مشفق خواجہ ——– امجد علی شاکر

0

یہ بات تو خیر ناممکن ہے کہ بندہ اردو ادب کا طالب علم ہو، کچھ لکھنے پڑھنے کا ذوق بھی رکھتا ہو اور مشفق خواجہ کے نام سے نا آشنا ہو، مگر ٹھیک سے یاد نہیں کہ پہلے پہل اُن کا نام کب سُنا تھا۔ کچھ یاد سا پڑتا ہے کہ پہلے اُن کا نام کہیں پڑھا تھا اور پھر اُن کے بارے میں کچھ سننے اور جاننے کا اتفاق ہوا۔ یہ بھی یاد پڑتا ہے کہ ان کے بارے میں پہلا تاثر خاصا مرعوب کن تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں سب سے اب تک ان سے مرعوب چلا آرہا ہوں۔ وجہ کیا تھی؟ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اُن سے رعب کھانے کی دو وجوہ تھیں: ایک تو تھی اُن کا مطالعہ، دوسری وجہ جو پہلی سے بڑھ کر تھی، یہ تھی اُن کی لائبریری۔ ان سے پہلا غائبانہ بھرپور تعارف جناب خلیل الرحمان عظمیٰ پر ایم۔ فل کا مقالہ لکھ رہا تھا۔ محبّ مکرم ڈاکٹر تحسین فراقی نے خلیل الرحمان دائودی سے ملاقات کا مشورہ دیا۔ یہ بھی بتایا کہ اُن کے پاس کتب کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ ان کی معلومات کا ذخیرہ بھی کچھ کم نہیں ہے۔ ان سے ملاقات خاصی مشکل کشا ثابت ہو سکتی ہے۔ چنانچہ میں ڈاکٹر تحسین فراقی کی ہدایت پر اور انھی کی سفارش لیے شوبرا ہوٹل کے عقب میں واقع ایک مکان پر دستک دے رہا تھا۔

سُنا تھا کہ خلیل الرحمان دائودی سحر خیز ہیں۔ اس لیے صبح سویرے اُن کے ہاں جا پہنچا۔ وہ ایک پختون کی مہمانداری میں مصروف تھے کہ ہم جا پہنچے۔ اس موقع پر میرا چھوٹا بھائی میرے ہمراہ تھا۔ جناب دائودی نے ہمیں خوش آمدید کہا اور پوری روانی و جولانی سے اردو ادب سے مقاطعہ کی داستان فرفر سنانے لگے۔ میرے چھوٹے بھائی کو اُن کا خطاب اور طرز خطاب سبھی کچھ یاد ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ملازم لڑکے سے متعلق یہ جملہ ارشاد فرمایا تھا:

’’یہ لڑکا نیا آیا ہے، ابھی آداب سے واقف نہیں‘‘۔

میرا چھوٹا بھائی آداب سے زیادہ آگاہ نہیں، ادب سے بھی زیادہ تعلق نہیں رکھتا۔ اُس کے خیال میں آداب کا غلامی سے گہرا تعلق ہے۔ اس لیے وہ جناب دائودی کا محولہ بالا جملہ سُناتے ہوئے آداب کے ساتھ غلامی کو بطور مضاف الیہ شامل کرتا ہے۔ میں اس کے محرف جملے سے زیادہ لطف نہیں اُٹھا سکتا۔ مجھے تو جناب دائودی کا جملہ یاد آتا ہے تو خوشگوار ہوا کا جھونکا سا محسوس ہوتا ہے۔ سوچتا ہوں کہ ہمارے درمیان ایک ایسا شخص بھی تھا جو ادب آداب کو اس قدر اہمیت دیتا تھا۔ پھر یہ سوچ کر دل افسردہ ہو جاتا ہے کہ ہم نے کس قدر مختصر مدت میں کتنے لفظوں کو معانی سمیت گم کر دیا ہے۔ فاصلہ شاید ایک آدھ نسل سے زیادہ کا نہیں۔

خلیل الرحمان دائودی نے دو اشخاص کا بطور خاص تذکرہ کیا تھا: ایک کا بخیر اور دوسرے کا اس سے مختلف بلکہ متضاد انداز میں۔ جس شخص کا ذکرِ خیر ہوا تھا، وہ تھے مشفق خواجہ۔ اب رہے دوسرے صاحب تو اُن کا نام کیا لیں۔ ابھی تو اُن کا کفن بھی میلا نہیں ہوا۔ جناب دائودی نے اپنی لائبریری کے بارے میں بتایا کہ انہیں ان دنوں کتابدار میسر نہیں، ترتیب موجود نہیں، لہٰذا کسی کتاب کے بارے میں خبر دینا ممکن نہیں۔ پھر بتایا کہ مشفق خواجہ کی لائبریری بہت وسیع بھی ہے اور مرتب بھی کہ انہیں کتابدار میسر ہیں پھر بتایا کہ وہ معاونت بھی بہت کرتے ہیں۔ تم انہیں خط لکھو! انہوں نے مشفق خواجہ کی اس انداز میں اور اس قدر تعریف کی کہ سننے والا مرعوب ہو جائے۔ میں تو پہلے ہی ان کا ذکر پڑھ کر مرعوب تھا۔ اب اور رعب زدہ ہو گیا۔ اس لیے خط لکھنے کا سوال ہی خارج از بحث تھا۔ میں جس کسی سے مرعوب ہو جائوں اس کا ادب بہت کرتا ہوں۔ اسے خط نہیں لکھ سکتا۔ کیوں؟ یہ تو مجھے بھی معلوم نہیں۔

مشفق خواجہ کی خلیل الرحمان دائودی نے بے پناہ تعریف کی تھی۔ تحسین فراقی کے ہاں ان کے تذکرہ ہوا تو انہوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ انہوں نے خواجہ صاحب کی لائبری کے بارے میں بتایا کہ وہ گھر کا ہے کو ہے بس ایک لائبریری ہے۔ کسی کمرے میں کتابوں کے درمیان صوفے لگا دیے تو یہ ڈرائنگ روم ہو گیا۔ بیڈ لگا دیئے تو بیڈ روم۔ ورنہ یہ گھر سارا کا سارا لائبریری ہے۔ میں نے سوچا کہ مشفق خواجہ کتابوں کے درمیان سوتے جاگتے ہیں۔ انہیں میں اُٹھتے بیٹھتے، بولتے چالتے ہیں۔ انھی کے سامنے خوش ہوتے اور انھی کے رو برو غمگین ہوتے ہیں۔ یہ سوچ کر مولانا محمد حسین عرشی کا شعر یاد آیا:

تینوں سامنے بٹھا کے رونا
دُکھ تینوں نہیں او دسنا

یقیناً خواجہ صاحب کتابوں کے روبرو ناراض ہوتے اور انہی کی گواہی میں مانتے بھی ہوں گے۔ کتابوں سے ایسی مستقل رفاقت اور ہم نشینی عقل کو باور نہیں ہوتی، مگر یہاں تو روایت متوتر تھی اور راویاں ثقہ اند سے بھی آگے کا معاملہ تھا۔ روایت متواتر ہونے کے سبب ثقہ تھی اور راوی اثقہ تھے۔ بزم خواجہ سے آنے والا ہر شخص ایک ہی خبر لا رہا تھا۔ اب ہم کس کا یقین نہ کرتے۔ ان کے کتاب خانے کی وسعت کا معاملہ قول متواتر، بلکہ اجماع کا تھا۔ اس لیے انہیں اُن کی لائبریری دونوں کی عظمت و وسعت کو تسلیم کرنا پڑا۔

مشفق خواجہ کے بار ےمیں ایک دفعہ کہیں پڑھا تھا کہ آپ پنجابی ہیں، مگر ملنے والا دھوکھا کھا گیا اور سمجھا کہ آپ جمنا پار سے آئے ہیں۔ اردو زبان کا ایسا اعلیٰ اور عمدہ ذوق کہ روزمرہ، محاورہ اور لب و لہجہ تک سیکھ لیا۔ یہ محالات کے قریب کا معاملہ ہے۔ اس کام کے لیے مشفق خواجہ نے کس قدر محنت و ریاضت کی ہو گی، بندہ سوچ کر ہی حیران ہو جاتا ہے۔ ہمارے ایک دوست کا دعویٰ ہے کہ زبان سیکھنا ذہانت کا امتحان ہے۔ یقیناً ایسا ہی ہو گا۔ ہم تو اس امتحان میں اکثر فیل ہوتے ہوتے رہ گئے۔ بارہا کوشش کی کہ جی ہاں! کہہ سکیں، مگر جی ہاں کی بجائے ہاں جی! زبان سے بے ساختہ نکل جاتا ہے۔ مشفق خواجہ کی ذہانت ہے کہ لوگوں کو غلط فہمی میں ڈال سکتے تھے۔

لوگوں کو غلط فہمی میں ڈالنا مشفق خواجہ کی ذہانت ہی نہیں، ذوق بھی تھا اور یہ ذوق اس قدر ترقی یافتہ تھا کہ فن لطیف کے درجے کو جا پہنچا تھا۔ یہ بھی اُن کی مزاح نگاری کا ایک انداز تھا۔ وہ مزاح لکھنے کے ساتھ ساتھ مزاح کرنے لگے تھے۔ لاہور کے ایک صاحب کو تھپکی دی کہ تم محقق ہو۔ دراصل یہ محققین پر طنز تھی۔ وہ دکھانا چاہتے تھے کہ محقق ایسے بھی ہوتے ہیں۔ ان صاحب کو ادب پڑھ کر ذوق کی تربیت کرنا تھی، وہ تحقیق کے کام میں لگ گئے۔ اب انہوں نے چہرے پر غیر ضروری سنجیدگی طاری کر لی ہے تا کہ لوگ انہیں محقق مان سکیں۔ اب تو وہ گزرے لوگوں کی املا درست کر رہے ہیں۔ سُنا ہے کہ وہ بڑے ہو کر مرزا حامد بیگ بننے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ہمارا ایک دوست کتابوں سے محبت کرتا ہے۔ انہیں جمع کرتا ہے۔ پڑھ بھی لیتا ہے۔ سمجھ بھی لیتا ہو گا۔ مشفق خواجہ نے انہیں کتاب شناس اور علم دوست کہہ دیں۔ ظاہر ہے سچ کہا ہو گا۔ اب اتفاق سے وہ ہمارے دوست ہیں۔ ہمارے دوست ہیں تو ان کے اچھا آدمی ہونے میں کیا کلام، لیکن مصیبت یہ ہے کہ ان کا منشا ہے کہ وہ خود کتابوں کا بوجھ اُٹھائے رکھیں، ہم ان کے علم کا رعب اُٹھائیں۔ یہ تقسیم کار کچھ درست نہیں۔ وہ کتابیں ہمیں دے دیں، ساتھ ہی رعب بھی اٹھوا لیں تو بات بھی ہوئی۔ خواجہ صاحب نے کمال یہ کیا کہ جو شے اُن کے ہاں شوق کے درجے پر تھی، اُسے ان کا فن قرار دے دیا۔

مشفق خواجہ کا ذکر اُن کے ملنے والوں کا خصوصی موضوعِ گفتگو ہے۔ ڈاکٹر صدیق جاوید اس موضوع پر محققانہ گفتگو کرتے ہیں۔ اس کے باوجود اُن کی باتوں میں محبت کی خوشبو بآسانی محسوس کی جا سکتی ہے۔ وہ جناب خواجہ کا تذکرہ کرتے ہیں تو غالب یاد آتے ہیں:

ذکر اُس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر، تھا جو رازداں اپنا

ڈاکٹر صدیق جاوید کی محبت بہت معتبر ہے۔ اس لیے کہ وہ کُھل کر نفرت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مرزا حامد بیگ اور ڈاکٹر سیّد معین الرحمان پر لکھتے ہوئے نہ مداہنت سے کام لیا ہے، نہ کسی تعلق کو ملحوظِ خاطر ہی رکھا ہے۔ اس لیے وہ اگر کسی سے محبت کریں تو ان کی محبت پر شبہ کرنا ممکن نہیں رہتا۔ مشفق خواجہ پر ان کی گفتگو میں تحقیق اور محبت یکجا ہو گئی ہیں۔ یقیناً یہ گفتگو صفحۂ قرطاس پر منتقل ہو جائے تو اس سے ادب کا ہی نہیں، ادیبوں کا بھی بھلا ہو گا۔

مشفق خواجہ سے میری ملاقات ڈاکٹر صدیق جاوید کی رفاقت میں ہوئی۔ واقعہ کب کا ہے تعین سے کہنا ممکن نہیں، ہاں اس قدر یاد ہے کہ نوے کی دہائی کے کسی ابتدائی سال کا واقعہ ہے گلابی جاڑے کے موسم میں ڈاکٹر صدیق جاوید سے سر راہے یا کتابوں کی کسی دوکان پر ملاقات ہو گئی۔ کہنے لگے کہ مشفق خواجہ لاہور آئے ہوئے ہیں۔ فلیٹیز میں اُن کا قیام ہے۔ میں ادھر جا رہا ہوں۔ آئو تم بھی چلو۔ میں بھی ساتھ ہو لیا۔ راستے میں ڈاکٹر صاحب نے کنو خریدے۔ بتایا کہ خواجہ صاحب کے پاس اکرام چغتائی بیٹھے ہیں۔ انہوں نے فون پر کہا ہے کہ کنو لیتے آنا۔ ویسے ڈاکٹر اکرام چغتائی کا دم غنیمت ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں پھلوں سے تعلق خاطر نبھا رہے ہیں۔ ایک بار انہوں نے آموں کا ذکر اچھے لفظوں میں کیا تھا، ہاں پیڑوں کا ذکر کبھی سننے میں نہیں آیا۔ اُن کی تحقیق کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ پہلے وہ آموں کا ذکر کم کرتے تھے۔ پیڑ زیادہ گنتے تھے۔ ان دنوں ان کی کتابوں پر چلی آ رہی ہیں تو ان میں آم ہی آم ہیں، پیڑوں کا تذکرہ ذرام کم ہی ہے۔ وہ اس بات کی پروا بھی نہیں کرتے کہ آم کس کس پیڑ سے اُتر کر آ رہے ہیں۔ غالب کی طرح اُن کا مطالبہ بھی یہی ایک ہے کہ زیادہ ہوں اور میٹھے ہوں۔

ہم لوگ فلیٹیز پہنچے تو مشفق خواجہ اور اکرام چغتائی سے بیک وقت ملاقات ہو گئی۔ خوشی ہوئی کہ ان سے مل کر علم کے وقار اور ادب کی لطافت سے واسطہ پڑا ہے۔ تحقیق کے بھاری بھر کم پن سے پالا نہیں پڑا۔ وہ بڑی خندہ روئی اور شگفتہ جبینی سے ملے۔ بڑی طویل گفتگو ہوئی۔ اس گفتگو کا اختصار یہ ہے:

عالم کی سیر میر کی صحبت میں ہو گئی

اُن کی گفتگو میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ اُن کی ایک دلچسپی فوٹو گرافی بھی ہے۔ ان کی لائبریری میں اردو ادب کے تقریباً ہر قابل ذکر شخص کی تصور موجود ہے اور ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ظاہر ہے ان میں بعض ناقابلِ ذکر اشخاص بھی ہوں گے۔ پھر یہ تصویریں اس قدر مرتب انداز میں محفوظ ہیں کہ کم سے کم وقت میں مطلوبہ تصویر پیش کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تصاویر کا ایک قابل ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ یہ تصاویر ان کے دست ہنرور اور ان کے کیمرے کے نظام خود کار کا کارنامہ ہیں۔ یہ بھی پتا چلا کہ آپ تقاریب میں ذرا کم ہی جاتے ہیں۔ اس لیے ادیبوں کو خود ان کے کیمرے کی آنکھ تک پہنچنا پڑتا ہے۔ گویا ادیبوں کا معاملہ خسرو کے آہوانِ صحرا سے بھی عجیب تر نکلا:

ہمہ آہوان صحرا سرِ خود نہادہ برکف
باُمید آں کہ روزے بشکار خواہی آمد

ادیب انتظار نہیں کرتے سرِ خود نہادہ بر فرق لیے ان کے کیمرے تک جا پہنچتے ہیں۔ ایک بار ڈاکٹر گوہر نوشاہی نے دورانِ گفتگو میں ان کی مہمان نوازی کی اس قدر تعریف کی کہ مبالغہ محسوس ہوئی۔ تحیقی پر پتا چلا کہ یہ مبالغہ نہیں خواجہ صاحب کا معمول ہے۔ اب سوچتا ہوں کہ خواجہ صاحب کا مہمان نوازی سے مقصود یہ تو نہیں تھا کہ ان کے نتیجے میں مہمان ادیب کی تصویر ذرا بہتر آ سکے۔ یقیناً اُن کی تصویروں میں ادیب سیر چشم اصل اُن کے فوٹو گرافی کے ذوق کی فرع ہوئی۔ یہ اصل ہے یا فرع، بہر حال حقیقت ہے کہ اس دستر خوان سے مستفید لوگ سبھی یہی بات بیان کرتے ہیں۔

مشفق خواجہ اپنے ذوق اور شوق کا بیان کرتے کرتے کہنے لگے:

’’آپ بھی ذرا اپنی تصویر کھچوا لیں۔‘‘

اس کے ساتھ ہی فن کا عملی مظاہرہ ہونے لگا۔ وہ تصویریں اس دھیان سے کھینچ رہے تھے گویا انہیں زندگی بھر میں یہی ایک کام کرنا ہے۔

خواجہ صاحب نے بتایا کہ وہ ہر شخص کی کم از کم تین تصویریں کھینچتے ہیں۔ اس طرح ہر شخص ہر حوالے سے سامنے آ جاتا ہے۔ یہ تھی فوٹو گرافی کے بارے میں ان کی تحقیق۔ میرے خیال میں تین تصویریں شاید تین ابعاد یعنی Three Dimensions کا معاملہ ہو۔ اب رہی چوتھی سمت یا بُعد یعنی Fourth Dimension تو اس کا انہوں نے تذکرہ نہیں کیا۔ ان کی تحریریں پڑھ کر خیال آیا کہ وہ ادیبوں کی ذات کے چوتھے بعد کو تصویروں میں نہیں تحریروں میں محفوظ رکھتے تھے۔ ان کے خط، ان کے کام، ان کی تحقیق زمانے کی Dimension کو محفوظ کرنے کی ایک کوشش ہی تھے۔ گویا مشفق خواجہ کے ہاں اردو ادب کا ہر بُعد محفوظ تھا۔ کچھ تصویروں میں اور کچھ تحریروں میں۔ کیا ظرف تھا اور کیا امین شخص تھا:

یہ جو گرد بادِ حیات ہے کوئی اس کی زد سے بچا نہیں
مگر ایک تیری ہی یاد ہے، میں رکھوں سنبھال سنبھال کے
(احمد ندیم قاسمی)

مشفق خواجہ کی ادبی شخصیت سے اردو ادب کے کسی قاری کی بے خبری تو شاید نا ممکنات سے ہے، لیکن اُن کی شخصیت کا ایک اور پس منظر بھی تھا اور وہ میرے لیے بہت اہم تھا۔ اُن کے والد خواجہ عبد الوحید حضرت مولانا احمد علی قدس سرہ کے شاگرد اور مرید تھے۔ انجمن خدام الدین کے پندرہ روزہ انگریزی جریدے  The Islam کے مدیر رہے تھے۔ مجھے حضرت سندھی سے بے حد عقیقدت بھی ہے اور ان کے افکار سے وابستگی بھی۔ میں نے ایک مدت اُن کا مطالعہ کیا ہے۔ انہی کی راہنمائی میں قرآن مجید کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ حضرت مولانا احمد علی انہی سے متوسل تھے۔ میں خواجہ عبد الوحید کے بارے میں جاننے کا آرزو مند تھا۔ کبھی کبھی ذہن میں یہ خیال بھی آتا کہ مشفق خواجہ تو سر تاپا ادب میں غرق ہیں۔ خواجہ عبد الوحید کی شخصیت کے دینی حوالے انہی کے ساتھ رخصت ہو گئے ہوں گے۔ مشفق خواجہ نے اُس روز اپنے بارے میں کئی باتیں بتائیں۔ بات فوٹو گرافی کے شوق سے چلی تھی اور مشفق خواجہ کے دلچسپی کے مختلف حلقوں تک پھیل گئی۔ کہنے لگے:

’’ایک تو میرا ادبی حلقہ ہے۔ میرا ایک دینی حلقہ بھی ہے۔ میرا کچھ علماء سے بھی تعلق ہے۔‘‘

میں یہ سُن کر چونک گیا۔ کیا خواجہ صاحب نے اپنے پدر بزرگوار کی ہر میراث کو سنبھال رکھا ہے؟ بتایا کہ اس حلقے کے لوگوں کا ادب و شعر سے نہیں، دین و شریعت اور فقہ و کلام سے تعلق ہے۔ میں نے تو سُن کر دل ہی دل میں سبحان اللہ کہا۔ ممکن ہے صدیق جاوید اور اکرام چغتائی کے لیے یہ غیر متعلقہ بات ہو۔ اس کے بعد کسی اور طرف چل نکلی۔ آپ نے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ اپنے والد محترم کی ڈائری مرتب کر رہے ہیں۔ مجھے میرے سوالوں کا جواب مل چکا تھا۔ بقیہ سوالوں کو ڈائری کے مطالعے تک ملتوی کیا اور اسی موضوع پر کسی سوال کے لیے لب کشائی کی ضرورت محسوس نہ کی۔

مشفق خواجہ کے دینی حلقے کے چند افراد کو اکثر لوگ جانتے ہیں۔ ان میں کراچی کے ڈاکٹر ابو سلمان ہیں اور لاہور کے مولانا محمد عالم مختار حق دوسرے لوگ مشفق خواجہ کی رازوں میں ایک راز ہیں۔

ایک دن میں گنج بخش روڈ پر واقع مکتبہ نبویہ میں کتابیں دیکھ رہا تھا۔ مولانا کوکب نورانی کی ترتیب شدہ سُنی ڈائریکٹری کی ورق گردانی کرت ےہوئے سُنی ادیبوں کی فہرست میں جناب مشفق خواجہ کا نام دیکھا تو حیرت سی ہوئی۔ مکتبہ میں موجود پیرزادہ اقبال احمد فاروقی سے پوچھا کہ اس فہرست میں مشفق خواجہ کیسے؟ کہنے لگے:

’’وہ نعتیں لکھتے تھے۔ ہماری معرفت ہمارے علماء کی کتابیں اور تذکرے منگواتے تھے ہم انہیں سُنی بریلوی مانتے ہیں۔‘‘

یہ جواب سُن کر خوشی ہوئی۔ ویسے دیو بندی بھی انہیں آسانی سے ہاتھ سے نہ جانے دیں گے۔ آخر اُن کے والد حضرت مولانا احمد علی قدس سرہ کے مرید تھے۔ سچی بات ہے کہ ادیب پر کوئی بھی فرقہ ملکیت جتائے تو اس میں عیب ہی کیا ہے۔ ہاں ادیب کا کسی فرقے سے تعلق جتلانا یا رکھنا یقیناً عیب ہے۔

علماء کے تذکروں اور دینی کتابوں سے یاد آیا کہ مشفق خواجہ نے اُس مجلس میں یہ بھی بتایا تھا کہ بیسیوں شاعر ایسے ہیں جن کا شعراء کے تذکروں میں کوئی سراغ نہیں ملتا، ان کا تذکرہ علماء اور صوفیاء کے تذکروں میں ملتا ہے۔ مشفق خواجہ تاریخ ادب کی تلاش میں کہاں کہاں پہنچے تھے!

مشفق خواجہ بتا رہے تھے کہ وہ بہت سے ادیبوں کے احوال پر کام کر رہے ہیں اور اُن کے زمانے کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بہت سے شعراء کو ہم عصر کہ دیا جاتا ہے، حالانکہ ان کی عمروں میں بہت تفاوت تھا۔ یہ لوگ حقیقتاً ہم عہد نہ تھے، مگر اس بات کا فیصلہ تو اسی صورت میں ممکن ہے کہ ان کے سنینِ حیات کا تعین ہو جائے۔ اس تحقیق کے بعد ہی ان کے عصر اور غیر ہم عصر کا فیصلہ ہو سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود یہی کام کر رہے ہیں۔

ان دنوں جناب خواجہ کے تکبیر میں شائع ہونے والے کالموں کا بہت شہرہ ہے۔ دراصل انہیں تکبیر کے کالموں نے ادب کی عوامی شخصیت بنا دیا۔ تحقیق اور شاعری (نابالغوں کی شاعری کو اس میں شامل نہ سمجھیں) تو ایک خاص حلقے کی شے ہیں۔ کالم عام قاری بھی پڑھتا تھا۔ اس کے ذریعے شہرت اور مقبولیت بہت خوبصورتی سے یکجا ہو گئی تھیں۔ لوگ ان کے کالموں کے مزاحیہ اور طنزیہ جملوں سے لطف اندوز ہوتے تھے، میں ان کی تنقیدی بصیرت اور تحقیقی ذہن سے۔ میرے خیال میں خواجہ صاحب نے تنقیدی مضمون لکھے تھے، لوگوں نے طنز و مزاح سمجھ کر لطف اُٹھایا۔ مروۃً انہوں نے بھی کالموں کو طنز و مزاح مان لیا۔ دراصل یہ اُن کا علمی مذاق تھا، سوچا ہو گا کہ اصلیت بتا دی تو لوگ ناراض ہوں گے۔ دوسرے مزاحیہ کالم میں جو آزادی ہے، تنقیدی مضمون میں بقرار نہ رہ سکے گی۔ ان کالموں میں اگر کوئی تنقیدی رائے کسی لکھنے والے کو پسند نہ آئے تو مزاح کا بہانہ چل جائے گا، ورنہ ہر لکھنے والا ناراض ہو گا کہ ہمیں تو محلے کا بچہ بچہ ادیب مانتا ہے، آپ ہمیں ادیب ماننے سے کیوں انکاری ہیں۔ اب جناب خواجہ لاکھ کہتے ہیں کہ حضور! آپ کو صرف بچے ہی ادیب ماننے سے کیوں انکاری ہیں۔ اب جناب خواجہ لاکھ کہتے کہ حضور! آپ کو صرف بچے ہی ادیب جانتے ہیں، بڑے نہیں۔ اُن کی بات کو سنتا۔ ممکن ہے ایک آدھ فوجداری ہو جاتی۔ مزاح کے بہانے آپ تنقیدیں لکھتے رہے۔ تحقیق پیش کرتے رہے۔ اکثر ادیب شہرت کے عوض ان کے جملوں کا وار بھی سہہ گئے۔ چند ایک ادیب ان سے آخری سانس تک ناراض رہے۔ لاہور کے ایک محقق (حالانکہ وہ حُقہ کیا، سگریٹ بھی نہیں پیتے تھے) نے بتایا کہ اسلام آباد کے ایک نقاد آخر وقت تک جناب خواجہ سے ناراض رہے۔ ممکن ہے عُقبیٰ میں معافی تلافی کا معاملہ ہو چکا ہو۔ مشفق خواجہ نے ان کالموں کا تذکرہ جس شانِ بے نیازی سے کیا، وہ بھی قابل داد تھا۔ آپ اپنے کالموں میں اسی بے نیازی سے اکثر ادیبوں کے کارناموں کا تذکرہ کرتے تھے۔ گویا یہ بے نیازی بھی اُن کا فن تھا۔ ویسے یہ کالم اُن کا بنیادی کام نہ تھے۔ بس پردہ تھا سخن سازی کا۔ سخن فہموں نے اسے ہنر مان لیا۔ جناب خواجہ کا کہنا تھا کہ اب بہتری اسی میں ہے کہ ان کی بساط لپیٹ دی جائے۔ وجہ یہ بیان کی:

’’اس میں وقت بہت صرف ہوتا ہے۔ اصلی کام ادھورے رہ جاتے ہیں۔‘‘

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ کالم پاک و ہند میں چھے سات جگہ نقل ہو کر شائع ہوتے ہیں۔ جناب خواجہ اپنے کالموں کی اشاعت پر قدیم فن پاروں اور فنکاروں کی بازیافت کو ترجیح دے رہے تھے۔ یہ بھی اُن کا فن تھا۔

جناب خواجہ کے بارے میں ایک اور خبر بھی متواتر کا درجہ رکھتی ہے کہ آپ بندے اور فقرے میں فقرے کو ترجیح دیتے تھے، لیکن بندہ بھی ضائع ہونے سے بچ سکے تو ضرور بچا لیتے تھے۔ ان کا ایک واقعہ پڑھا کہ ادارہ یادگار غالب والے مرزا ظفر الحسن ہندوستان جانے لگے تو لائبریری میں اپنی عدم موجودگی میں اپنی جگہ ڈاکٹر ابو سلمان کو بٹھانے کا فیصلہ کیا۔ مشفق خواجہ نے اس عارضی تبدیلی کا سُن کر کہا کہ لوگ تو یہی کہیں گے گائو آمد۔۔۔۔ بقیہ ضرب المثل سنانے کی بجائے ادیبوں کے حافظے پر اعتماد کیا۔ ممکن ہے مرزا ظفر الحسن مرحوم کی بجائے خرکا احترام ملحوظ ہو، آخر مرزا صاحب سے تو ان کی بے تکلفی تھے، خر سے تو نہیں۔ جناب خواجہ کی ڈاکٹر ابو سلمان سے خاصی بے تکلفی تھی۔ اُن کے کالموں میں ڈاکٹر صاحب کا ذکر خیر اکثر پڑھنے میں آیا۔ اس تمام ذکر خیر کو جمع کیا جائے تو مختصر ضخامت کی کتاب بن جائے۔ ویسے جناب خواجہ کو کالموں میں تعریف و توصیف کی کوئی ایسی عادت نہیں تھی۔ اس لیے ظفر اقبال کے سوا کوئی ادیب اپنے بارے میں ان کے کالم یکجا کر کے شائع کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ شبیر احمد میواتی کا بیان ہے کہ جناب خواجہ نظیر صدیقی مرحوم کے اسلوب کو بہت پسند کرتے تھے، مگر کیا مجال کہ جھوٹوں بھی اس کی تعریف کی ہو۔ ایسے معاملات کو وہ حسابِ دوستاں خیال کرتے تھے۔

جناب خواجہ نے اُس روز کی ملاقات میں اپنے اشاعتی کام یعنی مکتبۂ اسلوب کا تذکرہ بھی کیا۔ اس کے آغاز و انجام کا تذکرہ فرمایا اور بتایا کہ Alpha Bravo نامی پبلشر اور بک سیلر سے معاملات طے کرنے گئے تھے۔ وہ مکتبہ اسلوب کا ’’باقی ماندہ‘‘ ان کے حوالے کرنا چاہتے تھے۔ معاملات کا کیا ہوا۔ یہ تو معلوم نہیں، مگر یہ ہر کسی کو معلوم ہے مکتبۂ اسلوب کے بعد الفا بریوو بھی وہاں جا پہنچا جہاں ہر کسی کو لوٹ کر جانا ہے یا آج تم کل ہماری باری ہے۔ یہ مکتبۂ اسلوب راہیِ ملک فنا ہوا۔ ویسے بعض لکھنے والے بھی کمال کے ہوتے ہیں۔ جو کچھ لکھتے ہیں یہ سوچ کر لکھتے ہیں کہ فانی انسان کو ابدیت کے خواب دیکھنے اچھے نہیں لگتے۔ ان کی تحریر اول تو شائع ہونے سے پہلے عالمِ بقا کا رُخ کرتی ہے۔ اگر شائع ہو جاتے تو پبلشنگ ہائوس تاریخ کا حصہ ہو جاتا ہے۔ ویسے سچی بات ہے کہ مکتبۂ اسلوب کا مقدر جو کچھ بھی تھا، اُس نے بعض یادگار کتابیں شائع کیں، انہیں لوگ اب فٹ پاتھوں پر ڈھونڈتے ہیں:

اب ڈھونڈتے چراغِ رُخِ زیبا لے کر

مشفق خواجہ نے اُس مجلس میں اپنے اشاعتی تجربے کی سرگزشت بیان فرمائی۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ وہ میری سرگزشت بھی سنا رہے ہیں۔ حالانکہ میں تو صرف دو کتابیں شائع کرنے کا گناہگار ہوا تھا۔ بک سیلرز نے جس سلوک کا مجھے مستحق سمجھا تھا، وہی سلوک اُن سے بھی روا رکھا۔ بہر حال سلوک کے ان معاملات پر بات کرنے سے بزرگوں نے منع فرمایا ہے:

خاصاں دی گل عاماں اگے نہیں مناسب کرنی

جناب خواجہ نے بے پناہ لکھا اور بے شمار تجربے کیے۔ انہوں نے کیسی بھر پور زندگی بسر کی تھی، سوچتا ہوں تو حیرت گم ہو جاتی ہے۔ مشفق خواجہ کے ملنے والے اُن کے لکھنے پڑھنے، فوٹو گرافی، مہمان نوازی اور بعض دوسری خوبیوں اور تجربوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔ بعض ایسے تجربے بھی تھے جن کا کوئی نام نہیں جیسے ہزار شیوہ ہا بتاں را کہ نام نیست۔ بعض تجربے ایسے بھی ہوں گے جو ادیب اور معزز ادیب ہونے کی حیثیت میں نہیں، ایک انسان ہونے کی حیثیت میں سرزد ہوئے ہوں گے۔ ان معمولات کے سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ادبی تقریبات کی بجائے دستر خوان پر ادیبوں سے ملتے تھے۔ اس میں فائدہ ہی فائدہ تھا کہ ادیبوں کی ادبی گفتگو سننے سے محفوظ رہتے تھے۔ احتیاط یہ کرتے تھے کہ دستر خوان جناب خواجہ کا ہوتا اور مہمان صاحبانِ علم و ادب۔ ان کا وقت بچتا تھا اور ادیبوں کی عزت۔ خواجہ صاحب کا ایک معمول اور بھی تھا کہ جو دنیا سے جانے والے ادیبوں سے نبھانا جانتے تھے۔ پورے اہتمام سے جنازوں میں شرکت کرتے۔ ایسے مواقع پر ایک جنازے کا بوجھ ہی کافی خیال کرتے۔ اس لیے اس دوران میں کوئی ادیب اپنی کتاب پیش کرتا تو منع کر دیتے کہ ایک وقت میں ایک جنازہ ہی اُٹھایا جا سکتا ہے۔

مشفق خواجہ محقق اور مزاح نگار ہونے کے علاوہ شاعر بھی تھے، مگر انہوں نے بہت سے دوسرے شاعروں کے ساتھ ساتھ اپنی شاعری کو نظر انداز کر رکھا تھا۔ خود کو شاعر تو مانتے تھے، مگر بعض ہم عصروں کو تو شاعر بھی نہ مانتے۔ حمایت علی شاعر نے تخلص ہی ایسا چنا ہے کہ کوئی اُن کی شاعری کو مانے یا نہ مانے، انہیں شاعر ضرور مانے، مگر مشفق خواجہ نے ایک انٹرویو میں اس مسئلے کا حل بھی ڈھونڈ نکالا۔ انہوں نے بڑی معصومیت سے کہا: ’’وہ شاعر تو نہیں، شاعر تو اُن کا تخلص ہے۔‘‘

حمایت علی شاعر کہہ سکتے تھے:

’’آپ کا تو تخلص بھی شاعر نہیں۔‘‘

جس طرح محمد حسین آزاد نے مولانا فیض الحسن حسرت سہارنپوری کو بار بار تھوکتے دیکھ کر کہا تھا:

’’میں تو تھوکتا بھی نہیں۔‘‘

مگر مشفق خواجہ کو فقرہ لگا کر کون مائی کا لال بچ سکتا تھا۔

اُن دنوں ڈاکٹر صدیق جاوید اپنی لائبریری سے ناراض ناراض رہتے تھے۔ اُس مجلس میں اس شوق کی مذمت کرتے ہوئے کہنے لگے:

’’کتابیں جمع کرنے کا کیا فائدہ؟‘‘

مشفق خواجہ نے کہا:

’’کتابوں کے بغیر کام کیسے چلے گا۔۔۔۔۔۔ میں اگر ممتاز مفتی پر لکھنے بیٹھوں تو اس کی ساری کتابیں میرے پاس ہوں گی تو اُس کے بارے میں لکھ سکوں گا۔‘‘

اس کے بعد مشفق خواجہ اپنی لائبریری کے بارے میں بتانے لگے۔ وہ بتا رہے تھے کہ ان کے پاس اتنی آپ بیتیاں ہیں۔ اس قدر شعراء کے تذکرے ہیں۔ اتنے صوفیاء اور علماء کے تذکرے ہیں۔ وہ ان موضوعات پر کتابوں کی جو تعداد بتا رہے تھے۔ وہ تو مجھے یاد نہیں، مگر اتنا یاد ہے کہ تعداد بے حد حیران کن تھی، پھر حیرت بالائے حیرت کہ انہیں اپنی لائبریری کی کتب کی موضوع وار تعداد کا بھی علم تھا۔ پھر انہوں نے بہت سے شاعروں اور عالموں کے بارے میں بتایا کہ ان کے پاس لوگوں کے مکمل کاغذات ہیں۔ ان میں یگانہ کا بطور خاص تذکرہ کیا تھا۔ پھر سر سید احمد خاں سے متعلق بعض نوادر کی موجودگی کا ذکر بھی کیا تھا۔ وہ حقائق بتا رہے تھے اور ہم حیرتوں کے جہان میں گم تھے۔ ان کی ہر بات حیران کن بھی تھی اور مسحور کن بھی۔

یہ ملاقات کافی طویل رہی۔ تمام وقت ادب اور ادیبوں کا تذکرہ رہا۔ ہم کچھ دیر دنیا سے کٹ کر صرف ادب کی دنیا کے مکین ہو رہے تھے۔ آخر مجلس ختم ہوئی۔ ہم چلنے لگے۔ ڈاکٹر صدیق جاوید نے پوچھا:

’’بقیہ دنوں میں کیا پروگرام ہے؟‘‘

خواجہ صاحب بتانے لگے کہ کچھ میٹنگز ہیں۔ بعض عزیزوں کے ہاں جانا ہے، دو دن ان کے لیے مخصوص کیے ہیں۔ یہ سُن کر میں بھی حیران ہوا کہ آپ کی شخصیت میں کیا توازن ہے۔ علم کے سمندر میں غوطہ زن بھی ہیں اور کنارے پر رہنے والے عزیزوں کی خبر بھی رکھتے ہیں۔ ان سے تعلق بھی نبھاتے ہیں۔ ان میں محبتیں بانٹتے اور انہیں اپنا جانتے ہیں۔

خواجہ صاحب سے یہ ملاقات پہلی بھی تھی، آخری بھی۔ ارادہ تھا کہ کراچی جا کر ان کی لائبریری دیکھیں گے۔ ان سے ملیں گے۔ ان سے استفادہ کریں گے، مگر اچانک ہی میں نے ادب سے چھٹی لے لی۔ لکھنے کی خواہش سرد پڑ گئی۔ میں سر تاپا علوم دین اور علوم سماجیہ پڑھنے میں مگن ہو گیا۔ اب جو لوٹ کر آیا، اُسی خواہش نے پھر سے سر اُٹھایا۔ خواجہ صاحب یاد آئے۔ ان کی تحریریں پڑھیں تو جی خوش ہو گیا۔ دماغ میں روشنی سی بھر گئی۔ ایک روز ڈاکٹر صدیق جاوید سے فون پر بات ہوئی، کہنے لگے:

’’کیا تم نے اپنی تاریخ ادب خواجہ صاحب کو بھیجی ہے؟‘‘

میں نے نفی میں جواب دیا۔ کہنے لگے: ’’انہیں ضرور بھیجو۔ اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے۔‘‘

میں نے وعدہ کر لیا، مگر ایفاء نہ کر سکا۔ ایفائے عہد میں میرے تساہل کو دخل ہرگز نہیں تھا۔ قضا و قدر کے فیصلے ہمارے ارادوں کی راہ روک لیں تو سیّدنا علی کرم اللہ وجہہ، کا یہ قول ہی یاد کر سکتے ہیں:

عرفت ربی بفسخِ العزائم
میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کی شکست و ریخت سے پہچانا۔

مشفق خواجہ کی ذات اور ان کی مزاح نگاری ان دنوں مرکز توجہ ہے۔ ان کے خطوط یکجا ہو رہے ہیں، لیکن وہ جو ایک بڑا محقق تھا جس نے بہت سے شاعروں اور بہت سے قدیم شاعروں کے نئے کلام کو وقت کی گرد کے نیچے سے برآمد کیا تھا۔ بہت سے شاعروں کے بارے میں حقائق کو کھولا تھا۔ یگانہ کا کلام کس طرح لخت لخت مآخذ سے اکٹھا کیا تھا۔ قیصری بیگم کی آپ بیتی کو ورق ورق سمیٹا تھا۔ اپنے والد کے روزنامچے کو حرف حرف نکھارا تھا۔ کس جرأت سے، محنت سے اور محبت سے مرتب کیا تھا۔ اِن باتوں کا تذکرہ کم ہو رہا ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ دراصل مشفق خواجہ مزاح نگاری میں بہت دور تک چلے گئے تھے کہ تحقیق وہاں تک نہ جا سکی۔ شاید کوئی ایسی ادا تھی کہ ان کا مزاح اُن کی تحقیق پر غالب آ گیا۔ تحقیقی مضامین پش منظر میں ہیں۔ سخن ہائے ناگفتنی، سخن در سخن منظر پر دکھائی دیتے ہیں۔ خامہ بگوش مشفق خواجہ سے زیادہ شہرت پا گیا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جس طرح خامہ بگوش کے پردے میں مشفق خواجہ تھا۔ ایسے ہی مزاح کی سطح کے نیچے تنقیدی بصیرت اور تحقیقی ذوق صاف دکھائی دیتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ مشفق خواجہ نے قاری کو تحقیق آشنا کرنے کے لیے مزاح کا اسلوب اپنایا ہو۔ میر نے کیا پتے کی بات کہی ہے:

خوش ہیں دیوانگی میر سے سب
کیا جنوں کر گیا شعور سے وہ

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20