موٹیویشنل اسپیکرز کا کردار، ضرورت اور ہمارا رویہ _____ سومیہ عزیز

0

گزشتہ کچھ عرصے کے دوران موٹیویشنل اسپیکرز کے حوالے سے گاہے بگاہے اصحاب علم و دانش کی بعض تحریریں پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ خیال ہوا کہ کچھ امور گوش گزار کیے جائیں کہ بہت سے دیگر موضوعات کی طرح اس حوالے سے بھی ہمارے یہاں افراط و تفریط کے رویّے پائے جاتے ہیں۔ یہ بات ملحوظ رہے کہ اس تحریر کا دائرہ ہمارے یہاں کے popular motivational speakers کی کارکردگی کا سرسری سا تجزیہ ہے نا کہ اس موضوع کے ایک سنجیدہ اور پُرافادیت discourse ہونے کو زیر بحث لانا۔

موٹیویشن ہر انسان کی ضرورت ہے -وقت، حالات اور مزاج کے مطابق اس کی کمی بیشی اور نوعیت میں فرق ہو سکتا ہے؛ مگر بحیثیت مجموعی تقریبا ہر انسان کو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے (تعلیم، کرئیر پلینگ، جذباتی اور سماجی turmoils، گھریلو اور پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے مختلف ادوار وغیرہ) کے دوران موٹیویشن کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اس بِنا پر سب سے پہلے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اگر آپ اس کی ضرورت سے مستغنی ہو چکے ہیں یا عمر کے اس حصّے میں جاگزیں ہیں کہ اب موٹیویشنل گفتگو اور structures آپ کا کچھ بگاڑ -یا سنوار- نہیں سکتے، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ جہاں اور جنہیں اس کی ضرورت ہے، وہاں اسے playful انداز میں ناپختہ، بچگانہ، مضحکہ خیز اور غیر ضروری وغیرہ کہ کر تضحیک کرتے رہیں۔ آپ کامیاب انسان ہیں تو آپ کو اپنے دائرہِ اثر میں دوسروں کے لیے موٹیویشن بننا ہے، اگر آپ یہ نہیں کر رہے یا محدود realm پر اکتفا کیے ہوئے ہیں، تو استہزا کا حق بھی نہیں رکھتے۔ مثبت تنقید کیجیے مگر shallow display of mockery سے اجتناب ضروری ہے۔ حدیث مبارکہ میں “الدال على الخير كفاعله” کے الفاظ دراصل بامعنی موٹیویشن کی اہمیت کو ہی اجاگر کرتے ہیں۔ اسلوب اور طرزِ بیان نیز طریقہ کار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر یک جنبش قلم و click، سبھی کو نشانہ ستم بنانا نہیں دانشمندی نہیں۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ درست سمت میں موٹیویشن ہمیشہ متعلقہ علم میں کما حقّہ استعداد اور پیشہ وارانہ مہارت کے حامل اصحاب علم سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے جس تبحّر اور تجربے کی ضرورت ہے، محض ہوشیاری، اخلاص اور جدید ذرائع کا astute استعمال اس کا نعم البدل نہیں ہوسکتے۔ رسوخ کے حامل ماہرین کی عدم موجودگی –جو متعدد اسباب و محّرکات پر مبنی ہے، جن میں سنجیدہ اہل علم کی کم توجہی اور رغبت، جدید وسائل سے عدم استفادہ، گفتکو اور تکنیکی مہارات وغیرہ کی کمی وغیرہ شامل ہیں– ایسے افراد کو سامنے لاتی ہے جو بظاہر مخلص اور چاق و چوبند ہوتے ہیں، مگر متعلقہ علوم میں عدم صلاحیت کی بنا پر قدرے سطحی اور جزئی تجزیے، گوگل سے حاصل شدہ غیر مصدقّہ اعداد و شمار کے مبالغہ جات اور selected اور distorted تاریخی واقعات سے گفتگو کو spice up کرلیتے ہیں مگر پُرمغز اور مربوط استدلال فراہم نہیں کرسکتے۔ اس پر مستزاد یہ کہ مغربی وسائل -بالخصوص Ted talks- وغیرہ کو مذہبی اور ثقافتی لبادے پہنا کر islamize اور مقامی رنگ دینے کی بھونڈی کوششیں بھی کی جاتی ہیں جن میں content کے ساتھ ساتھ ادائیگی پر بھی compromise ہوتا ہے۔ اس قسم کی ماحول میں اکثر فطری اندازِِ گفتگو کو چھوڑ کر hip hop of body language کا weird سا مظاہرہ ہوتا ہے جس میں سامعین بین السطور کلام سے یکسر لاتعلق ،محض stand up comedy کے شائقین کا روپ دھارے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسے پُرفسوں ماحول کے وقتی سحر کے زیرِ اثر سر تو دھنا جا سکتا ہے، standing ovation اور -مذہبی settings میں سبحان اللہ و ما شاء اللہ کے vows بھی ہو سکتے ہیں، جاندار اور عملی motivation البتہ کہیں کھو جاتی ہے۔

بہت سے موٹیوشنل اسپیکرز کے ہاں logical inconsistency سے بھرپور تضادات کا پایا جانا بھی عام ہے. مثلاً ایک طرف مرعوبیت سے سخت متنفّر ہوتے اور متنفر کرتے دکھائی دیتے ہیں تو دوسری جانب ہر دوسری گفتگو کا آغاز ایک فارمولہ کہانی سے ہوتا ہے جس کا مرکزی کردار مغربی جرمنی کے چھوٹے سے قصبے نیشم کا یتیم لڑکا، امریکی ریاست مشیگن کے دورافتادہ گاؤں بون جیک کی عمر رسیدہ نانبائی خاتون یا زنزبار کی ساحلی پٹّی پر رہنے والا اپاہج مچھیرا ہوتے ہیں۔ گویا عزم و استقلال، بلند ہمّتی اور محنت کے پیکر ہمارے میرپور خاص، لالہ موسی اور خوشاب میں تو ناپید ہو چکے ہیں یا ان سے relate کرنا باعث عار ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اپنے well read اور global panorama کے حامل ہونے کا ثبوت محض بدیسی مثالوں کے ذریعے ہی دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ایک اور مثال، سادگی اور فطری طرز زندگی کی طرف پلٹنے کے ان ترانوں کی ہے جو چار، پانچ اور چھے ستارہ plush ambiance میں بیٹھ کر گنگنائے جاتے ہیں۔ دنیا کے بیس کامیاب ترین انسانوں کی مشترکہ عادات میں (جو ابھی موصوف نے pin drop silenced aroma میں اپنی انگریزی زدہ اردو میں digital content کی مدد سے ارشاد فرمائیں) پیدل چلنا اور اپنا کام خود کرنا ہے (جن کے لیے چند handy مثالیں تاریخ اسلام سے بھی لے کر ٹانک دی گئی تھیں) مگر وہ hybrid گاڑی اور tech support جو آپ کے پیکج کی demand ہے، انہیں شاید استثاء حاصل ہے۔ یہی نہیں، اس پٹاری میں رنگ برنگ اور بھی عجائبات ہیں۔ ایک صاحب تین گھنٹوں پر مشتمل overly priced webinar میں انٹرنیٹ کے نقصانات نیز اسٹیو جابز اور باراک اوبامہ کے اپنے بچوں کو smart devices استعمال نہ کرنے کی اہمیت پر زور دیتے بھی سنے۔

ایک اور توجہ طلب اور سنجیدہ امر اکثر مقررین کا jack of all trades ہونا ہے۔ بظاہر سبھی کہتے نظر آتے ہیں “میں کوئی عالم تو نہیں” مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر سماجی، نفسیاتی، معاشی، ادبی اور دینی موضوع پر بے تُکان اور بےتحاشا گفتگو کرنے کو اپنا اولین mandate اور prerogative سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ شاید وہ نفسیاتی عوامل ہیں جو instantaneous stardom کے ساتھ بطور پیکچ در آتے ہیں۔ ہمہ جہت موضوعات پر اگر مربوط اور عام فہم گفتگو کی جائے تو اس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں مگر معروضی حالات یہ ہیں کہ محض بنیادی اسلامیات سے واقفیت کی بنا پر قوانینِ حدود، اسلامی معاشیات، سحر اور عملیات وغیرہ جیسے حسّاس اور دقیق موضوعات پر بھی نہ صرف ہاتھ صاف کیا جاتا ہے بلکہ ان کے ذریعے profiles بھی furnish کیے جاتے ہیں۔ ہمارے ایک ساتھی نے ایک مشہور صاحب سے -جن کا اپنا میدان عمل corporate finance کا ہے مگر مجمع عام میں گفتگو آحادیث مبارکہ کی جرح و تعدیل پر فرما رہے تھے- دریافت کیا کہ انہیں نے علومِ دینیہ کا اکتساب کہاں سے کیا، جس کے جواب میں موصوف فخریہ انداز میں گویا ہوئے کہ وہ آنلائن کورسز کیے ہوئے ہیں۔

شاید ضرورت اس بات کی ہے کہ موٹیویشنل اسپیکرز اور ان کے حاضرین و سامعین سبھی اس بات کا ادراک کریں کہ ان کے کرنے کا کام ہمّت اور حوصلہ افزائی کی آبیاری اور مثبت سوچ کی داغ بیل ڈالنے کا ہےـ بعد کی راہنمائی اور تجاویز کے لیے متعلقہ ماہرین سے رجوع کو یقینی بنانا ہی درست حکمت عملی ہے۔ ماہرین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ کبھی کبھار impact factor اور citation کے جھمیلوں سے نکل کر اپنی موجودگی اور patience کو commoners کے لیے یقینی بنانے کی عادت اپنائیں اور academic verbosity سے ہٹ کر عام فہم انداز میں بھی اپنے علم و تجربے کے موتی لٹانا سیکھیں جس کا instant reward ایک ایسے sense of accomplishment کی صورت میں ملتا ہے جو دل کی خوشی اور سکون سے معبّر ہے۔

اس موضوع پہ درج ذیل تحاریر بھی قابل مطالعہ ہیں:

کیرئیر کاونسلر -یا- موٹیویشنل اسپیکر: ضرورت کس کی؟ ——- عمار احمد

کامیابی کا مغالطہ: دھوکا دہی کی داستان —- نعیم الرحمٰن

موٹیویشنل اسپیکراور این جی او کلچر : نبیلہ کامرانی 

کامیابی: قسمت یا محنت؟ —– عاطف حسین

موٹیویشنل سپیکنگ: تعریف اور ضرورت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی عمر عمیر‎

ملک ریاض، کامیابی، ناکامی اور پارسائی —- عاطف حسین
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20