ترکی کا پاکستان پر سفارتی حملہ اور ملائشیا کانفرنس — ظفر محمود شیخ

0

ملائشیاء سے دیگر بہت سی خبروں کے ہمراہ جب یہ خبر آئی کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے حوالہ سے ایک منفی بیان دیا ہے تو مجھے خبر کی صداقت پر یقین نہ آیا بلکہ میرا پہلا ردعمل یہ تھا کہ کسی دشمن نے برادر اسلامی ملک ترکی سے پاکستان کے محبت و انسیت کے تعلقات میں رخنہ ڈالنے کے لئے شرارت کی ہے۔ تصدیق ہونے پر گویا غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ ہم پاکستانی ترکوں سے بھی اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنی کسی اور سے۔ خصوصا ترکی کو سیکولرازم کے چنگل سے نکال کر اسلام اور اسلامی امت کے راستے پر ڈالنے پر ہم ان کی موجودہ قیادت سے خوش بھی ہیں۔ ترکوں کی خوش عقیدگی پاکستان میں بہت سے ہم عقیدہ لوگوں کے لئے اطمینان کا باعث ہے مگر ہم کبھی بھی یہ نہیں سوچ سکتے تھے کہ جدید ترکی کا بانی طیب اردوان پاکستان کو محض ایک کانفرنس میں شریک نہ ہونے پر یوں دنیا بھر میں خفیف کرنے کی کوشش کرے گا۔ کشمیر فلسطین و مسلم امت کے دیگر مسائل پر ترکی کے بے لاگ موقف کو بہت سے پاکستانی ستائیش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حکومتی سطح پر بھی اس کا اقرار کیا جاتا ہے مگر کبھی بھی پاکستانی حکومت اور عوام نے ترکی سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ ترکی بھارت سے اپنے کاروباری دوستی اور محبت کے تعلقات کو ختم کرے اور بھارت کا بائیکاٹ کرے۔

کیا یہ ایک کھلی حقیقت نہیں کہ طیب اردوان کے دور حکومت میں ترکی کے بھارت کے ساتھ تعلقات خصوصا نریندرا مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بے حداضافہ ہوا۔ نہ صرف دونوں ممالک کے حکمرانوں اور اعلی سطحی حکومتی عہدیداران نے مسلسل دورے کئے بلکہ 8 پارلیمانی وفود کا بھی تبادلہ ہوا۔ سٹریٹجک تعلقات میں بڑھوتری کے ساتھ ٪22 اضافہ کے ساتھ ترکی اور بھارت کی تجارت 6۔8 ارب ڈالر ہو گئی۔ کیا لکھنؤ سب وے اور بمبئی سب وے اور جموں وکشمیر ریلوے ٹنل سمیت ہاؤسنگ کے430 ملین ڈالر سے زائد کے منصوبے ترک کمپنیاں نہیں چلا رہی ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سیاحت میں بے پناہ اضافہ کے ساتھ ہندوستانیوں میں ہنی مون کیلئے ترکی جانے کا رحجان نہیں زور پکڑ گیا؟ کیا بھارتی بحریہ کیلئے 45000 ٹن وزنی فلیٹ سپورٹ شپس کہ تیاری کا 3۔2 ارب ڈالر کا کانٹریکٹ ترک فرم اناطولیہ شپ یارڈ کو نہیں ملا؟ کیا یہ جنگی سازوسامان پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کا خطرہ نہیں؟ کیا ترکی نے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو 30 حملہ آور جنگی ہیلی کاپٹرز کی فروخت کیلئے 5۔1 ارب ڈالر کا معاہدہ نہیں کیا؟ بھارت اور ترکی کی بڑھتی ہوئی قربتوں خصوصا دفاعی شعبے کے تعاون سے براہ راست متاثر ہونے والا ملک پاکستان ہے لیکن پھر بھی جانتے بوجھتے پاکستان نے خاموشی اختیار کئے رکھی صرف اسی لئے کہ محبت کے تعلقات کو گزند نہ پہنچے۔

کیا بھارتی بحریہ کیلئے 45000 ٹن وزنی فلیٹ سپورٹ شپس کہ تیاری کا 3۔2 ارب ڈالر کا کانٹریکٹ ترک فرم اناطولیہ شپ یارڈ کو نہیں ملا؟ کیا یہ جنگی سازوسامان پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کا خطرہ نہیں؟ کیا ترکی نے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو 30 حملہ آور جنگی ہیلی کاپٹرز کی فروخت کیلئے 5۔1 ارب ڈالر کا معاہدہ نہیں کیا؟ 

ابھی اسلام آباد پشاور موٹروے اور رینٹل پاورکے منصوبوں میں ترک کمپنیوں کے حوالے سے اڑتی ’گرد‘ بیٹھی  نہیں تھی کہ طیب اردوان نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو بلیک میل کر رہا ہے اور دھمکیاں دے رہا ہے کہ 40 لاکھ پاکستانیوں کو واپس بجھوا دے گا اور ان کے بدلے بنگلہ دیشی ورکرز کو لے آئے گا۔ اس جیسی لاعلمی پر مبنی بچکانہ بات سے خود طیب اردوان جیسے بڑے لیڈر کا قد کاٹھ بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے کہ وہ کیونکر اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ سعودی عرب میں موجود پاکستانی روزگار سے آگے بڑھ کر حرمین کے سپاہی ہیں۔ ان کے نزدیک حرمین کی حفاظت کے لئے جان نچھاور کرنا زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہے وہ جن کی آنکھیں حرمین کے دیدار کے لئے ترستی ہوں ان کے لئے مملکت سعودی عرب مقدس و محترم ہے۔

خود سعودی حکمران بھی پاکستانیوں کے اس جذبےکو جانتے اور اس کا احترام کرتے ہیں یہی وجہ ہے کی سعودی عرب، امارات، بحرین، کویت وغیرہ میں پاکستانی ورکرز کی تعداد میں ہمیشہ اضافہ ہی ہوا ہے۔ کیا حالیہ تاریخ میں سنہرے لفظوں سے لکھا سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا وہ جملہ نہیں سنا جو انہوں نے 19 فروری 2019 کو اسلام آباد کے دورہ کے دوران وزیراعظم عمران خان سے کہا تھا کہ آپ مجھے سعودی عرب میں پاکستان سفیر سمجھیں۔ یہ تعلقات باہمی دوطرفہ احترام اور ایک دوسرے کی ضروریات و مشکلات میں مدد دینے کے جذبے پر مبنی ہیں۔

طیب اردوان کی گفتگو میں دیا گیا تیسرا حوالہ سٹیٹ بینک میں رکھے سعودیہ و متحدہ عرب امارات کے مشترکہ 5 ارب ڈالر کے بارے میں ہے اور اگر انہیں ان کا کوئی اہلکار پاکستانی اخبارات میں گذشتہ برس چھپی خبروں کے بارے میں بتا سکتا تو ضرور انہیں یہ علم ہو جاتا کہ مذکورہ رقم صرف ایک سال کے لئے زرمبادلہ کے گرتے ہوئے ذخائر کو تقویت دینے کے لئے ہی اعلان کر کے دی گئی تھی جو اپنی مدت کی تکمیل پر واپس ہی کی جانی تھی اور اس رقم کے سبب پاکستانی معیشت پر پڑنے والے بہتر اثرات ونتائج کے سبب پاکستان کی درخواست پر ویسے بھی اس کی مدت میں نہ صرف اضافہ کیا جا چکا ہے بلکہ اس رقم کو سافٹ لون یعنی نرم شرائط قرض میں تبدیلی کا عمل بھی جاری ہے۔ اس پورے عمل میں پاکستان کی گردن مروڑنے کا کوئی شائبہ تک نہیں۔ کیا طیب اردوان صاحب یہ بتانا پسند کریں گے کہ انہوں نے مشکل وقت میں پاکستان کی کیا مدد کی؟ اور بھارت کے ساتھ کشیدگی اور جنگ کے حقیقی خطرہ کے جواب میں انہیں جنگی سازوسامان کیوں بیچا؟

طیب اردوان صاحب کی اطلاعات کا منبع غیر مصدقہ و غیر سنجیدہ ہے انہیں اپنے خبر نگاروں کو تبدیل کرکے ذرائع اطلاعات پر نظر ثانی کرنی چاہئے جو ان کی عالمی وسفارتی سبکی کا باعث بنے ہیں۔ ہاں ایک بات ضرور ہے کہ سعودی عرب سمیت ہمارے دیگر عرب و غیر عرب مسلمان ممالک کا اس کانفرنس کے پس پردہ مقاصد کے حوالہ سے سخت تحفظات تھے جن کا وہ برملا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اور خود پاکستان کو بھی اسی طرح کے خدشات تھے مگر ہم نے ان کا اظہار نہ کیا۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے جو مختصر مگر جامع وضاحتی بیان جاری کیا وہ ترکی کی خارجہ پالیسی کے لئے ایک تازیانہ سے کم نہیں جس میں پاکستان نے بالآخر یہ تسلیم کر لیا کہ اس کانفرنس میں عدم شرکت کی اصل وجہ اس کی امت کی تقسیم کا تاثر تھا۔ ترکی، ملائشیا وغیرہ کو حزیمت سے بچانے کی خاطر پاکستان نے کانفرنس میں عدم شرکت کا وضاحتی بیان جاری کرنے کی ذمہ داری خود ملائشیا پر ڈالی تھی تا کہ پاکستان کو خود یہ بات نہ کہنی پڑے کہ ہماری عدم شرکت کی وجہ یہ حقیقی خدشات تھے کہ دونوں ممالک اس کانفرنس کو اوآئی سی کے متبادل الگ پلیٹ فارم کی تشکیل کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان امت کی تقسیم کے بجائے اسے مزید مضبوط و متحد کرنے کا خواہش مند ہے۔

اب طیب اردوان کی گفتگو نے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ کھل کر یہ تسلیم کر لے کہ پاکستان اس معاملہ میں سعودی عرب و دیگر مسلمان ممالک کے ساتھ کھڑا ہے اور تقسیم کے کسی بھی عمل کی مخالفت کرتا ہے۔ خود طیب اردوان کا اوآئی سی سے ماورا کسی نئے پلیٹ فارم کے قیام کی خواہش کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ گویا انہوں نے سعودیہ، عرب ممالک، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے خدشات کو درست ثابت کیا ہے۔ اور رہا جہاں تک سوال سعودی عرب کی امداد کا تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہر مشکل گھڑی اور سانحہ میں سعودی عرب پاکستان کے پیچھے کھڑا رہاہے۔ 2005 کا قیامت خیز زلزلہ اور 2010 کا ملک گیر تاریخی سیلاب اور ان مواقع ہر سعودی عرب کی بھر پور امداد کس کو بھولی ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باق نہیں کی جہاں خود بہت سے پاکستانی ان سانحات کو فراموش کر بیٹھے سعودی عرب کی امداد تاحال جاری ہے۔

طیب اردوان صاحب اور ان کا ملک تازہ ترین ’قول‘ کے بعد کہاں کھڑا ہے اس کا فیصلہ وہ خود کریں البتہ پاکستان کے ساتھ وہ اب مزید کتنے فاصلے پہ چلے گئے ہیں اس کا اندازہ انہیں جلد ہو جائے گا۔ میرے پاس ترکی کی پاکستان سے معلوم و نامعلوم محبتوں کی بے شمار تفصیلات ہیں جو میں جلد ہی پیش کروں گا تا کہ اردوان کی محبت کا دم بھرنے والوں کو بھی پتہ چلے کہ موصوف کتنے اسلام پسند اور پاکستان کی محبت میں مبتلا اسرائیل و بھارت و دیگر دشمنان پاکستان کے کتنے قریب ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ شائد طیب اردوان صاحب ماضی کے مرد بیمار ترکی کو آج بھی اپنے آپ کو حجاز مقدس کا والی سمجھتے ہیں اور اسی ذہنی کیفینت میں اپنی پالیسیاں اور بیانات جاری کرتے ہیں۔

مصنف ماہر عرب امور/ سینئر صحافی و تجزیہ کار ہیں۔

نوٹ: ادارہ کا مصنف کی رائے اتفاق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاک ترک رشتے کے ستر برس ۔۔۔ فاروق عادل
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20