصل پہلے میری کتابوں کے نام اباجی تجویز کیا کرتے تھے۔ جاوید اختر بغیر کچھ کہے اٹھے، اپنی کتاب اٹھا کر اس کا ایک صفحہ کھولا اور ایک نظم پرانگلی رکھ دی۔ ’’برگد‘‘ ڈاکٹر عبداللہ اور میں خاموشی سے انہیں دیکھتے رہے۔ ’چلیے پھر آج ہم کتاب کا نام بدل دیتے ہیں۔ آپ نے اسے نیا نام دیاہے۔ میں نے کہا۔ ’’نہیں۔ میں نے صرف توجہ دلائی ہے۔ نام آپ کے ذہن کے بینک میں نہ صرف موجود تھا بلکہ آپ نے اپنی فہرست میں بھی شامل کیا ہوگا۔‘‘ وہ سہولت سے بولے۔ میرے پیارے اباجی ایک ایسی بیٹی کی طرف سے دیا گیا عنوان لگ رہا تھا جس نے بس صرف ابا کے آنگن میں زندگی بسر کی ہو۔ آپ اسے وہ نام دیجیے جو ایک باشعور شاعرہ اور مصنفہ کی سوچ میں ابھرے۔‘‘ میں ان دونوں احباب کی کرم فرمائی کیسے بھول سکتی ہوں۔ اس دن کے بعدمیں نے اس کتاب کو ’برگد‘‘ کے نام سے ہی موسوم کیا۔

کتاب کا بہت عمدہ انتساب ہے۔

’’دنیا کے ہر اس والدکے نام، جس نے اپنے بیٹوں کی طرح بیٹیوں کو بھی اپنے نام اور شناخت کا حوالہ سمجھا، جو نام اور نسل کے غرور اور افتخار کو دورِ جاہلیت کی یادگاربنا ڈالتا ہے، جو اپنے خون کی حرمت ہر صورت میں قائم رکھتاہے، خواہ وہ وہ ایک شیرِنر کی رگوں میں آگ کے شعلوں کی طرح بھڑکتی پھرے، یا اس کی بیٹی کی رگوں میں نئی نسلوںکی امین کی طرح سیراب کردینے والی زرخیز بارش کی رم جھم کی طرح رواں ہو، بضعۃ الرسول، سیدہ فاطمۃ الزہراؓ سے لے کر امامِ اعظم ابوحنیفہ ؒ تک اپنے والدکے نام کو زندہ رکھنے کی روایات بکھری پڑی ہیں، بیٹیوں کے نام سے زندہ رہنے والوں کی عظمت کے نام‘‘

کتاب کے نام کے ساتھ ایک مصرعہ ’’تمہارے نام کی نِسبت سے نیک نام ہوں میں‘‘ درج ہے۔ اور میاں محمد بخش کا کلام صدف مرزاکے والد سے پیار کو واضح کرتا ہے۔
اے بابل توں قبلہ کعبہ دِل تے جان میری دا
دائم اسم شریف تُساڈاوِرد زبان میری دا
دَر تیرے دی خاک اسانوں سُرمہ عَین نورانی
تخت تیرا کوہِ طورتے، چہرہ چشمہ فیض ربانی
ضل اللہ وجود تُساڈا، چھتر میرے سِرسایہ
قدم تیرے دی دھوڑ مبارک چاہاں تاج بنایا

صدف مرزا کا اپنا شعر ہے۔
مرے کلام میں بابل وہ استعارہ ہے۔ ۔ ۔ صدف مجھے جو مری زندگی سے پیارا ہے

بابل کے لیے ہربیٹی کے جذبات کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں، لیکن انہیں تحریر کرنا کسی کسی کو ہی نصیب ہوتا ہے۔ صدف مرزا وہ خوش نصیب بیٹی ہے۔ جسے ایک عظیم باپ کی تربیت حاصل ہوئی اور انہوں نے اس نعمت سے ساری زندگی استفادہ حاصل کیا۔ برگدمیں رشتوں کی احترام اور اہمیت ہرصفحے پر خوبصورت انداز میں موجود ہے۔ آپ بیتی میری پسندیدہ صنف ادب ہے۔ بیشتر آپ بیتیاں ذاتی ستائش سے بھری ہوتی ہیں، اوران میں اپنی اور خود سے وابستہ افراد کی تعریفیں جھوٹی محسوس ہوتی ہیں۔ اسی لیے ’’شہاب نامہ‘‘ سمیت بیشتر آپ بیتیاں دلچسپ بھی ہوں تو میں انہیں ناول کہتا ہوں۔ تاہم صدف مرزا کی ’برگد‘ دل سے لکھی اور دل میں گھر کرنے والی کتاب جاتی ہے۔ والدین، تایا، چچا، بھائی اہل خانہ کا ذکر پڑھ کرقاری کو رشک آتاہے کہ کاش ’ایں خانہ ہمہ آفتاب‘ ایسے گھرانے ہمارے ملک میں اور ہوتے، تو ہمارا ملک یکسر مختلف ہوتا۔ یہاں فرقہ واریت، رنگ و نسل کے فساد نہ ہوتے۔ ایک وسیع خاندان کی روایات اور تربیت نے صدف مرزا کو سیپ میں موتی بنایا۔ اباجی مزید پڑھنے اور لکھنے، تایاجان عربی، اردو فارسی سکھانے اور درست تلفظ پر توجہ مرکوز کرتے۔ چچا شریف انگلش زبان و ادب سے متعارف کراتے تو صدف مرزا کی شخصیت ہی نکھرتی چلی گئی۔ اباجی اور امی جی کی باتیں ایسی اقوال زریں کی صورت پوری کتاب میں بکھرے ہوئے ہیں۔ اگر ان اقوال کا انتخاب کیا جائے تو ایک مزید کالم کی ضرورت پڑے گی۔

جہلم بک کارنرنے ’’برگد‘‘ کو انتہائی عمدہ کاغذ پر بہت شاندار انداز میں شائع کیا ہے۔ آفسٹ پیپر پر آٹھ سو بتیس صفحات کی کتاب کی قیمت اٹھارہ سو روپے ہے۔ اتنی عمدہ کتاب شائع کرنے پر گگن اور امرشاہد کو بھرپور مبارکباد پیش ہے۔

صدف مرزا شاعرہ، مصنفہ، مترجم اور صحافی ہیں۔ گزشتہ تیس برس سے نیلزبوہر اور پانز کرسچن اینڈرسن کے دیس کے دیس ڈنمارک میں مقیم ہیں۔ جہلم کالج سے بی اے کیا اور چاربرس تک کالج کی نصابی و غیرنصابی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔ ایف اے اور بی اے میں ٹاپ کر کے دو مرتبہ گولڈمیڈل حاصل کیا۔ مباحثوں، مشاعروں اور پنجابی ٹاکروں میں پاکستان بھر سے جہلم کالج کے لیے انعامات و ٹرافیاں جیت کر لائیں۔ پنجاب یونیورسٹی لاہورسے ایم اے بی ایڈکی ڈگری حاصل کی۔ جبکہ کوپن ہیگن یونیورسٹی سے چاربرس تعلیم حاصل کی اور ڈینش، انگریزی، تاریخ اور غذائیت کے اختیاری مضامین کا انتخاب کیا۔

برگد کے ابواب کے عنوان بہت دلچسپ مصرعوں کی صورت رکھے گئے ہیں۔ جس کا تصور صدف مرزا کو کہاں سے ملا۔ وہ ایک پیراگراف میں لکھتی ہیں۔

’’چچاجان نے عمرِعزیزکے کئی عشرے برطانیہ میں گزار لیے۔ اپنے مزاج اور شوق کے مطابق وہاں بھی زبان سے محبت کا علم لہراتے رہے۔ اپنے کالمز اور مضامین کو وہ ہمیشہ کوئی منفرد مصرع عنوان کے طور پر دیتے۔ آرٹیکلز کو مصرعوں کا موضوع دینا میں نے ان سے ہی سیکھا۔ مجھے آج بھی چچاجان کا ایک زبردست آرٹیکل یاد ہے، جس کا عنوان ’’حمیت نام ہے جس کا، گئی تیمورکے گھرسے‘‘ تھا۔ مجھے اس مصرع کا پس منظر سمجھانے کے لیے چچا جان نے اقبال کی پوری نظم ’’غلام قادر روہیلہ‘‘ پڑھائی۔‘‘

