باپ : زندگی کا پہلا ولن؟ — اظہر عزمی

0

ہوسکتا ہے بہت سے افراد کو میری یہ بات اچھی نہ لگے لیکن اگر وہ کچھ لمحے ماضی میں پلٹ کر دیکھیں تو شاید وہ کسی حد تک میرے ہم خیال ہو جائیں۔ اب وہ تکلیف دہ بات بھی سن لیجئے “زندگی میں پہلا ولن کوئی اور نہیں آپ کا اپنا باپ ہوتا ہے”۔ وضاحت کردوں اس سے مراد فلموں والا ولن نہیں ہے۔

جب اولاد لڑکپن یا بلوغت کی عمر میں آزادی کی بے سمت، بے ارادہ، لاحاصل اور وقت گذاری کے لئے آوارہ پرواز اڑنا چاھتی ہے تو جو شخص آپ کے رن وے پر “ناں” کا اشارہ لئے کھڑا ہوتا ہے وہ پرانے خیالات کا حامل، نئی دنیا سے بے خبر، دقیانوسی باپ ہوتا ہے۔ وہ آنے جانے کا پوچھتا ہے۔ دنیا کی اونچ نیچ سمجھاتا ہے۔ پڑھنے کا کہتا ہے، زندگی میں وقت اور اوقات میں رہنے کی اہمیت سمجھاتا ہے۔ غرض ہر وہ بات کرتا ہے جو آپ کے خیال میں Outdated ہوتی ہے۔ آپ کو دوستوں کا ہر وہ باپ Broadminded اور Up to-date لگتا ہے جو اپنے بچوں کو چھوٹ دے کر رکھتا ہے اور آپ اپنے باپ کو اچھوت سمجھنے لگتے ہیں۔

دوست آپ کے باپ کے لئے کہتے ہیں “یار تھارا بابا کس زمانے کی پیدائش ہے؟ گاوں سے آئے ہیں؟ مغرب کی نماز بڑھکر سو جاتے ہیں۔ انہیں سمجھاو، اب زندگی مغرب کے بعد شروع ہوتی ہے۔ رات بارہ بجے تو لڑکے گھر لوٹنے کا سوچتے ہیں۔  جب آپ رات گئے گھر جانے کا کہتے ہیں تو دوست ہاتھ پکڑ کر بٹھاتے ہیں “یار ٹوپی کرادینا۔ ویسے بھی وہ اب سو گئے ہوں گے۔”

اب انہہں یہ کون بتائے کہ بچوں کے والدین سوتے نہیں ہیں۔ بستر پر ہوں بھی تو کروٹیں بدل رہے ہوتے ہیں۔ خود کو سمجھا رہے ہوتے ہیں۔ نئے زمانے سے لیٹے لیٹے ہم قدم ہو رہے ہوتے ہیں۔ گھڑی انہیں زہر لگ رہی ہوتی کیونکہ وہ انہہں وقت بتا رہی ہوتی ہے جو اولاد کی کلائی اور ان کے دل و دماغ سے بندھی ہوتی ہے۔ ہر ٹک ٹک پر دل دھک دھک اور دروازے پر دستک کا گمان ہوتا ہے۔ موبائل پر کتنی مرتبہ نمبر ملتے ملتے رہ جاتا ہے۔ گھر آکر غصہ نہ ہو۔ اپنے غصہ کو وہ خود بھی قنوطیت کا نام دینے لگتا ہے۔ اپنی اولاد کے لیے اپنے آپ سے لڑتا ہے۔ اس کو صحیح ثابت کرنے لگتا ہے مگر پھر اندر کا ڈرا سہما باپ باہر آنکلتا ہے۔ غصہ میں آجاتا ہے۔ کہتا ہے “آج آجائے صاف صاف کہہ دوں گا۔ یہاں یہ سب نہیں چلے گا۔ سدھر جاو ورنہ اپنا ٹھکانہ کہیں اور کرلو” اور جب وہ گھر آتا ہے تو خاموشی سے گیٹ کھول دیتا ہے۔ چاھتا کہ وہ اس کی خاموشی سے میرے سارے غصہ کو سمجھ لے۔ بیٹا یہ نہیں جانتا کہ صبح باپ کو گھر چلانے کے لئے ڈھلتی عمرمیں دفتر جانا ہے۔ وہ اس شعر کی عملی تفسیر ہے۔ بقول معراج فیض آبادی:

مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ
میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے

اولاد سمجھتی ہے کہ باپ کو جھانسا دے دیں گے۔ ماں سے سفارش کروالیں گئے۔ سامنے سے خاموشی سے نظر بچا کر گذر جائیں۔ وہ احمق ہیں، نہیں جانتے کہ احمق سے احمق باپ بھی اولاد کے معاملے میں احمق نہیں ہوتا۔ بس وہ نوجوانی کے منہ زور گھوڑے کو جگہ دیتا ہے۔ اولاد کا عقلی ٹی وی اگر 32 انچ کا ہے تو باپ کا 72 انچ کا ہوتا۔ وہ چہرہ دیکھکر تمہارا سچ جھوٹ بتا دے۔

اولاد کو شاید یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ جس عمر سے وہ گزر رہا ہے باپ وہ عمر گذار کر آیا ہے۔ دنیا بدلی ہے۔ رشتے تو نہیں بدلے انسانی سرشت تو نہیں بدلی۔ یہ دنیا مکافات عمل ہے۔ آج جو بویا جا رہا ہے، کل وہی کاٹا جائے گا۔ پھر یہ نہ کہنا کہ زمانہ کتنا بدل گیا۔ زمانہ ہم ہی بدلتے ہیں اور روتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے کسی فقیر طبعیت شخص نے کہا تھا کہ دوزخ میں کوئی آگ نہیں ہوگی سب اپنے اپنے حصہ کی لے کر آئیں گے۔

میں آپ کو اپنی زندگی کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ جب میں نیا نیا ایڈورٹائزنگ میں نیا تو رات 12 یا 1 بجنا روز کا معمول تھا۔ میرے والد صاحب میرے گھر نہ آنے پر رات گئے تک گلی میں ٹہلتے رہتے ہیں۔ جب میں آتا تو ساتھ اندر آتے۔ گلی میں بیٹھے لڑکے اس بات پر میرا مذاق اڑاتے۔ میں والدہ سے ہلکی اواز میں روز ہی یہ کہتا “جب ابو کو پتہ ہے کہ میں دیر سے آتا ہوں تو باہر گلی میں کیوں ٹہلتے ہیں”۔ والد سن لیا کرتے اور خاموش ہی رہتے۔ ایک دن بولے: “جب آپ صاحب اولاد ہوں گے تو پوچھوں گا”۔

میری شادی ہوئی۔ دو بچے ہوئے۔ اسکول جانے لگے۔ وہ وین سے اسکول آیا جایا کرتے۔ ایک دن میں آفس نہیں گیا۔ بیوی سے پوچھا: بچے کب آسکول سے آتے ہیں؟ بیوی نے کہا کہ سوا دو بجے۔ میری نظر گھڑی پر تھی۔ سوا دو بج گئے اور پھر ایک ایک منٹ بھاری ہوتا گیا۔ میری پریشانی بڑھتی چلی جارہی تھی۔ بیوی نی کہا بھی کہ آتے ہوں گے مگر مجھ سے صبر نہ ہوا میری رہائش تھرڈ فلور پر تھی۔ ڈھائی بجے نیچے اتر آیا۔ وین آئی تو وین والے کو بھی خوب سنایا۔

بے چارہ کہتا رہ گیا کہ ٹریفک جام تھا مگر اسے کیا پتہ تھا کہ میرا دماغ کتنا جام ہورہا تھا۔ ذہن میں کیا کچھ تھا جو نہیں آرہا تھا۔ جب میں بچوں کو اوپر لے کر چڑھ رہا تھا تو سوچا کیا یہ پاگل پن تھا تو دل نے کہا نہیں یہ باپ پن تھا جو میرے والد کو تھا جو ہر باپ کو ہوتا ہے مگر اولاد اسے سمجھ نہیں پاتی۔ واقعی والد نے صحیح کہا تھا “جب صاحب اولاد ہو گے تو پوچھوں گا”۔ ابو میں آپ سے معذرت خواہ ہوں۔ اب میں نہیں جانتا کہ میرے بعد آنے والی نسل یہ معذرت کہنا یا شاید سوچنا بھی ضروری سمجھے گی کہ نہیں۔

جن کے والد بقید حیات ہیں ان سے صرف اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کے پاس بیٹھ جایا کریں۔ مجھے اپنے والد سے ملنے کے لئے قبرستان جانا پڑتا ہے۔


مصنف کا تعلق ایڈورٹائزنگ کے شعبہ تخلیق سے ہے ۔ 30 سال پر محیط کیریئر میں متعدد ٹی وی کمرشلز اور جنگلز آپ کے کریڈٹ پر ہیں۔ 90 کی دھائی میں اخبارات میں مختلف موضوعات پر آرٹیکلز لکھے ۔ ٹی وی کے لئے ڈرامہ بھی لکھتے رہے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20