سیمنتنی اُپدیش، تانیثی ادب کی ایک زرّیں دستاویز ——– نعیم الرحمٰن

0

’’سیمنتنی اُپدیش‘‘ لگ بھگ ڈیڑھ صدی قبل لکھی تانیثی ادب کی ایک زرّیں دستاویز ہے۔ جسے ایک گمنام ہندو کنیا نے تحریر کیا، ڈاکٹر دھرم ویر نے اس کی تحقیق اور تدوین کی اور نورالاسلام نے اس کا اردو ترجمہ کیا۔ ’’وجودِ زن سے ہے تصویرِکائنات میں رنگ‘‘یہ ایک ایسی حقیقت ہے۔ اردو ہی کیا دنیا کی ہر زبان اور ادب وجودِ زن اور اس کے حسن کی کرشمہ سازیوں سے بھرا ہوا ہے۔ اردو شاعری کی صنف غزل کے تو معنی ہی عورتوں سے باتیں کرنا ہے۔ عورت کا ہر روپ ماں، بہن، بیٹی، بیوی اور محبوبہ دل لبھاتا ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود ہر پدر سری معاشرے اور سماج میں عورت کی حیثیت دوسرے درجہ کی ہوتی ہے۔ عورت سے ہر ظلم و زیادتی روا رکھی جاتی ہے۔ ہندو سماج میں تو ستی جیسی رسم بھی رہی ہے۔ بیوہ ستی نہ بھی ہو تو اس کی سماج میں جو درگت بنتی ہے۔ وہ نہ زندوں میں شمار ہوتی ہے اور نہ مرُدوں میں۔ ہمارے ہاں جائبداد میں حصہ نہ دینے کے لیے قرآن سے شادی جیسی قبیح رواج بھی موجود ہیں اور بہن بیٹی کو کاری، سوارا، ونی کیا جاتا ہے۔ معصوم کلیوں کو روندنے کی روز نئی خبر آتی ہے۔ بھائی کے جرم کے عوض بہن کو ونی اور سوارہ کرنا عام ہے۔ ماضی میں اس پر آواز بھی کم ہی اٹھائی جاتی تھی اور عورت کے مسائل پر بات بھی کم ہی ہوتی تھی۔ لیکن فروغِ علم کے ساتھ معاشرے میں تبدیلی آنے لگی ہے۔ یورپ میں عورت کی آزادی حدود عبور کرنے لگی ہے۔ فیمینزم ادب کی الگ اہمیت ہے۔

اب گذشتہ کچھ عشروں سے تانیثی یا فیمینزم ادب کا چرچا کچھ زیادہ ہونے لگا ہے۔ بعض ادبی جرائد میں تانیثی ادب کا الگ گوشہ شامل کیا جاتا ہے۔ مشہور دانشور، افسانہ نگار اور کالم نگار زاہدہ حنا نے ’’عورت زندگی کا زندان‘‘پر بہت اچھی کتاب لکھی ہے۔ فوزیہ سعید نے طوائف کی زندگی پر ’کلنک ‘ کے نام سے بہت عمدہ کتاب لکھی ہے۔ طاہرہ ایس خان نے عزت کے نام پر تشدّد سے جُڑے واقعات کی تاریخی اور مادی وضاحت کے لیے کتاب ’’عزت کے نام پر‘‘ تحریر کی ہے۔ جس میں اس تاثر کو غلط ثابت کیا ہے کہ عورتوں کے خلاف تشدّد صرف ایشیا اور افریقا کے مسلم معاشروں میں ہی کیا جاتا ہے اور اس کی بڑی وجہ ان کے پسماندہ اور قدامت پرستانہ ثقافتی اور مذہبی عقائد ہیں۔ اس کثیر الجہتی تشدد کی ایسی غلط تشریح اور اس کو ایک نسلی رنگ دیے جانے پر دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مختلف معاشروں نے تنقید کی ہے۔

اس موضوع پر اس سے پہلے کیے جانے والے مطالعاتی تجزیوں میں ساری توجہ عزت کے سماجی و ثقافتی پہلو اور نسوانی جسم اور جنسیت کے لیے اس کے مضمرات پر مرکوز رہی ہے۔ اس مطالعے میں کوشش کی گئی ہے کہ اس تصور سے آگے جا کر دیکھا جائے کہ صنفی بنیاد پر کیے جانے والے تشدّد کا واحد محرک صرف عزت کا ثقافتی نظریہ ہی ہوتا ہے۔ اس مطالعے میں، جو مسلم دنیا خصوصاً پاکستان میں عزت سے متعلقہ تشدّد پر مرتکز ہے۔ اس کتاب میں عزت کے نام پر تشدّد کو مذہبی، قانونی، سماجی اور سیاسی اداروں کی زمانہء قدیم سے لے کر آج تک کی تاریخ سے آگاہی فراہم کی گئی ہے۔ اس میں عزت سے متعلقہ مباحث، ذاتی تجربات اور آج کے دور میں دنیا کے مختلف گوشوں میں اس نوعیت کے تشدّد کا شکار بننے والیوں کی داستانوں کا تاریخی و علمی تحقیق کی نظر سے جائزہ لیا گیا ہے۔

عورت پر ظلم و زیادتی کے موضوع پر ایک بہت عمدہ کتاب شاعر و کالم نگار سعد اللہ جان برق نے ’’دختر کائنات‘‘ کے نام سے تحریر کی ہے۔ جس کا انتساب ہی موضوع کی وضاحت کرتا ہے۔ ’’جانوروں کے نام، جو نہ اپنی مادہ کو مارتے ہیں اور نہ اس کی مرضی کے بغیر ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔ ‘‘اس کتاب میں سعد اللہ جان برق نے دنیا کے مختلف خطوں میں عورت پر کئے جانے والے ظلم و جبر کے واقعات بیان کیے ہیں۔ جس میں برہما کی بیٹی، زیوس کی بیٹی، زمین کی بیٹی، یونان کی بیٹی، اپسرا کی بیٹی اور نیل کی بیٹی جیسے ناموں سے مختلف خطوں، علاقوں اور مذاہب میں عورت سے روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کا بیان کیا گیا ہے۔ خاص طور پر ہندو ماتھالوجی میں زمین کی بیٹی سیتا دیوتا کا مقام رکھنے والے شوہر رام سے اگنی پریکشا دے کر بھی اپنی پاک دامنی ثابت نہ کر سکی اور اسے زمین میں دفن ہونا پڑا۔

لیکن سیمنتنی اُپدیش عورت سے معاشرتی اور سماجی ناروا سلوک کے خلاف غالباً پہلی توانا آواز ہے۔ یہ کتاب 1882ء میں لکھی گئی۔ ڈاکٹر شائستہ فاخری نے کتاب کے بارے میں لکھا ہے۔

’’بلاشبہ سیمنتنی اُپدیش کو ہندوستان کے نسائی ادب کی پہلی تصنیف کی صف میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ آج کے دور کے حساب سے دیکھیں تو اس کی اہمیت اس بات میں بھی ہے کہ ہندوستان کی سرزمین پر انیسویں صدی میں ہی عورتوں کے حق کی آواز اُٹھنے لگی تھی۔ دراصل اپنے سسٹم کے خلاف، اپنے معاشرے کے خلاف یہ ایک عورت کی چیخ ہے، سلگتے جذبوں کا ایسا دستاویز ہے جس میں عورت کے بقا کی کہانی چھُپی ہے۔‘‘

کتاب کے آغاز میں عشرت آفرین کا بہت خوبصورت اورحسبِ حال شعر درج ہے۔

اتنا بولو گی تو کیا سوچیں گے لوگ
رسم یہاں کی یہ ہے لڑکی سی لے ہونٹ

کتاب کے مرتب اور تدوین کرنے والے ڈاکٹر دھرم ویر ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ قدرت نے انہیں حساس دل و اعلیٰ ذہن سے نوازا ہے۔ علم و ادب کا شوق اور خدمت خلق کے جذبے نے ان کی شخصیت میں ایسی چمک پیدا کی ہے جس سے ہندی ادب اور ہندوستانی سماج دونوں روشنی حاصل کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر دھرم ویر 10 نومبر 1946ء کو پیدا ہوئے۔ علم کی جستجو میں انہوں نے ایم فل، پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ کا اعزاز حاصل کیا۔ آئی سی ایس کر کے ملک کی خدمت پہ مامور ہو گئے۔ ڈاکٹر دھرم ویر کا انتقال ان کی مرتب کردہ اس کتاب کی اشاعت سے پہلے 9 مارچ 2017ء ہو گیا۔ ہندی میں ان کی متعدد تصنیفات ہیں جنہیں ادبی حلقے میں مقبولیت حاصل ہے۔ ’’کبیر کے آلو چک‘‘، ’’سنت رائے داس کا نروان‘‘، ’’بالک امبیڈکر‘‘، ’’ڈاکٹر امبیڈکر اور دلت آندولن‘‘، ’’ سیمنتنی اُپدیش‘‘ (تحقیق و تدوین)، ’’ ہندی کی آتما‘‘، ’’پریم چند سامنت کامنشی‘‘، ’’دلت چنتن کاوکاس‘‘، ’’ابھیشپت چنتن سے اتہاس چنتن کی اور ‘‘ان کی اہم اور مشہور کتابیں ہیں۔ ڈاکٹر دھرم ویر نے ہندی میں ناول اور کہانیوں کے علاوہ نظمیں بھی کہی ہیں۔ ان کا ناول ’’پہلا خط‘‘ اور کہانی ’’بالک‘‘ اہم ہیں۔ ان کی کہی نظمیں بھی ہندی ادب میں منفرد حیثیت کی حامل ہیں۔

ڈاکٹر رئیس فاطمہ نے ڈاکٹر دھرم ویر سے ’’سیمنتنی اُپدیش‘‘ کے حوالے سے انٹرویو کیا۔ جس میں انہوں نے بتایا کہ

’’اٹھارہ سو بیاسی میں شائع ہوئی یہ کتاب انہیں میرٹھ کی ایک پرانی کتابوں کی دکان سے ردی میں ملی۔ اس کتاب کے مواد اور مصنفہ کی فکر نے مجھے اسے مرتب کرنے پر مجبور کر دیا۔ تحقیق و تدوین کے بعد یہ کتاب وانی پبلیکیشن کے تعاون سے منظر عام پر آئی۔ اس کتاب نے مجھے ادبی حلقوں میں پہچان دی۔ بد قسمتی سے اس کتاب کی مصنفہ کا نام بہت کوششوں کے باوجود معلوم نہ ہو سکا۔ لیکن کتاب کے مطالعے سے اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک امیر ہندو گھرانے کی عورت تھی۔ کیونکہ اس کتاب میں ہندو عورتوں کی روداد ہے بالخصوص بیوہ عورتوں کی۔ زماں و مکاں سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنفہ پنجاب یا نواحِ پنجاب کے علاقے میں پلی بڑھی تھی۔ نو عمری میں ہی بیوہ ہو گئی تھی۔ کوئی اولاد نہ تھی۔ جس طرح مصنفہ نے اس کتاب میں اسمرتیوں اور دھرم شاستروں کا حوالہ دیا ہے اس کے عالمہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔

اس نے تمام ہندو عورتوں خاص کر بیواؤں کی تکالیف کا حال کہہ دیا ہے۔ اس عہد میں ایک بیوہ کی کیا درگت ہوتی تھی اس کا اندازہ میرا بائی کے ان الفاظ سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

پیا بن سو نو ہے مہارو دیس!
ایسا ہے کوئی پیوکوں ملا دے، تن من کروں سب پیس!
تیرے کارن بن بن ڈولوں کر جوگن کو بھیس !

ڈاکٹر دھرم ویر نے بتایا کہ سیمنتنی اُپدیش کا نام کتاب کے مواد اور لب و لہجے کے مطابق منتخب کیا گیا ہے۔ سیمنتنی سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی عورت ہیں۔ چونکہ کتاب میں مصنفہ کا لہجہ خطابانہ ہے، اس لیے اس کا کتاب کا عنوان ’’سیمنتنی اُپدیش‘‘ رکھا گیا ہے۔ کتاب کی مصنفہ نے عورت اور مذہب پر مرد کی اجارہ داری، معاشرے میں پھیلی تمام طرح کی بداخلاقیوں و فرسودہ روایات کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ ایک جگہ بیوہ کو صلاح دیتے ہوئے لکھتی ہیں۔ ’’تمہاری بہتری کی یہی تجویز اچھی ہے کہ جب دل ضبطِ نفس نہ کر پائے تو دوسری شادی کر لو۔‘‘

مصنفہ کی خاص بات یہ ہے کہ اس نے اپنے عہد کی خواتین کے بارے میں گہرا اور پختہ مطالعہ کیا ہے۔ وہ عورتوں کی پریشانیوں کو لے کر اتنی حساس ہے کہ اس پر شدت پسندی کا الزام عائد کیا جا سکتا ہے۔ اسے خواتین کے دکھوں کے سوا اس دنیا میں کچھ نہیں دکھائی دیتا ہے۔ میرے نزدیک صرف سوچ کا فرق ہے۔ اس بات کے لیے اس کی تعریف بھی کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے مقصد کے سامنے کسی لگاؤ میں نہیں آتی۔ یہ کتاب ہندوستان میں آج کی بیٹیوں کے لیے رقعہء آزادی کے مترادف ہے۔ حق تو یہ ہے کہ یہ کتاب بھارت میں خواتین کی اختیار کاری کا ایک بہترین تحفہ ہے۔ اس کو پڑھ کر لوگوں کو یہ احساس ہو گا کہ ہندوستان میں اس موضوع پر اتنی پرانی کتاب ملنا حقوقِ نسواں کے لیے ایک تیوہار کی سی بات ہے۔ ایک سو چالیس سال پہلے لکھی یہ کتاب آج بھی ہمارے معاشرے کی صورتِ حال کی ہو بہ ہو عکاسی کرتی ہے۔ اسے ہندوستانی ’’تانیثی ادب کی زرّیں دستاویز‘‘ کہنے میں کوئی تامل نہیں کیا جا سکتا۔

سیمنتنی اُپدیش کے مترجم نور الاسلام نے پیش لفظ میں لکھا ہے۔

’’ایک سال قبل مجھے ہندی زبان میں وانی پبلیکشن سے دستیاب ہوئی۔ اس کتاب کے مواد اور مصنفہ کے اندازِ بیان نے مجھے اسے کئی بار پڑھنے پر مجبور کر دیا۔ اس کتاب کو پڑھتے وقت مجھے سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ تانیثی ادب میں جو بحث آج جاری ہے اس کی ایک مضبوط بنیاد اس کتاب کی مصنفہ نے اسے تحریر کر کے رکھ دی تھی۔ اس سے پہلے دنیا کے کسی بھی نثری ادب میں حقوقِ نسواں کی بازیافت کے لیے ایسا احتجاج دیکھنے کو نہیں ملتا۔ مصنفہ نے ان تمام غیر اخلاقی رسم و رواج اور مذہبی جکڑ بندیوں سے انحراف کیا ہے۔ جس نے عورت کے تشخص کو پامال کر کے رکھ دیا تھا۔ زنا اور بدکاری کو مصنفہ نے کئی برائیوں کی جڑ مانا ہے۔ اس نے عورتوں کے سیاسی سماجی مسائل کا بہت گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اور بغیر کسی ذاتی مفاد کے اپنی آواز بلند کی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف اپنے مواد کو لے کر اہم ہے بلکہ اس کی اپنی ایک لسانی اور تاریخی اہمیت بھی ہے۔ یہ اپنے عہد کی ہندوستانی زبان، علاقائی بولی اور ہندو تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کا ترجمہ کرتے ہوئے تہذیب و ثقافت کا خاص خیال رکھا گیا ہے ہندی کے ایسے الفاظ جن کا ہندو تہذیب و ثقافت سے کوئی سروکار نہیں ہے انہیں قرأت کی سہولت کے مطابق بدل دیا گیا ہے۔

ہندو عورت کی تصنیف ہونے کے باوجود کتاب کی ابتدا میں حمد اور ’’خدا سے میری فریاد‘‘ نظم ہے۔ چند اشعار دیکھیں۔

دنیا میں ہم دکھی ہیں ہماری خبر تو لے
دکھ درد سے چھُٹا ہمیں اک بار خبر تو لے
دنیا میں کوئی ہمدم نہ ہم کو پڑا نظر
تیرے سوا کوئی نہیں دلدار خبر تو لے
تجھ بن کوئی نہیں ہے دنیا میں مدد گار
اے جان ِ جہاں ہمدم و غمخوار خبر تو لے

کتاب کے آغاز کا اقتباس ملا حظہ کریں۔

’’ہے پرمیشور!ہماری کو سن۔ ہم مظلوموں کی فریاد پر کسی نے غور نہیں کیا۔ ہم نے اس ہندوستان میں چاروں طرف پکار پکار اور رو رو کے ہر ایک کے سامنے فریاد کی، لیکن کسی نے ہمارے واویلا پر کان نہیں دھرے، نہ پلک اٹھا کر دیکھا۔ ہم نے خوب غور سے اس دنیا میں دیکھ لیا۔ مگر سوا تیرے ہماری بے کسی، بے بسی، بے قدری، بے عزتی کی فریاد کو سننے والا کوئی نظر نہ آیا۔ تو غور سے ہماری فریاد سن۔ مدت سے ہندیوں کے دماغ میں جہالت کی اندھیری چل رہی ہے۔ اس ظلم کی گرد اڑاڑ کر ہمارے اوپر پڑتی ہے۔ جیسے کوئی مکان بہت دیر گرد پڑنے سے دب جاتا ہے اسی موافق ہماری حالت ہے۔ ہم نکلنے کی طاقت نہیں رکھتی ہیں۔ جیسے گنے کا رس نکال لینے پر چھلکارہ جاتا ہے ویسے ہی ہماری حالت ہے۔‘‘

کتاب میں اللہ کا شکر بھی ادا کیا ہے۔ جو مالک سب کی پرورش کرنے والا ہے اور اس کے کرم کی انتہا تک کوئی نہیں پہنچ سکتا، ہماری اتنی عقل نہیں جو اس کی بے شمار مہربانیوں، نعمتوں کا شکر ادا کریں۔ رات دن ظالموں، بزرگوں اور مویشیوں پر ایک جیسا رحم و کرم کرنے والے ایسے مالک کے قدموں میں بار بار شکر ہے۔ کتاب میں انہوں نے خواتین پر ظلم کی روداد ہی نہیں لکھی بلکہ ان کے حق میں آواز اٹھانے والوں کا بھی بھرپور شکر ادا کیا۔ منشی کنہیا لال الکھ دھاری، جنہوں نے حقوقِ نسواں پر بہت سی کتابیں لکھیں۔ پنڈت شیونرائن اگنی ہوتری ایڈیٹر ’برادر ہند‘ جس کا رسالہ اسی کوشش میں نکلتا رہا۔ اس رسالے کا ہر ایک فقرہ عورتوں کی تعلیم کی طرف راغب کرتا ہے۔ رائے نوین چند جی، جن کی کوشش سے بہت سی خواتین نے کچھ علم حاصل کیا، انہوں نے اس مقصد کے لیے کئی کتابیں بھی لکھیں اور پنڈت دیانند سرسوتی جن کے پیغامات سے تمام ہندوستان میں علم کا چرچا ہوا۔

ان لوگوں نے بہت طرح سے ثابت کیا ہے کہ عورتوں کو بھی انسان سمجھنا چاہیے۔ ان کو حیوانیت کے رتبے سے نکال کر انسانیت کا خطاب دینا چاہیے۔ کتاب کی مصنفہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہماری عورتیں اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کو مقدر سمجھ لیتی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں۔

’’جو آدمی جیل خانے میں پیدا ہوا ہو، یا جس کا باپ دادا اسی میں قدیم زمانے سے رہتا ہو، وہ اسی جیل خانے کو بہشت سمجھتا ہے۔ اگر کوئی اس سے کہے کہ یہ جیل خانہ ہے، یا اس کی برائیاں دکھاوے تو وہ یہ جواب دیتا ہے۔ ہمارے باپ دادا اسی میں رہتے آئے ہیں، کیا انہیں عقل نہ تھی؟ ہم کبھی اس کو نہ چھوڑیں گے۔ ‘‘ایک نظم ’ہندی عورتوں کی حالت‘ میں انہوں نے خواتین کو جگانے کی کوشش کی۔

اے ہند کی عورتوں اٹھو خوب سو چکیں
دنیا میں عزت و آبرو تھی سب تو کھو چکیں
عقل اور تمہاری طاقت ضائع ہوئی تمام
دنیا میں جو نہ ہونا تھا وہ سب تو ہو چکیں

عورتوں کے زیور کے شوق کے بارے میں لکھتی ہیں۔ زیور کے برابر عورتوں کو دنیا میں کوئی چیز پیاری نہیں۔ باپ، بھائی، خاوند، لـڑکا کسی کا اتنا موہ نہیں جتنا زیور کا۔ ایک ہندی نے اپنی بہو سے سل اٹھانے کو کہا۔ بہو نے بھاری سل اٹھانے سے انکار کر دیا۔ سسر نے اسی سل کو سونے سے مِڑھا کر دھاگے میں پرو کر بہو سے کہا، یہ سونے کی چوکی تمہارے لیے بنوائی ہے۔ بہو نے بڑی خوشی سے پہن لی اور ذرا بھی بوجھ نہ معلوم ہوا۔

غرض عورتوں کو ان کی حالتِ زار سے آگاہ کرنے کے ساتھ ان کی خامیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس طرح یہ برصغیر میں عورتوں کے مسائل اور ان پر ہونے والے اتیاچار کے خلاف پہلی تحریری اور موثر آواز ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20