وکیل راہنما مودی فارمولے پر ——– خرم شہزاد

0

پاکستان ہمارا دشمن ہے اور دشمن کو ختم کرنا ہر حال میں ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان ہمارے ملک میں دہشت گردی کا سبب ہے اور اسی پاکستان نے ہمارے خلاف ہر دور میں سازشیں کی ہیں۔ پاکستان کو ختم کر کے ہی ہندو توا کا جھنڈا بلند کیا جا سکتا ہے۔ آج بھارت کے پاس رافیل ہوتے تو پاکستان کو سبق سیکھا دیتے۔ آج پاکستان کو سبق سیکھانا بہت ضروری ہو گیا ہے کیونکہ جب تک پاکستان کو سبق نہ سیکھایا گیا ہمارے ملک میں تاج اور پارلیمنٹ پر حملے ہوتے رہیں گے، کشمیر میں مداخلت ہوتی رہے گی اور سرحدوں پر ہمارے جوان بھارت ماتا کی حفاظت کے لیے شہید ہوتے رہیں گے۔۔۔ یہ وہ شعلہ فشانی تھی جو الیکشن قریب آتے ہی بی جے پی کے راہنماوں نے شروع کی اور اس پر مودی جی اپنا رنگ جماتے چلے گئے۔ خطے میں کشیدگی اتنی بڑھ گئی کہ دو اٹیمی قوتیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے اپنی پوری قوت سے کھڑی ہو گئیں۔ افواج جنگ کے میدانوں میں پہنچنے لگیں اور کسی بھی حادثے کو روکنے کے لیے پوری دنیا کو مداخلت کرنی پڑی ۔ اسی افراتفری میں الیکشن ہوئے اور مودی جی ہندوستان کے دوسری بار وزیر اعظم منتخب ہو گئے اور اس کے بعد حالات اس تیزی سے بدلے کہ اچھے اچھے تجزیہ کار اپنی انگلیاں دانتوں میں داب کر رہ گئے۔ یہ سب کیا ، کیوں اور کس لیے تھا اس پر بات کرنے کے بجائے ایک اور صورت حال دیکھتے ہیں۔

پاکستان میں ابھی کچھ دنوں میں بار کونسلز کے الیکشن ہونے والے ہیں۔ آپ عقل مند نہیں بلکہ مہا عقل مند ہیں تو صرف یہ بتا دیں کہ ان الیکشنز میں کھڑے نمائندے کس مینڈیٹ پر ووٹ لیں گے، وہ کون سے نعرے اور وعدے ہوں گے جس سے وہ وکلا کو قائل کریں گے کہ نہیں جی ہمیں ہی ووٹ دینا آپ کے لیے بہت ضروری ہے۔ گیس بجلی پانی، روٹی کپڑا مکان، نوکری اور تنخواہ جیسا کوئی بھی نعرہ تو یہاں لگایا نہیں جا سکتا تو پھر آخر ایسی کیا وجہ ہو کہ ووٹ دیا جائے؟ یہاں سے کہانی مودی کی الیکشن مہم کے ساتھ جڑتی ہے کہ بھارت میں آج بھی گیس بجلی پانی کے ساتھ ساتھ روٹی کپڑا اور مکان کی باتیں تو ایک طرف کروڑوں لوگوں کو لیٹرین کی سہولت دستیاب نہیں۔ لاکھوں لوگ آج بھی فٹ پاتھوں پر نہ صرف رہتے اور سوتے ہیں بلکہ ہزاروں روز انہی فٹ پاتھوں پر مرتے بھی ہیں۔ ایسے ہندوستان میں کوئی بھلا مودی جی کو کیوں اور کس لیے ووٹ دے گا؟ اور دونوں الیکن مہمات کا ایک ہی جواب تھا۔۔۔ سورکشا یعنی حفاظت یعنی ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہندوستان نے جنگ کا ماحول بنایا اور مودی جی نے افواج کو سرحدوں پر لا کر سارے ہندوستان کو یقین دلایا کہ وہ ان کی حفاظت کے لیے پاکستان یعنی ایک اٹیمی ملک کے ساتھ جنگ کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ بالکل ایسے ہی ڈاکٹروں کی ایک وڈیو کے بعد وکلا کے نمائندوں نے دھواں دھار تقریریں کرتے ہوئے سب کو یقین دلایا کہ یہ تو آپ سب کی بے عزتی ہوئی ہے اور اس بے عزتی کا بدلہ لیا جائے گا اور اس بدلہ لینے میں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ مودی کو اس بہادری پر خوب داد ملی اور وہ الیکشن جیت گئے۔ آپ بھی ہسپتال حملے کی وڈیوز دیکھ لیں، کئی نمائندے اس دہشت گردانہ واقعے کی قیادت کر رہے تھے اور باقی وکلا کو یہ باور کروایا جا رہا تھا کہ ڈاکٹروں نے آپ سب کی بے عزتی کی ہے اور ہم آپ کی اس بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے آپ کے ساتھ ہیں۔ لگا دو پولیس وین کو آگ، توڑ دو ہسپتال کے شیشے اور نکال کے باہر لے آو ڈاکٹروں کو۔۔۔ اور یقینا اب ہونے والے الیکشن میں یہ قیادت اپنی اسی کامیاب حکمت عملی کی وجہ سے کامیابی حاصل کر ہی لے گی۔

سوال یہ نہیں ہے ہم نے اپنے دشمن سے کیا سیکھا ہے لیکن سوال یہ ضرور ہے کہ کیا اب ہمارے معاشرے میں یہی چلن عام ہو گا؟ کیا اب معاملات اور مطالبات اسی طرح سے پیش کئے جائیں گے اور منوائے جائیں گے؟ اور کیا اب بدلے لینے کے لئے جتھہ طرز پر کام ہو گا ؟ کیا ایک ڈاکٹر کی یاوہ گوئی کا بدلہ سبھی ڈاکٹروں سے لیا جائے گا؟ کیا ایک وکیل قانون کی تعلیم صرف اس لیے حاصل کرئے گا کہ جب چاہے جیسے چاہے قانون کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر سکے اور روند سکے؟ یقینا ڈاکٹر اور وکیل آج اپنی اپنی طاقت کے نشے میں ہیں کیونکہ دونوں گروہ ہی حکومت سے ٹکرا کر اپنی طاقت کا مظاہر ہ کر چکے ہیں لیکن کیا معاشرے ایسے چل سکتے ہیں؟ آپ اس معاشرے میں رہتے ہیں اور آپ کے بچوں نے بھی اگر اسی معاشرے کا حصہ بننا ہے تو ان سوالات پر ضرور غور کریںکیونکہ الیکشن لڑنے والوں کے ہاتھ تو کامیابی کا فارمولا لگ چکا ہے اور اس کے کامیاب استعمال اور نتائج سے بھی وہ آگاہ ہیںمگر چھری آپ کے گلے پر ہے لہذا کچھ سوچنے کا کام اب آپ کو ہی کرنا ہے تو پانی سر سے گزرنے سے پہلے سوچنا شروع کر دیں کہ ایسا جو چل رہا ہے وہ کیوں چل رہا ہے اور کب تک چلے گا ۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20