سمٹ کی باتیں سمیٹتے ہوئے —— خرم شہزاد

0

پاکستانیوں کی حالت تو آجکل ان عاشقوں جیسی ہوچکی ہےجو کہیں بھی سرخ گلابی کپڑا دیکھ کر رال ٹپکانے لگتے ہیں ویسے ہی ٹماٹر سے لے کر پیاز تک، امریکہ سے لے کر روس تک، جاپان سے لے کر جرمنی تک اور کوالالمپور سے ریاض تک کا ہر مسئلہ اور معاملہ ان کا اپنا ہو جاتا ہے اور ایسا اپنا ہوتا کہ اپنے بیوی بچوں کے مستقبل کی فکر چھوڑ کر اس معاملے پر بقراطی جھاڑنے بیٹھ جاتے ہیں جس کے سر پیر کا بھی انہیں پتہ نہیں ہوتا۔ حالیہ دنوں میں کوالالمپور میں ہونے والے سمٹ پر دانشوری جھاڑنے کا معاملہ سر فہرست ہے اور جذباتی لوگوں کو بات کرتے ہوئے یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ وہ خود معاملے کے حق میں ہیں یا مخالفت میں بول رہے ہیں لیکن سبھی کچھ نہ کچھ بول رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے بولنے سے کچھ نہ کچھ ضرور بدل جائے گا۔

سمٹ میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے عمران خان صاحب پر خوب تنقید ہو رہی ہے اور ساتھ یہ بات مرچ مصالحے کے طور پر کہی جا رہی ہے کہ سعودی عرب نے عمران خان کو بلا کر سمٹ میں شرکت سے منع کیا۔ پوچھیں کہ آپ کیا اس میٹنگ میں موجود تھے یا آپ کا سورس آف انفارمیشن کیا ہے تو فورا طیب اردگان کی تقریر کا حوالہ دیں گے جیسا کہ طیب صاحب کا ارشاد کوئی حدیث ہو یا قرآنی آیت۔ چلیں فرض کیا کہ ہم طیب صاحب کی بات کو مان لیتے ہیں تو انہوں نے یہ بھی تو ارشاد فرمایا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو یہ دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے سمٹ میں شرکت کی تو چالیس لاکھ پاکستانیوں کو نکال کر بنگالیوں کو نوکریاں دے دی جائیں گی، تو آپ فرمائے کہ کیا عمران خان ایک سمٹ میں شرکت پر چالیس لاکھ پاکستانی گھرانوں کو قربان کر دیتے اور ان کے گھروں کے بجھتے چولہے کا ذمہ لے لیتے؟ دوسرے لفظوں میں آپ عمران خان کو کہنا چاہتے ہیں کہ انہیں بہادر بن کر سمٹ میں شرکت کرنی چاہیے تھی بھلے چالیس لاکھ پاکستانیوں کو سعودی عرب نکال دیتا؟ اس سوال کا جواب کسی نے پاس نہیں ہوتا اور تب سارا جوش اور جذبہ آئیں بائیں شائیں میں بدل جاتا ہے۔

گفتگو آگے بڑھاتے ہوئے جب عمران خان کے مخالفوں سے ایک سوال کیا جاتا ہے کہ جناب طیب اردگان نے جوش میں یہ انکشاف تو کر دیا کہ سعودی عرب نے پاکستانیوں کو نکالنے کی دھمکی دی تھی تو کیا ہی اچھا ہوتا کہ ساتھ ہی وہ اعلان کرتے کہ عمران خان سمٹ میں شرکت کریں، اگر پاکستانیوں کو سعودیہ سے نکالا گیا تو ترکی ان سب لوگوں کو ملازمت فراہم کرئے گا یا کم از کم ان کو نئی ملازمت ملنے تک مدد کرئے گا، کیا ایسا کوئی بیان سامنے آیا؟ نہیں۔۔۔ تو کیوں نہیں؟ سعودی دشمنی اور امت مسلمہ کی ہمدردی میں آگے قدم بڑھاتے جناب طیب صاحب عمران خان کو پیش کش کرتے، بھلے ہمارے سیاست دانوں کی طرح الیکشن میں لگائے جانے والا نعرہ ہی لگاتے لیکن جواب تو دیتے، لیکن پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے کے سوا ان کی تقریر میں اور کیا تھا؟ ویسے سعودیہ میں رہنے والے پاکستانیوں کی طرف سے بھی کوئی ایسا پیغام اہل پاکستان دنیا کے سامنے لانے میں ناکام رہے جس میں انہوں نے اپنے وزیر اعظم سے اظہار یک جہتی کیا ہو کہ وزیر اعظم صاحب ہمیں گھروں کو لوٹ جانا منظور ہے لیکن آپ کسی دھمکی اور دباو میں نہ آئیں۔ کیا ایسا کوئی ایک بیان، ایک تقریر، ایک وڈیو کوئی شخص پیش کر سکا ہے؟ پھر کہتے ہیں کہ بوٹا۔۔۔

ترکی یورپ کے کنارے پر ایک ابھرتا ہوا ملک ہے جس کی معیشت تیزی سے اوپر اٹھ رہی ہے۔ ہندوستان کے لیے بہت سا جنگی سامان ترکی تیار کر رہا ہے تو وہاں پاکستانیوں کو ملازمت تو مل ہی سکتی تھی۔ اگر ہماری سیاست دانوں کی جدہ فیکٹریوں میں ایک بھی پاکستانی کام نہ کرے اور پاکستان میں موجود فیکٹریوں سے بھی ہندوستانی پکڑے جائیں تو کیا جائے گا کہ ترکی میں ہندوستانی بحریہ کے لیے بنائے جانے والے جہازوں کی تیاری میں پاکستانی اپنا خون پسینہ بہائیں، مقصد تو پیسہ کمانا ہے اور وہ چاہے اپنے دوست کے دشمن کو ہتھیار بیچ کر اپنی معیشت مضبوط کر کے ملیں، اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔

میرا تعلق چونکہ نوجوانوں سے نہیں ہے اس لیے بریکنگ نیوز میرے خون میں شامل نہیں جس کی وجہ سے کچھ پرانی خبریں بھی مجھے یاد رہتی ہیں جو بعد میں حوالہ دینے اور شرمندگی سے بچنے کے کام آتی ہیں۔ اسی لیے سمٹ کے حوالے سے مجھے اقوام متحدہ کا فورم یاد آرہا ہے جہاں عمران خان نے ایک شاندار تقریر کی اور پاکستان سمیت امت مسلمہ کے مسائل کو اجاگر کیا، ان کا حل پیش کیا اور تمام غیر مسلم ممالک کو اسلام سمجھنے کی دعوت دی۔ بجائے اس تقریر کو سراہا جاتا، میرے اپنے ملک کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے منہ میں بس ایک ہی جملہ تھا کہ اوہ ہو جناب تقریروں سے کیا ہوتا ہے؟ شاندار تقریر تو فلاں نے فلاں سن میں بھی کی تھی، فلاں نے اتنے گھنٹے اتنے منٹ اور اتنے سیکنڈ تقریر کی تھی لیکن کیا ہوا، اس لیے جناب کوئی اور بات کریں کہ تقریروں سے کیا ہوتا ہے؟ یہ سب کہنے والے کوئی اور نہیں، ہم آپ میں موجود وہی سب لوگ ہیں جو آج سمٹ میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے عمران خان پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اس لیے میرا تو سبھی سے سوال ہے کہ بتائیے کہ کوالالمپور سمٹ میں بھی تو تقریریں ہی ہونی تھیں، غیر مسلم ممالک پر اٹیمی حملے کی افتتاحی تقریب تو رکھی نہ تھی، پھر اتنا جذباتی ہونے کی وجہ؟ جب اقوام متحدہ میں تقریریں کرنے سے، او آئی سی کے اجلاس بلانے سے کچھ فرق نہیں پڑتا تو کوالالمپور سمٹ سے کون سا فرق پڑنا تھا جو آپ اتنے سیخ پا ہوئے پھرتے ہیں؟

سوال یہ نہیں کہ سعودیہ نے کیا دھمکی دی، سوال تو یہ بھی نہیں کہ طیب اردگان کی جوشیلی تقریر کے بعد اب پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ سوال تو یہ بھی نہیں کہ سمٹ میں شرکت سے پاکستان کو کون سا فائدہ ہونا تھا اور اب کیا ہونے سے رہ جائے گا۔ کہنا یہ بھی نہیں کہ تقریروں سے فرق پڑتا ہے کہ نہیں لیکن یہ بات بہرحال ضرور ہے کہ اگر سارے پاکستانی اپنے وزیر اعظم کی ایک آواز پر لبیک کہنے والے ہوتے تو سعودیہ کو دھمکی دینے کا خیال آتا اور نہ طیب اردگان پاکستان کے متعلق ایسے جملے اپنے تقریر میں استعمال کرتا۔ یہ بات ضرور ہے کہ اگر پاکستانیوں کو باہر جانے کا شوق ہے لیکن وہاں مزدوروں کے بجائے ہنرمندوں کے طور پر جاتے، دفاتر اور حکومتی امور میں حصہ دار بنتے تو آج بیرون ملک پاکستان کی تصویر کچھ اور ہی ہوتی۔ بات تو یہ بھی ہے کہ جب ہم نے خود اپنے وزیر اعظم کو کبھی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا تو دنیا اس کی عزت کیوں اور کس لیے کرے گی؟ دنیا کا کون سا الزام ہے جو پاکستانی ہجوم نے اپنے وزیر اعظم پر نہیں لگایا تو ایسے ہجوم کے وزیر اعظم کو سعودیہ بلا کر دھمکی دے یا طیب اردگان ان کے خلاف تقریریں کرے، کیا فرق پڑتاہے؟ ہمارے چسکے تو چل رہے ہیں، روز وزیر اعظم کو ہم چوک میں کھڑا کر کے بے عزت کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں، روز اس سے جواب طلب کرتے ہیں، وہ کہاں گیا کیوں گیا کس سے کیا بات ہوئی ہمیں رپورٹ چاہیے ہوتی ہے کہ جیسے وہ ملک کا وزیر اعظم نہ ہوا ہمارا میر منشی ہو گیا۔ ایسا شخص سمٹ میں چلا بھی جاتا تو کون سا پہاڑ کھود لیتا کہ اس کی واپسی تک پورے پاکستان میں سوا اکہتر لاکھ سے زائد سوشل میڈیائی پوسٹوں اور کمنٹس میں یہ بات کہی جا چکی ہوتی کہ تقریریں سنو اس بندے کی جس سے ٹماٹر کی قیمت تو قابو نہیں آتی اور چلا ہے تقریر کرنے۔ سمٹ کی باتیں سمیٹیں تو ساری بات بس اتنی سی ہے لیکن خیر آپ کو کیا، آپ تو حکومت پر انگلیاں اٹھائے کہ اسی کام کی ریٹنگ زیادہ ہے اور آج کا دور ریٹنگ کا ہے چاہے آپ ملک کے خلاف لکھ کر کمائیں یا طیب اردگان آپ کے وزیر اعظم کے خلاف تقریر کر کے کمائے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20