سولہ دسمبر خالی ہاتھ گزر گیا —— خرم شہزاد

0

سولہ دسمبر کی تاریخ اور حوالے بدلنے لگے ہیں۔ اب سولہ دسمبر وہ نہیں ہوتا جو کچھ سال پہلے ہوتا تھا۔ اب ہمیں سولہ دسمبر سقوط ڈھاکہ کی یاد نہیں دلاتا بلکہ اے پی ایس کے شہدا کے نام ہو گیا ہے۔ شائد ایسا بھی ہو کہ سقوط ڈھاکہ کو روتے ہوئے ایک زمانہ گزر چکا تھا اور یہ رونا بھی بیکار ہی تھا کہ نہ ڈھاکہ واپس ملنے کی امید تھی اور نہ ہمیں ایسی کوئی چاہ تھی کہ ڈھاکہ پھر سے پاکستان کا حصہ بنے، ایسے میں اے پی ایس کا حادثہ ہمارے لیے تحفہ غیبی رہا ہے کہ اس بہانے سقوط ڈھاکہ کو بھلانے کا موقع ہاتھ لگا۔ یقیناکچھ سال بعد سقوط ڈھاکہ ہمارے لیے اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی جیسا ایک فضول واقعہ بن کر رہ جائے گا جس پر کبھی کبھی مذاکروں اور سیمینارز میں بات ہو گی، دانشوری جھاڑی جائے گی اور مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر سیر حاصل بحث صرف اس لیے کی جائے گی کہ چائے لگنے میں ابھی کچھ وقت باقی ہے۔

سولہ دسمبر سے پہلے چھ ستمبر آتا ہے لیکن آج آدھے پاکستان کو صرف یہ پتہ ہے کہ چھ ستمبر کا دوسرا مطلب چھٹی ہوتا ہے۔ افواج یوم دفاع منا لیتی ہیں اور عوام چھٹی منا کر اگلے دن اپنے کام کاج پر نکل جاتے ہیں۔ ہمیں ایک لائن رٹی ہوئی ہے کہ چھے ستمبر کو بزدل دشمن نے ہم ہر حملہ کیا اور ہماری بہادر افواج نے اس کے دانت کھٹے کر دئیے۔ وہ لاہور میں ناشتے کا خواب لے کر نکلے تھے لیکن اس دھرتی کے بیٹوں نے اپنی مادر وطن کے دفاع کا حق ادا کر دیا اور ان کی مدد کو بہت سی غیبی قوتیں بھی شامل حال تھیں۔ کتنے لوگ جانتے ہیں کہ جنگ ستمبر کتنے دن تک جاری رہی۔ ہمارا اس جنگ میں کیا فائدہ ہوا اور دشمن کا کتنا نقصان ہوا۔ کتنے لوگ جانتے ہیں کہ جنگ شروع تو ہندوستان نے کی تھی لیکن اس کی وجوہات کیا تھیں اور پھر اس جنگ کا اختتام کیوں، کیسے اور کہاں پر ہوا۔ اس جنگ میں ہم نے کیا کھویا اور کون سا سبق حاصل کیا؟ ہم نے کہاں اپنی کمزوریوں کو نشان زد کیا اور کہاں نئے عزم کا اعادہ کیا؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے بس چند لائنوں کا رٹا تو لگایا ہوا تھا، جنگ ستمبر کی روح کو سمجھنے کی کبھی کوشش نہ کی جس کی وجہ سے ہمیں سولہ دسمبر دیکھنا نصیب ہوا۔

آپ، میں یعنی ہم سب چھے ستمبر کو بڑے بڑے جھنڈے لے کر باہر نکلتے ہیں، مادر وطن کے دفاع کے لیے بڑی بڑی بڑھکیں مارتے ہیں اور دشمن کی ایسی کی تیسی کرنے کی ان گنت خواہشوں کا اظہار کرتے ہیں۔ جنگ ستمبر کے واقعات کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں کہ کہیں کہیں تو حیرت اور بے یقینی کے ساتھ جھوٹ کی آمیزش میں سچ اور اصل بات کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ ہم افواج پاکستان کی قربانیوں پر انہیں سلام پیش کرتے ہیں، اخبارات میں ان کے لیے خصوصی صفحات شامل ہوتے ہیں اور چینلز پر جنگ کے ہیروز کو بلایا جاتا ہے۔ ہم ان کی باتوں سے خون کو گرم کرتے ہیں اور پھر مشرق کی طرف منہ کر کے ہندوستان کو چھے ستمبر یاد دلانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ چھے ستمبر اور سولہ دسمبر کے درمیان صرف اور صرف چھے سال کا ہی تو فرق تھا۔

میں بچپن سے آج تک ان سوالوں کے جواب تلاش کر رہا ہوں کہ چھ ستمبر کے شیر دل جوانوں کو سولہ دسمبر کے روز کیا ہو گیا تھا؟ اگر خدا کی نصرت، مدد اور فرشتے چھے ستمبر کو اتر سکتے تھے تو سولہ دسمبر کو اس دھرتی پر ایسا کون سا گناہ ہو گیا تھا کہ ہر چیز نے ہم سے منہ موڑ لیا؟ چھ ستمبر کو دشمن کے دانت کھٹے کرنے والے آخر سولہ دسمبر کو اپنا وجود کیوں کٹوا کر آج بھی راضی خوشی بیٹھے ہیں؟ چھ ستمبر کو اپنی افواج کے لیے کھانے لے کر جانے والے اور چھتوں پر جہازوں کی ڈاگ فائٹ دیکھنے والی عوام سولہ دسمبر کو کہاں مر گئی تھی؟ چھے ستمبر کو اپنی زخمی فوجیوں کو خون دینے والوں کی قطاریں سولہ دسمبر کو حوصلہ دینے کے لیے بھی نظر کیوں نہیں آرہی تھیں؟ درجنوں سوالات ہیں جو میں آپ سب سے چھ ستمبر کو کرنا چاہتا تھا لیکن اب سولہ دسمبر گزرنے کے بعد کر رہا ہوں، صرف اس آس پر خاموش تھا کہ شائد اس سال ہم کچھ سوالوں کے جواب تلاش کر لیں گے اور اپنے گریبان میں جھانکتے ہوئے کچھ شرم محسوس کریں گے۔ کہتے ہیں کہ کامیابی کے ہزار باپ ہوتے ہیں لیکن ناکامی بانجھ ہوتی ہے، اس کی سب سے بہترین وضاحت چھے ستمبر اور سولہ دسمبر کا پاکستان ہے۔

ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ چھے ستمبر کو مادر وطن کا دفاع کرنے والا فوجی اگر سلوٹ کے لائق ہے تو سولہ دسمبر کے روز ڈیوٹی پر کھڑا فوجی بھی ہمارے سلام کا حقدار ہے۔ ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ سولہ دسمبر کو ہمارے فوجی اتنے ہی جذبے اور ہمت سے لڑے تھے جتنی ہمت اور جذبہ ان میں چھے ستمبر کو تھا۔اگر چھے ستمبر کو انہوں نے قربانیاں دی ہیں تو سولہ دسمبر کو بھی وہ بیرکوں میں سکون کی نیند نہیں سو رہے تھے۔ اگر چھے ستمبر کو ہم جشن مناتے ہیں تو سولہ دسمبر کو بھی ہمیں اپنانا پڑے گا۔ ویسے ہم بھی عجب لوگ ہیں کہ جن کو چھے ستمبر کو سلام کرنے کو ہاتھ اٹھاتے ہیں، سولہ دسمبر کو انہی لوگوں پر انگلیاں بھی اٹھاتے ہیں لیکن سلام ہے پاک فوج پر کہ وہ کبھی سوال نہیں کرتی کہ چھ ستمبر ہو یا سولہ دسمبر وہ تو میدان جنگ میں تھے لیکن ان کے لیے روٹیاں اور راشن لانے والے کیا ہوئے؟ وہ جو چھتوں پر چڑھ کر جہازوں کی لڑائی دیکھنے والے تھے وہ جذبے اور لوگ کہاں گئے؟ وہ نہیں پوچھتے کہ زخمی تو ہم سولہ دسمبر کو بھی تھے تو خون دینے والے کہاں چھپ گئے؟ وہ نہیں پوچھتے کہ جو اسلام کا محافظ خاکی کفن پہنے چھے ستمبر کو سرحد پر کھڑا تھا وہی شخص تو سولہ دسمبر کو بھی ڈیوٹی پر تھا لیکن اس کی پشت کر وار کرنے والے لوگ کہاں سے آ گئے؟ سیاسی سماجی اور لسانی تقسیم پر اپنے ہی ملک کے لوگوں سے نفرت کرنے والے کہاں سے آ گئے؟ تقسیم جرمنی ایک ہو چکا ہے اور کوریا میں بھی سرحدیں کھولی جا رہی ہیں، افریقہ میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں لیکن کیا ہمارے لوگوں کے خواب میں بھی یہ خیال آیا ہے؟

سولہ دسمبر ہر سال اپنے ہاتھوں میں ایسے بہت سے سوالوں کا کشکول لیے چلا آتا تھا لیکن ہر سال اسے نا امید اور مایوس ہو کر لوٹنا پڑتا تھا، خیر اب تو اس سانحے کی لاش جلد ماضی کے کسی مزار میں دفنا دی جائے گی کیونکہ اب ہم نے اے پی ایس کو اپنا لیا ہے اور اگلے بہت سے سال ہم سقوط ڈھاکہ کی طرح اے پی ایس کا ماتم منائیں گے لیکن سبق پھر بھی نہیں سیکھیں گے۔

ایک اور سولہ دسمبر بالاخر گزر گیا، خالی ہاتھ۔۔۔ ہماری سوچ، ہماری ہمت اور ہماری باتوں کی طرح خالی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20