علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو پڑھنے کا ایک زاویہ افضل بھی ہے (حصہ اول) ——– علامہ مفتی محمد ارشد القادری

0

“دربرگ لالہ وگُل”میرے سامنے ہے۔ اس کو میر ے ہاتھوں میں آئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں گذرا، بلکہ20جنوری 2019ء بروز اتوار تین بجے میرے پاس آئی تھی بلکہ تشریف لائی تھی۔ مصنف خود آسڑیلیا سے پاکستان آئے تھے اور اپنی مصنفہ ساتھ لائے تھے۔ چنانچہ مجھے موصوف نے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے پیش کی تھی اور ہم نے بخوشی قبول کی تھی۔ اس کاٹائٹل دیکھتے ہی یہ اندازہ تو فوراً ہوگیاتھا کہ طباعت عمدہ پیمانے پر ہوئی ہے۔ اور جاذب نظر ہے، حالات زمانہ کا تقاضا یہی تھاجسے بطریقِ احسن پوراکردیاگیا۔ اگلا مرحلہ یہ تھا اس میں ہے کیا؟

ذوق افزااندازِ تحریر:
20جنوری2019ء کو مذکورہ کتاب مجھے ملی، میراارادہ یہ تھا کہ اس کو گاہے گاہے دیکھ لیا کروں گااور اس کے چیدہ چیدہ مقام دیکھ کر جوکچھ مناسب ہوگا اس پر ارقام کردوں گا جبکہ آجکل میں علیل بھی ہوں ایسی صورت میں اس کے علاوہ اور ہوبھی کیاسکتاتھا۔ بہرنوع میں نے اسی روز کتاب کو دیکھنا شروع کیا جیسے ہی میں نے اس پر مختلف صاحبان علم و دانش کے تاثرات (Remarks)پڑھے تومیرا جذبہ مطالعہ بڑھاچنانچہ میں نے اس کتاب کو پڑھنا شرو ع کیاتو پڑھتاہی چلاگیا حتیٰ کہ چند دنوں میں ساری کتاب پڑھ ڈالی۔ روانی ئکلام اورذوق افزا اندازِ تحریر نے میری قوت مطالعہ کو خوب شرف بخشا۔

مبتداء و خبر:
میں نے کئی مقامات پر مضاف لگادیے تاکہ مضاف الیہ تک رسائی ہواسی طرح کتنے ہی مقامات پر مُصند متعین کیے تاکہ مُصند الیہ تک پہنچاجاسکے۔ ایسے ہی کچھ مبتداء مقرر کیے تاکہ اُن کی خبر تک شناسائی ہو۔

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی شاعری میں نباتات کاذکر بجائے خود ایک بہت بڑاکمال ہے۔ لیکن افضل رضویؔ زاد شرفہ نے اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا نباتات کے حوالے سے ذکر چھیڑکراس میں سے بھی ان کی محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مدینہ طیبہ سے والہانہ عقیدت کا کھوج لگایاہے۔ ملک عرب سے ان کی محبت کا بیان کیاہے۔ دربرگِ لالہ و گُل کے صفحہ نمبر11پررقم طراز ہیں:

”کاش میرے جسم کی خاک تیرے ریت کے ذروں میں مل کر تیرے بیابانوں میں اڑتی پھرے۔ “

کیااظہار عقیدت ہے کیا اظہار عشق ہے اسی نقطۂ نظر کو شاہ حسن رضاؒنے یوں بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں۔

مٹی نہ ہو برباد پس مرگ الہی
جب خاک اڑے میری تو مدینے کی ہوا ہو

بہتری کی کاوش اور جستجو:
افضل رضوی نے اقبال کے نباتاتی افکار کی روشنی میں، دین اسلام کی حقیقت کو جس انداز حکیمانہ سے اخذ کیاہے اور اس کو کمال دانائی کے ساتھ مسلمانان عالم کے سامنے رکھا ہے وہ یقینا قابل داد ہے بلکہ قابل رشک ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔

”ہمارا دین قطعاً یہ نہیں سکھاتاکہ جس حال میں ہو بس اسی میں رہواور بہتری کی کاوش اور جستجو نہ کرو۔ “ (دربرگِ لالہ گُل 23/1)

