جان کی امان پاؤں تو۔۔۔۔۔۔۔۔ رقیہ اکبر

0

یہ غالبا آج سے کوئی دس پندرہ سال پہلے کا قصہ ہے جب کراچی میں ایک بپھرے ہجوم نے ڈکیتی کرنے والے دو ڈاکوؤں کو زندہ جلا دیا تھا (یا شاید قتل کرنے کے بعد جلایا تھا) اخبارات میں جلتے ڈاکوؤں کی تصاویر چھپی تھیں تو کئی دن تک اس بھڑکتی آگ کے شعلے روح کو جلاتے رہے۔۔۔

پھر ایک مشتعل ہجوم نے سیالکوٹ میں دو بھائیوں کو جس بےرحمی اور بےدردی سے قتل کر دیا مہینوں اس دردناک منظر نے دل و دماغ کو اذیت میں مبتلا رکھا۔
مشال کو ذہنی بیماروں کے انبوہ نے ابدی نیند سلا دیا۔۔۔
چودہ سالہ معصوم ریحان جو “اپنا ٹائم آئے گا” جیسی سہانی امیدوں پہ زندہ تھا کو بھی ایک ہجوم نے بےدردی سے قتل کر دیا۔
گل سمانہ کو ایک ہجوم نے بدکار ہونے کا سرٹیفکیٹ تھما کر ہڈیاں توڑ ڈالیں۔۔
وکلاء کے ہجوم نے چند ڈاکٹروں کے رویئے سے نالاں ہو کر زندگی دینے والے ادارے پہ حملہ کر دیا اور چار لوگوں کی جان لے لی۔
متشدد سوچ کے ایک ہجوم نے اٹک کی ڈپٹی کمشنر پہ تلواریں سونت لیں۔۔۔
اور اب لسانی بنیادوں پہ اکٹھے ہونے والے طلباء کے ایک ہجوم نے اپنے ہی ساتھی طالب علم کو ابدی نیند سلا دیا۔۔۔

پئے در پئے واقعات نے تو گویا حواس مختل کر دیئے۔۔۔ قلم تھکنے لگے ہیں نوحے لکھتے لکھتے۔۔ اب تو لفظوں سے خون رسنا شروع ہو گیا ہے۔۔

اخلاقی زوال اور عدم برداشت کے ناسور کی زہریلی جڑیں سرطان کے مرض کی طرح تمام اخلاقی قدروں کو اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے۔
اب یہ زخم جسموں سے آگے روحوں کو چھلنی کر رہے ہیں۔۔۔کہاں جا رہے ہیں ہم۔۔۔
کیا کر رہے ہیں ہم؟

ڈپٹی کمشنر کے چہرے پہ بےبسی مانو اندر ہی اندر کاٹ رہی ہے۔۔۔
اف کتنا خوف تھا اس کے چہرے پہ۔۔ کیا سوچ رہی ہو گی وہ کہ کیا یہ مشتعل ہجوم مجھے زندہ گھر واپس جانے دے گا اپنے بیٹے محمد کے پاس یا۔۔۔۔۔
کیا (بظاہر) محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان عاشقوں کو مطمئن کر پاوں گی یا خدانخواستہ اپنے محمد کو دوبارہ دیکھنے سے بھی محروم ہو جاوں گی۔۔

سمجھ نہیں آرہا کس کس کو روئیں۔۔ کس کس رویئے کی مذمت کریں۔۔
رویوں کی بدصورتی پہ بات کریں یا لوگوں کے اداروں پہ عدم اطمینان کی؟
یہ ہجوم کا انتقام ایک سونامی کی طرح آگے بڑھ رہا ہے اس کے آگے بند نہ باندھا گیا تو۔۔۔ میرے منہ میں خاک
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

ایسا نہیں کہ ڈاکو کو کھلا چھوڑ دینا درست۔۔
ایسا نہیں کہ چور کی چوری پہ آنکھیں بند کر لی جائیں۔۔۔
ایسا نہیں کہ ڈاکٹرز کے غلط رویوں پہ چپ سادھ لی جائے
اور ایسا بھی نہیں کہ شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلی چھوٹ مل جائے مگر۔۔۔۔۔

اس سب کا فیصلہ کرنے والے میں اور آپ کون ہیں؟
کس نے تمہیں چور کو سزا دینے کا اختیار دیا۔۔؟
کس لئے اپنی پاک دامنی کیلئے کیریکٹر سرٹیفکیٹ میں تم سے لوں؟
کس نے کہا کہ مجھے اپنے ایمان کا سرٹیفکیٹ بھی تم سے لینا ہو گا۔۔
کس نے حق دیا تمہیں کہ میرے ایمان پہ فتوی لگاو۔۔؟
ہو کون تم۔۔۔؟
پہلے تم تو دو اپنے صاحب ایمان ہونے کا ثبوت۔۔

اگر تمہارے خیال سے محمد نام رکھنے سے کوئی مسلمان نہیں ہو جاتا تو داڑھی رکھنے سے بھی کوئی مسلمانیت کا دعوی کیسے کر سکتا ہے؟

