پہلی چورنگی ناظم آباد: جہاں کھلتے تھے دل کے پھاٹک — اظہر عزمی

0

۔۔۔اور ہمارا عید کارڈ کا اسٹال

میٹرک سے فارغ ہوئے تھے کہ رمضان آگئے۔ فرصت ہی فرصت۔ کوئی کام وام نہیں تھا۔ مصروفیت بھی ایک نعمت ہے اس کا احساس میٹرک کے امتحان کے بعد ہوا۔ لیجیے جناب مصروفیت ہاتھ لگ گئی۔ رمضان کا مبارک مہینہ آگیا۔ محلے کے لڑکے کچھ کمانے اور کچھ دل لگی کے لئے پہلی چورنگی ناظم آباد پر عید کارڈز کا اسٹال (تخت) لگا لیا کرتے۔ کچھ کے چار پیسے بنتے تو کچھ کی آنکھیں چار ہوتیں۔

چلیں پہلے 70 کی دھائی کی ناظم آباد پہلی چورنگی چلتے ہیں۔ اس زمانے میں عاشق مزاج لڑکے پہلی چورنگی کو جنت کا ٹکڑا کہا کرتے تھے کیونکہ یہاں انہیں چاند جیسے مکھڑے نظر آیا کرتے تھے۔ وجہ تھی ناظم آباد میں اسکولز اور کالجز کا جھمگٹا۔ لڑکیوں کے مشہور کالجز یہیں تھے اور آج بھی ہیں۔ دوپہر ہوتی اور اسٹاپ پر دیدار یار کے طلبگار،  پسینے میں شرابور کسی درخت یا شیڈ کے سائے میں کھڑے ہوتے۔ ان میں دو طرح کے لوگ ہوتے ایک وہ جو کالجز کے طالب علم ہوتے دوسرے قریبی علاقوں کے فارغ لڑکے اور ذرا بڑھتی عمر کے افراد (شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کی کوئی قید نہیں) جن کے دل جوان تھے۔ ان سب کو شدید گرمی اور تپتی دھوپ ساون کے گہرے بادلوں سے زیادہ ابر آلود اور لو کے تھپیڑے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے محسوس ہوتے۔ ہر ایک نے اپنے کھڑے ہونے کی جگہ فکس کی ہوتی تاکہ دیدار یار کا کوئی زاویہ نامکمل نہ رہ جائے۔ دلچسپ ترین بات یہ ہوتی کہ جس لڑکی سے کوئی لڑکا یک طرفہ محبت کرتا اور وہ لڑکا کوئی آڑا ٹیڑھا ہوتا تو دوسرے لڑکے اور بڑھتی عمر کے افراد اس لڑکی کو آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتے لیکن یہ رواداری دوستوں میں بھی نظر آتی۔ اب محبت میں یہ بھائی چارگی اور یگانگت ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ پورے اسٹاپ کو خبر ہوتی۔ بس پتہ نہ ہوتا تو اس بے چاری کو جو ناصر بھائی کے نام لکھ دی گئی ہوتی۔ سب روز پسینہ میں سر سے پیر تک شرابور ہوتے مگر ایک لمحہ کو بور نہ ہوتے۔ پسینہ محبت کی خوشبو کے بھبکے مار رہا ہوتا مگر لگتا کہ گلاب کی پوری دکان سے جسم و جاں معطر ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ بقول شاعر:

اب عطر بھی ملو تو محبت کی بو نہیں
وہ دن ہوا ہوئے کہ پسینہ گلاب تھا

پسینہ گلاب کیوں نہ ہوتا۔ گلابو جو سفید کالج ڈریس میں آیا کرتی تھی۔ لڑکیوں کے جھرمٹ میں وہ ہنستی مسکراتی آتی اور صاحب دیکھتے ہی  کھل اٹھتے۔ اب اگر آج گھر کی گلابو سامان لانے کا کہہ دے تو صاحب کو بیڈ سے اٹھنے میں موت پڑ جاتی ہے۔

لیجئے صاحب اتنی باتیں ہو گئیں یہ نہیں بتایا کہ اس زمانے میں ہیرو کون سا اِن تھا۔ جس کو دیکھو امیتابھ بچن بنا پھرتا، بیچ کی مانگ، بیل باٹم پینٹ اور چست قمیض کچھ ذرا زیادہ چھچھور پن پر اتر آتے تو متھن چکراورتی بن جاتے۔ کچھ بھرم مارنے کے لئے کرکٹ کے وائٹ ڈریس اور بلا پکڑے بھی اسٹاپ پر آجاتے تاکہ اسپورٹس کی کی سپورٹ سے کوئی کام بن جائے۔ یہاں کام بنتے بھی تھے تو بگڑتے بھی تھے۔ لیکن زیادہ تر کیسز اپنی موت آپ مر جاتے اور عشق کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے والا کوئی بھی نہ ہوتا سوائے عاشق نامراد کے۔ کبھی کبھی کسی لڑکی کو لگتا کہ اب گھورم گھوری زیادہ ہونے لگی ہے تو وہ کسی روز دوپہر کو اپنے بھائی یا اگر منگنی ہوگئی ہے تو اپنے منگیتر کو بلا لیتی۔ اگر منگیتر ہلکا ہوتا تو کسی بدمعاش ٹائپ لڑکے کو ساتھ لے آتا۔ ایسے میں کبھی کبھی صورت حال کشیدہ ہوجاتی۔

بہرحال کچھ بھی کہیں ناظم آباد پہلی چورنگی سے آج بھی لوگوں کی یادیں وابستہ ہیں اور دلوں پر تیر پیوستہ ہیں۔ جن کے کیس کامیاب ہوئے ان کے گھر اللہ جانے کتنی اور کیسی محبتوں سے آراستہ ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ یہ تعداد آتے میں نمک کے برابر۔ چھٹی کے وقت پہلی نظر میں پیار کا ٹریننگ اسپاٹ اور اگر بات بن جائے تو ٹرننگ اسپاٹ بن جانے والی ناظم آباد کی یہ پہلی چورنگی بہت سارے افراد کا ناسٹلجیا ہے۔ کسی کو چہرے کے زخم یاد ہیں تو کسی کا دل پارہ پارہ ہونا۔ ویسے اس زمانے کی لڑائیاں بھی بڑی شریفانہ اور محبتانہ ہوتی تھیں۔ عام طور پر ڈنڈوں، بلوں اور کلپس کا استعمال ہوتا اور اگر کوئی سر پھرا گراگری والا چاقو کھول لیتا تو لڑکے تو لڑکے آس پاس کھڑے کتے بھی بھاگ جایا کرتے۔

کاروبار کے لئے بھی ناظم آباد کی پہلی چورنگی کے ساتھ دونوں جانب دکانوں کی لمبی قطار تھی جو گولیمار نمبر دو سے سینٹری مارکیٹ میں تبدیل ہوکر لسبیلہ کے پل تک چلی جاتی تھی۔ رضویہ تک یہ دکانیں گفٹ آیٹمز، کپڑوں اور شوز وغیرہ کی تھیں۔ اس وقت باٹا کی سب سے مشہور دکان یہیں تھی جو ممکن ہے آج بھی ہو۔

مارکیٹ جسے عرف عام میں رضویہ مارکیٹ کہا جاتا تھا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے کہ شہر میں صدر، بوہری بازار، لیاقت آباد وسط شہر کے بڑے شاپنگ ایریاز ہوا کرتے تھے۔ طارق روڈ ابھی صبح کی پہلی انگڑائی لے رہا تھا۔ بہت ہوگیا ناظم آباد کا محبت نامہ اب چلتے ہیں اپنی زندگی کے پہلے کاروبار کی طرف۔

بات ہو رہی تھی عید کارڈز کی تو  اسٹال صبح سے لگتا کیونکہ دوپہر میں کالج کی لڑکیاں کارڈ خریدنے آتی تھیں۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب آیک روپے کا فلمی ستاروں کا پوسٹ کارڈ ملتا جس میں فروخت کے حساب سے مردوں میں امیتابھ بچن، متھن چکرورتی، ونود کھنہ، دھرمیندر، جیتندر، شتروگن سنہا،  ششی کپور، رشی کپور وغیرہ اور عورتوں میں ہیما مالنی، ریکھا، راکھی، زینت امان، پروین بوبی، نیتو سنگھ وغیرہ سر فہرست تھیں۔ کہیں کہیں دلیپ کمار، راجندر کمار اور جانی کہنے والے راج کمار بھی لٹکے مل جاتے۔ ان کارڈز کے علاوہ سنگل فولڈ والے عید کارڈ ہوتے جو پانچ سے دس روپے تک کے ہوتے۔ ان میں کچھ کارڈز ایسے بھی ہوتے کہ کھولو تو زخمی دل یا عید مبارک لکھا ہوا Pop up ہوتا۔ کارڈز کی خریداری کے لئے پاکستان چوک جاتے جو اس زمانہ میں شادی اور عید کارڈز کی سب سے بڑی مارکیٹ تھی۔ سارے مشہور پریس والے وہیں اپنا کاروبار کرتے۔ آج بھی شادی کارڈز کی سب سے بڑی مارکیٹ وہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اب شہر میں شادی کارڈز کے لئے کافی جگہوں پر دکانیں کھل گئی ہیں۔

ہمیں زندگی میں کارڈ لگانے کا بالکل بھی تجربہ نہیں تھا۔ ہمارے ایک رشتہ دار جو ہمارے ہم عمر پڑوسی بھی تھے۔ ان سرگرمیوں میں رہتے۔ ان کی دیکھا دیکھی ہم نے بھی سوچا چلو یہ کر لینے میں کیا ہرج ہے۔ اس زمانہ میں اسٹوڈنٹس عام طور پر یہی کیا کرتے تھے۔ یاد رہے کوئی دکان نہ ہوتی بلکہ کوئی دکان والا فٹ پاتھ پر اپنے سامنے ایک تخت لگانے کی جگہ دے دیتا۔ ان دنوں اس کے لئے بھی بڑی تگ و دو کرنی پڑتی تب کہیں زندہ ہوتے ہوئے دو گز زمین میسر آتی۔ ہم کو بھی رضویہ کے گولیمار والے کونے پر ٹائمز ڈرائی کلینرز سے چار پانچ دکانیں چھوڑنے کر ایک دکان کے سامنے فٹ ہاتھ پر اسٹال لگانے کی جگہ مل گئی۔

جگہ تو خیر مل گئی۔ اب سوال اٹھا کہ ہم فیڈرل بی ایریا میں رہتے ہوئے ناظم آباد پہلی چورنگی میں کاروبار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ تخت کا آگیا۔ چچا کے ہاں سے جو تخت ملا وہ نماز پڑھنے کا تھا۔ اس پر کارڈز کے لئے اوپر لکڑی کا بورڈ لگانا اور پھر کیلوں کے ذریعہ ستلیاں باندھنی تاکہ کارڈز کو وہاں لٹکایا جا سکے۔ معاملہ جم نہیں رہا تھا۔ پہلا دن تو خیر اسی تخت کے ساتھ گذرا لیکن اوروں کے تخت دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ہمارا کاروبار اس تخت کے ساتھ بہت جلد دھڑن تختہ ہوجائے گا۔

رمضان میں پہلے دن رات گئے تک بیٹھے۔ جب فارغ ہوئے تو خاصی رات ہو چکی تھی۔ بسیں اپنے روٹس پر جا کر سو چکی تھیں۔ مجبورا ناظم آباد سے فیڈرل بی ایریا گھر تک کے لئے رکشہ کرنی پڑی اور جو پہلے دن کی سیل ہوئی تھی وہ پوری کی پوری کرائے کی نذر ہوگئی۔ کمپنی پہلے دن ہی نقصان میں چلی گئ۔ دوسرے دن پھر گیارہ بجے جائے کاروبار پر پہنچ گئے۔ تخت کے لئے اسی علاقہ میں رہنے والے رشتہ داروں کی طرف تخت شناس نظر دوڑائی اور پھر نجمی (مرحوم) نے کہا کہ چلو لائق لالہ کے چلتے ہیں۔ ان کے پاس بہت بڑا تخت ہے۔ لالہ نجمی کے ننھیالی عزیز تھے۔

نجمی نے نہ جانے انہیں کیا پٹی پڑھائی (وہ پٹی بعد میں بتاوں گا) کہ وہ اپنا وسیع و عریض تخت طاوس دینے پر راضی ہوگئے۔ طے یہ ہوا کہ دن میں یہ تخت لے لیا جائے گا اور رات کو سونے سے پہلے ہم اپنا ساشے تخت ان کے گھر دے آئیں گے۔ یاد رہے کہ نجمی نے اپنے تخت کے قدوقامت کا ذکر نہیں کیا تھا۔ خیر رات دو بجے کاروبار سمیٹ کر وہ تخت لے کر کاشانہ لائق لالہ کی طرف روانہ ہوئے۔ بلا مبالغہ کوئی ایک ڈیڑھ کلو میٹر کا ٹیڑھا میڑھا راستہ تھا۔ ان کے گھر پہنچے، دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے لالہ کی آواز آئی۔ اپنی بیوی سے بولے ” لو بھئی، بچے آگئے۔ لالہ لنگی اور بنیان پہنے باہر وارد ہوئے۔ گلی میں ایک بلب ٹمٹما رہا تھا مگر اتنا کہ لالہ کو تخت کی لیٹن اور اٹھن کا اندازہ ہو گیا۔ لالہ تو “بھنوٹ” ہو گئے۔ نجمی کا خیال کرتے کرتے بھی ایک عام سی مروجہ گالی بکنے کے بعد بولے ” ابے کیا لالہ اس پر آجائیں گے۔ نجمی بھی اٹک گیا بولا “لالہ میں نے پہلے کہا تھا تخت چھوٹا ہے (لالہ قد کے چھوٹے تھے مگر خدا جھوٹ نہ بلوایے اتنے چھوٹے بھی نہ تھے کہ تخت میں سما جاتے )۔ ہم نے جیسے تیسے تخت تو لالہ کے حوالے کیا مگر جاتے جاتے لالہ نے کہہ دیا کہ میں منیر کے لڑکوں سے کہہ کر ابھی تخت اٹھواتا ہوں۔ ہم منیر بھائی کے لڑکوں کو جانتے تھے۔ محلہ کے چھٹے ہوئے تھے۔ لالہ کی اس دھمکی کے بعد ہم الٹے پیر ناظم آباد چورنگی بھاگے۔ چوکیدار کو 10 روپے دیئے اور کہا کی تخت کوئی بھی اٹھانے آئے۔ ہاتھ نہ لگانے دینا۔ اس زمانہ میں 10 روپے بڑی رقم ہوا کرتی تھی۔ چوکیدار بولا “ابھی تم لوگ جاو۔ اگر کوئی تخت لینے آیا تو ہم جانے اور وہ”

اب آتے ہیں لالہ کی طرف، لالہ کا غصہ سولہ آنے درست تھا۔ ہم نے اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے انہیں بے وقوف بنایا تھا۔ لالہ رات کو اس تخت پر بیٹھ کر عملیات کیا کرتے تھے۔ اب عملیات کرتے تھے یا لوگوں کو بے وقوف بناتے تھے۔ یہ اللہ جانے؟ واقفان حال کا کہنا یہی تھا کہ لالہ اس میں صفر لیکن بندہ گھیرنے میں ماسٹر تھے۔ لالہ کا حلیہ کچھ یوں تھا۔ چھوٹا قد، رنگ دبتا ہوا، سر پر بالوں کا قحط (اکثر ٹوپی پہنا کرتے۔ اس سے قد بھی بڑھ جاتا اور سر بھی چھپ جاتا تھا) پیٹ ہلکا سا باہر،  مزاج انتہائی ظریفانہ، روتے ہوئے کو ہنسا دیں۔ میں نے اپنے بچپن میں ایک موت پر تدفین سے پہلے ایک مرحومہ کے بیٹے کو ہنساتے ہوئے دیکھا ہے۔ لالہ کو خدا جنت نصیب کرے مزاج عاشقانہ اور شادیانہ پایا تھا۔

خیر صاحب دوسرا دن چڑھا، خیال تھا کہ تخت گیا, مگر صبح سے شام ہوگئی لالہ نہ آئے۔ نجمی گھر پر تھا جبکہ میں کارڈ کے اسٹال پر بیٹھا تھا۔ شام کو کیا دیکھتا ہوں لالہ خراماں خراماں چلے آرہے ہیں۔ میں نے جانا کہ تخت اٹھوائی کی رسم میرے سامنے ہی انجام پائے گی۔ پیچھے منیر کے لڑکے آرہے ہوں گے۔ مگر جناب منظر نامہ بالکل بدلا ہوا تھا۔ میں نے لالہ کو سلام کیا تو بہت مسکرا کر جواب دیا۔ آج خلاف توقع ان کے ہاتھ میں تیل کی ایک بوتل اور چند نیبو تھے۔ کہنے لگے کہ نجمی کہاں ہے؟ میں نے کہا کہ گھر۔ کچھ لمحے خاموش رہے، صاف لگ رہا تھا کہ کچھ کہنا چاہ رہے ہیں۔ صبر نہ ہوا تو بولے “چل ذرا سامنے روڈ کراس کر کے ڈھابہ ہوٹل پر بیٹھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اسٹال پر کون بیٹھے گا؟” شام کا وقت تھا۔ ساتھ والے اسٹال کے لڑکے (جو ہمارا رشتہ دار ہی تھے) سے کہنے لگے “تو ذرا دیکھتا رہ۔ ہم ابھی آتے ہیں۔ میرے دل میں تو تخت کا چور تھا۔ سوچا کہ یہ پیار سے سمجھا بجھا کر رات میں تخت لے جائیں گے۔

ڈھابہ ہوٹل پہنچے، دودھ پتی چائے کا آرڈر دیا۔ تیل کی بوتل اور نیبو سامنے میز پر رکھے اور بولے “یہ ارجمند کون ہے؟” میں ہکا بکا کہ یہ ارجمند تخت والے معاملہ میں کہاں سے آ ٹپکی۔ وہ سمجھ گئے کہ میں لاعلم ہوں پھر بتانے لگے کہ تمھاری رشتہ دار ہے۔ میں معاملہ کی تہہ تک پہنچ گیا مگر انجان بنا رہا کہ دیکھوں پٹاری سے کیا نکالتے ہیں۔ کہنے لگے “نجمی سے کہو کہ اگر اس کی شادی نہیں ہوئی ہے تو پہلے اس سے ملوائے تو۔ دیکھوں کوئی اثر وغیرہ تو نہیں یا کسی نے کچھ کرا تو نہیں دیا۔ اتنی عمر ہو گئی ہے، شادی کیوں نہیں ہو رہی۔ میں نے بیچ میں تخت کی بات چھیڑی تو بولے تخت کی پروا نہ کرو۔ بس ارجمند کا مسئلہ حل ہوجائے۔ میرے لئے یہی بہت ہے۔ بھائی رشتہ دار ہوں۔ اتنے لوگوں کے لئے عملیات کرتا ہوں تو اس کے لئے کیوں نہ کروں گا؟ میں نے دل ہی دل میں نجمی کو داد دی کہ کیا نشانے پر تیر چلایا ہے۔

ہوٹل پر نجمی کا بڑی دیر انتظار کرتے رہے کہ وہ آجائے تو ارجمند کے ہاں سلسلہء جنبانی شروع ہو۔ وہ نہ آیا تو تھک ہار کر چلے گئے اور بولے کہ رات کو آوں گا۔ نجمی آیا تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا چکر چلادیا  لالہ تو عملیات کے لئے تیل اور نیبو ہاتھ میں لئے پھر رہے ہیں۔ پھر نجمی نے اصل کہانی کھولی کہ میں آج صبح خالہ کے ہاں گیا تھا۔ تخت والی پوری بات بتائی تو بولیں کہ کسی عورت کی شادی کرانے کا کہہ دو۔ پھر دیکھو جو تخت کا نام بھی لے لیں اور یوں کہانی میں ارجمند باجی کی انٹری ہوگئی۔ ارجمند باجی کے فرشتہ کو پتہ نہیں کہ ان کے رشتہ کی بات اب ڈھابہ تک پہنچ چکی ہے اور لالہ ہمارے عید کارڈز سے شادی کارڈ تک بات پہنچانے میں لگے ہیں۔

اب جان عذاب میں آچکی تھی۔ لالہ روز اسٹال پر تیل اور نیبو کے ساتھ وارد ہوں اور نجمی ادھر ادھر چھپتا پھرے۔ میری مصیبت کہ روز ان کی تقریر سننی پڑتی۔  آخر ایک دن نجمی ہاتھ لگ ہی گیا، پہلے بہت سنائی پھر بولے ” تو بس ایک مرتبہ ارجمند کے گھر لے چل۔ پھر دیکھ رشتوں کی لائن نہ لگا دوں۔” ہم اچھی طرح جانتے تھے کہ رشتوں کی لائن میں ایک کے بعد ایک وہ اکیلے ہی کھڑے ہوں گے۔

پورا رمضان ایک طرف کارڈز بکنے کی فکر تو دوسری طرف لالہ کا آنا جانا لگا رہا۔ رمضان کے آخری عشرے میں نجمی کو ارجمند کے گھر جانے کی حامی بھرنی پڑ گئی۔ لالہ بہت بن ٹھن کر آگئے مھر نجمی پھر نہ دارد۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ چھپا کھڑا ہے۔ جب لالہ نے ٹلنے کا نام ہی نہ لیا تو نجمی کو سامنے آنا پڑ گیا۔ دیکھتے ہی کھل اٹھے بولے چلیں۔ نجمی نے کہا کہاں؟ اب غصہ دیکھنے والا تھا اپنی مخصوص مروجہ گالی بک کر بولے “ابے پاگل سمجھ رکھا ہے کیا؟ ارجمند کے نہیں چلنا” نجمی نے کہا “ارے ہاں لالہ جانا تو تھا مگر آج کچھ لوگ انہیں دیکھنے آرہے ہیں۔“لالہ سے دل کی بات نکل ہی گئی “!بے تو کیا میں وہاں سرکس دکھانے جا رہا ہوں؟” بڑی مشکل سے سمجھایا بولے ایسے پڑھائی کروں گا کہ ارجمند عید پر اپنے سسرال میں ہو گی۔ ہم جان رہے تھے کہ وہ سسرال ہمارے اسٹال سے کتنے فاصلہ پر ہے۔ جیسے تیسے رمضان گذارا۔ لالہ کو روز ایک نئی کہانی سناتے پر لالہ سمجھ گئے تھے مگر آس بڑی چیز ہے اور لالہ تو ویسے بھی ان معاملات میں مایوسی کو گناہ گردانتے تھے۔ کارڈز میں نقصان ہونا تھا اور ہوا۔ ہم نے عید کارڈز لگانے سے کان پکڑے اور چاند رات سے پہلے ہی لالہ کا تخت لالہ کے حوالے کر ائے۔

اگر یہ رمضان کچھ اور دن رہتے تو امکان یہی تھا کہ لالہ ارجمند کے والد کے فرزند ارجمند بن جاتے۔ لالہ مسند شادی پر “تخت” نشین ہوتے۔ میں تو خیر نہ جاتا مگر نجمی کو لالہ ضرور شہ بالا بنا لیتے۔ صورت حال دو بالا سے زیادہ تہہ و بالا ہو جاتی اور دور کہیں سے آواز آرہی ہوتی:

تختاں دا راجہ میرے بابل کا پیارا
امبڑی دے دل دا سہارا کہ لالہ میرا گھوڑی چڑھیا


مصنف کا تعلق ایڈورٹائزنگ کے شعبہ تخلیق سے ہے ۔ 30 سال پر محیط کیریئر میں متعدد ٹی وی کمرشلز اور جنگلز آپ کے کریڈٹ پر ہیں۔ 90 کی دھائی میں اخبارات میں مختلف موضوعات پر آرٹیکلز لکھے ۔ ٹی وی کے لئے ڈرامہ بھی لکھتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: میرا بے ترتیب شہر ۔۔۔۔۔۔۔ غزالہ خالد
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20