’’تاریخِ گُم گَشتہ‘‘ مائیکل ہیملٹن مورگن ۔۔ باب چہارم حصہ سوم —- ترجمہ و تلخیص: ناصر فاروق

0

ڈھونڈنے والے ستاروں کی گزرگاہوں کے۔۔۔ (۳)

طلیطلہ کے وقت نویس (الزرقالی)کی وفات کے دہائیوں بعد، قریب ہی مراکش میں نور الدین ابن اسحاق البتروجی پیدا ہوا، جس کا لاطینی نام Alpetragius رکھا گیا۔ اُس نے شہرSeville کا رُخ کیا، اس شہرکومسلمان اشبیلیہ پکارا کرتے تھے۔ مسلم اشبیلیہ طلیطلہ جتنا ہی قدیم شہر تھا، یہاں دریا الوادی الکبیرکی بندرگاہ مشہورتھی۔ ممکنہ طورپراس شہر کی بنیادبھی فونیقی یہودیوں نے رکھی تھی، بعد میں یونانیوں اور رومیوں نے اسے اپنا مستقربنایا۔ بنو امیہ اورپھرعیسائی بادشاہوں کے لیے یہ شہراسپین کا گوہرنایاب ثابت ہوا۔ مسلمانوں نے اسے عظیم الشان مساجد سے پرشکوہ بنایا۔ جنھیں بعدمیں عیسائیوں نے ڈھاکرگرجاگھر اٹھائے۔ ایک مسجد کا اونچا مینار، جس کا رنگ ریتیلا تھا، جوایک رصدگاہ کا کام بھی کرتا تھا، بعد میں گرجاگھرکا گھنٹہ گھربنادیا گیا، اسے La Giralda پکارا جاتا تھا۔ الموحدون کا محل اورباغات جن کے سامنے کھُلا میدان تھا، اُسے ایک دن عیسائیوں کا Alcazar بن جانا تھا۔ اگرچہ اشبیلیہ امویوں کے اندلس کا دارالحکومت کبھی نہیں رہا،اس کے باوجود یہ سب سے بڑا امیرترین اورطاقت ورشہرتھا۔ یہاں کی زراعت، زیتون اورلیموں کی پیداواربہترین تھی۔ یہ سمندری تجارت کا مرکز تھا۔

البتروجی نے علم مثلثات اورکروی جیومیٹری میں ابن الہیثم کی پیروی کی، اوربطلیموس کے کام کے چند پہلوؤں پرکڑی تنقید کی۔ تاہم البتروجی نے سورج اور سیاروں کے بے ضابطہ مداروں پرگہری توجہ دی،اورزمین کی مرکزیت کے نظریہ پرسوال نہیں اٹھایا۔ اُس نے یہ جاننے کے لیے انتھک محنت کی کہ کس طرح قبل از بطلیموسی ‘ہم مرکز دائروں’ concentric circles کے مداروں کا نظام بحال کیا جاسکے، مگریہ تجربہ ایک دن غلط کوشش ثابت ہوا۔ تاہم بعد میں، البتروجی نے بہت سے نئے طریقے وضع کیے اوربطلیموسی ریاضیات کی بہت سی بے قاعدگیوں کوقاعدہ میں کیا۔ البتروجی کے بڑے کام(مصنف نے اس کام کا کوئی نام نہیں دیا، غالبا متواتر یورپی سرقہ کی نذر ہوگیا۔ مترجم)کو مسلم سسلی کے مائیکل اسکاٹ نے لاطینی میں منتقل کیا، البتروجی کے اس کام نے Seville کے یہودی علماء کی توجہ حاصل کی، اوراُن میں سے دونے اُس کام کا عبرانی میں ترجمہ کیا، ان علماء کے نام موسی بن تبون اوریہوداہ بن سلیمان تھے۔ البتروجی کا یہ کام بارہویں صدی کا اہم کارنامہ ہے، اس سے یورپ نے تیرہویں صدی میں استفادہ کیا، اورپھرمتواتراس کا سرقہ کیا جاتا رہا۔ سولہویں صدی میں جب کاپرینکس heliocentric کلیہ لکھ رہا تھا، وہ البتروجی کو نقل کررہا تھا۔

اب اندلسی علم فلکیات مزید پیچیدہ ہوچکا تھا، یہ قابل قبول نظریات سے ٹکرارہا تھا۔ مغرب میں مسلم فلکیات، دوا سازی، اورفلسفہ کی تاریخ ہی کسی قدریہودی تحصیل علوم کی تاریخ بھی ہے۔ نویں اور دسویں تک مسلم اسپین میں یہودی علماء کی سرگرمیاں اور معیشتیں اپنے عروج پرتھیں۔ وہ قرطبہ، اشبیلیہ، اور طلیطلہ میں سنہرے دن بسرکررہے تھے۔ یہ دوسری اعلٰی ترین سیاسی حیثیت کے حامل تھے، حسدائی بن شپروط خلیفہ عبدالرحمان سوم کا وزیراعظم تھا۔ یہ لوگ بہترین ادب، موسیقی، اورفلسفہ تخلیق کررہے تھے۔ وہ یہ کام انفرادی اوراجتماعی دونوں سطح پرکررہے تھے۔ مسلم حکماء سے اشتراک میں بھی علوم کوترقی دے رہے تھے۔ امویوں اورپھرالمرابطوں کے ادوارمیں یہودیوں نے اعلٰی حیثیتوں میںاہم کردارادا کیے۔ اُن کے سنہرے دنوں کی خبریں سرحد پارشمالی افریقا اوردیگرمقامات کی یہودی آبادیوںتک پہنچ رہی تھیں۔ دسویں صدی تک دیگرخطوں کے یہودی تارکین وطن بہت بڑی تعدادمیں مسلم اندلس منتقل ہو رہے تھے۔

ہسپانوی یہودی دانشوروں میں موسٰی بن میمون کا نام نمایاں تھا، اُسے یورپ میں Maimonides کے نام سے جانا جاتا ہے۔ موسٰی بن میمون کا بہترین کام شعبہ طب میں سامنے آیا، وہ فلسفہ اورمعاشرتی اصلاحات کے حوالے سے زیادہ مشہور ہوا۔ اُس نے اپنی کتاب Guide of the Perplexed میں فلسفیانہ دلیل کا استعمال کیا ، کہ بائبل اور یہودی عقیدہ ارسطو کی فکرسے متصادم نہیں ہیں۔ اُس نے علم فلکیات میں بھی کارہائے نمایاں انجام دیے۔ وہ 1135میں قرطبہ کے ایک تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہوا۔ عربی، ہسپانوی، اورعبرانی روانی سے بولتا تھا۔ اس تہذیب یافتہ اورہم آہنگ ماحول میں تینوں ابراہیمی سلسلے مستحکم ہوچکے تھے۔ مگریہ سب اُس وقت تہ وبالا ہوا جب 1148 میں شدت پسند الموحدون افریقا سے حملہ آور ہوئے۔ انھوں نے کیتھولک ملکہ ازابیلا کی طرح انتباہ کیا کہ: یہودی اسلام قبول کریں، یاانخلاء کرجائیں، یاجان گنوائیں۔ موسٰی بن میمون جواُس وقت صرف تیرہ برس کا تھا، خاندان کے ہمراہ جنوبی اسپین میں پناہ گزین ہوا، جہاں یہ لوگ تقریبا دس سال رہے۔ آخرکاریہ خاندان شمالی افریقا منتقل ہوا۔ مراکش کی جامع قرویین سے میمونائڈزنے علم ادویہ کی تحصیل کی۔ وہاں سے قاہرہ کا رخ کیا، جہاں شاہی دربارمیں اُسے وزیراعظم کا طبیب مقررکردیاگیا، بعد میں سلطان صلاح الدین ایوبی کا ذاتی معالج مقرر ہوا،جس نے صلیبی افواج کے مقابل ایک مدبرسپہ سالاراوررحمدل دشمن کے طورپرمقبولیت کے جھنڈے گاڑے ۔

یہ محض اتفاق نہیں کہ میمون خاندان شدت پسند مسلمانوں سے سے جان بچا کرعیسائی یورپ میں پناہ لینے کے بجائے مسلم شمالی افریقا میں پناہ گزین ہوا۔ وہ اور اُس کا خاندان اچھی طرح جانتے تھے کہ مسلم ریاستوں کے بڑے شہر بارہویں صدی کے کسی بھی یورپی شہر سے زیاد ہ تہذیب یافتہ تھے، اورتعلیم وتحقیق کے اہم مراکز تھے۔

موسٰی بن میمون بہت سے ہم عصروں کی طرح علم فلکیات میںگہری دلچسپی لے رہا تھا۔ اُس نے بطلیموسی شماریات میں عدم تسلسل کا جائزہ لیا۔ خاص طورپراُس نے بطلیموس کی ‘مساوی دائرہ میں سیارہ زحل کی توضیح’ پرسوال اٹھایا، جوناقص معلوم ہورہی تھی، کیونکہ یہ براہ راست سیارہ عطارد کے مدارمیں حائل ہورہا تھا۔ ‘مساوی گر دائرہ’equant علم الحساب کی ایک ایسی ترکیب ہے جسے بطلیموس نے زمین کے گرد سیاروں کی بے قاعدہ حرکات واضح کرنے کے لیے استعمال کیا۔ ‘مساوی گردائرہ’ اصول کے تحت زحل اور دیگراجرام فلکی مقرر وقت میں معین محورمیں گردش کے پابند ہیں۔ میمونائڈز واحد جوہرقابل فلسفی نہ تھا، جوسیاروں اور ستاروں کی حرکات میں گُم تھا۔ ایک اور اندلسی مفکر، جس نے تینوں ابراہیمی مذاہب کے پیروکاروں کوصدیوں اپنا گرویدہ بنائے رکھا،  سیاروں کی مداروں میں حرکت کا بغورمطالعہ کررہا تھا تھا۔ ابولولید محمد ابن احمد ابن رُشد جسے لاطینی میں Averroes بنادیا گیا، بارہویں صدی کے قرطبہ میں پیدا ہوا، یہ کافی ہنگامہ خیزدور تھا۔ قرطبہ علم فلکیات کی نسبت اپنے فلسفہ کے سبب زیادہ مشہور تھا۔ ابن رُشد کے بنیادی عقائد فکری فعلیت اورارسطوکی عقلیت پسندی پرمشتمل تھے۔ ایک ایسا فلسفہ جومشرق بعید کے عمر خیام سے ملتا جُلتا تھا۔ یہ فلسفہ اتنا طاقت ور تھا کہ ہم عصریہودی عالم میمونائیڈزاورعیسائی علماء جیسے تھامس ایکویناس پریکساں طورپراثراندازہوا۔ رینیسانس (یورپی بیداری) کے معروف مصوررفائیل نے فن پارے The School of Athen میں ابن رُشد کوتاریخ کے عظیم ترین فلسفیوں میں شمار کیاہے۔

جرات مند فلسفیوں کی مانند، جب روایتی طرزفکر سے مقابلہ ہوا، ابن رُشد نے خطرات کو دعوت دی۔ اُس کی فکری فعلیت اورعقل پسندی نے قرطبہ کے قدامت پرستوں کوچونکا دیا۔ کچھ لکھنے والوں نے اُسے مسلمان سے زیادہ بدھ بھکشو خیال کیا اور لکھا۔ تاہم ایک خاص عرصہ تک ابن رُشد نے الموحدون حکمرانوں کی سرپرستی سے لطف اٹھایا، مزے کی بات ہے کہ یہی وہ سلسلہ اقتدار تھا جودیگراسپین میں قدامت پرستی مسلط کررہا تھا۔ ابن رُشدبہت ہوشیار تھا، مؤثر دلائل سے اکثرقدامت پرستوں پرغالب آجاتا تھا۔ مگرآخرکاربہت سارے لوگ اُس سے بیزارہوئے، اور اُسے مراکش جلا وطن کردیا گیا، جہاں اُس نے اپنی زندگی تحریروتحقیق میں صرف کی۔ پرآشوب حالات کے باوجود، ابن رُشد کی علمی استعداد متاثر نہ ہوئی، وہ بطلیموس کے کاموں کا مطالعہ کررہا تھا اورتنقید کررہا تھا۔ اُس نے اسکندریہ کے قدیم یونانی علم فلکیات اور علم الحساب پرکڑی تنقید لکھی۔

وہ لکھتا ہے: ”منحرف کرُے یا تدویری Epicyclic Sphere کے وجود کا اظہارفطرت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ہمارے عہد کا علم فلکیات ‘سچ’ کا ترجمان نہیں، بلکہ محض حساب وشمارسے اتفاق کرتا ہے، اُس حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا جودراصل وجود رکھتی ہے۔ ابن رشد نے البتروجی سے اتفاق کیا، اوراکثر بطلیموسی حساب وشمارمسترد کردیا، اورزمین کے مدارمیں گردش کرتے سیاروں کے ‘ہم مرکز’ concentric نمونے کی وکالت کی۔

تیرہویں صدی میں، بادشاہ الفانسونے پہلی بار ابن الہیثم کے اہم کام کا ہسپانوی زبان میں ترجمہ کروایا، جوبعد میں لاطینی میں ترجمہ کیا گیا، اوریورپی ماہرین فلکیات اورریاضی دان کتاب کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب ہورہے تھے۔ بارہویں صدی کے تین عظیم مفکرین البتروجی، ابن رُشد، اورموسٰی بن میمون آٹھ سال کے اندر دنیا سے رخصت ہوئے: ابن رُشد 1198، ابن میمون 1204، اور البتروجی نے 1206 میں وفات پائی۔ ان کی موت کے بعد، مزید پرآشوب دورکا آغازہوا۔ اندلس شہری ریاستوں میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ عیسائیوں اورشمالی افریقا کے حملہ آوروں کے درمیان صدیوں تک مسلح تصادم برپا رہا، دور مشرق میں بھی اسلام تنازعات سے گزررہا تھا۔ یہ مشرق بعیدسے اٹھنے والی بے چینی دراصل اُس ڈرامہ کا حصہ بھی تھی، جوایک ایشیائی حملہ آور کی بے پناہ قوت کے ظہورسے پیدا ہوئی تھی۔ یہ قوت مستقبل میں تمام براعظموں، سلطنتوں، اور لوگوں تک پھیل جانے والی تھی۔ یہ دہشتناک قوت المرابطون اور الموحدون سلسلوں کی مداخلتوں سے بہت زیادہ بڑھ کرتھی۔

فارس، موت کا قلعہ، 1256، وہ آرہے ہیں! اور پھر اُن کی دہشتناک کہانیاں نصف صدی اور دونسلوں تک لوگوں کا پیچھا کرتی رہیں۔ وہ ایک زمانہ سے حرکت میں تھے، یہاں تک کہ اُن کی ابتدائی کہانیاں بھولی بسری بات ہوچکی تھی۔اُن کی نئی کہانی زیادہ ہولناک تھی۔ زندگی بھر کے لیے ہزاروں لوگ مسلسل اُن سے بھاگ رہے تھے، مغرب جنوب اور جہاں اُن کے قدم پڑتے نکل جاتے تھے۔ مکانات اور باغات بیچ دیے گئے تھے، کاروبار اور پرانے دوست چھوڑ دیے گئے تھے، گھرویران پڑے تھے جہاں چوہے دندناتے پھرتے تھے اور ہوائیں سائیں سائیں کیا کرتی تھیں۔

ہروہ شہر جو اُن کے رستہ میں آیا، خواہ وہ چین کا ہو یا روس کا یا فارس کا، مغلوب ہوگیا۔ جن کی جان کسی طرح بچ گئی، وہ خوفناک کہانیاں سنایا کرتے تھے، کہ حملہ آور تاتاری انسان نہیں لگتے تھے بلکہ گھوڑے اور سوار کا کوئی قاتل مرکب نظرآتے تھے، جن کی کوئی لگام نہ تھی۔ اتنی اکثریت میں کہ لشکر وں کا ٹھاٹھیں مارتاسمندر معلوم ہوتا تھا، مغرب کی طرف بل کھاتی ایک ایسی لہرجسے نہ روکا جاسکے۔ یہ تھے منگول، جوچین کے شمال میں چراہ گاہوں کی زمین سے اٹھے تھے۔ انتہائی جنگجوتھے۔ چین سے کوریا اور وسطی ایشیا تک جوتباہی مچی، لوگ پناہ کے لیے قاہرہ، ماسکو، ترک شہروں، اور ہندوستان کی جانب دوڑے،اور میزبان معاشروں کی ترقی اورارتقاء میں شامل ہوگئے، ساتھ ساتھ علوم کا اکتساب کیا، اورنامور دانشور اور حکماء پیدا کیے۔

