لاپتہ افراد ——– فرحان کامرانی

0

کافی عرصہ گزرا، راقم الحروف نے ماما قدیر صاحب کی ایک تصویر فیس بک پر دیکھی، ماما کے ساتھ جامعہ کراچی کے ایک مستقبل کے شہید کھڑے تھے۔ ماما صاحب کو ”کسی“ کے دباؤ کی وجہ سے جامعہ کراچی کے آرٹس آڈیٹوریم میں خطاب کرنے کی اجازت نہ ملی تھی۔ اس لئے جامعہ کراچی کے ”چی گوارا“ صاحب ان کی تقریر آرٹس آڈیٹوریم کے باہر کھلی فضا میں کروا رہے تھے۔

ماما قدیر صاحب بلوچستان کے گم شدہ (لاپتہ) افراد کی بازیابی کی تحریک چلاتے ہیں۔ خیر راقم میں نہ تو ماما جی کی حمایت کرنے کی ہمت ہے نہ ہی لاپتہ افراد کی فہرست میں شمولیت کا شوق۔ اس لیے وہی کر لیتے ہیں جس کی ہمت بھی ہے اور شوق بھی۔

ہمیں بے چارے جامعہ کراچی کے ”چی گوارا“ کے جذبات کی بڑی قدر ہے، آخر وہ ہمارے قیدی بھائی بھی بنے ہیں ایک مرتبہ، یہ الگ بات ہے کہ یہ قید محض 3 یا 4 دن، بلکہ شائد دو دن کی تھی۔ بلکہ چھوڑیے اس موضوع پر بھی بات کرنا ہماری جرأت سے باہر ہے۔ اہم بات صرف یہ ہے کہ انسانوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو دنیا سے ٹکر لینے کی فکر میں ہوتا ہے۔ انقلابات لانے کے شوقین ایسے افراد دنیا کو تو بدلنا چاہتے ہیں مگر خود کو اور اپنے بھائی بندوں کو بدلنے کی جرأت ان افراد میں نہیں ہوتی، ہم کن لوگوں کی بات کر رہے ہیں؟ بات اگلی سطور میں واضح ہوا چاہتی ہے۔

جامعہ کراچی میں کئی ”انقلابی“ اساتذہ پائے جاتے ہیں۔ان لوگوں کا وطیرہ ہے اپنے ڈرائنگ رومز میں اخلاقی مباحث کرنا۔ چہرے پر گہری فکر مندی کا تاثر طاری کرکے بڑی بڑی باتیں کرنا۔ یہ لوگ خود کو سماج پر، حکومت پر اور ہر مقتدر پر اتھارٹی سمجھتے ہیں۔ ان میں سے ہر کسی میں جامعہ کراچی کے ”چی گوارا“ جتنی ہمت تو نہیں مگر اپنی بڑائی کے اظہار کا شوق بہت ہے اور اس نوع کے نمونے صرف جامعہ کراچی سے مخصوص نہیں۔ ہمارے وطن کی ساری ہی جامعات کا طبقہ اساتذہ کم و بیش اسی نوع کی چیز ہے۔ پھر جب سے سماجی میڈیا نام کی چڑیا ایجاد ہوئی ہے اور عام ہوئی ہے یہ سارے ہی نمونے سوشل میڈیا پر سمجھئے ڈونلڈ ٹرمپ ہی بنے ہوئے ہیں اور اپنے قد سے بڑے اسٹیٹس لگا رہے ہیں، ٹویٹ کر رہے ہیں۔

ایک طرف اخلاقی و اصولی لاؤڈ اسپیکر بن جانے کا خبط ہے اور دوسری طرف یہ عالم کہ یہی لوگ جامعات کے کلاس رومز میں لاپتہ افراد کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہی اخلاقی و اصولی توپ خانے جامعات میں اساتذہ کی حاضری کا کوئی نظام بننے نہیں دیتے۔ یہی لوگ ہیں جو سمیسٹر کی 45 کلاسز میں سے 10 یا 20 کلاسیں لے کر جیسے طلبہ کی سات پشتوں پر احسان کرتے ہیں۔ یہی افراد امتحانات کے 6 ماہ بعد تک نتیجہ سمیسٹر سیل میں جمع نہیں کرواتے۔ یہی لوگ جون و جولائی کی چھٹیوں کا ‘”لیوالاونس” لینے کے لیے مظاہرے کرتے ہیں حالانکہ یہ لوگ پورے سال میں بہ مشکل 2 یا ڈھائی ماہ ہی کل ملا کر جامعات میں حاضر ہوتے ہیں۔

یادش بخیر جامعات کے دفتری اوقات صبح 8:30 سے شام 4:30 تک ہیں اور اس دوران استاد / استانی دفتر سے گھر یا کہیں اور نہیں جا سکتی مگر جامعات میں اساتذہ کے دفاتر دوپہر 12 بجے کے بعد ہی ایسے سنسان ہو جاتے ہیں کہ جیسے مکلی کا قبرستان۔

یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ایسے افراد کو ساری دنیا کو بدل دینے کی فکر ہے۔ یہ لوگ کبھی نواز شریف کو بدعنوان کہتے ہیں، کبھی زرداری کو۔ کبھی ان کی گالیوں کا نشانہ اسٹیبلشمنٹ بنتی ہے اور کبھی حکومت مگر یہ افراد، یہ لاپتہ افراد کبھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔

انتخابات کے موقع پر جامعہ کراچی کی ایک عمارت رینجرز نے طلب کی تھی جس پر بجا طور پر اساتذہ جامعہ کراچی کے نمائندوں نے سخت ردعمل دیا تھا اور یہ نہ ہونے دیا، آفرین ہے ان اساتذہ پر۔ واقعی جامعات کی ہر اینٹ کو قبضے سے بچانا اور نکالنا چاہیے۔ مگر کاش یہی مستعدی، یہی جذبہ ایک مرتبہ ان حقیقی گھوسٹ ٹیچرز کے خلاف بھی ظاہر کیا جائے۔ کاش ایک مرتبہ اس مسئلے پر بھی خبریں لگوائی جائیں، میڈیا ٹرائل کروائیں، کاش ایک مرتبہ اپنے پیٹی بھائیوں میں اخلاقیات جگانے کے لیے بھی جامعہ کراچی کے ”چی گوارا“ صاحب ایک پریس کانفرنس کریں مگر اپنا عیب کسے نظر آتا ہے؟ خود کو بدلنا دنیا کو گالی بکنے جتنا آسان کام تھوڑا ہی ہے۔ کاش کوئی ان لاپتہ افراد کو واپس جامعات کے کلاس رومز میں لے جائے۔ کاش یہ لوگ اپنی روٹی حلال کر کے کھانا سیکھیں، کاش۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: