عورت اور آزادی —– ببلی شیخ

0

کیا انسان آزاد پیدا ہوا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کس قسم کی آزادی حاصل ہے اسے؟ شاید سانس لینے کی، ضرورت کے اظہار کے لئے بین ڈالنے کی، اور ہنسنے اور مسکرانے کی۔

لیکن پیدا ہونے کے بعد بہت طویل عرصہ تک محتاج ہی رہتا ہے غذا کے لئے، لمس کے لئے، محبت کے لئے اور ان جیسی بہت سی بنیادی ضروریات کے لئے۔ ان بنیادی ضروریات کی بآسانی فراہمی سے ملنے والی تسکین ایک کمزور سے گوشت کے لوتھڑے کو خواہشات کا اسیر بنانے میں کچھ زیادہ وقت نہیں لیتی۔ اچھا لباس میسر ہے تو کچھ زیادہ اچھی پوشاک کی خواہش، کھانا میسر ہے تو کچھ زیادہ لذیذ کھانے کی خواہش، بنیادی تعلیم اور ہنر ہاتھ میں ہے تو کچھ اور اعلی تعلیم اور جدید ہنر سے خود کو اپڈیٹ کرنے کی چاہ۔۔۔ یہ اور ان جیسی بہت سی چیزوں کو حاصل کرنے کی مانگ ہر انسان میں وقت کے ساتھ ساتھ جنم لیتی رہتی ہے۔ ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری سر اٹھا لیتی ہے اور یہ سلسلہ تاحیات جاری رہتا ہے اسی لئے انسان کو wanting animal بھی کہا جاتا ہے۔

یہاں ضرورت اور خواہش کے درمیان فرق سمجھنا بھی ضروری ہے۔ ضرورت ایک ایسی حالت کا نام ہے جس کا پورا ہونا بقا کے لیے ضروری ہے، اگر ضرورت پوری نہیں ہوگی تو زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، مثال کے طور بھوک کی حالت میں خوراک کی ضرورت، بیماری کی صورت میں علاج کی ضرورت۔ ضرورت کے برعکس خواہش ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس کو پورا اگر نا بھی کیا جائے تو بقا کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا، خوراک کی مثال لے لیجیئے، خوراک جسم کی بنیادی ضرورت ہے لیکن اچھی اور مہنگی خوراک خواہش ہے۔ مہنگی خوراک نہ ملنے کی صورت میں آپ کی بقا کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوگا۔ خطرہ اسوقت ہوگا جب آپ اپنی خواہش کو ضرورت کی حیثیت دینے لگیں۔ اور جب انسان خواہشات کو سر پر سوار کرلیتا ہے تو ایسے افراد پر مشتمل معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ ضروریات اور خواہشات کے پس منظر میں اگر ہم آزادی کی دیکھیں، تو وہ کونسی آزادی ہے جو عورت چاہتی ہے؟ تعلیم حاصل کرنے کی آزادی؟ مرضی کا لباس پہننے کی آزادی؟ اپنے فیصلے خود کرنے کی آزادی؟ تو کیا غلط ہے ایسی آزادی میں؟ مجھے تو کوئی قباحت نظر نہیں آتی۔ یہ وہ صدی ہے جس میں عورت اعلی تعلیم بھی حاصل کررہی ہے اور مختلف شعبوں میں اپنی خدمات بھی سر انجام دیتی نظر آرہی ہے۔ تو پھر یہ عورت مارچ کیوں؟ پرنٹ اور سوشل میڈیا پر عورت کی آزادی کے بلندوبانگ نعرے کس لئے؟ عورت کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والی عورت تو ماڈرن لباس میں پلے کارڈ تھامے بظاہر تو آزاد ہی دکھتی ہے۔ لیکن یہ تومحض میرا قیاس ہے، ممکن ہے اس کی بہت سی خواہشات کی تکمیل میں کوئی مرد رکاوٹ بن کر کھڑا ہو۔ ویسے بھی خواہشات دکھائی تھوڑی دیتی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سکرین پر نظر آنے والی عورت کسی اور عورت کی مجبوری اور محرومی کے لئے لڑ رہی ہو، ایسی بہت سی خواتین آس پاس نظر بھی آجاتی ہیں۔ ایک اور سوال جو سر اٹھاتا ہے وہ یہ کہ کیا مرد چاہتا ہے کہ عورت اس کی غلام بن کر رہے؟ کیسی غلام؟ مرد کے سینے مچلتی خواہشات کو پورا کرنے والی غلام یا مرد کے ذہن میں سر اٹھاتی ہر خواہش کی غلام بنا سوال اٹھائے کہ آیا وہ خواہش جائز ہے یا ظلم۔

شاید یہ وہ مرد ہیں جن سے کبھی ان کی رائے نہیں پوچھی گئی ہوتی اس کے برعکس ان پر فیصلہ ٹھونس دیا جاتا ہے، اور پھر ساری عمر ان کی زندگی میں آنے والی ہر عورت اس زبردستی کا شکار رہتی ہے۔ ایسا لباس پہننا ہے، یہاں رہنا ہے، ایسے ہنسنا ہے، ویسے چلنا ہے وغیرہ وغیرہ۔
اور آزادی کی متلاشی عورت بھی ممکن ہے ایک عرصہ تک مردوں کی طرف سے آنے والے فیصلوں کی بھینٹ چڑھتی رہی ہو۔ اور موقع ملتے ہی آزادی کے لئے پر پھیلا کر اڑان بھرنا چاہتی ہو۔

خواتین کیوں چاہتی ہیں آزادی اور کس چیز کی؟
کیا مرد بھی آزادی چاہتا ہے حکمرانی کی؟
کیا عورت کو خدا نے ناقص العقل پیدا کیا ہے؟ اپنے معاشرے میں عورت کے لئے کئے جانے والے فیصلوں سے تو یہی لگتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک اعلی تعلیم یافتہ25 سال کی لڑکی کو ہی دیکھ لیجیئے، اس کا رشتہ بھی کرنا ہو تو اسکا جاہل کم عمر بھائی فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ حالانکہ مذہب پسند نا پسند کا اختیار دیتا ہے، لیکن کھوکھلی، سال ہا سال سے جاری روایات کے سامنے کسی مذہب کی کیا حیثیت!!! ہر معاشرہ اپنا مذہب خود ہی تشکیل دے چکا ہے۔ یہی روایات ہیں جو فطرت سلیمہ پر دنیا میں آنے والی ہر ذی روح کو بغاوت پر آمادہ کرتی ہیں اور باغی ہی مجرم قرار پاتا ہے۔ صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ ہر معاشرہ ایسے باغیوں سے بھرا پڑا ہے، جو موقع ملتے ہی اپنا کام دکھا دیتا ہے۔ یہ باغی ہی ہیں جنہوں نے دنیا کا چہرہ بدل کے رکھ دیا ہے۔

دوسری طرف ایسی خواتین بھی ہیں جو ہر بندش اور بندھن سے آزادی چاہتی ہیں۔ ایسی مثالیں بھی ارد گرد ہی مل جائیں گی۔

بندشیں اور پابندیاں کلچر کا حصہ ہوتی ہیں، یہ آزادیاں اور بندشیں ایک معاشرے کو مہذب بھی بنا سکتی ہیں اور تباہ بھی کر سکتی ہیں۔ ضرورت سمجھنے کی ہے کہیں ہم تحفظ فراہم کر نے کے چکر میں ظلم تو نہیں کر رہے؟ کہیں عورت آزادی کی آڑ میں خود کو تحفظ سے محروم تو نہیں کر رہی؟ میرے نزدیک بہترین رشتہ وہی ہے جہاں عزت اور احترام پنپتے ہوں، جہاں محبت اور عزت سے کسی کو اپنا اسیر بنایا جائے۔ ایسا وجود جس کے حصار میں قیدی خود کو مظلوم نہیں محفوظ سمجھتا ہو۔ جہاں دفعات کے نافذ ہونے پر مسکراہٹیں بکھرتی ہوں۔ ایسی فضا تب ہی قائم ہوتی ہے جب ایک دوسرے کو سمجھا جائے، جہاں نا کوئی صنف کمتر ہو اور نا ہی برتر، جہاں انصاف ہو انفرادی اور اجتماعی معاملات میں بھی۔

(Visited 1 times, 4 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: