عقل، علم اور عرفان —– سیدہ عارفہ زہرا

0

عقل آپ کو صرف ان چیزوں کا شعور دیتی ہے جنہیں آپ دیکھ سکتے ہیں، سن سکتے ہیں اور چھو سکتے ہیں۔ لیکن جو کام کی چیزیں ہیں انہیں نہ آپ سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ چھو سکتے ہیں، تو ہمیں کوئی دوسری چیز چاہیے جو ان چیزوں کا علم دے۔

اب علم کیا ہے؟ علم تو جاننے کا نام ہے۔ علم کو اگر ہم کتابوں کا انبار سمجھیں تو قرآن کے الفاظ میں گویا وہ گدھے پر لدی ہوئی ہیں۔۔۔ لیکن اگر وہ علم عشق بن کر، احساس بن کر، کیفیت بن کر انسان کے اندر سرائیت کر جائے تو وہ عشق اور عرفان ہے۔

اگر عقل اور علم عرفان کے لیے راستہ نہ بنائے تو وہ بےکار ہے۔ اسی لیے صوفیا کے ہاں عقل بھی کمتر ہے اور علم بھی اکثر پیچھے رہ جاتا ہے۔ نہ انسان کا احساس علم کی اس سطح پر پہنچتا ہے جسے آپ ادراک اور وجدان کہتے ہیں۔
علم وجدان کی سطح پر عشق کی بدولت پہنچتا ہے۔

علم صرف دلیل اور استدلال کا نام نہیں۔ اصل علم وہ ہے جس میں احساس اور تجربے کا احترام شامل ہو۔ آپ دیکھیں قرآن کی ساری دلیل کہانی سے ہے۔ اور یہ کہانیاں پچھلوں کے تجربوں کا ذکر ہیں۔ وہ تجربے جو بہتر تجربے تھے ان کو تعظیم اور تکریم کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ علم یہ نہیں کر سکتا۔ علم فیصلہ کرنے لگتا ہے، یہ موازنہ کرنے لگتا ہے۔ یہ آگے بڑھنے کی فکر میں رہتا ہے۔ جبکہ یہ عشق عرفان دیتا ہے۔ یہ جذب کرنا سکھاتا ہے۔ عقل جذب کرنا نہیں سکھاتی۔ عقل کا تو جی چاہتا ہے کہ جو کچھ اندر ہے اسے بھی باہر لے آئے۔

عرفان بہت کمال کی چیز ہے۔ یہ باہر کی دنیا کو اندر اتار لیتا ہے۔ پھر جب وہ باہر کی دنیا کو اپنے اندر اتار کر باہر کی دنیا کو دیکھتا ہے تو وہ دنیا دوسری ہوتی ہے۔ یہ دنیا وہ نہیں ہوتی جو صرف میزان سے، توازن سے چلتی ہو۔۔۔ یہ چوں چراں کی دنیا نہیں ہے۔۔۔ یہ حساب کتاب کی دنیا بھی نہیں ہے کہ اس میں دو تمہارے ہیں دو میرے ہیں۔ اس میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس میں سب کچھ تمہارا ہے۔ سب کچھ دے کر جو ملتا ہے وہ سب کچھ لے کر نہیں ملتا۔ اسی لیے جن کے پاس آج بہت کچھ ہے وہ خالی ہیں اور وہ لوگ جو صاحبِ دل ہیں اور جن کے پاس آج گننے کو کچھ نہیں ہے مگر دینے کو بےحساب ہے۔ (ایک گفگتو)

یہ بھی پڑھیں: علم، کتاب، زندگی اور ہم ۔۔۔۔۔۔۔۔ عارفہ سید
(Visited 1 times, 13 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: