اسٹیتھو اسکوپ بمقابلہ کالا کوٹ —– غزالہ خالد

0

آج کا موضوع تو وہی ہے جو آج کل ہر پاکستانی کی زبان پر ہے اور پاکستان تو کیا پاکستان سے باہر بھی ہر طرف جس کے چرچے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ کہ ان چرچوں میں کوئی قابل ستائش بات نہیں بلکہ یہ واقعہ ہم سب پاکستانیوں کے لئے باعث شرمندگی ہے۔

دو روز قبل مسیحاؤں اور وکیلوں کا جھگڑا ہوا یعنی ہمارے معاشرے کے دو انتہائی پڑھے لکھے طبقے جو معزز کہلائے جاتے ہیں، جاہلوں کو مات دیتے نظر آئے۔

پی آئی سی پر وکلا کےحملے کی خبر آئی توڑ پھوڑ کی وڈیوز نشر ہوئیں بہت افسوس ہوا مزید تفصیلات سے ہم جیسے بے خبروں کو پتہ چلا کہ پی آئی سی پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا مخفف ہے تو یہ سن کر مزید افسوس ہوا کیونکہ ویسے تو ہر مریض ہی اسپیشل نگہداشت کا حقدار ہوتا ہے لیکن دل کے مریضوں کو خصوصاً شور شرابے سے دور رکھنا اور فوری طبی امداد کی ضرورت دوسرے امراض میں مبتلا مریضوں سے زیادہ ہوتی ہے۔

جھگڑے کی وجہ جو اب تک کی خبروں سے معلوم ہوئی وہ مختصراً یہ ہے کہ

“کچھ دن پہلے ایک وکیل صاحب بیمار ہوئے جنہیں پی آئی سی لیجایا گیا وہاں کسی بات پر ساتھی وکلاء کی چند ڈاکٹرز سے تو تو میں میں ہوگئی جس کی شکایت بھی کی گئی لیکن وکلاء کے مطابق چونکہ ان کی شکایت پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی اسلئے انہوں نے مجبوراََ یہ فیصلہ کیا کہ اپنی بے عزتی کا خود بدلہ لیا جائے لہٰذا ہزاروں وکلاء یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ہوگئے اور سب نے ملکر ہسپتال پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں سات کروڑ روپے کا نقصان ہوا اور سب سے زیادہ افسوس یہ کہ چند قیمتی جانیں بھی قربان ہوگئیں”

یہ تفصیل میڈیا سے ہی پتہ چلی اصل واقعہ کیا تھا اور کس کی غلطی تھی یہ ہم نہیں جانتے بس یہ ہانڈی کچھ دن سے تیز آنچ پر پک رہی تھی جب اس میں ابال آیا تو سب کو پتہ چل گیا۔

میرا اس واقعے کو زیر بحث لانے کا مقصد صحیح و غلط کا فیصلہ کرنا نہیں بلکہ اس واقعے کے نتیجے میں جو مثبت سوچ میرے ذہن میں آئی اسے آپ لوگوں تک پہنچانا ہے جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہی ہونگے کہ مسلمان وہ جو شر میں سے خیر تلاش کرے تو میرے پیارے قارئین “مبارک ہو” اس واقعے کے نتیجے میں دو خوشخبریاں میں آپ لوگوں کو سنانا چاہوں گی پہلی بطور ملت آپ کو نوید ہو کہ نوجوان کئی سال بعد بیدار ہو گئے ہیں، وکیلوں کو ایک آواز پر لبیک کہتا ہوا دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ قومی یک جہتی کی چنگاری بھی ابھی باقی ہے جو کسی بھی وقت بھڑک سکتی ہے۔

دوسری خوشخبری ادب کے ان چاہنے والوں کے لئے جو نوجوان نسل کی ادب بیزاری سے نا امید ہوکر اس عہد کو ادبی لحاظ سے بانجھ کہنے ہی والے تھےاور قاریین کے حوالے سے تو بالکل ہی مایوس ہوچکے تھے انہیں بھی مبارک ہو کہ جناب ایسی بھی بات نہیں تھی دیکھ لیں آج بھی ایک شعر نوجوانوں میں ایسی آگ لگا سکتا ہے جو کسی طور بجھائے نہ بجھے، شعر کچھ یوں تھا کہ

“سنا ہے ان کے اشکوں سے بجھی ہے پیاس صحرا کی
جو کہتے تھے ہم پتھر ہیں۔ ہمیں رونا نہیں آتا”

جیسا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہی ہوگا کہ مندرجہ بالا شعر وہ تاریخی شعر ہے کہ جس کی وجہ سے یہ ہنگامہ “ہنگامہ خیز” بنا اور ہم جو یہ سمجھتے تھے کہ آجکل کے نوجوانوں کو شعرو شاعری سے کوئی دلچسپی نہیں رہی دوبارہ جی اٹھے یعنی
“ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی”

یہ ایک حقیقت ہے کہ اس مٹی کو نم کرنے میں سوشل میڈیا کا بڑا اہم کردار ہے نہ یہ شعر سوشل میڈیا پر گردش کرتا اور نہ ہی یہ مٹی زر خیز ہوتی بلکہ یہ مٹی سوشل میڈیا کی وجہ سے جتنی زرخیز ہوئی اتنا تو اسے ہونا بھی نہیں چاہیے تھا ایسی زرخیزی جس میں خون بھی شامل ہو جائے فکر مندی کا باعث ہو تی ہے۔

اس پوری صورتحال کے بعد مجھے خیال آیا کہ ذرا ایک لمحے کو سوچیں کے اگر فیض احمد فیض اور شاعر انقلاب ” حبیب جالب” اس سوشل میڈیا کے دور میں ہوتے تو کیا ہوتا؟ میرا تو سوچ کر ہی دل لرز اٹھا کہ
” ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا”
سنکر گھر سے نکلنے والے جب مزید یہ بھی سنتے کہ
” اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو”
تو بھلا کیا ہوتا ؟
اور فیض کے کہنے پر جب تاج اچھالے جاتے اور بجلی کڑ کڑ کڑکتی اور دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکتی اور ظلم وستم کے کوہ گراں روئی کی طرح اڑتے تو کیا منظر ہوتا استغفرُللہ۔

شکر ہے کہ اس زمانے میں سوشل میڈیا نہیں تھا ورنہ پاکستان کی تاریخ کچھ اور ہی ہوتی شاید لیڈر اپنی طبعی موت کے بعد سچ مچ مر گئے ہوتے آج تک ژندہ نہ ہوتے یا شاید آج ہم ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لینے کے لیے اتنے پریشان نہ ہوتے اور یہ بھی اچھا ہی ہے کہ آج کے دور میں فیض اور جالب جیسے شاعر نہیں ورنہ آج کل کے جذباتی نوجوان تو سب کام کاج چھوڑ کر ہر وقت گتھم گتھا ہی نظر آتے، سچ کہتے ہیں ہر کام میں اللہ کی مصلحت ہوتی ہے۔

لیکن چلیں دوبارہ شر سے خیر کی طرف لوٹتے ہیں اتنا تو معلوم ہوا کہ یکجہتی بھی باقی ہے اور شاعری کا ذوق بھی زندہ ہے، جوش بھی ہے اور ولولہ بھی، طاقت بھی ہے اور ہمت بھی، ضرورت ہے تو صرف اور صرف راہنما کی جو نوجوانوں کے ان سب ہتھیاروں کو درست سمت میں استعمال کروانے کا ہنر جانتا ہو۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: