بے شرم —- محمد اویس حیدر کا افسانہ

0

ننگے سر اجڑے بالوں اور پھٹے کپڑوں کے ساتھ زینب کمرے میں داخل ہوئی۔ عین اس وقت جب زینب کی ہونے والی ساس اپنی بہو کی شب برات کی ٹوکری لیے گھر میں بیٹھی تھی۔ بیٹی کو گھر دیکھ کر باپ شوکت علی اور ماں صابرہ کی آنکھیں خوشی سے بہنے کو تھیں۔ مگر اس پانی کے آگے دونوں نے بند باندھ لیے، کیوں کہ زینب کی ہونے والی ساس اس سارے معاملے سے لاعلم تھی، جو قیامت بن کر شوکت علی کے گھر ٹوٹا تھا۔ زینب کی منگنی کو ابھی بہت عرصہ نہ گزرا تھا، اس کی ہونے والی ساس کا اپنی بہو کے گھر یہ تیسرا چوتھا ہی پھیرا تھا مگر آج اپنی ہونے والی بہو کو اس حال میں دیکھ کر اس کی ساس مجسمہ حیرت بن گئی۔

خود داری اور عزتِ نفس تو صرف اُس کی ہوتی ہے جس کے پاس قوت ہو، قوت کے بغیر تو خود داری کو صرف ڈھیٹ پُنا جبکہ عزتِ نفس کو بیہودگی تصور کیا جاتا ہے۔ شوکت علی اسی بات کو سمجھنے سے قاصر تھا۔ تبھی اس نے چودھری کرامت حسین کے بیٹے کو آنکھیں دکھا دیں، وہ آنکھیں جنہیں ہر حال میں صرف جُھکے رہنے کا حکم تھا۔

ہوا یوں کہ شوکت علی فصلوں کے اندر کام میں مصروف تھا۔ اس کی بیٹی زینب اس کے لیے حسبِ معمول گھر سے دوپہر کا کھانا لے کر آئی۔ اور باپ بیٹی سائے میں بیٹھ کر کھانا کھانے لگے۔ زینب شوکت علی کی سب سے بڑی بیٹی تھی جس کی عمر قریب قریب اٹھارہ انیس سال تھی۔ زینب کے علاوہ شوکت علی کی دو اور بیٹیاں اور ایک سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔ شوکت علی گاوں کے بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح چودھری کرامت حسین کی زمینوں پر کام کرتا تھا۔ اسی کام کی اجرت پر اس کے گھر کا چولہا جلتا۔۔۔۔۔ اور پیٹ کی آگ بجھتی تھی۔ تن کو کپڑے مل جاتے اور یوں وہ اللہ کا شکر ادا کرتا اور چودھری صاحب کا احسان مند رہتا۔

ایک روز جب چودھری کرامت حسین کا بیٹا رفاقت اپنی نئی لینڈ کروزر کی تیز رفتاری سے دیہات کی کچی سڑکوں کی دھول اڑانے میں مصروف تھا تب یہی دھول اڑ کر اپنے باپ کے لیے کھانا لے جاتی زینب کے نصیب پر بھی جا پڑی۔ جب قریب سے گزرتی گاڑی کی ہوا سے زینب کے سر سے چادر سرکی تو بے اختیار اس کے منہ سے بد مست گاڑی والے کے لیے لفظ بے شرم نکل گیا۔

بے شرم نہ ہو تو۔۔۔۔۔ دیکھ کر بھی نہیں چلاتے، مشٹنڈے بے شرم لوگ

یک دم گاڑی کچھ ہی فاصلے پر رکی، ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے رفاقت حسین نے سائیڈ مِرر میں سے زینب کو دیکھا۔ ماتھے پر تیوری ڈال کر اپنی تنی ہوئی مونچھوں کو بل دیا اور پھر وہیں سے گھورتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی۔

باپ بیٹی کھانے میں مصروف تھے کہ انہیں کچھ قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ سر اٹھا کر دیکھا تو چند حواریوں کے ساتھ رفاقت حسین کھڑا تھا۔

ارے چھوٹے چودھری صاحب۔۔۔ قدمی ہتھ ہے جی۔ سنائیں مالک کیسے آنا ہوا ؟

یہ تیری بیٹی ہے؟ رفاقت حسین نے تیکھی نظریں زینب پر ڈالتے ہوئے اپنی بیٹھی ہوئی آواز کے ساتھ پوچھا

جی جی چودھری صاحب، میری بیٹی ہے، میرے لیے گھر سے کھانا لے کر آتی ہے۔ شوکت علی مشفقانہ نظروں سے زینب کو دیکھتے ہوئے جواب دیا

کیوں رے چھوکری۔۔۔ بہت شرم گھسی ہے تیرے اندر ؟ باپ نے ڈھنگ نہیں سکھایا تجھے۔۔۔۔۔ چودھریوں کے آگے سِر نیواں۔۔۔۔۔ اور زبان خموش رکھنے کا ؟ رفاقت علی اپنی بیٹھی ہوئی آواز میں زینب پر چلّایا

کیا ہوا چھوٹے چودھری جی ؟ کیا کوئی بھول کی ہے اس نے ؟ شوکت علی نے پریشان ہوتے ہوئے رفاقت حسین سے پوچھا

ابا گاڑی ان کی دھول اڑاتے جا رہی تھی۔ پاس سے گزری تو اس کی ہوا سے چادر سرک گئی میری، یک دم منہ سے مشٹنڈے بے شرم لوگ نکل گیا میرے۔۔۔ مگر قسم سے، مجھے نہیں پتہ تھا کہ گاڑی میں کون ہے۔ زینب نے پریشان چہرے اور نادم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے جواب دیا

اچھا۔۔۔۔ تو یک دم نکل گیا منہ سے تیرے۔۔۔۔ چل اب خود اپنی چادر اتار کے میرے قدموں میں رکھ، تاکہ تجھے سمجھ لگے کہ تیری اوقات کتنی ہے۔ چھوٹا چودھری مٹھیاں بھینجتے ہوئے چیخا

معاف کر دو چودھری صاحب، ناسمجھ بچی ہے۔۔۔۔۔ پتہ نہیں چلا کیا کہہ بیٹھی۔ اور وہ تو ٹھیک طرح پہچانتی بھی نہیں آپ کو۔ شوکت علی چھوٹے چودھری کے آگے ہاتھ جوڑے۔

رفاقت حسین کے چہرے پر تکبر پھیل چکا تھا اور آنکھوں میں ہوس۔ اس نے کرختگی کے ساتھ چیختے ہوئے شوکت علی سے کہا۔ اوئے چپ کر۔۔۔۔ تیری چھوکری نے جو بولا ہے اب اس کا حساب تو اسے چکانا ہی پڑے گا، تاکہ تم لوگوں کی اوقات تمہیں بھول نہ جائے۔ اٹھا لو لڑکی کو

چودھری صااااااب۔۔۔۔ شوکت علی کی آنکھیں سرخی سے ابل پڑیں مگر ہاتھ مجبوری میں بندھے تھے، وہ اٹھنا چاہتے تھے مگر نسل در نسل غلامی کی رسی نے انہیں باندھ رکھا تھا۔ اس رسی کی گرہیں کھولنے کے لیے بھی اب نسلیں چاہیے تھیں۔

اوئے خبیث!!! مجھے آنکھیں دکھاتا ہے ؟؟؟ چٹاخ!!! چھوٹے چودھری نے شوکت علی کے منہ پر تھپڑ جڑ دیا، یہ دیکھنا تھا کہ چھوٹے چودھری کے حواریوں نے شوکت علی کو پے در پے کئی گھونسے اور لاتیں ماریں۔ اسے زمین پر گرا چھوڑ کر اور زینب کو اٹھا کر چھوٹے چودھری کی گاڑی میں پھینکا اور پھر رفاقت حسین گاڑی بھگا کر لے گیا۔

شوکت علی کا بے بس چہرہ تھانے میں بیٹھا تھا۔ جس پر موجود طمانچوں کے نشان اس کی بے بسی کو رنگین بنا رہے تھے۔ دراصل تھانے میں کوئی بھی چہرہ نارمل نہیں ہوتا۔ ہر چہرہ اپنی ایک داستان رکھتا ہے۔ کوئی مظلومیت کی تو کوئی جبر کی۔ کسی پر بے بسی تحریر ہے تو کسی پر بربریت۔ اور پھر کچھ چہروں نے وردی بھی پہن رکھی ہوتی ہے۔ اس وردی میں بہت طاقت ہے، جو معاشرے کے بے ضمیر لوگوں میں موجود تخریب پسند مزاج کے شر کو روکنے لیے دی جاتی ہے۔ لیکن اس وردی کے پہننے والے کا بھی باضمیر ہونا شائد ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ تبھی وردی میں ملبوس بے ضمیر لوگ سرکار سے تنخواہیں بھی کھاتے ہیں اور منتھلی کے نام سے مشہور، ماہواری کے لاعلاج مرض میں بھی مبتلا رہتے ہیں۔ بااثر لوگوں کے اثر میں رہ کر اس ماہواری کا مرض اتنا بڑھ جاتا ہے کہ پھر کسی حکیم کی دوا اثر نہیں کر پاتی۔ اس طرح وردی کی یہ طاقت بجائے مظلوم کا سہارا بننے کے ظالم کی باندی بن جاتی ہے۔ جس کا کام دورانِ جرم یا گناہ پر ہوا کی پنکھی جھلنا ہوتا ہے۔

کتنی عمر ہے تیری لڑکی کی ؟ تھانے میں بیٹھے سب انسپکٹر نے شوکت علی سے پوچھا

انیس سال کی ہے جی۔ شوکت علی کے بے بس چہرے پر رکھے پھٹے ہونٹوں نے جواب دیا

کس کے خلاف پرچہ کروانا ہے تم نے ؟ سب انسپکٹر نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا

اپنے مالک چودھری کرامت حسین کے بیٹے۔۔۔۔۔ شوکت علی کی زبان لڑکھڑانے لگی۔۔۔۔۔ رفاقت حسین کے خلاف۔

کیا؟؟؟ اپنے مالک کے خلاف نمک حرامی کرتے ہو ؟ شرم نہیں آتی تمہیں ؟ سب انسپکٹر نے شوکت علی کو یوں ڈانٹا گویا چودھری صاحب کے نمک کی خود قیمت چکا رہا ہو

بھاگ گئی ہو گی خود اپنے کسی عاشق کے ساتھ، گھر جا کر انتظار کر آ جائے گی خود ہی کچھ دنوں تک۔ کوئی نہیں رکھتا اتنے دن۔۔۔۔ جب دل بھر جائے گا تو خود چھوڑ جائے گا۔۔۔۔۔ جس کے ساتھ بھاگی ہے۔۔۔۔۔ سمجھ گیا نہ تو؟؟؟ سب انسپکٹر کے الفاظ کیلوں کی مانند شوکت علی کے وجود میں پیوست ہو رہے تھے۔ اسے لگا جیسے اسے میخیں ٹھونک کر صلیب پر ٹانگ دیا گیا ہے، جہاں لٹکا وہ اب آخر کس مسیحا کا انتظار کرے گا۔ کیا بیٹی کی عصمت کو تار تار کر کے واپس لوٹانے والے کو ہی اب مسیحا بھی سمجھنا ہو گا ؟ شوکت علی کا بے بس اور طمانچوں سے سرخ چہرہ اب ذرد پڑنے لگا تھا۔ جسم پر پڑی لاتوں کی درد اب کرب میں بدلنے لگی تھی۔ اور اب ان نئی پیوست ہونے والی میخوں نے اس کی روح کو بھی چھیل دیا تھا۔ اس کا وجود شرم میں اس قدر ڈوب گیا کہ پانی آنکھوں سے چھلک پڑا اور وہ اپنے مردہ جسم کو گھسیٹتا ہوا گھر کی طرف چل پڑا۔

آری کے دندے تھے جو زینب پر روزانہ چلتے تھے۔ اس نے اب سسکنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ یا شائد اس میں اب اس کی بھی ہمت نہیں رہی تھی۔ وہ ایک بے جان وجود کی مانند پڑی تھی۔

تُو تو واقعی بڑی شرمیلی ہے، مگر ہماری بے شرمی تو کھل کر دیکھ لی نہ تو نے ؟ دل لگ گیا ہے ہمارا تیرے ساتھ۔۔۔۔ اسی لیے تو تجھے اتنے دنوں سے رکھا ہوا ہے اپنے پاس۔ دل بھرے تو تجھے چھوڑیں نہ

رفاقت بھیانک ہنسی ہنستے ہوئے زینب سے مخاطب تھا۔ زینب ایک زندہ لاش کی طرح چارپائی پر پڑی تھی۔ رفاقت کے الفاظ اسے اب سنائی نہیں دے رہے تھے صرف چبھ رہے تھے نشتر کی مانند۔ جس کے جلد میں کھب جانے پر تکلیف ہوتی ہے، مگر اسے نکالتے وقت زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔

شوکت علی وحشت ذدہ آنکھوں کو فرش پر گاڑے اپنے گھر میں بیٹھا تھا اور شوکت کی بیوی اپنا سینہ پیٹ رہی تھی۔ خوشی ہو یا غم، پہلے احساس بن کر دل میں داخل ہوتا ہے۔ پھر دل کو لبریز کرنے لگتا ہے۔ دل کے لبریز ہو جانے کے بعد چھلکنے لگتا ہے۔ جب خوشی چھلکتی ہے تو انسان کے جسم میں مستی اپنا رنگ جما لیتی ہے اور انسان ناچنے لگتا ہے۔ لیکن جب غم دل کی حد توڑ کر نکلتا ہے تو انسان ماتم کناں ہو جاتا ہے۔ احساس کی شدت کا اظہار جسم پر اسی طرح وقوع پذیر ہوتا ہے۔ پھر یکایک شوکت علی کو خیال آیا کہ اس نے کل کام پر بھی جانا ہے۔ اسی چودھری صاحب کی زمین پر آبیاری کرنے۔۔۔۔۔ جس نے انکی زندگی کو بنجر کر دیا ہے۔ کیونکہ اگر کام نہیں کریں گے تو کھائیں گے کہاں سے ؟ دو مزید بیٹیاں اور بیٹا گھر میں موجود ہیں۔ شوکت کی وحشت زدہ آنکھوں میں بہتا پانی سرخ ہونے لگا۔ پھر اسی واقع کے اگلے ہی دن اسے کرامت حسین یعنی بڑے چودھری صاحب نے اپنے پاس بلا کر سمجھا دیا۔

دیکھ شوکت۔۔۔ بچے کھڈونوں سے کھیلتے ہیں، کھڈونا اگر ٹوٹ جائے تو اس پر کھڈونے بنانے والا برا نہیں مناتا۔۔۔ کیونکہ کھڈونے بچوں کے ہی تو ہوتے ہیں۔ تم لوگ ہمارے نسلی ملازم ہو۔ تمہاری زندگیاں رہن پڑی ہیں ہمارے پاس، دیکھ اور سمجھ، یہ خدا کی تقسیم ہے اور خدا کے سامنے کسی کا کوئی بس نہیں۔ اس نے ہر بندے کو اس کی اوقات دے کر پیدا کیا ہے اور تمہاری اوقات یہی ہے اور اسے بھولنا نہیں چاہیے تجھے۔ مجھے تھانے سے فون آیا تھا کہ تو وہاں گیا تھا ان کے پاس۔ میں یہ تیری پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کر دیتا ہوں۔ لیکن اگلی بار غلطی کی معافی نہیں ملے گی۔ غلطیاں تو ناسمجھ بال کرتے ہیں جیسے تیری دھی نے کی۔ مگر تُو تو سیانا بیانا ہے۔ اپنی اوقات کو یاد رکھ جو خدا نے تمہیں دی ہے، بس اس کا شکر کیا کر ہر حال میں۔۔۔۔۔۔ اور اس بات کو اپنے گھر سے اب باہر مت جانے دینا۔ ورنہ دھی کے ساتھ ساتھ عزت بھی نہیں رہے گی تمہارے پاس۔ چل جا اب کام پر توجہ دے۔ میں کہوں گا رفاقت کو چھوڑ دے گا تمہاری دھی کو۔

آج شب برات تھی، اور اس واقع کو پورا ایک مہینہ گزر چکا تھا۔ زینب کی ہونے والی ساس رسماََ پھیونیوں کی ٹوکری لیے ان کے گھر آ پہنچی۔ شوکت اور اس کی بیوی کی پریشانی انتہا کو تھی۔ اچانک دروازہ تڑاخ سے کھلا اور زینب ننگے سر اجڑے بالوں، پھٹے لباس، کپکپاتے ہونٹوں، لرزتے ہاتھوں اور ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی۔ بیٹی کو گھر میں دیکھ کر شوکت اور اس کی بیوی کی آنکھوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ زینب کی ہونے والی ساس محوِ حیرت اسے دکھ کر بولی۔

یہ کہاں سے آ رہی ہے اس حالت میں ؟ اور بہو۔۔۔ بڑے بیٹھے ہیں گھر میں۔۔۔۔۔ سر پر دوپٹہ تو رکھ کر آ۔۔۔۔۔ بے شرم نہ ہو تو

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20