سچ کہا تم نے کہ مرزا کا نام بھی “احمد” تھا مگر وہ ہے تو کافر

تو سنو۔۔۔

ابو جہل کے چہرے پہ بھی تو تمہاری طرح داڑھی تھی مگر تھا تو وہ بھی کافر۔۔
کیوں نہ پہلے تمہیں کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اپنے صاحب ایمان ہونے کا، عاشق رسول ہونے کا ثبوت پیش کرو۔۔۔

یہاں تک تو بات ٹھیک ہے ہم اتنا ہی کہہ سکتے ہیں مگر یہ سب بہرحال مسائل کا حل تو نہیں۔۔

ہمیں ان سب مشکلات کے تدارک کیلئے برائی کی اصل جڑ کو تلاشنا ہو گا۔۔ وہ کون سے محرکات ہیں جو اس صورتحال کا سبب بنتے ہیں؟

میرے خیال میں اس کے تین اہم محرکات ہیں۔ اول شدت پسندانہ سوچ اور رویئے دوئم عدم برداشت اور سوئم؟
اس پہ ہم سب سے آخر میں بات کریں گے۔

بےشک اس بات کی اشد ضرورت ہے شدت پسندانہ رویئے کی حوصلہ شکنی کی جائے چاہے کسی بھی طرف سے ہو۔

جہاں مذہبی شدت پسندی عروج پہ ہے وہیں لبرل شدت پسندی بھی پورے آب و تاب پہ ہے۔۔۔جو جذبات بھڑکانے اور بھڑکتے جذبوں پہ تیلی کا کام کرتی ہے۔ایسے لوگ اللہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام پر اتنے رکیک حملے کرتے ہیں کہ سننے والا مشتعل ہو جائے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر طرح کی شدت پسندی کی راہ روکی جائے۔

یہ رویئے دراصل وہ زہریلے پودے ہیں جو نہ صرف کھانے والے کو موت کی نیند سلاتے ہیں بلکہ جس زمین پہ اگتے ہیں اسے بھی ہمیشہ کیلئے زہرآلود کر دیتے ہیں اس لئے ان زہریلے پودوں کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا جانا وقت کی ضرورت ہے ورنہ خیر اور بھلائی کی توقع عبث ہے۔

اور دوسری اہم ضرورت لوگوں کو صبر و برداشت کی تربیت دینا ہے جو کہ ایک طویل اور کٹھن سرگرمی ہے مگر ناممکن بہرحال نہیں۔۔ اس کیلئے تمام تر تربیتی مراکز پہ فوکس کرنا ہو گا۔ گھر سے لیکر درس گاہوں تک اور درس گاہوں سے لیکر عملی میدان کے ہر شعبے اور ہر سرگرمی کو اس مقصد کیلئے استعمال کرنا ہوگا۔۔۔

میڈیا پہ چیک اینڈ بیلنس رکھنا ہو گا اشتعال انگیز اور نفرتیں پھیلانے والے مواد کی تشہیر کو روکنا ہو گا۔ ہر شخص کو ہر بات کہنے کی اجازت آزادئ اظہار نہیں ہے۔ اس کیلئے جو پیرامیٹر طئے کئے گئے ہیں ان پہ سختی سے عمل کرایا جائے۔

فنی اور ثقافتی پروگرام، انٹرٹینمنٹ کے بہتر مواقع مثبت رویوں کو پروان چڑھانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ان سب باتوں پہ توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

لیکن اس سب سے زیادہ جو بات اور رویہ ہجوم کے انتقام کا سبب ہے بڑی وہ یہ کہ عوام کا اداروں پر بھروسہ بالکل ختم ہو چکا ہے۔ ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ قانونی اور سیدھے راستے پہ چل کے اسے انصاف نہیں ملے گا۔۔ وہ اپنی ساری زندگی کی جمع پونجی بھی گنوائے گا اور زندگی بھی۔۔ ایڑیاں رگڑ رگڑ کے مر جائے گا لیکن انصاف نہیں ملے گا۔

اور بدقسمتی سے اعلی عدالتوں کی اب تک کی کارکردگی خود ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے۔ تحریک انصاف جو انصاف کا نعرہ لیکر میدان میں اتری تھی اب تک اس میدان میں زیرو کارکردگی کے پوائنٹ پر کھڑی ہے۔ سانحہ ساہیوال، پولیس کسٹڈی میں صلاح الدین کا بیہمانہ قتل اور ایسے کئی دیگر واقعات نے انصاف فراہم کرنے والے دونوں اداروں پولیس اور عدلیہ بدنام کر کے رکھ دیا اب رہی سہی کسر 11 دسمبر کی وکلاء گردی نے پوری کر دی۔۔

میاں بردران کی لندن روانگی اور اب زرداری کی ضمانت، ان واقعات نےثابت کر دیا کہ ’انصاف‘ امراء کے لئے ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ خود فیصلے کرنے نکل پڑتے ہیں۔

اور پھر نتائج ہمارے سامنے ہیں۔

اب اگر ہجوم کے سونامی کو روکنا ہے تو اداروں پر اعتماد بحال کیجئے۔۔ گناہ گار کو سزا دیجئے تاکہ ہجوم کے انتقام سے بچا جا سکے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20