کامیابی کا مغالطہ: ایک تبصرہ — سروش طارق

0

“کامیابی کا مغالطہ” سے میرا تعارف فیس بک پر ہوا اور یونیورسٹی میں بھی ایک دو بار اساتذہ سے اس تعریفیں سنیں۔ کہا گیا ہے کہ یہ موضوع پر اردو میں پہلی کتاب ہے۔ شوق تو تھا ہی پڑھنے کا، ایک دن موقع پا کر اس تمنا کا اظہار بھی کردیا جسے فوراً پورا کردیا گیا اور یوں یہ کتاب میرے ہاتھوں میں آگئی۔

کتاب کا سرورق کافی دلچسپ ہے جو اسکی مشمولات کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ خیر، ہم سیدھے اصل بات کی طرف چلتے ہیں کہ آخر اس میں ہے کیا؟

“کامیابی کا مغالطہ” دراصل ایک ایسی تصنیف ہے جو آپ کے کامیابی کے تصور کو بدل کر رکھ دے گی اور آپ یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ موٹیویشنل اسپیکرز آخر ہیں ہی کیوں۔ اور آپ یہ بھی جان جائیں گے کہ ایک ہی تصویر کو کتنے ہی زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔

کتاب میں مصنف پہلے تو یہ تصریح کرتا ہے کہ آخر یہ کتاب وجود میں ہی کیسے آئی، یہ خیال کیسے آیا اور کس طرح محض ایک اتفاق کی بنیاد پر یہ کتاب “لکھنی پڑ گئی”۔ جب آپ یہ حصہ پڑھ لیتے ہیں تو پھر اصل “اینٹی موٹیویشنل اسپکیرانہ” کہانی شروع ہوتی ہے۔ مصنف نے نہایت عمدگی سے بتایا ہے کہ موٹیویشنل لیکچرز اصل میں پیسہ بنانے کا ایک ذریعہ ہیں۔ اور چیزوں کو توڑ مروڑ کر بیان کرکرکے پریشان حال لوگوں کو عارضی سکون دیتے اور پھر ڈپریشن کا مستقل مریض بنا دیتے ہیں۔

کامیابی کا جو تصور ہمارے ہاں عام ہے وہ سرے سے ہی غلط ہے۔ یہ سوال تو اکثر میرے خالی دماغ میں بھی اودھم مچاتا رہتا تھا کہ آخر کامیابی ہے کیا؟ کیا میں ناکام ہوں؟ کیا میرے ماں باپ ناکام زندگی گزار رہے ہیں، حالانکہ وہ خوش ہیں؟ اسی طرح متوسط طبقے کا ایک عام آدمی جو مشکل سے گزر بسر کرتا ہے اور بچوں کو پڑھا لکھا کر معاشرے میں ایک “معمولی” سی ملازمت پر لگواتا ہے کیا وہ ناکام ہے باوجود اس کے کہ وہ اپنی زندگی میں خوش اور مطمئن ہے؟ وہ موٹیویشنل اسپیکرز کی ںظر میں تو وہ معمولی اور ناکام ہی کہلائے گا۔

کامیابی کے تصور کو اس کتاب میں بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ گاہے بگاہے آپکو اس میں دوسری کتب اور مصنفین کے اقتباسات و اقوال بھی ملتے ہیں جس سے بات بیان کرنے اور سمجھنے میں آسانی رہتی ہے۔ اس کتاب کے مطابق قسمت “کامیابی” میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس نکتے کی وضاحت کیلئے کتاب میں بل گیٹس کے والد کی بات کو بھی نقل کیا گیا ہے کہ اگر وہ کسی غریب ملک میں پیدا ہوا ہوتا تو آج اس قدر امیر اور کامیاب نہ ہوتا۔ باراک اوبامہ اور مزید کئی “انگریزوں” کی باتیں بھی کتاب میں نقل کی گئی ہیں تاکہ ہمارے “پاکستانی ذہن” بات کو سمجھ سکیں۔ کتاب میں آگے چل کر موٹیویشنل اسپیکرز کے ساتھ ساتھ “دانشوروں” کی اصلیت ظاہر کرنے کی بھی کوشش بھی شروع ہوجاتی ہے اور “ڈھکے چھپے کھلے” الفاظ میں جاوید چوہدری کی کہانی سازی کی قابلیت کا ذکر نکل آتا ہے۔

اب کتاب لکھی ہے تو اس میں سائنس نہ ڈالی جائے، یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ اسی لیے مصنف کبھی “میتھیو ایفیکٹ” کا ذکر نکال لاتا ہے تو کبھی لاء آف اٹریکشن کی تردید کردیتا ہے۔ موٹیویشنل اسپیکرز بھی بعض اوقات بلکہ اکثر اوقات ایسے نام استعمال کرکے اپنی بات کی اثر انگیزی بڑھانا چاہتے ہیں لیکن مصنف نے ان اس اصطلاحات کا ذکر پڑھنے والوں کو متاثر کرنے کیلئے نہیں بلکہ انہیں مزید بے وقوف بننے سے بچانے کیلئے کیا ہے۔اسی طرح کتاب لکھی جائے اور اپنی “انسپریشن” کا ذکر نہ ہو، یہ بھی نہیں ہوسکتا سو مصنف نے بھی جگہ جگہ نسیم طالب کا ذکر کرکے ان کے حوالے بھی دے چھوڑے ہیں۔

مزید ورق گردانی کریں تو امید پرستی پر تنقید شروع ہوجاتی ہے جو نہایت حیرانی کی بات ہے لیکن مصنف نے اپنے نظریات کا اظہار اس قدر پختگی سے کیا ہے کہ قاری واقعی قنوطی بن جائے۔ حد سے زیادہ امید پرستی بے شک نقصان دہ ہوتی ہے اور انسان کو منفی پہلو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔

کتاب میں جیسے جیسے آپ آگے بڑھتے ہیں آپ کو کئی دفعہ محسوس ہونا شروع ہوجاتا ہے کہ یہ جملہ تو آپ پہلے بھی پڑھ چکے ہیں اور کئی جگہ ربط بھی ٹوٹ سا جاتا ہے (جیسا کہ خود اس تبصرے میں بھی کئی بار ہوا ہے) تو صاحب “گھبرانا نہیں”۔ مصنف کئی دفعہ خود سے ہم کلام ہوتا بھی نظر آئے گا اور کبھی اپنی پریشانیوں کو بیان کرکے خود ہی ان کا حل تجویز کرتا بھی نظر آئے گا۔ یعنی بات کو مکمل بنانے کیلئے خود ہی خدشات کا اظہار کرکے خود ہی ان کا ازالہ بھی کردیتا ہے۔

کتاب میں بعض مقامات پر کچھ کارٹون سے بھی بنے ہوئے نظر آئے جو میں غور سے نہ دیکھ پائی کیونکہ مجھے زیادہ پسند نہ آئے۔ یا پھر میری سمجھ میں نہ آئے۔ آخر میں مصنف نے کچھ دیگر دوستوں کی چھوٹی چھوٹی تحریریں بھی ڈال دی ہیں تاکہ لگے کہ “قافلہ بن چکا ہے”۔ سب سے آخر میں مصنف کا تعارف ہے جو اکثر پڑھنے والوں نے شروع میں پڑھا۔ الغرض کہ دریا کوزے میں بند کردیا گیا ہے جس میں طغیانی لانے کیلئے کتاب پڑھیے۔ نوازش۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: