قانون دان اور لاقانونیت ——– اے خالق سرگانہ

0

لاہور میں انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر وکلاء کے حملے پر بہت کچھ لکھا اور بولا جا چکا ہے لیکن یہ واقعہ ایسا ہے کہ اس پر جتنا لکھا جائے کم ہے۔ اِس کے بہت سارے پہلو ہیں اور اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔ اس واقعہ سے بہت سی تنظیمیں، ادارے اور افراد ننگے ہو گئے ہیں۔ وکلاء کی دھونس دھاندلی سب کو پتہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اعلیٰ عدلیہ کے معزز ججوں کی بحالی کی تحریک کا ایک سائیڈ ایفیکٹ ہے کچھ لوگ اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ عدلیہ کی بحالی کوئی غیرملکی ایجنڈا تھا اور اس تحریک کے نتیجے میں قوم گھاٹے میں رہی لیکن درحقیقت ایسا نہیں وہ تحریک بہت اہم تھی اور یقیناً اُس کے مثبت اثرات بھی نکلے۔ سوال یہ ہے کہ جب کوئی معاشرہ اپنے مسائل مکالمے سے اور پارلیمنٹ جیسے اداروں کے ذریعے حل کرنے میں ناکام رہتاہے تو پھر اس قسم کی تحریکیں چلتی ہیں گویا یہ کوئی نارمل عمل نہیں ہوتا بلکہ جب کوئی زخم ناسور بن جاتا ہے تو پھر عوامی تحریک ایک قسم کی اینٹی بائیوٹک کا کام کرتی ہے ظاہر ہے اس کے کچھ سائیڈ ایفیکٹ تو ہوں گے اس سے پہلے پاکستان کی تاریخ دیکھیں تو جنرل ضیاء الحق نے اسلام نافذ کرنے کی کوشش کی اور پھر افغانستان سے روسی قبضے کے خاتمے کیلئے جہاد شروع کیا گیا تو بات دہشت گردی تک جا پہنچی جس سے پاکستان کو بے پناہ نقصان پہنچا۔ اس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے غریب آدمی اور مزدوروں کو حقوق کا شعور دیا تو اُس کے نتیجے میں مزدوروں کی یونینز نے صنعت و حرفت کو تباہ کر دیا۔ سرمایہ کاری رک گئی، پیداوار کر گئی غرضیکہ اُس کے نقصانات شاید اب تک پاکستان بھگت رہا ہے۔

اسی طرح وکلاء نے دھونس دھاندلی کو ایک پالیسی کے طور پر اپنا لیا ہے یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں لیکن میرے خیال میں اب انتہا ہو گئی ہے وکلاء نے عدالتوں میں ججوں کو بند کیا۔ فیصل آباد میں ڈپٹی کمشنر کو دفتر سے گھسیٹا، ملتان میں اس سلسلے میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔ چند ہفتے پہلے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہسپتال میں ایک معمولی بات پر ڈاکٹر اور وکلاء میں تلخی ہوئی تو معاملہ یہاں تک پہنچا کہ ہسپتال کے عملے کے دو افراد کو ہتھکڑیاں لگا کر بار روم اعلیٰ حکام خود لیکر آئے جہاں انہوں نے پبلک میں وکلاء سے معافی مانگی یہ کون سے قانون کے تحت ہوا۔ حیرت ہے کہ ایسے واقعات پر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ گڈگورننس کا وعدہ پتہ نہیں کہاں گم ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد بھی وکلاء نے جارحانہ رویہ اپنایا ہوا ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے میں بھی صلح کرا دی جائے گی کیونکہ پہلے تمام واقعات میں بھی کسی کو کوئی سزا نہیں ہوئی اور یوں وکلاء کی سوچ اور رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ انہوں نے اب عدالتوں میں غیرمعینہ عرصے کے لئے ہڑتال کر دی ہے اور عدالتوں میں پولیس یا کسی اور ایجنسی کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ بنچ اور بار کے رشتے کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ تواعلیٰ عدلیہ نے اس واقعے کا ازخود نوٹس لیا اور نہ ہی کسی دوسری عدالت سے انصاف کی توقع ہے۔ قانون کے پیشے سے تعلق رکھنے والی کچھ اعلیٰ شخصیات کے چہروں سے بھی نقاب اُتر گیا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ لطیف کھوسہ، رضا ربانی اور حامد خان جیسے لوگوں نے جو رویہ اپنایا ہے اس سے انہوں نے اپنا قد کافی چھوٹا کرلیا ہے۔ البتہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی جرأت اور اُصول پسندی کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی اس کے علاوہ بابر ستار اور اعتزاز احسن نے بھی جرأت مندانہ مؤقف اپنایا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ وکلاء میں جو یہ خطرناک رحجان پختہ ہو چکا ہے کیونکہ حکومتیں اور معاشرہ اِسے نظرانداز کرتا رہا ہے۔ کیا اب اس صورتحال سے نکلنے کیلئے بھی کوئی تحریک چلانا پڑے گی؟ اور یہ تحریک کون چلائے گا شاید اس تحریک کا آغاز ہو گیا ہے۔ 55 نامور وکلاء جن میں عابد منٹو اور مخدوم علی خان جیسے لوگ شامل ہیں اس واقعے کی مذمت کی ہے اور بارکونسل نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں سخت ایکشن لے۔ اب سول سوسائٹی کو بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ وکلاء پڑھا لکھا اور منظم طبقہ ہے اور اُن کے سامنے بانی پاکستان محمد علی جناح کی اعلیٰ مثال بھی موجود تھی اور معاشرے کو اُن سے بڑی توقعات تھیں کہ معاشرتی سطح پر اور حکومتوں کے غلط اقدامات کے خلاف سول سوسائٹی بند باندھے گی اور اس سول سوسائٹی میں وکلاء سب سے اہم طبقہ تھا لیکن ہماری بدقسمتی کہ وکلاء نے قانون، انصاف اور معاشرتی رواداری کے پرخچے اُڑا دیئے ہیں اب یہ تو طے ہے کہ یہ معاملہ معمول کی عدالتی کارروائی سے حل نہیں ہو گا۔ اس کے لئے ریاست کے تمام سٹیک ہولڈروں ، عدلیہ، پارلیمنٹ، حکومت اور فوج کو مل کرضروری اقدامات کرنے ہوں گے۔ شاید اس کے لئے کوئی قانون سازی کرنی پڑے۔ اگر اس دفعہ بھی معاملہ رفع دفع کرنے تک محدود رہا تو ملک میں انارکی پھیل جائے گی۔ معاشرے میں پہلے ہی عدم برداشت ، بدتہذیبی اور لاقانونیت پھیل چکی ہے ۔ کئی اور طبقے پہلے ہی اس راہ پر چل چکے ہیں۔ وکلاء کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر بھی ماضی میں اس قسم کی حرکتیں کر چکے ہیں اگرچہ اُن کا عمومی رویہ کسی طرح بھی اس واقعے کا جواز نہیں بن سکتا۔ سوسائٹی میں عام طور پر مہنگائی ، بے روزگاری اور انصاف میں غیرمعمولی تاخیر جیسے عوامل کے نتیجے میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے۔ کہیں یہ بے چینی خطرناک شکل اختیار نہ کر لے۔لیکن افسوس کہ حکومت نے اس معاملے کو کوئی اہمیت نہیں دی ۔ وزیراعظم صاحب، وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری اور آئی جی سے ایک میٹنگ کرکے غیرملکی دورے پرروانہ ہو گئے ہیں اس مسئلے کا حل پنجاب حکومت کے بس کی بات نہیں لگتی بلکہ حکومت نے اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ مسلم لیگ کی سازش ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ حامد خان جیسے قانون دان نے بھی اِسے ایک سازش قرار دے دیا ہے۔ یہ ایک لا ء اینڈ آرڈر کے مسئلے کو سیاسی رنگ دینے کی مذموم کوشش ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20