عمران خان کا طوطی بولتا ہے ابھی —– سعدیہ کیانی

0

مختلف بااثر حلقوں سے اطلاعات مل رہی ہیں کہ ان ہاوس تبدیلی کے لئے کام کیا جارہا ہے اور آئندہ ماہ یا چند ہفتوں میں ایسے حالات بنا دیئے جائیں گے کہ عمران خان کی جگہ پارٹی سے کسی اہم شخصیت کو وزیراعظم کا قلمدان سونپا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل کے میں ذاتی رائے دوں یا تبصرہ کروں کچھ مزید تفصیل اور تبدیلی کی مختلف صورتوں پر لکھ دوں۔

ایک حلقے میں یہ بات چل رہی ہے کہ آرمی چیف کی تقرری کا بےہنگم نوٹس اور پھر چیف سمیت سارے ادارے کی سبکی کے سبب عمران کو ہٹانے پر غور کیا جارہا۔ یہ لوگ کہتے ہیں ادارے کے وقار پہ حرف آنے پہ نتیجتا عمران خان کو عہدے سے ہٹایا جائے گا۔

دوسری بات  سننے میں آرہی ہے کہ عمران خان کے کیمپ سے کچھ لوگ ایڑیاں اٹھا اٹھا ان ہاوس تبدیلی کی راہ تک رہے ہیں اور اپنی طرف سے اس کے لئے “دیا گیا کام”، “ٹاسک” مکمل کرچکے ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ایسے لوگ کون ہیں جن کے مفادات کا تحفظ ہمیشہ ہوتا رہا۔

ایک گروپ جو خود کو تھینک ٹینک ثابت کرنے پہ تلا ہے، کا دعوی ہے کہ عدلیہ کا نوٹیفیکشن پر آرمی چیف کی تقرری پر نوٹس لینا خود عمران خان کی منشا تھا۔ اب آرمی چیف کی پوزیشن پہلے جیسی نہیں اور وہ دباو میں آگئے ہیں۔ ان کا خیال ہے عمران خان نے یہ سب کمال چالاکی سے کیا اب آئیندہ بھی کوئی آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع چاہنے سے پہلے بیسیوں بار سوچے گا۔ یہاں میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ جو بھی ہوا اس کا ایک مقصد تو یقینا یہ ایکسٹنشن والی کہانی کا خاتمہ تھا۔ ایک شخص اپنی مدت ملازمت مکمل کرے اور ریٹائر ہوکر گھر جائے یہی قانون ہے تو پھر اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ جن فوجی افسران نے سالہا سال محنت کی ان کی ترقی کا حق برقرار رہے۔

یاد رکھنا چاہیے کہ آرمی سٹاف کو یکساں ٹریننگ ملتی ہے۔ ہر آنے والا اسی طرح قابل ہوتا ہے جیسے جانے والا۔ مثال لیجئے۔ جنرل راحیل کے جانے کے وقت بھی ایکسٹنشن کا فساد کھڑا ہوا اور بالآخر جنرل راحیل کے جانے بعد ان کی ٹیم کے اکثر لوگوں کو بھی رخصت کردیا گیا۔اس سے خود فوج کو نقصان ہوتا ہے۔اس لئے حرج نہیں کہ عدالت یا پارلیمینٹ کوئی ایسا قانون پاس کردیتی ہے یا ایسی ہدایات آجائیں کہ جس کے مطابق ماسوائے حالت جنگ یا ایمرجنسی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کی جاسکتی اور یہ توسیع بھی محض چند ماہ یا ہفتوں پر مشتمل ہو جب تک کہ حالات مناسب ہوجائیں۔

الغرض فوجی ڈسپلن کو قائم رکھنے کی حتی الامکان کوشش کی جائے اور سیاستدانوں کو فوجی ڈسپلن میں مداخلت سے روکا جائے۔

اب بات کرتے ہیں اس خبر کی کہ کہیں ایک پلان بن رہا ہے عمران خان کو اگلے ماہ یا چند ہفتوں بعد تبدیل کرکے شاہ محمود قریشی یا میاں سومرو کو وزیراعظم کے طور پر سامنے لایا جائے۔ یہ بات درست ہے کہ ایسے بہت سارے پلین بن رہے ہیں بنتے رہیں گے عمران خان کو مائنس کیا جائے لیکن اس نا چیز کا خیال ہے کہ مائنس عمران خان کا مطلب ہے مائنس پی ٹی آئی۔ جب تک پی ٹی آئی کی حکومت ہے عمران خان ہی وزیر اعظم رہیں گے اور یہ ہرگز میری خواہش نہیں بلکہ حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے میرا ماننا ہے کہ ابھی عمران خان کا کرزما ختم نہیں ہوا۔ ابھی لوگ عمران خان سے ویسے مایوس نہیں ہوئے کہ ہاتھ اٹھادیں یا حکومت گرانے دیں۔ بلکہ ابھی بھی بہت سے بلنڈر مارے جائیں گے اور عوام عمران خان کا دفاع کرتے نظر آئیں گے۔اپنے لیڈر کو درست ثابت کرنے کے لئے لوگ طرح طرح کی دلیلیں پیش کرتے رہیں گے۔

پہلے بھی کئی بار لکھ چکی ہوں کہ صدر عارف علوی اور عمران خان کے درمیان ایک ایسی ہم آہنگی ہے کہ عمران خان کی ابرو بھی ہلے گی تو عارف علوی سمجھ جائیں گے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ ایک ایسے منجھے ہوئے سیاستدان کو صدارت کی کرسی پر بٹھا کر (بعض لوگوں کے خیال میں ضائع کرنا) کے پیچھے یقینا خان صاحب کی کوئی گہری سوچ ہوگی جیسے کہ بحرانی کیفیت میں کوئی سخت فیصلہ لینا۔ عمران خان اور آرمی چیف کے آمنے سامنے آنے کی صورت میں صدر کے پاس آپشن ہوگا کہ چیف کو دباو میں لاسکتے ہیں۔ اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں حکومت گرا سکتے ہیں یا کچھ بھی ایسا کرسکتے ہیں جو عمران خان چاہے۔ تو سمجھنا چاہیے کہ مائنس عمران فارمولا کارآمد نہیں۔ عمران خان کا طوطی ابھی بولتا ہے اور اگلے سال ڈیڑھ تک تو بولتا نظر آتا ہے۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق میں نے عدلیہ کے نوٹس لینے سے بھی پہلے لکھ دیا تھا کہ یہ توسیع اول تو نظر نہیں آتی لیکن اگر ہوتی ہے تو زیادہ سے زیادہ آٹھ ماہ تک ہی دی جائے گی۔ اس کے بعد کیا ہوگا؟

بہت سارے لوگ اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ عمران خان بیوقوف ہے۔ لیکن مجھے ایسا نہیں لگتا۔میں پچھلے سال لکھ چکی ہوں کہ میں آرمی چیف اور عمران خان کو آمنے سامنے دیکھ رہی ہوں۔اس وقت آرمی چیف کی پوزیشن کمزور ہے۔ ادارے میں بہت سی آوازیں آہستہ آہستہ بلند ہورہی ہیں۔

میرا  خیال ہے کہ آرمی چیف جنرل باوجود چند ماہ بعد خود ریزائن دیں گے یا مدت توسیع کے مکمل ہوتے ہی ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیں گے۔ اس وقت فوج میں بڑی تعداد اسی اقدام کی ہامی نظر آتی ہےاور یہی مناسب بھی ہے۔

عدلیہ کے اچھے دن نظر نہیں آتے۔ عنقریب احتساب کا جھاڑو پھرنے جارہا ہے۔ پولیس کا ادارہ البتہ بہتری کی طرف جائے گا اور آہستہ آہستہ حالات بہتر ہوں گے۔

گزشتہ برس لکھا تھا کہ بیرون ملک ملازمت کی ونڈو کھلنے جارہی ہے تو آنے والے چند ماہ میں امید ہے کہ اچھی خبریں ملیں گی۔

آخر میں پھر واضح کردوں کہ میری سمجھ کے مطابق اب بھی عمران خان کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہے گا اور آنے والے دنوں میں خان مزید سخت فیصلے کرتا نظر آئے گا۔

بہت کچھ لکھنا چاہتی تھی لیکن گزشتہ روز وکلاء کی غنڈہ گردی کے مناظر دیکھ کر طبیعت بوجھل ہوگئی ہے۔ ہسپتال پر حملہ تو دشمن بھی نہیں کرتے تو ان شیطان کے چیلوں نے ایسا کرنے کی جرات کہاں سے پکڑی؟ میں دیکھنا چاہوں گی کہ جب میرے رب تعالی کی لاٹھی چلے گی تو یہ بدمعاش وکلاء کہاں جائیں گے۔ نہ زمین پناہ دے گی اور نہ ہی آسمان سے امداد آئے گی۔

اس ملک کے ساتھ جس جس نے ناانصافی کی وہ عبرت ناک انجام سے دوچار ہوگا۔ ان شاءاللہ۔

 

 

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: