جب انسانیت شرما گئی —– اسما ظفر

0

سنا تھا تعلیم شعور دیتی ہے حیوان کو انسان بنا دیتی ہے اور ایسا ہوتا بھی ہے اس میں کوئی شک نہیں جتنی باشعور قومیں ہیں انکی پہلی ترجیح تعلیم ہوتی ہے تاکہ انکی آنے والی نسلیں سدھر سکیں۔
پھر لاہور میں کیا ہوا؟ کیا وہ جتھا جس نے اسپتالوں پر حملہ کیا وہ غیر تعلیم یافتہ اور جاہل اجڈ تھے؟
کیا وہ ڈاکٹر جو بینچ پر کھڑا ہوکر بھانڈ میراثیوں کے انداز میں تقریر کررہا تھا وہ میڈیکل کالج بنا تعلیمی مدارج طے کیئے پہنچ گیا؟

اتنی بربریت اتنا ظلم کہ اسپتال پر حملہ کردیا اسپتال وہ جگہ ہے جہاں شدید جنگ کی صورت میں دشمن بھی حملہ نہیں کرتا آپ تو اپنے تھے کیا وجہ ایک چھوٹی سی طنزیہ وڈیو تھی؟ اور کیا وہ اتنی بڑی وجہ تھی کہ اسکا اتنا شدید ردعمل ہوا؟ یہ سارے سوال ہر ذہن میں ابھر رہے ہیں اور جواب شفاف تحقیق سے ممکن ہے جس کی ہمارے ملک میں کم از کم امید بے کار ہے۔

سوچنے کی بات اب یہ ہے کہ کیا ہمارے تعلیمی ادارے اتنے غیر معیاری ہوگئے ہیں کہ وہ وکیل ڈاکٹرز اور انجینئرز تو بنا رہے ہیں مگر ایک انسان کیسے معاشرے میں رہتا ہے یہ بتانا بھول گئے ہیں اس میں صرف تعلیمی ادارے ہی نہیں بحثیت والدین شاید ہم بھی برابر کے قصور وار ہیں ہم بچوں کی دنیاوی تعیم کے لیئے لاکھوں روپیہ خرچ کرتے ہیں مگر دینی تعلیم کے لیئے کیا کرتے ہیں؟ کیا صرف قرآن پڑھا دینا ہی دینی تعلیم ہے؟ نہیں بالکل نہیں دین ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ہمیں اپنی زندگی کیسے گزارنی ہے ایک ایک چیز کی وضاحت بہترین طریقے سے کردی گئی ہے چودہ سو سال پہلے ہی بلکہ عملی نمونہ سیرت طیبہ ہے ہمارے سامنے یعنی تھیوری اور پریکٹیکل دونوں سے وضاحت کردی مالک کائنات نے ہم تو اتنے خوش نصیب ہیں کہ ایسے دین کے پیروکار ہیں جہاں ابہام ہے ہی نہیں کسی شے میں سب کھول کھول کر تفصیل سے بتادیا گیا ہے اور درج بھی کردیا گیا ہے کلام پاک میں۔

نبی پاک نے فرمایا “کہ اے لوگوں بھول نا جانا میرے بعد یہ کتاب تمھاری رہنمائی کے لیئے موجود ہے۔”
ہمارے دین کی بنیاد ہی درس انسانیت پر ہے اور ہمارے نبی پاک محسن انسانیت کہلاتے ہیں ایسے دین کے پیروکار ہوکر بھی ایسی انسانیت سوز حرکت انتہائی شرمناک ہے۔
آخر مسئلہ ہے کہاں جو ایسے واقعات تواتر سے ہوتے ہیں؟
مسئلہ اصل میں یہ ہے میری دانست میں کہ سلیبس رٹ کر امتحان دیئے جارہے ہیں ڈگریاں مل رہی ہیں مگر شعور نہیں۔

پھر کہاں سے ملے گا شعور یہ بات سوال طلب ہے اور جواب ہے ایسی دینی تعلیم جو آیات کے رٹنے کے لیئے نہیں انہیں سمجھنے کے لیئے دی جائے ہم میں سے کتنے ہیں جو قرآن پڑھتے وقت ترجمے پر توجہ دیتے ہیں؟ یا وقت نکال کر کبھی تفسیر پڑھنے اور سمجھنے کی زحمت گوارہ کرتے ہیں ؟ یا سب چھوڑیں کبھی اپنے قیمتی وقت میں سے چند گھنٹے نکال کر اہل علم کی محافل میں شرکت ہی کر لیں درس قرآن کی کسی مجلس میں ہی بیٹھ جائیں۔ کیا اتنا مشکل کام ہے یہ ؟ چلیں مان لیا نہیں ہے وقت مگر کیا بطور والدین بھی ہم اپنی ذمہ داری استاد یا مولوی پر چھوڑ دیں تو چلے گا؟ نہیں بالکل نہیں تہذیب اور شائستگی بچہ اپنے گھر اور والدین سے سیکھتا ہے باہر کی فضا بے شک ناگوار ہو لیکن بچپن کی تربیت اچھی ہو تو انسان پر ان سب چیزوں کا اثر بہت کم ہوتا ہے اور ہو بھی تو جلد راہ راست پر آجاتا ہے۔

اب تو سوچ لیں خدارا کہ کوتاہی کہاں ہورہی ہے ہم سے جو ہم نے اتنے سارے ابوجہل تیار کر ڈالے ہیں جنکے پاس علم ہے پر عمل کے نام پر کچھ نہیں ہے بحثیت والدین اور بحثیت استاد ہم ناکام ہورہے ہیں اس کا ثبوت کل دیکھ لیا کئی ڈگری یافتہ کالے کوٹ والوں نے ایسی بربریت مچائی کہ ایک جنگلی جانور بھی شرمندہ ہوجائے بیمار اور لاچار مریضوں نے کیا بگاڑا تھا جو انہیں اذیت دی اور کئی تو جان سے ہی چلے گئے۔

آخر میں بس ایک سوال جو کیا اس پر تھوڑی سی بھی شرم نہیں آئی؟ اگر آئی تب بھی دھتکار اور اگر نہیں آئی تب بھی کیونکہ شرمندہ ہونے والا شاید راہ پر آسکتا ہے مگر ڈھیٹ اور ہٹ دھرم کا کوئی علاج نہیں افسوس صد افسوس ہم قوم نہیں ہجوم بن گئے ہیں ایک ایسا ہجوم جس میں ہر شخص بس اپنے مفاد کا سوچ رہا ہے اور اس بحرانی کیفیت میں وہ کیا کررہا ہے کیوں کر رہا ہے اسے قطعاً شعور نہیں وہ دین جو درس انسانیت دیتا ہے شرم آرہی سوچتے ہوئے کہ ہم سب اسکے پیروکار ہیں انسان ہونا ہمارا انتخاب نہیں قدرت کی عطا ہے لیکن اپنے اندر انسانیت قائم رکھنا ہمارا انتخاب ہے۔

تم ڈھونڈھتے رہو جہاں میں خدا کو
ہمیں تو انسانوں میں انسانیت کی تلاش ہے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: