لمحہ —— طیبہ ژویک

0

وہ ایک چمکدار دن کا تیسرا پہر تھا…

میں سرسوں کے کھیت میں پھرتے پھراتے ایک خزاں رسیدہ درخت کے نیچے مٹی کے ڈھیر پر جا بیٹھی…

سوچوں میں گم بےخیالی مٹی پر بکھرے پتوں کو مٹھی میں بھرنے لگی..

دل میں خیال گزرا کاش میں اپنی اصل شکل دیکھ سکوں…

اس کےساتھ ہی مجھے یوں لگا جیسے سب قریب کے سب منظر دھندلا گئے ہیں… اور میں اپنے نقلی چہرے یا نقاب ہٹا سکتی ہوں…

میں نے ایک ایک کر کے اپنے چہرے اتارنے شروع کیے…

Image result for girl wearing many faces illustration"نیکی اور خوش مزاجی کا، ہنسی، مسکراہٹ رحم دلی اور معصومیت کا، تمیزداری، نرم دلی تحمل مزاجی کا، صبر اور قناعت کا…

ایک کے بعد ایک چہرہ اتر رہا تھا ..اور… تکلیف سے میری آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا….

وہ سخت پتھر کا سا چہرہ شاید آخری تھا جسے اتارنے کی کوشش میں مگن تھی کہ قریبی روڈ سے گزرتے چند لوگوں کی بلند آواز میں گفتگو نے چونکا دیا اور مجهے جیسے ہوش آگیا…

میں نے پلٹ کر دیکھا… چمکدار سورج اب ڈھل رہا تھا… میری نظر تکلیف کی شدت سے بند مٹھی پر گئ… جس میں کچھ خشک پتے جکڑے ہوئے تھے… میری آنکھ میں ٹھہرا آخری قطرہ پھسل کر ان پتوں پر جا گرا… میں نے مٹھی کھول دی…. اور گھر کی طرف قدم بڑھا دیے….

دروازے سے داخل ہوتے ہی نے عاشی (بہنا) نے مجھ سے کچھ پوچھا….

جواب میں میرے بےتحاشا سخت لہجے کی تلخی نے مجھے چونکا دیا…دوسرے ہی لمحے انکشاف ہوا کہ……..
میرے باقی چہرے وہیں پڑے رہ گئے تھے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20