اسلام میں پروٹسٹنٹ تحریک کی مختلف صورتیں — فرحان کامرانی

0

ہمارے معاشرے میں مذہب پر بات کرنا بڑا دشوار کام ہے۔ اس حوالے سے اس قدر بات تمام ذرائع ابلاغ پر اور ہر فورم پر ہو رہی ہے کہ کوئی بھی کی جانے والی بات نقار خانے میں طوطی کی آواز کے مصداق کہیں گم ہو جاتی ہے۔

پھر معاملہ یہ بھی ہے کہ جو بھی شخص مذہب کے کسی بھی مظہر پر گفتگو کرتا ہے اس کا اپنا ایک مذہبی اور مسلکی تناظر ہوتا ہی ہے اور یہ تناظر اس کے تعصبات کا ہر ایسی تحریر میں کردار نبھاتا ہے۔

تعصبات تو خیر ہمارے بھی ہیں اور ہمارا بھی کوئی مسلک تو ہو گا ہی مگر ایک بات جس کا اظہار اس مقام پر بہتر ہے وہ یہ ہے کہ یہ تحریر عقائد سے زیادہ سماجی تحریک کی صورت میں اسلام کے بعض مظاہر کا تجزیہ کرنے کی کاوش ہے۔ بجائے اس کے کہ کسی عقیدے یا نظریے کو صحیح یا غلط ثابت کیا جائے۔

مگر عنوان میں ایک اصطلاح ”پروٹسٹنٹ“ کا استعمال ہوا ہے جو عیسائیت سے مستعار ہے۔ بعض قارئین اس اصطلاح کے استعمال کو مسیحیت سے اسلام کے کسی گروہ یا رویے کو تشبیہہ قرار دے سکتے ہیں۔ راقم الحروف اسی مقام پر یہ وضاحت بھی کر دینا ضروری سمجھتا ہے کہ پروٹسٹنٹ تحریک عیسائیت میں ایک فرقے کا بھی درجہ رکھتی ہے مگر دراصل یہ صرف و محض عیسائیت سے مخصوص کوئی تحریک نہیں۔ اس تحریک کو اگر اس کی روح میں دیکھا جائے تو یہ آج کے دور میں تقریباً ہر مذہب میں جنم لے چکی ہے مگر یہ تحریک اپنی نہاد میں ہے کیا؟

قارئین اس کا مکمل تاریخی پس منظر پڑھنے کے لئے کسی انسائکلو پیڈیا سے رجوع کریں۔ راقم اس تحریک کا خلاصہ محض چند نکات کی صورت میں کرے گا جو کہ درج ذیل ہیں،
1۔ خدا اور انسان کے درمیان سے Interpreter of faith یعنی علما، امام اور مشائخ کو نکال دینا۔
2۔ روایتی/ قدیمی مذہب کی اکثر روایات و عقائد کی تردید اور تمام یا اکثر روایات و رسوم کو اصل دین سے جدا اور بعد کی اختراعات گرداننا۔
3۔ الہامی کتب کی شخصی تعبیرات۔

عیسائیت میں یہ تحریک دراصل پاپایت کے خلاف احتجاج کی صورت میں پیدا ہوئی تھی اور اسلام میں یہ تحریک اپنے اکثر مظاہر میں سیاسی بیداری اور اقتدار کی تحریک کا پیش خیمہ تھی۔
اس تناظر میں تاریخی طور پر اسلام میں پروٹسٹنٹ تحاریک بنیادی طور پر۲ ہیں۔
1۔ عربستان سے جنم لینے والی وہابی تحریک۔
2۔ ہندوستان میں جنم لینے والی دیوبندی تحریک۔

سوال یہ بھی ہے کہ عمومی طور پر سنی اسلام کا مزاج ان دونوں تحریکوں سے قبل کیا تھا؟ اگر ہندوستان کے مخصوص تناظر میں بات کی جائے تو ہندی مسلم کے مسلکی رجحان کا اندازہ حکمرانوں کے عقائد سے، آثار قدیمہ سے اور قدیم شاعری اور داستانوں سے آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔ یہاں ایک بات کا اظہار ضروری ہے کہ لفظ ”بریلوی“ بہت بعد کی اختراع ہے، روایتی سنی مسلمان ماضی میں صرف ”اہل سنت“ کا ہی عنوان اپنے لئے استعمال کرتے تھے۔ مگراُن اہل سنت کے کیا اوصاف تھے؟ تمام بادشاہان ہند اولیاء اللہ کے مزارات تعمیر کرواتے تھے، اُن کے عرس کرواتے تھے۔ بہادر شاہ خود ایک بزرگ سے بیعت تھے اور خود مرید بھی کرتے تھے۔ (حوالہ: 1857ء مجموعہ حسن نظامی) قدیم مساجد اور کتب میں ”یااللہ“ کے ساتھ عموماً ہمیشہ ہی ”یا محمدؐ“ بھی لکھا ملتا ہے۔ گھر گھر میلاد ہوا کرتے تھے، خود بادشاہ میلاد پر چراغاں کرتے تھے اور جلوس نکالتے تھے۔ 10 محرم کے جلوس اہل سنت بھی نکالتے تھے اور تعزیہ اہل سنت کی ہی چیز تھی۔ گیارہویں شریف اور حضرت بڑے پیر صاحب کی نیاز بڑے زوروں سے دہلی کے دربار اور ہر گلی محلے میں ہوتی تھی۔ روحانی علاج میں دم اور تعویز کا استعمال عام تھا۔ قدیمی شاعری میں رسولؐ اور اہل بیت سے استعانت طلب کی گئی ہے۔ قدیمی شعراء کی لکھی نعتیں اور صحابہؓ اور اہل بیتؓ و اولیاء کی منقبتیں پڑھیے، ٹھیک سے اندازہ ہو جائے گا کہ ہندوستان مسلمان سب کے سب وہی تھے جسے اب بریلوی فرقے کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔

پھر عرب کے تناظر پر بھی غور کر لیتے ہیں۔ خود اس خطہ زمین پر جو سلطنت عثمانیہ کے ٹوٹنے کے بعد سے مختلف عرب ریاستوں میں بٹ گیا ہے، بڑے بڑے مزارات موجود تھے۔ عراق میں (جو 2003 سے قبل ہمیشہ ہی سنیوں کے پاس رہا) بڑے بڑے مزارات موجود ہیں۔ خود مکہ اور مدینہ میں جنت البقیع اور دیگر قبرستانوں میں مزارات موجود تھے جن کو وہابی تحریک نے عثمانیوں سے چھیننے کے بعد مسمار کیا۔ ترکی جو سلطنت عثمانیہ کا مرکز تھا، وہاں تمام ہی قدیمی مساجد میں یا محمدؐ، یا علیؓ، یا مولانا روم وغیرہ لکھا ملتا ہے۔ آج بھی ترکی کا مذہبی مزاج غالب طور پر وہی ہے جس کی برصغیر کے تناظر میں مثال بریلویت ہی ہے۔

راقم اس مقام پر پھر وضاحت کر دے کہ وہ اِن میں سے کسی فرقے /مسلک کا صحیح یا غلط قرار نہیں دے رہا (نہ اُس کا یہ منصب ہے) وہ صرف تاریخی حقایق کا بیان کر رہا ہے کہ حقیقت اپنے صحیح تناظر میں اور خصوصاً پروٹسٹنٹ تحریک سے مماثلت کے تناظر میں سامنے آ سکے۔ برصغیر پاک و ہند میں دیوبندی، اہل حدیث تحریک کی ابتداء سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل سے ہوتی ہے۔ شاہ اسماعیل دہلوی کا اُس دور کے دلی کے تمام علما سے مناظرہ ہوا اور روایتی علماء میں علامہ فضل حق خیر آبادی نے ان کا سختی سے رد کیا (حوالہ: امتناع النظیر) سید احمد شہید کی کچھ خط و کتابت مولانا فضل حق خیر آبادی سے ہوئی تھی۔ اس ضمن میں اصل شخص اسماعیل دہلوی ہیں۔ ان کے مقام نبوت کے حوالے سے جو عقائد تھے وہ ان کی کتب میں درج ہیں۔ خود سید احمد شہید صاحب کے روایات کو ترک کر دینے کی شہادت ان کے اس عمل سے بھی ملتی ہے کہ جب وہ حجاز میں تھے تو وہاں ان کو ایک محفل میلاد میں مدعو کیا گیا تو انھوں نے یہ کہہ کر اس سے معذرت کر لی کہ یہ عمل انہیں سنت سے نہیں ملتا۔

پھر اسی تحریک کے زیر اثر انگریزوں کے مطلق اقتدار کے بعد دیوبند میں ایک مدرسہ قائم ہوا جس نے ”مسلمانوں سے عقائد و رسوم فاسدہ“کے انسداد کو اپنا منشور بنایا مگر جو بھی ہو یہ تحریک اس اعتبار سے پروٹسٹنٹ تحریک سے کسی حد تک مختلف ہے کہ اس نے تقلید اور حنفیت کا دعویٰ ہمیشہ قائم رکھا ہے۔ شائد اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ جب یہ تحریک شروع ہوئی تو ہند کے مسلمان تقلید پر اس قدر راسخ تھے کہ انہیں اسے ترک کر دینے کی دعوت تب قبولیت عام حاصل نہ کرتی۔ ہاں رسوم و رواج، سماجی عادات وغیرہ پر تنقید ایک دوسری بات ہے۔ اس تنقید کے ساتھ دارصل دلیل یہ تھی کہ ہم ہندوانہ و دیگر اثرات میں بگڑی ہوئی حنفیت میں سے اصل حنفیت اخذ کر رہے ہیں۔

دیوبندی تحریک مسلمانوں کے سیاسی عروج کی خواہش رکھنے والی تحریک بھی تھی۔ اسی لئے اس تحریک کے حاملین کی حس سیاست ہمیشہ غیر دیوبندی مسلمانوں سے قوی رہی۔ سیاسی اسلام جہاد کی صورت میں بھی اس تحریک کا اہم حصہ رہا اور سیاسی مذہبی جماعتوں کی صورت میں بھی۔ عربستان کی وہابی تحریک دیوبندی تحریک کے تقریباً ساتھ ساتھ ہی شروع ہوئی تھی مگر اس میں تشدد زیادہ تھا۔ شائد اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ 1857ء کے بعد کا ہندوستانی مسلمان جان چکا تھا کہ اب تلوار کے بل پر اس کی خلاصی تو ہوتی نہیں، وہ بڑی حد تک ایک جھٹکے میں ہی حاکم سے اقلیت کی نفسیات اختیار کر رہا تھا اور اقلیت اپنے اندر تبلیغی نوع کی اصلاح تو کر سکتی ہے، تلوار بازی نہیں۔ دوئم بات یہ کہ مسلمان کے سامنے اتنی بڑی اکثریت میں ہندو موجود تھے جو اب اُس کے محکوم یا رعایا نہیں بلکہ مقابل تھے۔

عربستان کا معاملہ مختلف تھا۔ چنگیز کے بعد ہلاکو کے ہاتھوں آخری عرب یعنی عباسی خلیفہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اہل عرب ترک مسلمانوں کی حکومت میں تھے۔ ویسے عباسی حکومت بھی اپنی فطرت میں بڑی حد تک نجد اور حجاز کے لیے غیر عرب حکومت ہی بن گئی تھی۔ ترک ایک بالکل علیحدہ قوم ہونے کے علاوہ مسلکاً بھی حنفی تھے۔ عرب کا بھی عراق، شام، مصر، اردن وغیرہ کا حصہ مسلکاً حنفی تھا مگر نجد اور حجاز میں مالکی اور حنبلی فقہ زیادہ مقبول تھا۔ خیر مقلد تو وہ بھی تھے مگر اعراب میں ترکوں کے خلاف جو غصہ تھا وہ ایک نوع کی مذہبی صورت بھی اختیار کر رہا تھا۔ ایسے میں نجد کے محمد بن عبدالوہاب نے جب اپنے عقائد پھیلانے شروع کئے کہ جن میں تمام ہی رسوم و روایات شرک کے درجے میں تھیں اور اس گروہ میں شامل ہونے والے ہر شخص سے یہ حلف لیا جاتا تھا کہ وہ پہلے کافر تھا، اب مسلمان ہوا ہے۔ تو اس نظریے /عقیدے سے ترکوں کے خلاف ”جہاد“ کا امکان پیدا ہوتا تھا کیونکہ وہ اس طرح روایت پرست کافر قرار پاتے تھے۔

آل سعود جو نجد میں اپنی علیحدہ ریاست قائم کرنے کی فکر میں تھے، انھوں نے محمد بن عبدالوہاب کے گروہ سے معاہدہ کیا اور اتحاد کر لیا۔ پھر ترکوں کے خلاف یورش شروع کی، ابتدائی طور پر ترک امراء نے یہ یورش کچل دی مگر پھر انگریز نے جنگ عظیم اول کے زمانے میں محمد علی پاشا گورنر مصر کی مدد کے ذریعے آل سعود اور لارنس کے ذریعہ شریف مکہ یعنی شریف ہاشمی کو قابو کر کے یہ سب خطہ عثمانیوں سے چھین لیا۔ شریف ہاشمی کے حصے میں حجاز و نجد نہ آ سکے اور اس کی اولادوں کو عراق اور اردن پر انحصار کرنا پڑا۔ آج ان کے پاس صرف اردن ہے۔ یہ گروہ غیر مقلد نہیں بلکہ حنفی ہے جب کہ آل سعود کو عرب کا نجد و حجاز وغیرہ کا خطہ مل گیا۔ یوں وہابی تحریک اسلام کے مرکز مکہ اور مدینہ تک آ گئی۔ اس عہد میں سارے مزارات توڑ دیے گئے اور صرف وہابی مسلک ہر طرف رائج کر دیا گیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ سید محمد قطب وغیرہ کی صورت میں پروٹسٹنٹ تحریک مصر اور دیگر مقلد عرب میں بھی پہنچی۔ برصغیر میں بھی غیر مقلد /وہابی گروہ موجود ہے مگر تعداد میں کافی کم ہے۔ مگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ علمائے دیوبند خود وہابیت کے بہت قریب ہوتے جا رہے ہیں۔ دونوں گروہوں میں اگر کہیں کوئی اختلاف ہے بھی تو وہ کبھی بھی کسی نوع کے ٹکراؤ، مناظرے، فساد کی صورت اختیار نہیں کرتا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ دونوں ہی تحاریک اپنی نہاد میں ان تین نکات میں کسی نہ کسی حد تک اتفاق پاتے ہیں جو راقم پروٹسٹنٹ تحریک کے خواص کے ذیل میں بیان کر چکا۔

پروٹسٹنٹ تحریک کی خاص بات یہ تھی کہ وہ روایتی عیسائیت (یعنی کیتھولک اور آرتھوڑاکس کلیسا) کی خامیوں کو ظاہر کر کے، ان پر حملہ کر کے پیدا ہوئی اور آگے بڑھی ہے۔ اسلام میں موجود پروٹسٹنٹ تحاریک کا معاملہ بھی یہی ہے کہ یہ روایتی اسلام / مسلمان کو بدعتی یا اس کے افعال کو غیر اسلامی /مشرکانہ کہہ کر ہی اپنا پرچار کرتی ہیں۔ یہ حملہ آور مقام (attacking position) روایتی اسلام کے دعوے داروں کو مستقلاً ایک دفاعی حالت میں لے جاتی ہے۔ پروٹسٹنٹ کہا کرتے تھے کہ ہم مسیح کی مسیحیت کو مانتے ہیں پاپائے روم کی مسیحیت کو نہیں۔ بالکل اسی طرح علمائے دیوبند کا دعویٰ ہے کہ ہم سلف صالحین کے رستے پر ہیں اور وہابی گروہ کا دعویٰ ہے کہ ہم اہل حدیث ہیں۔ (یہ عنوان تاریخی طور پر محدثین کا رہا ہے)

یہ گروہ پچھلے سو یا ڈیڑھ سو سال میں پیدا ہوئے ہیں اور ماضی میں اس طرح روایت مخالف یا غیر مقلد کوئی گروہ مسلمانوں میں رہا ہی نہیں تو ان گروہوں کو بھی مستقلاً یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ دراصل یہ حقیقی طور پر بالکل ویسے مسلمان ہیں کہ جیسے قرون اولیٰ کے مسلمان تھے۔ اس کوشش میں وہابی گروہ نے ابن تیمیہ اور جوزی وغیرہ سے ایک نوع کا تعلق ظاہر کرنے کی بھی کوشش کی ہے مگر یہ بات بڑی حد تک خلاف واقعہ ہے۔ (حوالہ: سیرت امام ابن تیمیہ از غلام رسول مہر)

1۔ تیمیہ اور جوزی وغیرہ اس طرح غیر مقلد یا غیر روایتی نہ تھے کہ جیسے وہابی ہیں۔ ان کے معاملات بڑی حد تک شریعت و طریقت کے ٹکراؤ کے ذیل میں سمجھے جا سکتے ہیں جو روایتی اور تقلیدی اسلام کے اندر بھی موجود رہی ہے۔ منصور حلاج اسی ٹکراؤ کی نذر ہوئے، اورنگ زیب عالمگیر کو بھی علمائے دیوبند اپنے ماضی میں ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر کی وصیت اس دعوے کی تردید کے لیے ریکارڈ پر موجود ہے۔ (حوالہ: دربار ملی)

عیسائیت میں بھی پروٹسٹنٹ تحریک کے بعد بہت زیادہ نئے فرقے بنے تھے اور اسلام کے تناظر میں بھی بڑی حد تک یہی ہوا ہے۔ ان تحاریک سے ٹوٹ کر بننے والے گروہ بھی اب ان گنت ہیں، جیسے پرویزی، جماعت اسلامی، جماعت المسلمین، الہدیٰ تحریک، اخوان المسلمین، غامدی گروہ وغیرہ وغیرہ۔

اسلام میں پروٹسٹنٹ تحاریک نے بڑی تیزی سے اس لیے ترقی کر لی کیونکہ روایتی اسلام میں تقلید تو موجود ہے مگر بیعت کم رہ گئی ہے، یعنی لوگ فقہی امام کے تو مقلد ہوتے ہیں مگر کسی زندہ شیخ کی بیعت میں نہیں ہوتے۔ یوں تقلید صرف ایک عقیدے کی کتاب بن جاتی ہے لیکن ایک حقیقی روحانی تجربہ بن کر ہر لمحہ ساتھ نہیں رہتی۔ پھر سماجی ادارے سارے ہی لامذہب ہو چکے تو جدیدیت ہر شے میں سرایت کر چکی۔ جدید فکر و فلسفے کے زیر اثر ہر چیز پر سوال اٹھتا ہے تو عقائد اور رسوم و رواج بھی ان کی زد میں آتے ہیں۔ غیر مقلد یا نیم مقلد پروٹسٹنٹ اسلام میں ہر شے پر سوال اٹھانے کی گنجائش مل جاتی ہے جبکہ روحانیت کی بھی کوئی ضرورت نہیں رہ جاتی اور نفس کشی اور مجاہدہ بھی اضافی چیزیں بن جاتی ہیں۔ پروٹسٹنٹ نظریے سے کوئی بھی مذہب بس ایک قانون ہے، ایک قاعدہ ہے، ایک روحانی نظام ہے ہی نہیں۔

یادش بخیر، یورپ پروٹسٹنٹ بننے کے بعد بہت عرصے تک پروٹسٹنٹ بھی نہ رہا تھا بلکہ سیکیولر ہو گیا تھا۔ امکانی طور پر یہ تحاریک بھی اسی نہج پر جائیں گی۔ سعودی عرب میں محمد بن سلمان کی مذہب سے لاتعلق کی پالیسی اسی تناظر میں سمجھ میں آتی ہے۔ مگر دیکھنا پڑے گا کہ حتمی طور پر یہ عمل کہاں پر جا کر ختم ہو گا۔

دیکھیے اس بحر کی تہہ سے نکلتا ہے کیا
گنبد نیلو فری رنگ بدلتا ہے کیا

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: