ہمارا سچ کھو گیا ہے ——- اورنگ زیب نیازی

0

اس وقت وہ سب ایک بہت اہم اور سنگین مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے جمع تھے۔ یہ اپنی نوعیت کا واحد اور عجیب مسئلہ تھا۔ شہر کی تاریخ میں بلکہ دنیا کی تاریخ میں اس کی دوسری مثال نہیں تھی۔ بعض مفکرین نے اس کی مماثلت قرآن حکیم میں بیان کیے گئے حضرت صالح علیہ السلام کے قصے میں تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔ ایسا تھا بھی اور نہیں بھی۔

میز کے سامنے والی بڑی کرسی پر وردی پوش شخص برا جمان تھا۔ اس کی ٹوپی میں سرخاب کا پر لگا تھا۔ اس کے ساتھ والی کرسی پر سرخ و سپید چہرے والا موٹا گنجا شخص بیٹھا تھا۔ اس کی دائیں طرف یونانی خدوخال والا تھا جس کا چہرہ، حلیہ اور تاثرات اس کے غیر سنجیدہ رویے کے عکاس تھے۔ اس کے عین سامنے تشریف فرما عمامہ بردار کی کرسی میز سے دو فٹ پیچھے دھری تھی لیکن اس کی گرانڈیل توند میز کے کنارے کو مس کر رہی تھی۔ اس کے پہلو میں خشخشی ڈاڑھی والا تسبیح پر مسلسل ورد کر رہا تھا۔ اس سے آگے وہ خبر رساں تھا جس کا قیمتی سوٹ اور ٹائی اس کے چہرے کے دیہاتی پن کو چھپانے میں ناکام نظر آتے تھے۔ ایک کرسی چھوڑ کر لمبے بالوں والا شاعر نما دانشور اپنے موبائل فون کی سکرین پر مسلسل کچھ تلاشنے میں محو تھا۔ اس کے پہلو سے لگ کر ایک خوبرو نوجوان تھا جو کسی کند ذہن طالب علم کی طرح کسی تحریر کو رٹا لگانے میں مصروف تھا۔ ان سب سے الگ تھلگ اس ہال میں وہ اندھا سیاہ پوش بھی موجود تھا جس کی دونوں آنکھیں پتھر کی تھیں۔

’’شہر کی فصیل مضبوط ہاتھوں میں ہے اور ہر طرح سے محفوظ ہے۔ کسی مائی کے لعل میں یہ جرأت نہیں کہ وہ شہر کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔

جو مسئلہ ہے وہ شہر کے اندر ہے، باہر سے ہمارے شہر کو کوئی خطرہ نہیں۔‘‘ وردی پوش کی گھمبیر آواز نے کمرے کے سکوت کو توڑا۔

’’اگر آپ فصیل تک ہی محدود رہتے تو شاید یہ مسئلہ پیدا ہی نہ ہوتا۔‘‘ موٹے گنجے نے قدرے دھیمی اور سہمی ہوئی آواز میں کہا۔

’’ارے میاں! ہماری بلی اور ہمیں کو میائوں۔ تمھیں شہر کی دہلیز سے اپنے کاندھوں پر اُٹھا کر ہم ہی تو شہر کے مرکز تک لائے تھے۔‘‘ وردی پوش نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور گنجے شخص کی جیسے کسی نے سانس کھینچ لی ہو۔

’’اگر تم ہر بار اپنی دعوتوں میں انھیں شریک نہ کرتے تو یہ فصیل تک ہی محدود رہتے‘‘۔ یونانی خدو خال ولا لا پرواہی سے بولا۔

’’تم خود آخری دعوت میں شریک نہیں ہوئے؟‘‘ موٹے گنجے نے نفرت سے یونانی خدو خال والے کو دیکھا۔ یونانی خدو خال والے کے ہونٹ کھلے جیسے گالی دینا چاہتا ہو لیکن ہاتھوں کو ادھر اُدھر حرکت دے کر خاموش ہو گیا۔

’’دیکھیں! بہت بڑا طوفان آنے والا ہے۔ مجھے با وثوق ذرائع سے پتا چلا ہے کہ بہت جلد سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔ کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔ یہ میرا تجزیہ نہیں، پکی خبر ہے، پکی خبر!‘‘ خبر رساں نے سنسنی پھیلانے کی کوشش کی۔

’’تمھاری پکی خبر کی ایسی کی تیسی‘‘۔ وردی پوش دھا ڑا اور خبر رساں ایک منافقانہ مسکراہٹ کے ساتھ خاموش ہو گیا۔

’’یہ سب یہود ونصاریٰ کی سازش ہے۔ ہمیں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا چاہیے‘‘۔ وسیع الجثہ عمامہ بردار خالص عربی لہجے میں گویا ہوا۔ اس نے ’’اللہ‘‘ اور ’’رسی‘‘ پر ضرورت سے زیادہ زور دیا۔

’’رسی‘‘۔ اس بار خشخشی ڈاڑھی والے کی باریک آواز سنائی دی۔ عمامہ بردار نے اس کے طنز کی کاٹ کو محسوس کیا لیکن خاموش رہا۔

’’ہمارے سماج کی ترکیب اور اس کی حرکیات پر نظر ڈالیں تو ہمارا بیانیہ۔۔۔‘‘ شاعر نما دانشور نے کچھ کہنا چاہا لیکن اس نے محسوس کیا کہ اس کی بات کو کوئی سنجیدہ لینے کو تیار نہیں۔ اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ شاید اسے خود بھی احساس ہو گیا کہ اس کا بولنا قبل از وقت ہے۔ اس نے سوچا پہلے تیل کی دھار دیکھو، ان میں سے جس کا پلڑا بھاری ہوا؛اسی کے حق میں بولا جائے تو بہتر ہے۔ اس کے پہلو میں بیٹھا خوبرو نوجوان مسلسل خاموش رہا۔ نہ ہی کسی نے اس کی رائے لینے کی زحمت کی۔ یہاں اس کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ اپنی باچھیں پوری کھول کر دانت باہر نکالتا اور منہ بند کرلیتا۔

’’آپ کی کتابوں میں اس مسئلے کا کوئی حل ہے؟‘‘ وردی پوش نے سیاہ پوش اندھے سے پوچھا۔

’’ہماری کتابوں میں آپ کے ہر فیصلے کا جواز موجود ہے۔ آپ جو بھی فیصلہ کریں گے، میں اس کی توثیق کر دوں گا۔ ‘‘اندھے کا مخاطب صرف وردی پوش تھا۔

’’لیکن ہمیں اس مسئلے کو کوئی نہ کوئی حل تلاش کرنا ہو گا۔ ورنہ شہر برباد ہو جائے گا‘‘۔ یونانی خدو خال والا مٹھیاں بھینچ کر بولا۔

’’ہماری بلا سے‘‘۔ موٹے گنجے کا غصہ اور خفت ابھی کم نہیں ہوئی تھی۔

عمامہ بردار نے بڑی مشکل سے کرسی پر پہلو بدلا اور چوتڑ اُٹھا کر گیس خارج کی۔ کمرے میں ایک ناگوار بد بو پھیل گئی۔ سب کے چہروں پر کراہت آمیز نا گواری کے آثار نمایاں ہوئے سوائے خوبرو نوجوان کے جس نے باچھیں کھول کر دانتوں کی نمائش کی جیسے اس بد بو سے مفاہمت کی کوشش کر رہا ہو۔ یونانی خدو خال والے نے گالی دینے کے لیے اپنا منہ کھولا ہی تھا کہ عین اس لمحے کمرے کا دروازہ آہستگی سے کھلا اور سب کے پائوں کے نیچے سے جیسے زمین سرک گئی۔ وہ بے اختیار اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔

نفیس سوٹ میں ملبوس، ایک خوش پوشاک، دراز قد، نحیف بزرگ کمرے میں داخل ہوئے۔ ان کی آنکھوں میں ذہانت کی چمک تھی اور پیشانی سے نور پھوٹ رہا تھا۔ ان کے چہرے پر ایسا جلال تھا کہ وردی پوش کا تکبر، گنجے کی رعونت، یونانی خدو خال والے کا اعتماد، عمامہ بردار کی نخوت، شاعر نما دانش ور کی ذہانت، خشخشی داڑھی والے کا علم، خبر رساں کی طاقت، اندھے کے سارے جواز اور نوجوان کی تاریخ کا قلعہ ایک لمحے میں دھڑام سے زمین بوس ہو گیا۔ بزرگ نے ہاتھ اٹھا کر انھیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود ایک کرسی گھسیٹ کر ان سے دور بیٹھ گئے۔ انھوں نے اپنی ٹائی کی ناٹ درست کی اور اطمینان کے ساتھ سگار سلگا کر ان کی طرف دیکھا گویا پوچھ رہے ہوں کہ مسئلہ کیا ہے؟

’’وہ۔ ۔ وہ۔ ۔ میں۔ ۔ ۔ ہم۔ ۔ ۔ یہ۔ ۔ ۔ اگر۔ ۔ ۔ ‘‘کمرے میں ملی جلی گھبرائی ہوئی آوازوںکا شور بلند ہوا۔ ان سب کے چہروں سے مایوسی عیاں تھی۔ صاف لگ رہا تھا کہ بزرگ کی آمد انھیں اچھی نہیں لگی لیکن بزرگ کے رعب و جلال کے سامنے کسی کی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ وہ اس نا پسندیدگی کا اظہار کرتا۔ بزرگ کو ان کی منمناہٹ ناگوار گزری۔ انھو ں نے خشمگیں نگاہوں سے دیکھا اور کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ تب انھوں نے وردی پوش کی طرف اشارہ کیا۔ وہ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوا۔ اس نے پہلے اپنا گلا کھنگار کر اپنا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی اور گویا ہوا:

’’جناب عالی!ہمارا شہر ایک عجیب مصیبت سے دو چار ہے۔ گزشتہ بہتر دنوں سے سورج نہیں نکلا۔ رات طویل سے طویل تر ہوتی جارہی ہے۔ لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔ فصلیں سوکھ رہی ہیں۔ دریا خشک ہونے لگے ہیں، جانور مرنے لگے ہیں اور پرندے ہجرت کر گئے ہیں۔ خطرہ کسی بیرونی طاقت سے ہوتا تو اس سے نپٹنے کی ہمارے پاس وافر طاقت ہے، ہم چند روز میں اسے خاک چٹا سکتے ہیں۔ مولانا صاحبان اللہ کے حضور بہت گڑ گڑائے ہیں لیکن ان کی دعائیں مستجاب نہیں ہو رہیں۔ پار لیمنٹ کا اجلاس سات روز تک جاری رہا، دھواں دھار تقریریں ہوئیں مگر یہ لوگ بھی کوئی حل نکالنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ اگر اب بھی روشنی نہ ہوئی تو ہم سب برباد ہو جائیں گے۔ ‘‘

’’اس مسئلے کا حل تمھارے اپنے پاس ہے۔ اس رات کے قفل کو کھولنے والی کلید تم سے کہیں کھو گئی ہے۔ نہیں!کھو نہیں گئی، تم سب نے اسے چھپا رکھا ہے۔ ‘‘بزرگ کی توانا آواز اور پُر اعتماد لہجے نے جیسے ان کی روح قبض کر لی۔

’’ہمارے پاس؟ نہیں، نہیں، نہیں۔ ۔ ۔ ‘‘وہ سب ایک ساتھ منمنائے۔ وہ سب اپنی نشستوں پہر کھڑے ہو گئے اور احمقوں کی طرح اپنا جسم اور لباس ٹٹولنے لگے۔ اپنے کوٹوں، پتلونون، واسکٹوں کی جیبوں اور زیر جاموں کے اندر سے ایک ایک کر کے چیزیں نکال کر میز پر پھینکنے لگے، ذرا سی دیر میں میز پر چھوٹی چھوٹی اشیا کا ڈھیر لگ گیا۔

اس ڈھیر میں امریکی اور روسی ساخت کے پستول، متعدد رائونڈز، سو سے سے زیادہ اے ٹی ایم اور کریڈٹ کارڈز، کچھ تسبیحیں، موبائل فونز، چند کاغذات جن پر رف کالم لکھے گئے تھے، ایک چھوٹی بیاض، تین چار قیمتی قلم اور کچھ دوسری اشیاء شامل تھیں۔ کچھ پاسپورٹ بھی تھے لیکن سب سے حیران کن چیز دوسرے ممالک کے شہریت نامے تھے۔

’’وہ نکالو جسے تم سب چھپا رہے ہو۔ اپنے گریبان میں جھانکو!‘‘بزرگ کی آواز بلند ہوئی۔ اب کی بار ان کی آواز میں بے پناہ دُکھ بھی تھا اور غصہ بھی۔

اُن سب نے ڈھٹائی سے ایک دوسرے کی طرف اُنگلیاں اُٹھائیں۔ اسی لمحے ایک سیاہ بادل کا ٹکڑا کمرے میں داخل ہوا، اچانک قمقموں کی مصنوعی روشنی مدھم پڑنے لگی اور مکمل تاریکی چھا گئی۔ اس تاریکی میں ان سب نے نُور کے ایک ہالے کو کمرے سے باہر جاتے دیکھا۔ روشنی بحال ہوئی تو کمرے کا اندرونی منظر بدل چکا تھا۔ ان سب کے چہرے پہلے سُرخ ہوئے، پھر سیاہ ہوئے اور ان کے خدو خال مٹتے چلے گئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20