منگولوں میں ایسی کیا شے تھی، کہ ہرطرف دہشت چھاگئی تھی؟ وہ محض ایشیائی قبائل کا ایک اتحاد تھا، جوبیس لاکھ انسانوں پرمشتمل تھا، ٹٹوؤںپرسواربستیاں روندتا چلا جارہا تھا۔ یہ بالکل اُجڈ لوگ تھے، معاشرتی وتہذیبی طرز زندگی سے یکسرعاری تھے۔ وہ انتہائی چُست اور طاقتورلڑاکا تھے۔ سفاکیت اور سنگدلی اُن کی بھرپورصفات تھیں۔ دشمن کوزندہ چھوڑنے کے قائل نہ تھے، بہت ہی کم قیدی بنایا کرتے تھے۔ میدان جنگ میں سرپٹ دوڑتی اس وحشی سلطنت کا سردارچنگیز خان تھا، چینیوں میں یہ تموجن کے نام سے معروف ہے۔

چنگیز خان کی نسطوری عیسائی علماء سے ملاقات بھی تاریخ کا ایک نامعلوم باب ہے۔ تاریخ گُم گَشتہ انکشاف کرتی ہے کہ جب نسطوری مشرق وسطٰی میں نئے گھرتلاش کررہے تھے، فارس میں آباد ہورہے تھے، وہ بتدریج ساتویں صدی عیسوی میں چین کے دروازوں تک بھی پہنچے۔ دسویں صدی تک چند ترک منگول قبائل نسطوریت کوایک ریاستی مذہب کے طور پرقبول کرچکے تھے۔ تیرہویں صدی میں چنگیز خان نے اپنے ایک بیٹے کی شادی ایک نسطوری شہزادی سے کی، یہ ترک منگول نسل سے تھی، اورہلاکوخان کی ماں تھی۔ وہ ہلاکو خان، جس نے بغداد برباد کیا۔ تیسرے بیٹے قبلائی خان جس نے چین پر حکمرانی کی، نسطوریوں کو چین کے قلب میں داخلہ کی اجازت دی، جہاں وہ بدھ مت اور تاؤ مذہب کے پیروکاروں میں گُھل مل گئے۔ چودہویں صدی عیسوی میں، چین میں منگولوں کے ساتھ ساتھ ہی عیسائی نسطوری بھی زوال پذیرہوئے۔ انیسویں صدی تک عیسائیت چین سے غائب ہوگئی۔ بہت سے مؤرخین نے چنگیز خان کی طوفان خیزوحشت ناکی پرسوال اٹھائے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ منگول مخالفین کوصرف پیشگی ہتھیار ڈالنے پرچھوڑتے تھے، ورنہ تہس نہس کردیتے تھے۔ منگولوں کی جنگی تکنیک اور سفاکی پربستیوں کی بستیاں صدمہ سے دوچارہوئیں۔ وہ جہاں سے گزرے دہشت بٹھاگئے۔ شہر کے شہرخاک میں ملادیے، جلاکر راکھ کردیے۔ چند غداروں، مقامی کاریگروں، اوردیگرماہرین کوچھوڑکر، کسی کو نہ چھوڑا گیا۔ دیکھنے والے لاشوں کے اونچے اونچے ڈھیردیکھ رہے تھے، جلی ہوئی ہڈیوں کے انبار لگے تھے، میلوں تک تعفن پھیل چکا تھا، جلتے ہوئے اجسام سے اٹھتا دھواں بہت دور سے دکھائی دے رہا تھا، مؤرخ ابن اثیرنے سال 1221کی ستم ظریفی پر لکھا:

’’کئی سالوں تک میں اُس سانحہ کے بیان سے ہچکچاتا رہا، وحشت ودہشت سے یہ حال تھا کہ کچھ قلم بند نہ کر سکا تھا۔ جہاں ایک قدم بڑھاتا فورا واپس کھینچ لیتاتھا۔ کسی کے لیے بھی یہ اعلان کرنامشکل نہ تھا کہ اسلام اور مسلمانوں کو یہاں موت کی مہلک ضرب لگی تھی۔ بہت سے دوستوں اور احباب نے مجھ سے اصرارکیا کہ سقوط بغداد سپرد قلم کروں، میں نے بہت گریز کیا، اوربالآخراس نتیجہ پر پہنچاکہ اس معاملہ کوچھوڑنا مفید نہ ہو گا۔

اگر دجال کی کوئی اتباع کرے تو وہ بھی اُس کی جان بخش دے گا، مگر تاتاریوں نے کسی کو نہ بخشا؛ عورتوں، بچوں، اور مردوں سب کا قتل عام کیا، حاملہ عورتوں تک کے پیٹ چاک کر ڈالے اور نومولود بچوں کو مار ڈالا۔ ان اللہ وان الیہ راجعون، سوائے خدائے ذوالجلال کہ کوئی حفیظ و کریم نہیں، جو ہمیں اس عتاب سے نجات دینے والا ہو، ایک ایسا عتاب جوموت کی ہواؤں کی طرح ہرسو پھیل گیا۔ یہ لوگ چین کے مرغزاروں سے اٹھے تھے،انھوں نے ترکستان کے شہروںکاشغر اور بلاساغون پرحملے کیے، اور پھر ماوراء النہر کے شہروں سمرقند، بخارااوردیگر کی جانب گئے، لوگوں کے مال واسباب چھینے اور پھر خراسان کی طرف بڑھے ، یہاں تک کہ ہرجگہ لو ٹ مار مچائی، اور پھر رے ، ہمدان، اوردیگرفارسی علاقوں میں جاگھسے، اور وہاں سے عراق، آذربائیجان، اوردیگرخطوں میں داخل ہوئے، اور ان زمینوں کے اکثر باسیوں کوقتل کیا، بستیاں اجاڑدیں شہر برباد کیے، اور یہ سب کچھ ایک سال سے بھی کم مدت میں ہوا۔ ‘‘

تاتاریوں کے حملوں نے مسلم دنیا میں زلزلہ برپا کردیا تھا، جس کے بعد از جھٹکے صدیوں محسوس کیے گئے۔ ہندوستانی فوج مستقل چوکنی رہنے لگی تھی۔ یورپی سرحدوں کی حفاظت جی جان سے کرنے لگے تھے۔ جنھوں نے منگولوں کی گھن گرج ہنگری اورپولینڈ میں دیکھی تھی، انھوں نے اپنے اسکاؤٹ فرانس تک پھیلادیے تھے۔

تاہم، مسلم فکر اور علم فلکیات کی ترویج حالات کی زد میں نہ آسکے۔ مسلمانوں کی تہذیبی تشکیل وتکمیل جاری رہی۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟ جواب تاریخ گُم گَشتہ میں چھُپا ہے۔ منگولوں کی جنگی مہمات میں اُن کی ثقافتی خوبیاں دھندلاگئی ہیں۔جب منگول عرب زمینوں تک پہنچے، اُن کی سلطنت مستحکم ہوچکی تھی، اوراُن کے شہرتہذیب و تمدن سے آشنا ہوچکے تھے۔ خاص طورپر چینی تہذیب ، شمالی ہندوستان کی ثقافت، وسطی ایشیا کی تہذیب، اور فارس کی دانائی سے وہ بہت کچھ سیکھ رہے تھے۔مثال کے طورپرچنگیز خان نے جو قوانین ’’یاسا‘‘  وضع کیے تھے۔ وہ مذہبی رواداری، امن، تجارت، اور جرائم سے تحفظ پرمبنی تھے۔ مزید یہ کہ منگولوں کی جنگی مہمات اُتنی ہولناک نہیں تھیں جتنی بتائی جاتی ہیں۔ منگولوں کی باقاعدہ ایک اسمبلی تھی، جہاں قبائلی اشرافیہ تزویراتی پہلوؤں کا جائزہ لیا کرتی تھی ،اورنظام حکومت چلایا کرتی تھی۔ مسلمانوں کی طرح، منگولوں نے بھی بعد میں دیگر ملکوں سے تجارتی روابط مستحکم کیے، اورتجارتی سفر کے قوانین متعارف کروائے۔ منگولوں نے علماء، حکماء، اور فنکاروں کی قدر افزائی کی، انھیں اپنی انتظامیہ میں مناسب جگہ دی۔ انھوں نے مفتوحہ علاقوں میں مسلمانوں، عیسائیوں، اوربدھوں کے ساتھ ہم آہنگی ممکن بنائی۔ فارس ، وسطی ایشیا، اور ہندوستان میں شاندار شہر تعمیر کیے۔ ان شہروں نے علمی بیداری اور تحقیق کی ترویج میں صدیوں تک اہم اور بنیادی کردار ادا کیے۔ یوں، منگولوںنے آنے والی دنیا کے لیے چینی، اسلامی، اور یورپی دانش کی بے مثال میراث چھوڑی۔

باب چہارم حصہ دوم کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

باب چہارم حصہ چہارم کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

(جاری ہے)

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20