برگد کے عنوانات کوایک نظردیکھیں۔ دیباچہ ہے۔ ’’ترا علاج قلم کے سوا کچھ اور نہیں‘‘ دیگر ابواب کے عنوانات ہیں۔ ’’بتائیں تم کو ماں جائے ہم اب ہنسنے سے ڈرتے ہیں‘‘، ’’بچپن دوڑتاپھرا ہے ہرنوں سا‘‘، ’’جہلم کے پانیوں کی روانی ہے رقص میں‘‘، ’’بادشاہ تو نہیں، بادشاہ گرہیں ہم‘‘، ’’نطق و تکلم کی فصاحت کامعلم‘‘، ’’بس اک دُعاسے زمانے میں شادکام ہوں میں‘‘، ’’کوئی اوڑھ کر اب زمیں سو گیا ہے‘‘، ’’ترے اک سجدہء شب سے کرم کی بارشیں تھیں ماں‘‘، ’’انگلیوں کی پوروں سے ذائقے ٹپکتے ہیں‘‘، ’’زمستانی ہواؤں میں چراغِ اردو جلتا ہے‘‘، ’’میری نبضوں میں تیرے پاؤں کی آہٹ گونجی‘‘، ’’تیرے ہونٹوں کی تبسم میں جوانی میری‘‘، ’’چیستانِ بدن میں کئی زخم رازوں کی صورت پڑے تھے‘‘، ’’کلام سے طعام تک، علم کی حکومت ہے‘‘، ’’جل پری آج بھی علامت ہے‘‘، ’’جاگ اُٹھے خفتہ کئی زخم پرانے یک لخت‘‘، ’’چھپے تھے تیر کیا کیا مہربانوں کی کمانوں میں‘‘ اور ’’وہ التفات کہ الفاظ بے زباں ٹھہرے‘‘ کیا خوبصورت عنوان ہیں۔ ہرعنوان اس باب کا خلاصہ محسوس ہوتا ہے۔

اردو کے ممتاز ناول، افسانہ و ڈرامہ نگارمستنصرحسین تارڑنے برگد اور صدف مرزا کے بارے میں کیا عمدہ لکھا ہے۔

’’اپنی سوانح حیات برگد کی مانندصدف مرزا، بہ ذات خود بھی ایک ایسابرگدہے جوعین جوانی میں، جب کہ اس کی ہرشاخ پر بلبلیں بوتلی تھی، اُکھڑا اورسات سرزمین پار کہاں بویاگیا۔ لِٹل مرمیڈکے ملک میں، ڈنمارک میں۔ ۔ عام طور پرکسی بھی پودے کو جڑ سے اکھاڑیں تو اُس کی جڑوں کو ہوا لگ جاتی ہے اور وہ کسی اجنبی سرزمین میں نہیں پنپتا۔ ۔ جب کہ اِس برگد کو ہوا تو لگی لیکن اُس نے پھر بھی اِس نئی مٹی میں جڑیں پکڑیں جو بہت گہرائی تک چلی گئیں اور یوں وہ پہلے کی نسبت زیادہ گھنا اور سایہ دار ہوتا گیا۔ ۔ اب اس کی شاخوں پرنہ صرف آبائی پکھیرو کُوکتے تھے بلکہ ڈنمارک کے ادب، شاعری، ثقافت اور فلسفے کے سو رنگ پرندے بھی چہکنے لگے تھے۔ ۔ ۔ یہ برگد ہانز کرسچن اینڈرسن کی مانند داستان گو ہوگیا۔ ۔ ۔ صدف مرزا، ایک خودسر سی عورت ہے۔ ۔ ہر لمحہ مرنے مارنے پر تیار، خنجربہ کَف، لیکن وہ یہ خنجر اپنی ہی ذات کی تنہائیوں میں اتارتی ہے۔ ۔ خود اپنے آپ کو تخلیق کے کَرب میں مبتلا کرکے مار ڈالتی ہے۔ ۔ برگد ایک ناول، ایک آپ بیتی، ایک اعتراف۔ ۔ رواں اور موثر نثر، اُردو ادب میں ایک روشن چراغ کی مانند روشن ہو گیا ہے۔‘‘

دنیاکے اُن تمام عظیم برگدوں کے نام
شجرکی طرح ہمیشہ چھایا اور تحفظ کا استعارہ
شجر۔ ۔ ۔ جوکٹ بھی جائے تو
کبھی کشتی بن کر دریا پار کرواتا ہے
کبھی برفانی موسم میں آتش کی حدت اور روشنی
کبھی وہ تخت جس پرآپ براجمان ہوں
کبھی وہ تختہ جس پر جہالت کو سولی دی جائے

دیباچہ میں ان دلکش مصرعوں کے بعدصدف مرزا لکھتی ہیں۔ ’’اس کتاب کامقصدنہ تو آباء پرستی ہے اور نہ خود کو نجیب الطرفین ثابت کرنے کی ہمکتی ہلکان کرتی کوشش۔ اس کا واحد مقصد خود کو باور کرانا اور آئندہ نسل کو متعارف کرانا ہے کہ نسلوں کی مضبوط بنیاد رکھنے والے ایسے بزرگ بھی ہوا کرتے تھے جو اپنی ذات اور مفاد سے بلند تر ہوکر سوچ سکتے تھے اورجن کی زندگی کامقصد نئی نسل کی آبیاری تھا۔

برگد کا آغاز چوبیس جولائی کی دل دہلاتی صبح سے ہوتا ہے۔ جس کی صبح ہونے والے دہشتناک سانحے نے صدف مرزا کی زندگی بدل دی۔ ان کے پڑوس میں ڈینش ماں اور کانگو کا باپ چار بچوں کے ساتھ مقیم تھا۔ ماںاین کسی اور کے لیے اپنے گھر اور بچوں کو چھوڑنا چاہتی تھی۔ ان کے معاشرے کے لیے یہ معمول کی بات تھی۔ اس شام صدف مرزاسے لائبریری جاتے ہوئے باپ سیٹا ان سے بات کرنا چاہتا تھا۔ لیکن دیر کی وجہ سے انہوں نے سیٹا سے کہا کل بات کریں گے۔ اسی رات سیٹا نے خود کو چاروں بچوں سمیت گھر کو دھماکے سے اڑا دیا۔ صدف اور پڑوس کے کچھ گھر بھی تباہ ہوئے۔ یہ المیہ اورساتھ یہ دکھ کے اگر وہ سیٹا کی بات سن لیتی تو شاید آج بچے زندہ ہوتے۔ صدف جیسی حساس خاتون کے لیے یہ بہت بڑا المیہ تھا۔ جس سے وہ بہت مدت نہ نکل سکیں اور شدید بیمار ہوگئیں۔ ابھی وہ اس سانحے ہی نہیں نکلی تھیں کہ ان کے بڑے بھائی کا ایک حادثے میں انتقال ہوگیا۔ ان سانحات سے وہ بہت مشکل سے اباجی کی نصیحتوں سے ہی نکل سکیں۔

صدف مرزا آنتوں میں زخم کی پیچیدہ بیماری کاشکار رہیں، جس کے لیے انہیں کئی بار طویل آپریشن کراناپڑے اور کئی بار جان کے لالے بھی پڑ گئے۔ لیکن ان کے والد اور اولاد کی سپورٹ نے انہیں ہر بار صحتیاب کردیا۔ برگد کا بیشتر حصہ تو صدف کے والد کی باتوں سے بھرا ہے۔ ان کے ساتھ تایاجان، لالہ، امی جی، بیٹی عالیہ اور بہت سے دیگر روشن اور مثبت کردار بھی جلوہ گرہیں اور کتاب کی دلچسپی میں اضافہ کرتے ہیں۔ لیکن اس میں ایک کمی محسوس ہوتی ہے۔ وہ شوہر کا ذکر بالکل نہ ہونا۔ ایسے والد کی بیٹی کی ڈنمارک میں شادی کیسی ہوئی اور وہ قائم کیوں نہیں رہی۔ علیحدگی کے حوالے سے کئی جگہ بالکل سرسری ساذکر اور اباجی کا بھرپور ساتھ دینا ہے۔ اگر یہ تشنگی بھی دور ہوجاتی تو دوسری بیٹیوں کو ایسے کسی جال میں پھنسنے سے روکنے میں مددگار ہوتا۔ لیکن یہ کتاب کی خامی نہیں اگر وہ اس معاملے کو تشنہ رکھنا چاہتی ہیں تو یہ بطور قلمکار ان کا حق ہے۔ اباجی کے علم میں جب بھی بات آئی انہوں نے کسی کو کوئی سوال، کوئی استفسار، کوئی بات یا اعتراض کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ بس ایک پل میں فیصلہ سنادیا۔ ’’میری بیٹی کی زندگی اس کی اپنی ہے، کسی اور کی ملکیت نہیں۔ وہ اس کااپنی اور اپنی اولاد کی بہتری کے لیے جیسے چاہے گزارے۔ ڈولی سے جنازے تک کی تلقین وہی کرتے ہیں جو بیٹیوں کے صرف جنازے اٹھانے پریقین رکھتے ہیں۔‘‘

