’’چک پیراں کا جسا‘‘ از بلونت سنگھ ——- علی عبد اللہ

0

یہ ناول نہیں تھا، یہ تو پنجاب کے گاؤں کی ایک خوبصورت زندگی کا جیتا جاگتا منظر تھا جسے میں اپنی آنکھوں سے بچپن میں دیکھتا رہا۔ بظاہر سکھوں کی طرز زندگی پر لکھا جانے والا یہ ناول، حقیقتاً پنجاب کی دیہی زندگی کا بھرپور عکاس ہے اور پڑھنے والا جہاں کہیں بھی بیٹھا ہو، دوران مطالعہ وہ خود کو اسی دلکش پانچ دریاؤں کی سرزمین پنجاب کے کسی پرانے گاؤں میں چلتا پھرتا محسوس کرتا ہے۔ پنجاب دھرتی کے دیہی ماحول کو ابھارنے میں رام لعل، غلام الثقلین اور ابو الفضل کی بھی جاندار کوششیں ہیں لیکن اگر لکھنے والا “بلونت سنگھ” اور لکھا جانے والا “چک پیراں کا جسا” ہو تو پھر یقیناً ادبی دنیا کا ایک گھبرو اور منفرد ناول وجود میں آتا ہے۔ ایک ایسا ناول جو قاری سے سانس لیتے زندہ انسان کی مانند گفتگو کرتا ہے اور بناوٹی انداز سے کہیں دور خالص زبان اور لہجے کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ بارہ ابواب میں منقسم یہ ناول جس کے ہر باب کو” غلاف” کے نام سے اور وارث شاہ کے کلام سے شروع کیا گیا ہے، سکھوں کی ثقافت، رسم و رواج، دشمنی، رومانوی زندگی، محبت اور نفرت سمیت ان کے مزاج اور اکھڑپن کو نہایت خوبصورت انداز سے پیش کرتا ہے۔

ناول بنیادی طور پر دو مرکزی کرداروں بگا سنگھ اور جسا سنگھ کے گرد گھومتا ہے ۔ ان ہی دو کرداروں کے ارگرد پھر گوردیپ، رام پیاری، پورن سنگھ اور صورت سنگھ سمیت دیگر کردار بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یتیم بھتیجا “جسا سنگھ” کم عمری میں جب پہلی مرتبہ اپنے چاچے بگا سنگھ کے سامنے لایا جاتا ہے تو بگا سنگھ اسے کوئی اہمیت نہیں دیتا بلکہ اسے حقارت سے دیکھ کر اس کے سر کے جوڑے سے پکڑ کر ہوا میں لٹکاتا ہے اور کہتا ہے، “پلا چاہے کتے کا ہو، یا آدمی کا، اس کی قوت برداشت کی جانچ کرنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔ کتے کے پلے کو ایک کان سے پکڑ کر ہوا میں اٹھا دو۔ اگر پلا درد کے مارے ٹیاؤں ٹیاؤں کرنے لگے تو سمجھ لو کہ وہ کتا پالنے کے لائق نہیں ہے۔ ایسا کتا گھر کی رکھوالی بھی نہیں کر سکتا۔ اگر ہلا ایسی درد کو چپ چاپ برداشت کر لے تو سمجھ لو کہ وہ بڑا ہو کر سارے گاؤں کے کتوں کو کھڈیرا کرے گا اور جس گھر میں ہو گا اس میں چور پاؤں نہیں رکھ سکیں گے-” یہ کہہ کر وہ ہوا میں ہی جسا سنگھ کا جوڑا چھوڑ دیتا ہے تو جسا ناریل کے پیڑ پر لگے ناریل کی طرح زمین پر آن گرتا ہے مگر پل بھر میں پھر اٹھ کر کھونٹے کی طرح سیدھا ہو جاتا ہے۔ یہی پہلی نفرت عرصہ دراز تک ان کے دلوں میں موجود رہتی ہے اور بہت دیر بعد وقت یہ برف پگھلا کر دونوں کے دلوں میں کچھ نرم جذبات پیدا کر پاتا ہے۔ بگا سنگھ اپنے اکھڑ اور ضدی مزاج کی بنا پر پورے گاؤں میں مشہور تو ہوتا ہی ہے لیکن ایک نئی آنے والی انجان عورت رام پیاری سے اس کے تعلقات اسے گاؤں میں بدنام بھی کر دیتے ہیں۔ جبکہ جسا سنگھ اپنے چاچے کے برعکس اپنی محبت کو احتیاط اور عقل مندی سے خود تک منسلک رکھتا ہے اور دل و جان سے اس سے شادی کرنے کا خواہاں ہوتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان ان کے شریک چنن سنگھ اور اس کے بیٹے ان سے مسلسل دشمنی رکھتے ہیں اور ان کی مکاری سے ہی بگا سنگھ پہلے جیل کاٹتا ہے اور پھر گاؤں چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ جبکہ جسا سنگھ ایک مضبوط، بہادر اور اکھڑ مزاج لے کر جوان ہوتا ہے اور اپنے چاچا بگا سنگھ کی زمینوں کو سنبھالتا بھی ہے اور وہیں موجود اپنی حسین معشوقہ سے ملاقاتیں بھی جاری رکھتا ہے۔ اور آخر میں اپنا رعب اور دبدبا پورے گاؤں میں باعزت طریقےسے برقرار رکھ کر اپنے تمام دشمنوں کو جھاگ کی طرح بیٹھ جانے پر مجبور کر دیتا ہے-

چک پیراں کا جسا، ایک منفرد اور خوبصورت کہانی ہے جو گاؤں کی منظر نگاری کے بل بوتے پر ناول کو چار چاند لگا دیتی ہے۔ ناول کا پہلا غلاف یعنی پہلا باب وارث شاہ کے اس شعر سے شروع ہوتا ہے،

“جیہڑا آس کر کے ڈگے آن دوارے، جیو اوسدے کدے نہ توڑئیے جی وارث شاہ! یتیم دی غور کرئیے، ہتھ عاجزی دے نال جوڑیے جی۔” یعنی اگر کوئی آس کر کے دروازے پر آ گرے تو اس کا من کبھی نہیں توڑنا چاہیے، اے وارث شاہ یتیم کی دیکھ بھال کرنی چاہیے اور اس کے سامنے عاجزی سے ہاتھ جوڑنے چاہیئں”

اسی طرح دیباچے کا آغاز بھی وارث شاہ کے ایک خوبصورت شعر سے ہوتا ہے،

صورت یوسف دی ویکھ طیموس بیٹی، انے مال تے ملک قربان ہوئی
نین مست کلیجڑے وچ دھانے جیویں ترکھڑی نوک سناں دی

طیموس بادشاہ کی بیٹی یوسف(علیہ السلام) جیسی شکل والے نوجوان کو دیکھ کر اپنے جاہ و چشم اور مال و دولت کے ساتھ اس پر نچھاور ہوگئی، اسے لگا، جیسے نوجوان کے مست نین اس کے کلیجے میں برچھی کی تیز نوک کی طرح دھنس گئے-

گاؤں کی منظر نگاری ناول میں مختلف مقامات پر دلچسپ انداز میں کی گئی ہے جیسا کہ،

“گاؤں میں کوئی خصوصیت نہیں تھی۔ وہی کچی اینٹوں کے بنے ہوئے ابڑ کھبڑ چھتوں والے ناہموار مکان، باہر گندے پانی کا جوہر، جس میں اس وقت کچھ بھینسیں گھسی ہوئی تھیں۔ ادھر ادھر اروڑیاں، گندگی کے دھیڑ دکھائی دے رہے تھے۔ بیکار سے کتے کوڑا سونگتے پھر رہے تھے اور مرغیاں خوراک کی تلاش میں جگہ جگہ اروڑیوں کو کھود رہی تھیں-“

اسی طرح ایک اور مقام پر ناول نگار بیان کرتے ہیں،

” جسو نے ایک نظر نئے مکان پر ڈالی۔ کافی وشال صحن تھا۔ مکان کی دیواریں گوبر مٹی اور بھوسے کے گارے سے لپی ہوئی تھیں اور خوب اجلی دکھائی دیتی تھیں۔ داہنے ہاتھ کو تیں سیڑھیاں چڑھ کر باہر والا پسار یعنی برآمدہ تھا، اور دروازوں میں سے بھیتر کا پسار بھی دکھائی دے رہا تھا۔ شیشم کی لکڑی کے بنے ہوئے خوب اونچے اور چوڑے دروازوں کے تختوں پر پیتل کی پھولدار ٹکیاں لوہے کے کیلوں سے جڑی ہوئی تھیں۔ پسار کا صرف باہر والا حاشیہ پکی اینٹوں کا بنا ہوا تھا۔ صحن کے کونے میں بالشت بھر اونچے چبوترے پر بغیر چھت کارسوئی گھر تھا، جہاں اس وقت دو چولہے جل رہے تھے۔ رسوئی کے ایک کونے میں دھرتی کو کھود کر انگیٹھی بنائی گئی تطی۔ زمین کے نیچے بنی انگیٹھی میں اپلے جلائے جاتے تھے اور اس میں ہر وقت دودھ سے بھری مٹی کی چاٹی رکھی رہتی تھی۔ انگیٹھی کا منہ مٹی کے بنے بڑے سے گول ڈھکن سے ڈھکا رہتا تھا۔ اپلوں کی دھیمی دھیمی آنچ سے دودھ پک پک کر گہرے بھورے رنگ کا ہو جاتا تھا اور اس کے اوپر ملائی کی موٹی سی تہہ جم جاتی تھی-“

منظر نگاری اور کہانی کے لحاظ سے ناول ایک منفرد کشش کا حامل ہے جس میں بلونت سنگھ نے کسی قسم کی کمی نہیں چھوڑی۔ ناول میں ایک جگہ لکھتے ہیں۔

” گاؤں سے کافی دور پر ایک کنواں تھا۔ کسی زمانے میں وہاں رہٹ چلا کرتا تھا۔ دو بیل بھاری بھرکم چرکھڑے کو گھمایا کرتے تھے اور پانی ٹنڈوں میں سے چھلا چھل گر کر پاڑچھے کے ذریعے بہتا چلا جاتا تھا۔ وہاں تھوڑی بہت گہما گہمی بھی رہتی تھی۔ گاؤں سے زیادہ دوری پر ہونے کی وجہ سے عورتیں کپڑے دھونے کے لیے وہاں تک نہیں آتی تھیں لیکن کچھ منچلی پہنچ بھی جاتی تھیں۔ وجہ یہ کہ وہاں ان کو بالکل تنہائی ملتی رھی۔ کنویں سے نکلا ہوا پانی آس پاس کے کھیتوں کی سینچائی کرتا تھا۔ رہٹ پر بیلوں کو ہانکنے کے لیے صرف ایک ادھ لڑکا موجود ہوتا تھا۔ مرد کھیتوں میں ہوتے تھے۔ عورتیں لڑکے کو بھگا دیتیں اور کسی لڑکی کو بیل ہانکنے پر لگا دیتیں۔ تب سارے رہٹ پر انہیں کا راج ہو جاتا ۔ وہ بغیر کسی ڈر کے رہٹ کے پانی میں نہاتیں، کپڑے دھوتیں اور ادھ ننگی ادھر ادھر گھوم پھر کر کپڑے پھیلایا کرتی تھیں-“

اردو ادب کے کلاسیک میں شمار کیا جانے والا یہ ناول” چک پیراں کا جسا” کسی پہاڑی چشمے کی مانند حرف اول سے آخر تک اپنی روانی اور بہاؤ برقرار رکھتا ہے۔ جملوں اور مکالموں کے ساتھ ساتھ مناظر کا لطف بھی لیے ہوئے، یہ ناول ایک ہی نشست میں ختم کیے بنا چھوڑ دینا ممکن ہی نہیں ہے۔ اسی لیے معراج خالد نے سچ لکھا تھا کہ اگر آپ یہ شاہکارخرید کر پڑھیں تو یقیناً رقم اور مطالعہ دونوں بیکار نہیں جائیں گے-

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20