ٹھگز آف پاکستان یا NGOs —- فرحان کامرانی

0

بنارسی ٹھگ بھی ایک بری عجیب شے ہوا کرتے تھے، یہ بنارس آنے والے یاتریوں کو چالاکی سے پھانس کر اپنے مندروں میں لے جاتے اور وہاں ان کا گلا رومال سے گھونٹ کر ان کا مال لوٹ لیتے اور لاش کو وہیں ٹھکانے لگا دیتے، اس کے علاوہ بھی یہ دیگر طریقوں سے لوگوں کو لوٹ کر مار ڈالتے۔ اس گروہ کے بعض لوگ اسلامی نام بھی رکھ لیتے جیسے مشہور ٹھگ امیر علی مگر دراصل یہ سب ہندو تھے اور عام ہندو عقائد سے ہٹ کر یہ اپنے غیر اخلاقی افعال کی بڑی عجیب تاویل دیا کرتے۔ جیسے کہ یہ ماں بھوانی کے پجاری ہیں اور جن لوگوں کی یہ جان لیتے ہیں دراصل یہ ان کی بلی ماں بھوانی کو چڑھاتے ہیں۔ یہ ایک بند گروہ تھا جو مخفی عقائد اور افعال کا مرتکب ہوتا۔ ایسے گروہوں کو انگریزی اصطلاح میں Cult کہتے ہیں۔ اس گروہ نے اس حد تک لوٹ مار کی کہ ”بنارسی ٹھگ“ ایک محاورہ بن گیا، عجیب بات یہ نہیں کہ یہ کیا کر رہے تھے (چور، ڈکیت تو ہمیشہ سے ہی رہے ہیں) عجیب بات یہ ہے کہ یہ اپنے غیر اخلاقی افعال کی تاویل کتنی عجیب کر رہے تھے۔

آج کی تاریخ میں یہ کردار NGOs کو مل گیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بنارسی ٹھگ ماں بھوانی کے ماننے والے تھے جب کہ یہ NGOs چلانے والے دولت کی دیوی لکشمی ماتا کے پجاری ہیں مگر ہمارے اس دعوے کی دلیل کیا ہے؟ دلائل درج ذیل ہیں۔

Image result for fraud NGOs"٭ ہمارا ملک ایک غریب ملک ہے، اتنا غریب کہ لاکھوں بچے محض اس لئے اسکول نہیں جا سکتے کہ ان کے والدین کے پاس بچوں کے اسکول کی فیس نہیں۔ اس غریب ملک میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں کہ جو اسپتالوں میں اپنے پیاروں کا علاج کرانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ہزاروں لاکھوں لوگوں کے پاس اپنی چھت نہیں، ان غریب مفلوک الحال لوگوں کو اگر کبھی بھی کوئی بھی امداد ملتی ہے، کبھی صحیح معنوں میں ان کے مسائل کا حل ہوتا ہے تو وہ صرف ان رفاہی اداروں سے ہوتا ہے جو اپنی نہاد میں بڑی حد تک مقامی ہیں (جیسے سیلانی، یا ایدھی) مگر ان افراد کی مدد کبھی بھی نیدر لینڈ، برطانیہ، امریکا، کینیڈا سے پیسے لوٹنے والی یا اقوام متحدہ کے مختلف فنڈز پر پلنے والی NGOs سے نہیں ہوتی۔ یہ NGOs جتنی سرگرم انٹرنیٹ پر نظر آتی ہیں اس کا 0.01 فیصد بھی عملی طور پر نہیں ہیں۔

٭ یہ ادارے عوام کی مدد کیسے کریں گے کہ جب یہ خود اپنے ملازمین کو تنخواہیں اور مراعات بھی رلا رلا کر دیتے ہیں۔ میرا ایک کلاس فیلو ایسی ہی ایک NGO میں 2008ء میں نوکری کیا کرتا تھا۔ یہ ادارہ سڑک پر زندگی گزارنے والے بچوں کی بہبود پر کام کرتا اور اس کو کینیڈا سے فنڈ ملتا۔ اس لڑکے کی کل تنخواہ دس ہزار تھی جو اس کو تین تین چار چار ماہ کے بعد ملا کرتی تھی۔ یہ ادارہ کینیڈا سے ملنے والا سارا ہی فنڈ مبینہ طور پر ہڑپ کر جاتا۔ دنیا کو دکھانے کے لئے اس ادارے کے پاس ایک دفتر بھی تھا اور درجن بھر ایسے بے گھر سڑک کے بچے بھی جن کی اس ادارے نے بہبود کا کام کردیا تھا۔ مگر انٹرنیٹ پر اس ادارے کا حجم یوں تھا جیسے یہ ادارہ دوسرا سیلانی ٹرسٹ ہی ہو۔

Image result for fraud NGOs"٭ ان اداروں کی اکثر سرگرمی محض کانفرنسیں اور ورکشاپس کرانے کی حد تک ہی محدود ہے، ظاہر ہے کہ یہ اور اس نوع کے دیگر کام ان اداروں کی امیج بلڈنگ بھی کر دیتے ہیں، اور کہنے کو معاشرے کی نام نہاد خدمت بھی ہو جاتی ہے۔ ایک ایسے ہی منشیات کے خلاف بنے ادارے کو میں اس کی کانفرنسیں اور ورکشاپس کی وجہ سے جانتا تھا۔ ایک مرتبہ اس ادارے کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ جو ادارہ اپنی ویب سائٹ اور فیس بک پیج پر NGOs کا کوئی جمبو جیٹ معلوم ہو رتا تھا وہ تو تین پہیے والی سائیکل نکلا۔ اس ادارے کا مرکزی دفتر ایک 80 گز کے مکان میں بنا ہوا تھا جو ایک کچی آبادی میں واقع تھا۔ ارد گرد مکانات میں کاغذ کے چھوٹے چھوٹے کارخانے تھے، اندر بھی عجیب و غریب ماحول تھا۔ پانچ، چھ افراد اندر بیٹھے خوش گپیوں میں مشغول تھے۔ دلچسپ بات یہ کہ یہ ادارہ بھی غیر ملکی فنڈنگ لے رہا تھا اور وہ خطیر امداد کہاں جا رہی تھی یہ سمجھنا دشوار تھا۔

٭ یہ NGOs دو دھاری تلوار کا کام دیتی ہیں۔ ان کی ایک دھار تو غیر ملکی امداد کو خورد برد کرنے کے لئے ہے اور دوسری دھار ہمارے ملک کے مخیر حضرات کو لوٹنے کے لئے ہے۔ مخیر حضرات ہی کیوں، یہ تو خود حکومت کے فنڈز لوٹنے پر بھی بڑی مستعدی سے سرگرم رہتے ہیں۔ بس غیر ملکی اداروں اور حکومتوں کو لوٹنے اور اپنے ملک کی حکومت کو لوٹنے میں ان کے لئے محض اتنا فرق پڑا ہے کہ یہاں ان کو سرکاری اہلکاروں اور حکام کو بھی ان کا حصہ دینا پڑتا ہے جب کہ غیر ملکی ادارے اس کے بغیر ہی ان کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔

٭ ان تمام ہی NGOs کے آڈٹ سو فیصد جعلی کرائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں جعلی آڈٹ بھی بہت آسان کام ہے۔ آڈٹ فرمز کو ان کا حصہ دے کر یہ کام بآسانی کیا جا سکتا ہے۔

٭ یہ ادارے آپ کو ہر ایسے مقصد کے لئے بنے مل سکتے ہیں کہ جو آپ کو حیران کر دے۔ مثال کے طور پر پاکستان میں جیلوں میں قیدیوں کی بہبود کی NGOs موجود ہیں مگر حقیقی طور پر یہ NGOs صرف اور صرف تصویریں کھنچوانے سے ایک قدم بھی آگے کوئی عملی کام نہیں کرتیں۔ اسے ملک میں کہ جہاں انسانی حقوق ہی ایک ایسی نعمت ہے جو چند ہی طبقات اور افراد کو حاصل ہیں وہاں پر جانوروں کے حقوق کے NGOs بھی موجود ہیں۔

خیر اوپر مذکور نکات میں ایک خیر کا پہلو بھی پوشیدہ ہے کہ ان NGOs کی بدعنوانی کی وجہ سے ان کے غیر ملکی آقاؤں کے وہ ایجنڈے پورے نہیں ہو پاتے جن کے لئے وہ ان کو تکڑے پھینک پھینک کر پال رہے ہیں۔ یہ ادارے اپنی بدعنوانی کی وجہ سے اپنے مغربی آقاؤں کے ایجنڈے کی راہ میں خود ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ خیر جانوروں میں بھی بعض کی فطرت بھکاری کی ہی ہوتی ہے اور انسان نے تو ویسے بھی بھیک مانگنے کے فن کو آرٹ بنا دیا ہے اور بھکاری تو ہمیشہ ہی بدعنوان ہوتا ہے۔ بھیک مانگنے کے لئے جس قدر اسفل فطرت چاہیے اس کے حامل سے کسی نوع کی معاشرتی تبدیلی لانے کی خواہش ہے ہی غیر منطقی۔ اسی لئے یہ NGOs اب تک کانفرنسیں، ورکشاپ، واک، ریلی، پوسٹر، بینر، پمفلٹ، ویب سائٹ اور ذرائع ابلاغ پر امیج بلڈنگ کے سرکسی مظاہر کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں اور اپنے ان کرتبوں سے ان کو اپنی بدعنوانی کی یہ تاویل بھی مل جاتی ہے کہ یہ معاشرے میں Awareness عام کر رہے ہیں۔ اپنے مقصد کا شعور لوگوں میں بانٹ رہے ہیں۔ مگر ان کے آقا اس بات سے بے خبر ہیں کہ یہ شعور (یا بے شعوری) کا سرکس صرف انہی کی گرہ سے ڈالر اور euro ڈھیلے کرانے کے لئے ہیں۔ یہ سرکس دراصل وہ ہی دور قدیم کے ٹھگوں کے مندر ہیں جہاں وہ اپنے شکاروں کو بہانوں سے لا کر رومال سے گلا گھونٹ کر مار دیا کرتے تھے اور مال لوٹ لیتے تھے۔ ان افعال کا نہ کوئی اور مفہوم ہے نہ ہی مقصد۔ واقعی ٹھگ اپنا حلیہ اور نام بدل لیتے ہیں مگر اپنا کردار کیونکر بدل سکتے ہیں؟ کل وہ ٹھگ کہلاتے تھے اور آج کے دور میں ان کا نام NGO ہے مگر کیا اس سے فرق پڑتا ہے؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20