افضل رضوی ؔنے مسلمانوں کے دورِانحطاط کا تذکرہ کیا اور بتایاکہ آج پھر حالات تقریباً ایسے ہی ہیں جیسے1922ء میں تھے لیکن اس وقت راہنمائی کے لیے اقبال ؒ بطور رہبرو خیرخواہ ملت موجود تھے۔ وہ لکھتے ہیں۔

”آج پھر ویسی ہی صورتِ حال ہے لیکن راستہ دکھانے کے لیے کوئی اقبالؒ نہیں“(دربرگ لالہ و گُل70/1)

اگرچہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ اپنے جسدِ خاکی کے ساتھ موجودنہیں مگر ان کے افکار زندہ ہیں۔ ان کے قدردان موجودہیں، انکی فکرکے امین موجود ہیں، کہیں دورجانے کی کیا ضرورت ہے افضل رضویؔ موجود ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اس امت کی راہنمائی کے لیے مزید کام کریں اگر پاکستان آکر کام کریں تواور بھی مؤثر ہوگا۔ یہ دھرتی بہت کچھ کمالات رکھتی ہے۔

کلامِ اقبا ل رحمۃ اللہ علیہ مثل سمندرہے اور سمندرمیں سے گوہرِ نایاب تلاش کرنا ہرکسی کاکام نہیں بلکہ یہ کام وہی سرانجام دے سکتاہے جو غوّاص ہواور جتنا بڑا غوّاص ہوگاوہ اتنی ہی گہرائی میں جائے گا اور جوکوئی جتنی گہرائی میں جائے گا اسی قدر عمدہ اور اعلیٰ گوہرتلاش کرکے لائے گا۔

افضل رضوی ؔجوباطن میں صوفی کے درجہ کمال کے شناساہیں انہوں نے اس سمندرمیں گہرا غوطہ لگایااور باکمال جواہرات تلاش کرکے لائے ہیں وہ لکھتے ہیں۔

”اگراللہ تجھے ایسادل عطاکردے جوفطرت شنا س ہوتو پھر تیرے لیے لالہ و گُل سے کلام کرنابھی مشکل نہیں رہے گا گویاان کی خاموشی کا مطلب بھی جان جائے گا۔ “(دربرگ لالہ و گُل(80/1)

خدااگردل فطرت شناس دے تجھ کو
سکوت لالہ و گُل سے کلام پیدا کر

بقاء فنامیں چھپی ہے:
اس میں کوئی شک نہیں اگرکوئی مردِ کامل اپنی ذات کوفناکردے تواللہ تعالیٰ اس کو بقاعطا کرتاہے عارف رومیؒ کے افکار میں بقاء خود فنامیں چھپی ہوئی ہے اور بندہ فنافی اللہ ہوکرباقی باللہ کے مقام تک پہنچ جاتاہے تو پھر نباتات سے کلام کرناکچھ دشوار نہیں رہتا بلکہ یہ بھی اس بندے کا معمول بن جاتاہے۔

افضل رضوی ؔنے اس رتبہ کی شناسی کو بیان کیاہے اور لگتایوں ہے جیسے وہ خود بھی اس راہ کے شناساہوں۔ میں کہہ سکتاہوں وہ اس راہ کے شناساہیں اس لیے کہ میں ان کو جانتاہوں لگتایوں ہے کہ حضرت مولانا شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں سیرالی اللہ اور سیرفی اللہ کروارکھی ہے۔ جبہی تو اس تیقن کے ساتھ وہ اس حقیقت صادقہ کو بیان کرتے ہیں۔

حسین انداز:
اس میں کوئی شک نہیں اقبال رحمۃ اللہ علیہ حق شناس شاعر ہیں۔ انہیں دروغ گوئی بالکل بھی نہیں آتی اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے خودی کو بڑامقام دیاہے اور اس کی معرفت کو دولت عظیم قرار دیاہے بعض لوگ خودی کو تکبر کے معنوں میں لینے لگے تھے۔ اس غلط فہمی کاعلاج افضل رضویؔ نے بڑے حسین انداز میں کیا جو یقینا قابل قبول بھی ہے اور اقبال رحمۃ اللہ علیہکے شایانِ شان بھی، لکھتے ہیں۔

علامہ رحمۃ اللہ علیہ نے خودی کو فلسفیانہ اصطلاح کے طورپر استعمال کیا ہے کہ فرد کا نفس یا”اَنَا”ایک مخلوق اور فانی ہستی ہے لیکن یہ ہستی اپنا ایک الگ وجودبھی رکھتی ہے جو عمل سے پائیداراورلازوال ہوجاتاہے۔ (دربرگ لالہ گُل(90/1)

اس مقام پر تو افضل رضویؔ نے اقبال کی نمائندگی کاحق اداکردیاہے۔ ان کی خصوصی اصطلاح خودی کو فلسفہ کی طرف منسوب کردیا۔ افضل رضویؔ نے خودی کو مضاف کیااور فلسفہ کوصفاف الیہ قرار دے دیاہے۔ سچی بات تویہ ہے یوں کہنے کا حق وہی رکھتاہے جو خودبھی اس حقیقت کاشناساہو۔ فلسفہ کامطلب بھی جانتاہو۔ فلسفہ کی بناوٹ سے واقف ہوچکاہو۔ ہرمعلوم شدہ چیز کو فلسفہ کہتے ہیں “خودی کواقبال رحمۃ اللہ علیہ کی فلسفیانہ اصطلاح کہنے کا صاف معنی یہ بنتاہے کہ اقبال خودی کو خوب جانتے ہیں اوروہ اس کو “غیرت ایمانی”سمجھتے ہیں اگروہ خود اس کی باطنی حقیقت کونہ جانتے ہوتے تو کبھی بھی اس کی معرفت پراس قدر زورنہ دیتے اور نہ ہی اس کے عرفان کو نعمت عظیم سمجھتے۔

زندہ باد افضل رضوی زندہ باد:
اقبال رحمۃ اللہ علیہ تو زندہ باد ہیں ہی ان کے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو زندہ بادکردیالیکن کمال تویہ ہے اس زمانے میں اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو جس طرح افضل رضویؔ نے سمجھا اور ملت کے سامنے پیش کیاہے، یہ کہنا بالکل درست ہوگا۔ زندہ باد اے افضل رضویؔ ؔزندہ باد!

عموماًہوتایہ ہے کہ ادیب جب قلم پکڑتاہے تو ٹھہرٹھہرکراس کو چلاتاہے جلدی جلدی قلم کو جنبش دینا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ لکھنے کا تعلق خالصتاً دل و دماغ سے ہوتاہے اوریہ دونوں کی بیک وقت توجہ مانگتاہے لیکن واللہ! اقبال رحمۃ اللہ علیہکے فلسفہ خودی پر بات کرتے یوں محسو س ہورہاہے جیسے آمددرجہ کمال پر ہے اور قلم کی رفتار آمد کا ساتھ نہیں دے رہی۔ کلام اقبالؒ میں سے اس کی حقیقی روح کو جس طرح مجسم و متحرک کرکے افضل رضویؔ نے دکھادیا وہ انہی کو زیبا ہے۔

خودی کامقام اوّل خودآگاہی ہے۔ اس کا دوسرامقام اپنے آپ پر کنٹرول کرناہے اور وہ لکھتے ہیں۔ تیسرا مرحلہ فنافی اللہ ہے۔ اس مقام پر افضل رضویؔ نے اقبال رحمۃ اللہ علیہکے نظریہ خودی کی کمال صراحت کی ہے۔

”ان مراحل کو طے کرنے کے بعد بندہ بندۂ مؤمن بن جاتاہے اور پھراس کا ہاتھ اللہ کاہاتھ بن جاتاہے۔ “دربرگ لالہ و گُل(93/1)

بخاری شریف کی حدیث قدسی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتاہے جو میرے کسی ولی کے ساتھ دشمنی کرے میں اس کے خلاف اعلان جنگ کرتاہوں۔ میرا بندہ کسی اس چیزکے ذریعے میرا قرب نہیں چاہتاجومجھے محبوب ہے اور میں نے وہ اس پر فرض قراردی ہوئی ہے بلکہ۔

وَمَا یَذَالُ عَبْدِی یَتَقَّرِبُ اِلیَّ بِالنُوافِلِ حَتّٰی اُحْبَّہُ فَاِذَا اَحْبَتبتُہُ کُنْتُ سَمعَہُ الَّذِی یَسْمَعُ بِہِ وَبَصَرَہُ الَّذِی یُبتَصِربِہِ وَلَدَہُ الَّتِی یَبطِشُ بِھَا وَرجْلَہُ الَّتِی یَمشِی بِھَاوَاِنْ سَا لَنِی لَاُعَطِیَنَّہُ وَلَءِن استعِاذِنِی لَاُ عُیْذَنَّہُ(بخاری کتاب الرقاق)

میرا بندہ توصرف اور صرف نوافل کے ذریعے میراقرب چاہتاہے حتیٰ کہ میں اس کو پیارکرنے لگتاہوں چنانچہ میں جب اس کو محبوب بنالیتاہوں تومیں اس کے کان بن جاتاہوں جن سے وہ سُنتاہے۔ میں اس کی آنکھ بن جاتاہوں جس سے وہ دیکھتاہے۔ میں اس کے ہاتھ بن جاتاہوں جن سے وہ پکڑتاہے۔ میں اس کے پاؤں بن جاتاہوں جن سے وہ چلتاہے۔ جب وہ مجھ سے مانگتاہے تو میں ضرور بالضرور اس کو عطا کرتاہوں۔ اگروہ مجھ سے محافظت کاطلب گارہوتومیں اس کی حفاظت کرتاہوں۔

حدیث مذکورہ ہی کا ترجمہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے کیاہے۔

ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مؤمن کاہاتھ
غالب و کارآفریں، کارکُشا، کارساز

عقل اور عشق کا موازنہ کرتے ہوئے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے واقعہ کربلا کی طرف بڑے دل ہلادینے والے اندازمیں اشارہ کیا ہے۔ دوسرے مقام پر خود اقبال رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں۔

حقیقتِ ابدی ہے مقامِ شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز، کوفی و شامی

اور بقول شاعر:

بتااے شیخ ابنِ علی کیوں آیاتھا میدان میں
اگرحجرے میں ہوسکتی تھی روشن شمع ایمانی

افضل رضوی لکھتے ہیں:
عقل اپنے مقاصد پورے کرنے کے لیے دوسروں کا خون بہانے سے گریز نہیں کرتی اور عشق اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنی جان دینے سے گریز نہیں کرتاامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب خلافت کا رشتہ اسلام سے ٹوٹتانظر آیا تو حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ گویابادل بن کر کربلا کی زمین پر برسے اور یوں برسے کہ اس کے برسنے سے سرزمین کربلاسے گلہائے لالہ اُگ آئے اور یہ بادل میدان کربلامیں سرخیاں بکھیر کر آگے بڑھ گیا۔ (دربرگ لالہ وگُل(97/1)

مالک و مولیٰ کی مہربانی:
کئی بار قربانی دینے والا بظاہر کامران نظر نہیں آتامگر باطن میں کامرانی اپنے بام عروج پر ہوتی ہے یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کربندہ، بندۂ مؤمن کی طرح کوئی مدح وستائش نہیں چاہتااس لیے کہ وہ خود مقام مدح بن جاتاہے۔ حقیقی کامیابی کا راز اسی طرزِ عمل میں ہے کہ بندہ اپنی فرمانبرداری کا معاوضہ طلب نہ کرے بلکہ جوکچھ وہ محنت کرے یاجوکچھ قربان کرے وہ سب اپنے مالک و مولیٰ کی مہربانی سمجھے۔ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں۔

سودا گری نہیں یہ عبادت خداکی ہے
اے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے
وہ جینا کیا جو ہو نفس غیر پر مدار
شہرت کی زندگی کا بھروسہ بھی چھوڑ دے

سارے کا سارا مغرب اپنے سرد موسم کی وجہ سے سخت مضطرب ہے بلکہ سردخانے میں پڑاہے وہ اپنے انداز حرارت کرنا بھی چاہے تو اس کی اصل حرارت کاجائے صدورنہیں بن پاتی اس لیے کہ فروعی حرارت اس کو حرارت کاملہ کا منبع نہیں بننے دیتی۔ اسی نقطہ نظر کو واضح کرنے کے لیے افضل رضویؔ چہرہ حقیقت کی نقاب کشائی کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

مغرب اپنی کمزوراور سرد روحانیت سے بیزارہوکر مشرق کے سینے سے حرارت کا متلاشی ہے۔ (دربرگ لالہ وگُل(102/1)

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

حصہ دوم کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20