خدائی سرگوشیاں، کتابِ دل ——– نعیم الرحمٰن

0

مجیب الحق حقی کی کتاب ’’خدائی سرگوشیاں‘‘ ایک انوکھی اور پراثر کتاب ہے۔ اس لیے میں نے اسے کتابِ دل کا نام دیا ہے۔ کتاب کے سرورق پر مصنف نے اس کے موضوع کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’سائنس کا دائرہ کار ہمارے حواس اور دماغ تک محدود ہے جو ظاہری اور مادّی عناصر سے منسلک ہیں اور سائنس کو اس سے غرض نہیں کہ کائنات کو چلانے والے بنیادی فطری قوانین کا منبع کیا ہے۔ یہی وہ غیر عقلی بنیاد ہے جس پر جدید سائنس کی عمارت کھڑی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں خدائی سرگوشیاں انسان کی چشمِ حیراں کو رہنمائی فراہم کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ وہ خدائی سرگوشیاں کیا ہیں؟ آئیں جانتے ہیں اس کتاب کے اندر جھانک کر۔

کائنات کے ذرے ذرے میں وجود حق کی شواہد موجود ہیں۔ قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔

’’اور ہم انہیں ان کے اندر اور آسمان میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے۔ یہاں تک کے ان کے سامنے عیاں ہو جائے گا کہ یہی حق ہے، کیا یہ بات کافی نہیں کہ تمہارا رب ہر چیز کا شاہد ہے؟‘‘

بس انہیں دیکھنے اور سمجھنے کے لیے چشمِ بینا درکار ہوتی ہے۔ پارٹیکلز آف گاڈ کی دریافت کی روشنی میں سائنس نے بھی خدا کی تلاش کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ ادیب و دانشور عکسی مفتی نے اسی حوالے سے ’’تلاش‘‘ کے نام سے ایک علم و دانش سے بھرپور کتاب میں اللہ کی تلاش اور اس کی کئی سائنسی حقیقت بیان کرنے کی عمدہ کوشش کی ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز کتاب ہے۔ جسے پڑھتے اور سمجھتے ہوئے قاری اس میں ڈوب جاتا ہے۔

مجیب الحق حقی نے ’’خدائی سرگوشیاں‘‘ میں یہی کام بہ اندازِ دگر انجام دیا ہے۔ کائنات کے مشاہدے کے ذریعے وجودِ باری تعالیٰ کے اشاروں کی نشاندہی کی ہے۔ سائنس ،الحاد اور اسلام کا جائزہ دلچسپ بھی ہے اور معلومات افزا بھی۔ حقی صاحب کتاب کے پبلشر بھی ہیں۔ دو سو اٹھائیس صفحات کی کتاب بہترین کاغذ پر بہت عمدہ طبع ہوئی ہے اس کی کتابت بھی شاندار ہے۔ کتاب پر قیمت درج نہیں۔ مصنف نے یہ کتاب Understanding The Divone Vhisper کے نام سے پیش کی ہے اور اس کا اردو ترجمہ بھی خود ہی کیا ہے۔ جس پر وہ مبارک باد کے حقدار ہیں۔

پیش لفظ رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کے استاد سمیع الدین نے لکھا ہے۔

’’مجیب الحق حقی صاحب کے ساتھ بذریعہ سوشل میڈیا تعارف ہوا۔ آپ کے دلآویز سائنسی نقطہ ہائے نظر نے مجھے تادمِ حیات اپنا گرویدہ بنا لیا۔ حقی صاحب کے اعتدال پر مبنی سائنسی نگارشات تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ سائنسی نظریہ حیات کی تلاش میں ’’خدائی سرگوشیاں‘‘ ان کی ایک گراں قدر کوشش ہے۔ شاید یہ آئن اسٹائن یا مورس بوکائلے کے پائے کی تحقیق نہ ہو لیکن ان کی تحقیقات سے کسی طور کم بھی نہیں ہے۔ مورس بوکائلے بھی اپنی تحقیق میں کسی حد تک عدم توازن کا شکار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے قرآن کا حق تو ادا کیا کہ وہ کیسے سائنسی نظریہ حیات کی آبیاری کرتا ہے لیکن جب حدیث اور سنت کی باری آئی تو صاحب تحقیق کے پاس دلائل کی تشنگی اسلام کے ایک بہت ہی اہم ماخذ قانون کو سائنسی نظریہ حیات کے تقاضوں پر پورا نہ اتروا سکی۔ زیر نظر کتاب شاید اسلامی قانون کے اس اہم ماخذ کو زیرِ بحث نہ لا سکی لیکن مورس بوکائلے کی طرح اس اہم ترین اصول قانون کی قانونی اور تشریعی اہمیت میں کمی کا سبب بھی نہ بن سکی۔ اس کتاب کی مزید خوبیاں کچھ یوں ہیں کہ اس کے دلائل و براہین انتہائی سلیس اور عام فہم ہیں ایک عام پڑھا لکھا شخص بھی ان کوبہ آسانی سمجھ سکتا ہے۔ دلائل میں پیشہ ورانہ لفاظی قاری کو نظر نہیں آئے گی۔ مصنف نے سائنسی نظریہ حیات کو قرآنی دلائل سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ سائنس اور قرآن میں کوئی تصادم نہیں ہے بلکہ قرآن مکمل طور پر مظاہرِ فطرت کو سہل و آسان بناتا ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ سائنس جتنی ترقی کرے گی اتنا ہی اس پر قرآن کی حقانیت کھلتی رہے گی۔‘‘

پاک ترک اسکول کے استاد ہمایوں مجاہد ڈار نے ’سینہ روشن ہو تو ہے سوزِ سخن عین حیات‘ کے عنوان سے کتاب ’خدائی سرگوشیاں‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے۔

’’کبھی خیال آتا ہے کہ کتابِ مقدس میں ایسی اور اس سے ملتی جلتی آیات کیوں نہ اتریں؟ ’ہم تمہیں بیسویں صدی میں ڈی این اے کی دریافت کی خبر دیتے ہیں‘ یا یوں کہ ’طاقتورٹیلی سکوپس کے ذریعے خلا کی وسعتیں ماپنے، اس میں تیرتے سیارگان کا لگا بندھا، منظم و مربوط نظام مشاہدہ کرنے کی اہلیت، آبدوزوں میں بیٹھ بیٹھ کر سمندر کے باطن میں اتر کر باریک ترین آبی حیات کے حیرت زا مشاہدے تمہیں ہمارے ہونے کی خبر دیں گے۔ تب تم میں سے صاحبانِ شعور پکار اٹھیں گے کہ بے شک اللہ وحدہ لا شریک ہی زندگی، اس کے تمام تر لوازمات و موجودات کا خالق ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل کو ایک اکائی کے طور پر دیکھنے والا خالق علیم بذاتِ الصدور ایسا حیرت انگیز دعویٰ رکھنے والا علام الغیوب کیا کچھ ایکسپوز نہ کر ڈالتا جسے سن کر، دیکھ اور پرکھ چکنے کے بعد ہر شخص کلمہ گو ہوتا؟۔ نہیں اس نے ایسا نہ کیا کہ تب ایمان جبر ہو جاتا۔ عقل ایسا شاندار سرچ انجن سافٹ ویئر عطا کرنے والے نے دو ٹوک لفظوں میں کہہ دیا کہ چاہو تو مجھے مانو، چاہو تو میرا انکار کرو۔ ہاں آس پاس میں بکھری کتابِ کائنات میں میری نشانیاں ہیں، انفس و آفاق میں ہم تمہیں اپنے موجود ہونے کے ان گنت ثبوت دکھائیں گے، انسانی شکل میں اپنے خاص نمائندے یعنی پیغمبر بھیجیں گے۔ ان تمام کلیوز کی مدد سے اگر تم پہیلی بوجھ لو، تو تمہیں کروڑ ہا سال کی نہ ختم ہونے والی حیات بمعہ رنگا رنگ لوازمات، راحت و آرام بطور انعام عطا کریں گے۔ خالقِ عقل نے عاقل انسان کو زندگی کی پہیلی بوجھنے کو اشارے دیے۔ یہ اشارے علم، فہم، سوال در سوال کی یلغار کر سکنے کی قوتِ عاقلہ ایسے آلات کو عمدگی سے برتنے کی صورت سمجھے جا سکتے ہیں اور بالآخر یہ اشارات بات سمجھ میں آ جانے کی صورت سرِ تسلیم خم کر دینے کے متقاضی ہیں۔ انہی اشاروں کو مجیب الحق حقی نے ’’خدائی سرگوشیاں‘‘ کے نام سے تعبیر کیا ہے اور ایسی متعدد، زیادہ تر معنی خیز سرگوشیاں ایک مقام پر اکٹھی کر دی ہیں۔‘‘

بلاشبہ ایمان کتنی بڑی، کیسی حیرت انگیز دولت ہے۔ ملی تو ایک عامی کو مل گئی، نہ ملی تو عظیم فلاسفروں اور اپنے علم کے جھنڈے گاڑنے والے دانشوروں کو نہ ملی۔ مجیب الحق حقی نے دیباچہ میں لکھا ہے۔”Understanding The Divone Whispers” کے اردو ترجمے کے تحت شروع ہونے والا عمل مختلف جہتیں اختیار کرتا ایک ایسی کتاب کی شکل اختیار کر گیا کہ اسے ترجمے کے بجائے معنوی تاثر کہنا زیادہ مناسب ہو گا کچھ ترامیم اور اضافے کے ساتھ اس کتاب کی تکمیل میرے لیے نہایت خوشی کی بات ہے۔ اس کتاب کا موضوع صرف توحید ہے۔ بیس مئی دو ہزار دس کو مغرب کے دریدہ دہین اور تنگ نظر افراد نے آزادیء اظہار کی بنیاد پر ڈرا محمد ڈے منایا تھا۔ اس کے رد عمل میں مجھے غیر مسلموں سے بحث کے دوران اپنے عقیدے کی تشریح سائنسی بنیادوں پر کرنی پڑی۔ میں نے اس سے قبل کبھی کچھ نہیں لکھا تھا نہ ہی کوئی فلسفہ پڑھا تھا۔ لیکن اس سمت اٹھنے والا قدم پھر بڑھتا ہی رہا یہاں تک کہ “Understanding The Divone Whispers” اور پھر ’’خدائی سرگوشیاں‘‘ کی بازگشت بنا۔‘‘

کتاب کے تعارف میں بیان کیا گیا ہے کہ

’’موجودہ دور میں جدید علوم کے پھیلاؤ کی وجہ سے نوجوانوں میں عقائد کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں اور تعلیم یافتہ نوجوان مذہب کا فہم نامکمل ہونے کی وجہ سے سیکولرازم اور آزاد خیالی کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ موجودہ دور کا نوجوان جو جدید نظریاتِ حیات سے متاثر نظر آتے ہیں وہ صرف آزاد خیالی کی مصنوعی روشنی کی چکا چوند سے متاثر ہیں جبکہ در حقیقت وہ ان جدید غیر عقلی و غیر منطقی نظریات کا دفاع کرنے میں بہت کمزور ہیں اور نظریہء حیات کے حوالے سے اٹھائے ہوئے سوالات کا جواب نہیں دے سکتے۔ اُدھر جدیدیت کی اندھی تقلید نے مغرب میں اخلاقی بنیادیں ہلا دی ہیں، مادّہ پرستی کا عفریت خاندانی نظام اور خونی رشتوں کو تہہ و بالا کیے دے رہا ہے، بزرگ گھروں سے نکال کر اولڈ ہوم پہنچا دیئے گئے، ہم جنسوں کی شادیاں قانونی ہو چکی ہیں اور آزادی کے نام پر ایسے کھیل تماشے ہو رہے ہیں کہ عقل انگشتِ بدنداں ہے۔ یہ سب افراتفری جدید لامذہب نظریات کے فروغ کا شاخسانہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئے نظریات اور اُن کے ماخذ کا علم حاصل کر کے اِن کی خامیوں کو اجاگر کیا جائے اور موجودہ دور کے سائنسی نظریات کی کئی خامیوں کو بھی جو الحاد کے معاون بنے ہوئے ہیں واضح کیا جائے اور اس بات کی وضاحت ہو جائے کہ کوئی بھی مادّیت اور الحاد پر مبنی جدید نظریہ انسانیت کی رہنمائی نہیں کر سکتا۔‘‘

کتاب میں تیزی سے اثر کرتے تشکیک کے تدارک کے لیے کچھ حساس موضوعات جیسے خدا کی تخلیق، وجودِ خدا، تقدیر، قدرتِ خدا، علوم کا منبع اور وجودیت کی تشریح سائنسی پیشرفت کی روشنی میں کرنے کی سعی کی گئی ہے تا کہ قارئین کے سامنے توحید اور اسلام کے حوالے سے نہ صرف واضع تصویر آئے بلکہ الحاد کو رد کرنے والے دلائل سے بھی آشنائی ہو۔ یہ صرف حقیقی سچائی کو جاننے اور اجاگر کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔

کتاب کے مختلف ابواب کے عنوان اور ذیلی عنوانات سے ہی موضوع کا تنوع اور وسعت آشکار ہو جاتی ہے۔ کتاب کے عنوانات ہیں۔ ’’انسان اور بنیادی سوالات‘‘، ’’ ایمان اور سائنس‘‘، ’’ سائنس، سائنسداں اور خدا‘‘، ’’خدا کو کس نے بنایا‘‘، ’’انسان کیا ہے‘‘، ’’ کائنات‘‘ ، ’’سائنسی نظریات کا عمومی جائزہ‘‘، ’’حل کی تلاش‘‘، ’’خدائی سرگوشیاں القرآن‘‘، ’’غیر معمولی مظاہر اور قرآن‘‘، ’’حقیقتِ کبریٰ اور انسانی عقل‘‘، ’’ دہریت کی سائنسی تشریح‘‘، ’’ کیونکہ میں سوچتا ہوں، لہٰذا میں ہوں‘‘، ’’ آفاقی علوم کا منبع‘‘، ’’ قدرتِ خدا اور گوگل‘‘، ’’جبر و قدر، تقدیر اور لوحِ محفوظ‘‘ اور ’’حاصلِ مطالعہ‘‘ ہیں۔

جدید سائنسدان، دانشور اور محقق طبعی شواہد کے بغیر خدا کو ماننے پر رضامند نہیں ہیں جبکہ مذہب کا موقف ہے کہ خدا طبعی وجودیت سے بالاتر ہے۔ مذہبی اور سائنسی فکر میں ہمیشہ بنیادی مسئلہ خدا کا وجود رہا ہے۔ کیا جدید سائنس واقعی خدا کی منکر ہو سکتی ہے؟ سائنسدانوں کا نقطہء نظر ہے کہ جو دعویٰ تجربے سے ثابت نہ ہو وہ سائنسی طور پر غلط ہے۔ آپ خدا پر یقین تو رکھیں لیکن اس کے سچ ہونے پر اصرار نہ کریں کیونکہ سائنسی تجربات اس کی تصدیق نہیں کرتے۔ لیکن حقی صاحب نے کس سادہ انداز میں وجودِ باری تعالیٰ کا ثبوت دیا ہے۔

’’انسان کے دو رُخ ہیں ایک طبعی اور دوسرا تصوراتی، جسمانی رُخ کو طبعی طور پر ہم اپنے حواس سے محسوس کر لیتے ہیں جبکہ شخصیت بمعہ نام یعنی مسٹر ایکس ایک غیر مرئی وجود ہے جس کو ہمارا شعور جو خود غیر مرئی ہے ایک تصور کی شکل میں قبول کرتا ہے اس طرح ہمارے حواس اور شعور مل کر مخصوص شخص کو پہچانتے ہیں۔ کیا سائنس کوئی ایسا طریقہ دریافت کر پائی ہے کہ کسی انسان کی شخصیت متعین کر سکے؟ جواب یہی ہے نہیں! جدید تر سائنسی تجربات بھی کسی انسان کی شخصیت کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ شخصیت کی کھوج میں کسی بھی سائنسی ٹیسٹ یا تلاش میں ایک انسان کو محض خلیاتی انبار یا جینیاتی مجموعہ ہی بتایا جائے گا۔ میڈیکل ٹیسٹ مطلوبہ معلومات تو دیتا ہے لیکن یہ بتانے سے قاصر ہے کہ یہ کس شخص سے متعلق ہے۔ یہاں پر کوئی انسان ہی ایسی رپورٹ پر نام لکھ کر متعلقہ شخص سے منسوب کرتا ہے۔ اگر سائنس کسی شخص کے وجود کی تصدیق سے قاصر ہے تو کیا ان کا وجود نہیں ہے؟‘‘

خدا کا انکار کسی بھی فرد کا ذاتی فیصلہ ہوتا ہے لیکن جب کوئی عالم یا ماہر طبیعات اپنی علمی حیثیت میں اس کا اظہار کرتا ہے تو ایک تاثر یہ بنتا ہے کہ اس کا علم بھی اس کی تائید کرتا ہو گا۔ سائنس کا دائرہ کار میٹا فزکس نہیں ہے پھر وہ خدا کو طبعی پیرایوں میں تلاش کرتے ہیں اور طبعی آثار نہ پا کر خدا کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا یہ موقف کمزور بنیادوں پر استوار ہے کیونکہ ایک طرف وہ لاتعداد غیر مرئی قدرتی اور آفاقی قوانین کو بغیر ان کا منبع جانے تسلیم کرتے ہیں جو تجربات کے نتیجے میں محض اپنے طبعی انعکاس سے ظاہر ہوتے ہیں۔ لیکن دوسری جانب خدا کے منکر ہیں حالانکہ اسی پیرائے میں مذہبی نقطہء نظر سے تمام تخلیق خدا کے ارادے کا طبعی انعکاس ہی ہے۔ جس طرح کسی تجربے کا نتیجہ ایک فطری قانون کا پتہ دیتا ہے بالکل اسی طرح کوئی بھی تخلیق اپنے خالق کی صِفت خلاقی کا اظہار ہوتی ہے۔

خدائی سرگوشیاں انسانی ذہن میں جنم لینے والے سوالوں کے موثر جواب دیتی ہے۔ انسان خدا کو بھی اپنی طرح زندگی اور وجود کا خوگر سمجھتے ہوئے جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ جو خداکو سمجھنے کا غیر حقیقی تصور ہے۔ خدا یقینا ایک زندہ ہستی ہے لیکن اس ہستی کا وجود کس نوع کا ہے یہ انسانی عقل سے ماورا ہے۔ جس طرح بجلی کو قابو کر کے انسان نے کمپیوٹر اور روبوٹ بنا کر انہیں مصنوعی زندگی اور ذہانت دی۔ جس طرح انسان کا تخلیق کردہ الیکٹرانک ماحول میں مقید کوئی سپر کمپیوٹر اپنی الیکٹرانک جبلت کی محدودیت کی وجہ سے خلوی زندگی کی رمق تک بھی نہیں پہنچ سکتا اسی طرح انسان کبھی خدا کو طبعی پیرایوں میں قید رہ کر کبھی نہیں سمجھ سکے گا۔

سائنس آج بھی جن سوالوں کے جواب نہیں دے سکی ان میں سے چندیہ ہیں۔ ’’کائنات عدم سے خود بخود کیسے ظاہرہ وئی؟ کائنات کیوں بنی؟ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ کائنات میں ہر جگہ ایک نظم کیسے قائم ہے؟ اور کیوں ہے؟ بے پایاں علوم بھی کیا بگ بینگ سے قبل موجود تھے؟ جدید علوم خدا کا متبادل پیش کرنے میں ناکام ہے۔ اس لیے فلاسفر اور دہریے مذکورہ سوالات کے جواب میں اپنی لاعلمی کا اعتراف کرتا ہے۔ کوئی بھی بڑے سے بڑا منکرِ خدا کبھی کائنات اور زندگی کے عجوبے کی تشریخ خدا کو خارج کر کے نہیں کر سکا۔ ان کے پاس نہ زندگی اور شعور کی سائنسی وضاحت ہے اور نہ ہی انسانی جذبات و خیالات کی توضیح ہے۔

اکیسویں صدی کے وسط تک خود مختار انسانی روبوٹ فٹبال ٹیم اس وقت کی انسانی ورلڈ چیمپئن ٹیم کو فیفا قوانین کے مطابق کھیلتے ہوئے شکست دے گی۔ فیفا کا لنک اس کی تصدیق کرتا ہے۔ گویا اگلی چند دہائیوں میں ایسا ہونے جا رہا ہے۔ ذرا تصور کریں انسانوں کے مقابلے کے دوران اُن خود مختار روبوٹ پلیئرز کی ذہنی کیفیت کیا ہو گی۔ وہ الیکٹرونک حصار میں قید ہوں گے، اُنکا کھیل ایک خاص دائرے کے اندر ہی گردش کرے گا جو گراؤنڈ تک ہی محدود ہو گا۔ وہ انسانوں کی طرح ہی کھیلیں گے۔ لیکن ارادے اور عمل کی آزادی کے باوجود ان کا عمل اپنے پروگرامر کے تعین کردہ حدود تک ہی رہے گا۔

مصنوعی ذہانت کا یہ حیران کن تصور آج ہمارے ذہن میں سما سکتا ہے۔ منکرین قرآن کریم کو بھی انسانی تحریر قرار دیتے ہیں۔ اس کا بھی مجیب الحق حقی نے خوبصورت جواب دیا ہے۔

’’انسان کی فطرت ہے کہ اس کے کام کی تعریف کی جائے۔ اسی لیے ہر مصنف اپنی کتاب پر اپنا نام ضرور لکھتا ہے لیکن قرآن پر کسی مصنف کا نام تحریر نہیں ہے اور کسی بھی انسان یا گروپ نے اس کا مصنف ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ جس محترم ہستی نے قرآن کریم کو انسانوں کے سامنے پیش کیا وہ ایک انتہائی سچے اور ایماندار انسان تھے۔ا نہیں چالیس سالہ رفاقت کے بعد صادق و امین لوگوں نے قرار دیا۔ قابل ِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ وہ محترم شخص لکھنے پڑھنے سے قاصر تھے۔ ایک ایسا شخص جسے لکھنا پڑھنا مطلق نہیں آتا وہ اچانک اتنی حکیمانہ باتیں انتہائی دلآویز پیرائے میں بیان کرنے لگے جو نثری طور پر انتہائی اعلیٰ درجہ کی ہوں، کیسے ممکن ہے وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ اس کتاب کے غیر مرئی مالک یعنی خالقِ کائنات نے ایسے شخص کو منتخب کیا جس پر کوئی شک ہی نہیں کر سکتا کہ وہ لکھ سکتا ہے۔ گویا ایک خالق جو اپنی مخلوق کی نفسیات کا بھی خالق ہے اسے پتہ ہے کہ انسان اُس کے پیغام کو وحی تسلیم کرنے کے بجائے اس شخص ہی کو مصنف گردانے گا جس پر اس کا نُزول ہوا۔‘‘

غرض مجیب الحق حقی کی کتاب ’’خدائی سرگوشیاں‘‘ علم و دانش سے معمور ہے۔ جس کا ہر باب چشم کشا اور معلومات افزا ہے اور اسے ہر صاحبِ علم کو ضرور پڑھنا چاہیے۔ حیرت ہوتی ہے کہ یہ ایک ایسے شخص کی تصنیف ہے جس نے اس سے قبل کوئی کتاب تحریر نہیں کی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20