معاشرے میں بے رحمی اور لاقانونیت کا بڑھتا رحجان —- فارینہ الماس

0

معاشرے کا طبقہء اشرافیہ استحصالی طبقے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اپنی ہر نسل میں یہ احساس پیدا کرتا آیا ہے کہ قانون اور آزادی صرف ان کے در کی باندی ہے۔ کسان، مزدور، تنخواہ دار اور چھوٹے موٹے کاروبار سے وابستہ لوگ اس طبقے کے بنائے سماجی قانون اور ریت رواج کے محض غلام ہیں اور کچھ نہیں۔ یہ کمتر مخلوق ہیں۔ اور ان کے دکھ درد کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس کلاس کے لوگ پڑھ لکھ کر اعلیٰ یورپی تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل بھی ہوئے لیکن سماج کی طرف ان کا جابرانہ و تحکمانہ رویہ نہ بدل سکا۔ ماضی میں ان کی صورتحال سامراجی نظام کے انگریز شرفاء کے جیسی ہی تھی، جو تعلیم یافتہ بھی تھے اور کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے، اوڑھنے پہننے میں اعلیٰ تہذیب و اقدار کے مالک بھی، لیکن اپنی کلاس کے احساس برتری میں ایسے پیوستہ کہ افریقی، ایشیائی قوموں کو کمتر مخلوق جانتے اور ان سے ایسا غیر انسانی اور بے رحمانہ سلوک روا رکھتے کہ جانور بھی دیکھیں تو شرما جائیں۔ ایسا ہی رویہ ہمارے ملک کی اشرافیہ کو طاقت کی وراثت کے طور پر ملا۔ اوریہاں ظالم و بے رحم جاگیرداری و سرمایہ داری نظام جڑ پکڑ گیا۔ ان کی پھیلائی لاقانونیت کے خلاف آواز تو اٹھائی جاتی رہی لیکن اس آواز کو ہمیشہ زور، جبر سے خاموش کر وادیا جاتا رہا۔ ایسی صورتحال میں یہ طبقہ تو بدستور استحصالی طبقہ ہی بنا رہا لیکن قانون اور عدالتی نظام پر سے عام لوگوں کا اعتبار جاتا رہا۔ ایک ایسا قانونی نظام جو طاقتور کو سزا اور کمزور کو انصاف دلوانے میں ناکام رہے، وہ قابل اعتبار نہیں رہتا۔

جب سسٹم قابل اعتبار نہ رہے تو لوگ اس کے خلاف اپنی فرسٹریشن کا اظہار احتجاجاً یا انتقاماً قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر کرنے لگتے ہیں۔ ان کے اندر سے سزا کا ڈر اور خوف زائل ہونے لگتا ہے۔ لاقانونی و بے رحمانہ رویوں کی وراثت اسی استحصالی طبقے سے ہوتی ہوئی آج ہمیں ہر طبقے میں دکھائی دے رہی ہے۔ جس کے نتیجے میںآج غریب و متوسط طبقے کے لوگ، اور جہل کی تاریکیوں میں گھرے ہوؤں ہی کی طرح، پڑھے لکھے با شعور لوگ بھی بے رحم ہو چکے ہیں۔ لوگ فطرتاً، ہمدردی و احساس کے جذبات سے عاری ہو رہے ہیں۔ انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کے رویے دوسروں کو کس طور نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کی اس بے حسی کی وجہ ان کی بے ضمیری بھی ہے۔ ضمیرجو اب بچپن کی محض چند پند و نصائح کی مبہم یادوں میں دفن ہونے لگا ہے۔ یا انسان کے لئے اس کی حیثیت اک گمراہ کن آواز سے بڑھ کر اور کچھ نہیں رہی۔ ایک ایسا ڈھکوسلہ جو صرف محروم اور مایوس لوگوں کی بے بسی کا بھرم ہے۔ آج معاشرے میں ایک صاحب عقل اور صاحب فہم انسان بھی زندگی میں جو کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے، اگر وہ اسے مانگ کر نا ملے تو وہ اسے چھین کر لینا چاہتا ہے۔ یہی رویہ اسے ظالم بنا دیتا ہے اور سب سے بڑھ کر بے حس۔ وہ زندگی کی اس حساسیت سے لاتعلق ہو جاتا ہے جس سے آگہی اور شعور پروان چڑھتے ہیں۔ اسی لئے وہ طبقہءاشرافیہ کی طرح اپنی جھوٹی انا، طاقت و امارت کو بڑھانے کے لئے زندگی کے سبھی آدرشوں کو لات مار دیتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات کے حصول کے لئے دوسروں کی زندگی کو جہنم بنانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔

بات محض معاشرے کے بے حس ہونے پر ختم نہیں ہو جاتی۔ بے حسی کا طاعون سماج کی موت کا باعث اس وقت بنتا ہے جب لوگ اپنے غیر انسانی رویوں کو اپنا فخر بنا لیتے ہیں۔ جب اپنے جرم کو جرم سمجھنا یا ماننا چھوڑ دیتے ہیں۔ جب اپنے پر تشدد رویوں پر شرمسار ہونا ترک کر دیتے ہیں۔ ان کے اندر کی بے رحمی انہیں دوسروں کے لئے اچھا سوچنے یا ان سے اچھا سلوک کرنے نہیں دیتی۔ بلکہ وہ دوسروں کو ان کی معمولی غلطیوں پر بھی عبرت ناک سزا دینے کا قصد بنا سوچے سمجھے ہی کر گزرتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں جہاں لوگ مجموعی طور پر بے رحم ہو جائیں کبھی پولیس گردیاں، کبھی وکلاء گردیاں تو کبھی ڈاکٹر گردیاں جنم لیتی ہی رہتی ہیں۔ یہ قانون کی دھجیاں اڑا کر فساد برپا کی جانے والی وہ دہشت گردیاں ہیں جو انسانی بے حسی اور بے رحمی کے نتیجے میں کئی نہتے و بے قصور لوگوں کو کھا جاتی ہیں۔ لیکن یہ خون کسی کی بھی گردن پر نہیں آتا۔

سوال یہ ہے کہ ہماری سرشت کیا اپنے جنم سے ہی ایسی تھی یا اسے ایسا بنایا گیا۔ اس کا جواب ہمیں ان اسباب میں تلاش کرنا چاہئے جو عضلاتی و وراثتی سے کہیں زیادہ سماجی ہیں۔ ہمارا نظام خواہ وہ سیاسی ہے، ریاستی ہے یا قانونی یہ بے ثمر اور غیر فعال ہو چکا ہے۔ اس میں ڈیلیور کرنے کی استعداد بہت کم ہو چکی ہے۔ جب نظام غیر فعال ہو نے لگے تو لوگوں میں مایوسی بڑھتی ہے۔ ان میں احساس محرومی بھی شدت اختیار کرنے لگتا ہے۔ ایسی مایوسی و بے یقینی کی کیفیت کا فائدہ اٹھانے کو کچھ مفاد پرست سامنے آتے ہیں اور لوگوں کے غم و غصے کو اپنا آلہءکار بنا کر اپنے مفادات کا دھندہ کر جاتے ہیں۔ ہمارے نظام کا کھوکھلا پن اسے اتنا بے ثمر بنا چکا ہے کہ ایک عام شہری کی اس ریاست سے وابستگی بہت کمزور ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے ملک کے اداروں کا احترام اس کے دل سے ختم ہو چکا ہے۔ اور وہ کسی وقت بھی کسی موقعہ پر اپنے اس شدید تر احساس محرومی کا اظہار ان اداروں کو نشانہ بنا کر، قانون شکنی کر کے یا باہمی ٹکراؤ سے کرنے لگتا ہے۔

ہماری سماجی، معاشی و معاشرتی زندگی اس قدر کھوکھلی ہو چکی ہے کہ ہمارے ذہن کے کسی تاریک گوشے میں ہر وقت تباہ ہوجانے کا خوف لاحق رہنے لگا ہے۔ عدم تحفظ کی ایک ایسی ہیجانی کیفیت ہے کہ ہر شخص ہمیں، ہمارا، ہماری انا و خودداری یا ہمارے گھر بار اوربچوں کا دشمن دکھائی دینے لگا ہے۔ ہم خود کو ہر طرف سے کسی بھی دشمن کے امکانی حملے کے خوف میں مبتلا پاتے ہیں۔ ایسی ذہنی حالت ہمیں ظالم بھی بنا دیتی ہے اور ردعمل کے لئے بے رحم و بے خوف بھی۔ بلکل ایسے جس طرح آتش زدہ عمارت میں پھنسے ہوئے لوگ باہر نکل کر جان بچانے کی خاطر کسی کو بھی اپنے پاؤں تلے روند ڈالنے سے گریز نہیں کرتے۔

اگر دیکھا جائے تو حالیہ وکلاءگردی یا ماضی میں ہونے والی کئی وکلاءگردیوں کی وجہ وکیلوں کا وہ مخصوص مزاج ہے جو اس شعبے میں آ نے کے بعد انہیں اس شعبے کی وراثت میں ملتا ہے۔ عموماً ایسے نوجوان جو اپنے موقف کا دفاع انتہائی بد زبانی یا چرب زبانی سے کرتے ہیں انہیں ہر طرف سے مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ وکالت کے شعبے میں قسمت آزمائی کر دیکھیں، کامیاب رہیں گے۔ لیکن اس شعبے میں ضرورت سے بہت زیادہ کھپت ہو جانے سے اکثر لوگ شعبے سے منسلک ہونے کے باوجود نیم بے روزگار ہی رہتے ہیں۔ وکالت کے پیشے سے جھوٹ اور جعلسازی کو اس قدر نتھی کر دیا گیا ہے کہ یہ اب معاشرے میں قابل عزت پیشہ نہیں رہا۔ وکلاءکو معاشرے سے وہ عزت بھی نہیں مل پاتی جو ایک نیم حکیم ڈاکٹر کو بھی مل جایا کرتی ہے۔ وکلاء کے متشددانہ رویوں کی ذمہ دار ہمارے قانونی نظام کی وہ کھوکھلی حیثیت بھی ہے جو انصاف کے تقاضے بنا کسی تخصیص یا طبقاتی تفریق سے پورے کر پانے سے قاصر ہے۔ اس کی عملی کمزوریوں اور سقم سے کم از کم وکلاءتو بخوبی واقف ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہیں سزا سے کس طور بچنا ہے۔ جس کی گزشتہ مثالیں خاتون پولیس اہلکار کو یا ایک سول جج کوتھپڑ مار کر بھی انتہائی ہوشیاری و جعلسازی سے خود کو بچا لینے کی ہیں۔

تہذیب یافتہ ملکوں میں تہذیب لانے میں ایک بڑا ہاتھ ان کے معاشروں میں قانون کی بالا دستی سے کا ہے۔ وہ قانون جس کا احترام لوگ اپنی جان سے بھی بڑھ کر تے ہیں۔ وہاں بھی لوگ خواہشات سے مغلوب ہو کر جرم کا ارتکاب کر جاتے ہیں لیکن وہ مجرم قرار پانے پر قانون کو یا منصف کو خریدنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اپنے جرم پر شرمسار ہوکر اپنی سزا قبول کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ملک کا قانون اس قدر مضبوط اور طاقتور ہے کہ وہ ان کی حیثیت یا رتبے کو کسی طور خاطر میں نہ لائے گا۔ قانون کی سزا سے بھی بہت پہلے وہ عوامی ردعمل کی صورت اپنے لئے نفرتوں کے ممکنہ اظہار سے خوف ذدہ ہو جاتے ہیں۔ ایسی کئی مثالیں ہیں جن میں لوگوں نے اپنی پشیمانی کے بوجھ تلے دبنے کی بجائے خود اپنے ہاتھوں اپنی جان کا خاتمہ کر لیا۔ جنوبی کوریا میں مشہور کمپنی جس کی سالانہ آمدن 19ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے کے وائس چئیرمین نے دو کروڑ ڈالر کی کرپشن کے الزام پر جرم ثابت ہونے سے بھی پہلے خود کشی کر لی۔ اور محض چند برس کی سزا یا عوام کے ردعمل کی پشیمانی کا تصور بھی اس کے لئے ضمیر کی وہ سزا بن کر سامنے آیا کہ اس نے اپنی باقی ماندہ زندگی کو اس زلت میں گزارنا گوارا نہ کیا۔ چین کے سابق جنرل زینگ ینگ یا پیرو کے سابق صدر ایلن گارشیا بھی جانتے تھے کہ ان پر لگے الزامات کو عدالت میں کبھی جھوٹا ثابت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہاں جھوٹی گواہیوں یا منصفوں کو خریدنے کا کلچر ممکن نہیں اسی لئے انہوں نے بھی خود کشی کر کے اپنی جان کا خاتمہ اپنے ہاتھوں کر لیا۔ یہ ہے قانون کی وہ عمل داری جس کے نام سے بھی بڑے بڑے لوگ کانپ جایا کرتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ہمارے یہاں ایک تو قانون اور منصف کو خریدنا بہت آسان ہے اور دوسرا جرم ثابت ہوجانے پر بھی شرمسار ہونے کا رواج بلکل نہیں۔

ہمارے یہاں افراد معاشرہ کے قانون شکن یا بے حس بننے کا سبب ہمارے گھر وں میں کمزور پڑتا تربیتی نظام بھی ہے۔ جہاں بچے کو مہذب اقدار سکھانے یا صلہءرحمی و تحمل و بردباری کا سبق دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی۔ بچے کا جھگڑالو ہونا یا کسی بات پر طیش میں آجانا عموماً اس کا خاندانی و وراثتی نقص قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہی بچے بڑے ہو کر اس بے رحم ہجوم میں ڈھل جاتے ہیں جو کبھی مشال تو کبھی منیب و مغیث جیسے بے قصوروں کی بوٹیاں تک نوچ لیتا ہے۔ یا وہ ہسپتالوں کی انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں پڑے، زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا لوگوں پر بھی رحم نہیں کھاتا۔

ہمارا نظام تعلیم ہمیں لکھنے پڑھنے کے سوا کچھ سکھا نہیں پاتا۔ یہاں مضمون سازی اور امتحان سازی پر ادارے اپنی جان جوکھم میں ڈالے رکھتے ہیں لیکن جب بات کردار سازی کی آتی ہے تو مکمل خاموشی سادھ لی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک خاص تصور حیات اور فعال زندگی سے ہم نابلد ہی رہ جاتے ہیں۔ وہ ہمیں ہمارے اس خوف کا مقابلہ کرنا بھی نہیں سکھاتے کہ جو ہمیں پر تششدد اور بے رحم رد عمل پر اکساتا ہے۔ جو ہماری خواہشوں اور خوابوں کو ایک مہذب روپ دینے کے آڑے آتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں قانون اور آئین کے احترام کی افادیت بتائی ہی نہیں جاتی۔ نوجوانوں کو اسباق رٹانے کے علاوہ ایک مفید، باضمیر اور قابل احترام شہری بننے میں مدد نہیں کی جاتی۔ اسی لئے انسان کے رویوں سے جہالت اعلیٰ ڈگری لینے کے باوجود بھی نہیں جا پاتی۔ ثانوی خواہشات کا ہجوم انسان کی روح کو کھا جاتا۔ اور وہ بے حس و بے لگام ہو کر معاشرے کا آزار بن کے رہ جاتا ہے۔ کبھی اپنے ضمیر کی آواز نہیں سن پاتا وہ کبھی بھی خود احتسابی کے عمل سے خود کو گزرنے نہیں دیتا۔

معاشرے کو اگر غیر انسانی معاشرے میں ڈھلنے سے روکنا ہے تو ملک کے تعلیمی نظام میں تربیتی نظام کو خاص اہمیت دلوانا ضروری ہے۔ ریاست میں قانون و آئین کی شفاف اور حقیقی عمل داری کا نفاذ بھی بہت ضروری ہے۔ اور حکومت کو غربت، بے روزگاری و محتاجی کو قابو میں کرنا ہو گا تاکہ لوگوں کی اپنی ریاست سے وابستگی مضبوط ہو سکے اور ان کے دلوں میں اپنی ریاست اور اس کے قانون کا احترام بحال ہو سکے۔ اور سب سے بڑھ کر اس انسانی معاشرے کے بے رحمی و بربریت کی طرف تیزی سے بڑھتے قدم روکے جا سکیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20