دسمبر کی کسک —– سید مظفر الحق

0

جوش نے لکھا اور شوکت علی نے ڈوب کر گایا

دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
جب چلی سرد ہوا ہم نے تجھے یاد کیا

سو یہ جو دسمبر کا نصف بیتنے کے ساتھ ہی جو سرد ہوا چلتی ہے یہ ان چوٹوں کی کسک بڑھا دیتی ہیں جواندر سے لگی تھیں لیکن باہر کی زہریلی ہوائیں بھی آتی جاتی سانسوں کے ساتھ ان چوٹوں کو شدید تر کر رہی تھیں یہ چوٹیں جو جسم و جاں کو دولخت کر گئیں یہ کیسی چوٹیں ہیں جو اندر ہی اندر گھاؤ اور ناسور بن گئی ہیں اور ان کا کوئی اندمال بھی نظر نہیں آتا۔ سال بھر تو اس ناسور پہ جیسے کھرنڈ سا جمنے لگتا ہے لیکن اندر ہی امدر مواد پکتا اور کھولتا رہتا ہے
لیکن جیسے جیسے 16 دسمبر قریب آتا جاتا ہے کسک بڑھ جاتی ہے اور یہ پھر سے رسنے لگتا ہے۔

لہو میں دوڑتی وحشتیں ذہن کی اسکریں پہ تصویریں ابھرنے اور متحرک ہونے لگتی ہیں لگتی ہیں، اسکرپٹ کا ایک ایک منظر جیسے زندہ ہوگیا ہو، ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں سید مودودی کے جلسے پہ غنڈوں کا دھاوا اور تماشائی مارشل لاء، ڈھاکہ یونیورسٹی کے طالبعلم عبدالمالک کو جرم بیگناہی کی پاداش میں گھیر کر بہیمانہ انداز میں درندگی کے ساتھ قتل ہوتا دیکھنا، پھر انتخابات کے نام پہ وہ ڈرامہ جس کا نگران وہ مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل تھا جس کا نام تہران کے امریکی سفارت خانے کی خفیہ دستاویزات میں امریکی سی آئی اے کے نمکخواروں میں درج نکلا۔ یہ وہ شخص تھا جس نے بہاریوں کے قتل عام اور فوجی کانواؤں پہ ہونے والے حملوں پہ چپ سادھے رکھی، الیکشن میں پولنگ اسٹیشنوں کو عملاٌ مکتی باہنی اور عوامی لیگ کے مسلح جتھوں کئ قبضے میں جانے دیا جنہوں نے بیلٹ پیپرز پہ ٹھپّے لگا لگا کر اپنے من مانے نتائج حاصل کر کے علیحدگی کا راستی ہموار کردیا۔ یہ شفاف نہیں بلکہ انجینئیرڈ اور اسکرپٹڈ الیکشن تھے۔

پھر الیکشن کے نتائج تسلیم نہ لر کے”ادھر تم ادھر ہم” کا نعرہ لگوا کر نام نہاد فوجی ایکشن کے نام پر ملک کو دولخت کرنے کا دوسرا مرحلہ سر کرنے کا آغاز ہوا، مکتی باہنی اور بھارتی فوج کا مشترکہ حملہ ہوا تو مشرق کادفاع مغرب سے کرنے کی حکمت عملی بنانے والوں نےمغربی پاکستان کی سرحدوں پہ فوج کو حملہ نہ کرنے اورصرف اپنا دفاع کرنے کا پابند کردیا۔ منظر بدلا تو پلٹن میدان میں بےغیرت فوجی سربراہ کو بنگالی عوام کی جانب سے برستے جوتوں کے سائے میں بغیر کسی خفت اور شرمساری کے جنرل اروڑا کے قدموں میں ہتھیار ڈالتے دیکھا۔ یہ سرد اور بے جان ہتھیار نہ تھے یہ تو ایک قوم کی ناموس تھی اس کا فخر اور وقار تھا۔

پھر ذہن کے پردے پہ ایک تصویر ابھرتی ہے پلٹن میدان ہی میں ایک نوجوان کے پیٹ میں سنگین گھونپی جارہی ہے یہ نوجوان کچھ ہی عرصے پہلے لاہور میں اسلامی جمیعت طلبہ کے اجتماع میں بڑے جوش و جذبے سے پاکستان اور اسلام زندہ باد کےنعرے لگا رہا تھا۔

پھر مولوی فرید احمد شکل ابھر آئی جس نے سقوط ڈھاکہ سےکچھ ہی عرصے پہلے اپنی کتاب ” آفتاب پسِ سحاب” Sun behind clouds لکھی تھی لیکن وہ سورج ڈھاکہ میں ہمیشہ کے لئے ڈوب گیا، اسی ڈھاکہ میں مولوی فرید کا ایک ایک عضو کاٹ کر پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگانے کے لئے کہا گیا لیکن وہ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتا رہا آخر کار درندہ صفت گروہ نے اس کی زبان کاٹ کر سینہ چھلنی کردیا۔

مجھے فضل القادر چوہدری بھی ڈھاکہ کی ایک حوالات میں پابستہِ زنجیر گرجدار آواز میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے دل کے دورے سے دم توڑتا نظر آیا۔

یہ 16دسمبر تو وہ لہو رنگ دن ہے جو عصمتوں کی تاراجی، جواں جسموں کی پامالی اور خوابوں کے چکناچور ہونے کی لازوال اور اندوہناک داستان ہے جسے کسی بھی دوسرے سانحے کی گرد اڑا کر بھلایا نہیں جاسکتا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20