مشرف خوش نصیب شخص ہے ——– خرم شہزاد

0

پاکستان میں اگر خوش نصیب لوگوں کی فہرست بنائی جائے تو بمشکل ملنے والے درجن بھر لوگوں میں ایک نام جنرل پرویز مشرف کا ضرور ہونا چاہئے کہ ایک ایسے عدالتی نظام جہاں دادا کے دائر مقدمے کا فیصلہ سننے پوتا آتا ہے، وہاں جنرل مشرف کو خود اپنے مقدمے کا فیصلہ سننا نصیب ہوا ہے۔ اس سے بڑی خوش نصیبی اور کیا ہو سکتی ہے، ہاں اگرچہ الفاظ کی حد تک یہ فیصلہ جنرل صاحب کے خلاف ہے لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ سب سے بڑی بات تو یہی ہے کہ فیصلہ آ گیا۔ کیس ختم ہوا اور ہر روز عدالت کی طرف سے ملنے والے سمن اور تاریخوں سے جان چھوٹ گئی۔ آپ جنرل صاحب کو پسند کرتے ہیں تو اطمینان رکھیں کہ اس فیصلے کے بعد جنرل صاحب کے پھانسی چڑھنے کے خواہش مندوں کو مایوسی ہو گی۔ اگر جنرل صاحب کو لٹکانے کی ضرورت ہوتی تو یہ فیصلہ پہلی دو تاریخوں پر بھی ہو سکتا تھا بلکہ مقدمہ تو سوموٹو پر بھی درج کر کے دو پیشیوں پر فیصلہ بھی سنایا جا سکتا تھا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ حکومتوں پر حکومتیں بدلتی رہیں اور مقدمے کی فائلیں دوسرے ضروری مقدمات کی فائلوں کے نیچے دب کر عام آدمی کو یہ پیغام دیتی رہیں کہ ہماری عدالتوں نے کبھی کسی امیر اور غریب میں کوئی فرق نہیں رکھا۔ غریب کے مقدمے اگر سال ہا سال چلتے ہیں تو پاکستان کے آرمی چیف اور صدر پاکستان کے مقدمے کا فیصلہ کون سا ایک دو دن میں ہو گیا ہے۔ ویسے کیا آپ بتائیں گے کہ پھانسی کے مریض کو ڈاکٹر کیوں چیک کرتا ہے؟ اور کیا آپ کو پتہ ہے کہ کسی مریض یا بیمار شخص کو پھانسی نہیں ہو سکتی؟ اگر نہیں پتہ تو قانون سے تھوری بہت واقفیت پیدا کیجئے تاکہ فضول کی جذباتیت سے جان چھوٹ جائے اور کسی بھی بات کو اس کے درست تناظر میں دیکھنے کی صلاحیت پیدا ہو سکے۔ بہت ہی آسان لفظوں میں یہ بات ہے کہ اگر اس وقت جنرل مشرف پاکستان میں بھی ہوں تو ان کو پھانسی نہیں ہو سکتی کیونکہ ان کی صحت کی خرابی ان کی پھانسی کی راہ میں ہمیشہ کے لیے ایک دیوار بن کر کھڑی رہے گی۔

مشرف مخالفین کے لیے اس سے بڑے صدمے کی اور کیا بات ہو گی کہ مقدمے کا فیصلہ ہو گیا ہے اور اب جلد یہ بات ماضی کا حصہ ہو جائے گی۔ کچھ دن گزرنے کی دیر ہو گی کہ آپ سب بھول بھال جائیں گے اور مٹی پاو فارمولے پر زور و شور سے عمل درآمد ہونے لگ جائے گا۔ آپ جو جنرل مشرف کے خلاف الزامات کی فہرستیں بلکہ کتب تیار کروائے بیٹھے ہیں وہی آپ سب کی ناکامی اور حامیان و محبان مشرف کی خوشی کا باعث ہیں کہ اپنی انہی باتوں کی وجہ سے جنرل مشرف نے آپ سب کو بے نقاب کر دیا ہے۔ جنرل صاحب کی ایمرجنسی کے نفاذ کو بیس سال گزر گئے لیکن بائیس کروڑ عام آدمیوں یعنی محب وطن پاکستانیوں میں سے ایک شخص بھی عدالت میں اس کے خلاف مقدمے کے لیے کھڑا نہیں ہوا۔ اس نے منتخب حکومت کو گھر بھیج دیا لیکن وہی حکومت دوبارہ قائم ہوئی لیکن مشرف کو سزا نہ ہو سکی۔ افغان جنگ اور امریکی ساتھ کی وجہ سے ملک کو اربوں ڈالر ز کا نقصان ہوا لیکن ایک شخص بھی کسی جوابدہ فورم پر مشرف کو کھڑا نہ کر سکا۔ بیس سال میں ہمارے ملک کی چار منتخب اسمبلیوں میں ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جو مشرف کی پاکستان دشمنی پر باقاعدہ بات کرتا۔ بیس سال میں کسی ایک حلقے کے لوگوں کے بارے بتا دیں جو اپنے عوامی نمائندے کے پاس گئے ہوں کہ وہ اسمبلی میں مشرف کے خلاف بات کرئے، کوئی ایک تصویر یا خبر ہے تو بتا دیں کہ محب وطن پاکستانیوں نے اپنے منتخب نمائندے کو بات کرنے پر مجبور کیا ہو؟ آپ جو اخبارات میں توپوں کے منہ کھول دیتے ہیں، الیکٹرانک میڈیا پر آتش فشاںکی مانند پھٹ پڑتے ہیں اور سوشل میڈیا پر وطن کی محبت کے دریا بہاتے ہیں لیکن کیا اس سب سے کوئی فرق پڑتا ہے۔ صبح کو بیس روپے کا ملنے والا اخبار شام کو بیس روپے کلو میں بدل کر اپنی حیثیت تک بدل لیتا ہے، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر آپ کی آتش فشانی کے بعد ایک کتے کے سوئمنگ سیکھ لینے کی خبر زیادہ ریٹنگ لے جاتی ہے تو بتائیے کہ کیا ایسے تاریخ بدلی جاتی ہے یا بدلی جائے گی۔ پارلیمنٹ سے لے کر عدالت تک اور احتساب سے لے کر عوامی مہم تک، کیا کہیں کبھی کسی نے کوئی ایسا کوئی موثر قدم اٹھایا جس کے بعد آپ کی جذباتیت اور جنرل مشرف کے خلاف الزامات کو وقعت دی جا سکے۔ نہیں ایسا کچھ نہیں ہوا تو دو جمع دو کا مطلب یا تو آپ واقعی محب وطن نہیں یا پھر جنرل مشرف پر لگائے جانے والے سارے الزامات غلط ہیں۔

مشرف ایک خوش نصیب شخص ہے جو کئی بڑے بڑے کاموں کا اکیلا ذمہ دار ہے۔ اس کے ایک فیصلے نے امریکہ کو برسوں افغانستان میں نہ صرف پھنسا کر رکھا بلکہ ساری دنیا کو جینے اور ابھرنے کا موقع دیا جس کی ایک مثال روس کی طاقت کے ایوانوں میں بھرپور واپسی بھی ہے۔ پاکستانی معیشت کو برسوں بلکہ عشروں بعد بیرونی قرضوں سے نجات دلانے کا ذمہ دار بھی مشرف ہی ہے اور اب اپنے خلاف ہونے والے ایک فیصلے کے بعد گفتار کے غازیوں اور جھوٹے محبان وطن کو نتھار کر باقیوں سے الگ کرنے والا بھی مشرف ہے ۔ ابھی تک تو فیصلہ لکھنے والوں نے بھی بعد کا وہ وسیع منظر نامہ نہیں دیکھا جو بڑی حد تک متوقع ہے لیکن کئی برس بعد پاکستانیوں کی گفتگو میں ایک بار پھر مشرف کا ذکر ہو گا کہ پاکستان میں آنے والی بہت سی قانونی، آئینی اور سیاسی و سماجی تبدیلیوں کی ایک وجہ مشرف ہی تھا۔ ہزاروں، لاکھوں لوگ مل کر بھی جتنے بڑے کاموں کی انجام دہی کا صرف سوچتے ہیں، مشرف صاحب ایسے بہت سے کاموں کے اکیلے ذمہ دار قرار پائے ہیں، آپ کو ان کی خوش نصیبی کا بھلا اور کیا ثبوت چاہئے ۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20