اباجی کا موقف تھا کہ بچوں کو بالخصوص بیٹیوں کو اپنے والدین پر یہ یقین ہوناچاہیے کہ وہ ان کی ہر بات سننے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ ان کے اور اولاد کے درمیان معاشرے کی تعمیر کردہ شیشے کی دیواریں نہیں ہونی چاہئیں۔ برطانوی شاعرہ طلعت سلیم کے شوہر نے ان سے کہا وہ بھی جہلم سے ہیں ایک استاد مرزا غلام نی تھے وہاں پر، سرائے عالمگیر میں تعلیم و تدریس کی بنیاد رکھنے والے۔ لیکن آپ ان کو کہاں جانتی ہوں گی؟ ان کے ایک بھائی برطانیہ میں بہت فعال تھے۔ جب صدف نے انہیں بتایاکہ وہ میرے باباجان ہیں۔ تو ششدر ہونے کی باری ان کی تھی۔ کہاں کہاں فخرکرنے کے ایسے موقع صدف کوملے۔

تایاجان کوصرف لسانیات سے ہی دلچسپی نہیں تھی بلکہ ان کا الفاظ کے مصادر، منبع اور بدلتی ہوئی اشکال سے بھی دلچسپی تھی۔ ایک مرتبہ برطانیہ کی ایک بچی نے بات چیت کے دوران اپنی پسندیدہ کھانا۔ چھِٹ بتایا۔ یہ صدف مرزا کے لیے نیا لفظ تھا۔ تایاجان نے پوچھنے پر بتایا میرپور اور اس کے نواح میں کڑھی پکوڑے ڈال کرنہیں بنتی بلکہ ٹوٹا چاول اور بیسن کی آمیزش سے تیار کردہ سالن کو چھِٹ کہاجاتاہے۔ ایسی بے شمار کار آمد باتیں جگہ جگہ ملتی ہیں اور قاری کی معلومات میں اضافہ کرتی ہیں۔

ایک بار اباجی نے کہا۔ دھیاں جئی تے کوئی ای نعمت نئیں۔ صدف نے چھیڑا۔ اچھا تو پھر مجھے پتر کیوں کہتے ہیں؟ جواب ملا۔ وہ تو میں معاشرتی جہالت کی نفی کرنے کو کہتا ہوں جو دھی اور پتر میں فرق کرتے ہیں۔ تو پھربیٹوں کو بھی میری دھی رانی کہا کریں۔ اباجی مسکرئے۔ بیٹے کو تو پیدا ہوتے ہی یہ معاشرہ گڑ بتاشے بانٹ کرخوش آمدید کہتا ہے۔ اس کو دھی رانی کہنے کا فائدہ اس لیے نہیں کہ بیٹی کو تو یقین دلانا ہوتا ہے کہ وہ اسی طرح اہم ہے جیسے بیٹا۔

ایک مرتبہ چاچاجان نے بتایاکہ ہم چھ بھائی تھے۔ سب سے بڑے بھائی یعنی باباجان کی والدہ ان کی پیدائش کے بعد وفات پاگئیں اور ہماری دادی جان نے ان کو پالا۔ اس دن پہلی بار علم ہوا کہ باباجان کی والدہ وفات پاچکی تھیں۔ میں نے امی سے کہا آپ نے بتایا کیوں نہیں۔ بولیں۔ توں افسوس کرن جانراسی؟ چاچاجان اکثر کہتے کہ ہماری ایک ہی بہن تھی جسے کم عمری میں بیاہ دیاگیا۔ ہمارے والدین کی خدمت کی ساری سعادتیں بھی تمہاری ماں نے سمیٹیں اورساری دعائیں بھی وہ لے گئیں۔

امی جی نے صدف کو بتایا۔ ’’آپ کے اباجی نے مجھے زندگی میں کبھی ناراض نہیں ہونے دیا۔ اتنے بڑے خاندان میں اونچ نیچ ہونا ایک عام بات تھی لیکن اباجی نے کبھی خفا ہوکر سونے نہیں دیا۔ عشا کی نماز کے بعد بڑے آرام سے کہتے۔ بھئی بات یہ ہے کہ کل پتہ نہیں اٹھنا نصیب ہو کہ نہ ہو۔ زندگی کا کوئی پتہ نہیں، معاف کرکے سونا۔‘‘

کیا سعید روحیں تھیں۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے اور صدف مرزا کا شکریہ کہ انہوں نے زندگی یہ انمول سبق اپنے خانوادے کی وساطت سے قارئین تک پہنچائے۔ برگد کا معالعہ ہرصاحبِ دل کو ضرور کرنا چاہیے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20