مبارک ہو گل سما مبارک! —- سحرش عثمان

0

مبارک ہو گل سما مبارک!

تم نجات کے جس رتبے کو پاگئی ہو وہ اس سماج میں بہت قسمت والوں کو ملتا ہے۔
کئی اذیتوں کے دشت کاٹنا پڑتے پیں کئی دکھوں کے موسم جھیلنا پڑتے ہیں تب کہیں جا کہ عمرکی کنجی ختم ہوتی ہے یہاں۔
تم خوش قسمت ہو کہ صرف نو سال اس جہنم کو بھگتا۔۔ تمہیں معلوم ہے یہاں ساٹھ ستر سال تک اوسطا جہنم جھیلنے پڑتے ہیں عموما۔ پھر کہیں جا کر قبر کی مٹی نصیب ہوتی ہے۔ تم تو خوش بخت نکلی جو جلد نجات مل گئی۔
مجھے معلوم ہے سفاکی کا ایک دریا پار کیا ہے تو یہ لفظ اترے ہیں مجھ پر۔ جنہیں میں طنز کے پردے میں لپیٹ لپیٹ کر اس سماج کے منہ پر مارنا چاہتی ہوں۔
سنو! تمہیں معلوم ہے یہ وہ سماج ہے جہاں اپنے بھائیوں کے لمس” سے بچنے کے لیے کئی گل سمائیں گھٹ گھٹ کر جیتی ہیں روز۔
جس میں بہو بیٹیوں پر گندی نظر رکھنے والا بزرگ مسجد کی سیڑھیوں سے گر کر مرجائے تو سارا محلہ اس کے جنتی ہونے کے کامل یقین کا اعلان کردیتا ہے۔

اس سماج میں اس وکٹم کی آنکھوں کے سوال دعاؤں والے ہاتھوں میں نقش ہوجاتے ہیں جو اپنے سگے باپ کے ساتھ محفوظ نہیں ہوتی۔
یہاں مدرسوں مسجدوں میں رب کا کلام پڑھاتے روحانی باپ وحشی بن جاتے ہیں اور ان کی وحشت کو بھگتنے والے ان کی تعظیم کرنے پر مجبور کیے جاتے ہیں۔
اس تکریم کے پیچھے نفرت کیسے سمجھاؤں تمہیں؟؟ جیسے تمہیں پتھر مارتے ہاتھوں کو چومنے کا حکم دے دیا جائے تو بتاؤ کیسی نفرت ہوگی کیسی اذیت کیسا دکھ؟؟
سنو تم اس اذیت کو بھگتنے کو زندہ تو نہیں ہو نا۔۔مر گئی ہو تو پھر خوش قسمت ہی ہوئی نا؟
تمہاری موت ہمیں جہنم کے کس درجے میں جلائے گی۔ ریاست کو کس شمار قطار میں کھڑا کرئےگی کون کس کا گریباں پکڑے گا۔

تم۔۔۔ “میں کس جرم میں قتل کی گئی” کی صدائیں بلند کرتی جانے کس کس کے دامن پر خوں کے چھینٹے اڑاؤ گی یہ تو تب دیکھیں گے ہم سب۔ جب تم قوتیں بخشنے والے کے عرش کے سائے میں کھڑی ہوگی اور ہم بے یارو مددگار ظالموں کے ہجوم میں اپنی اپنی اور اپنے اپنے حصے کی سزا پانے کے منتظر۔

کیسی قیامت کی گھڑی ہوگی۔۔ تم ساقی کوثر کو ہماری شکایت لگا رہی ہوگی۔ ان کی آنکھوں میں تمہارے درد کی جھلک ہوگی جو ہم سے عاصیوں کو پھر سے مار ڈالے گی گل سما۔
ہم سے گناہ گار جن کے دامن میں اس ناقص محبت کے سوا کچھ ہے بھی تو نہیں مجھے یقین ہے تم جب اپنا قصہ چھیڑوگی تو ہمیں اس محبت کے دعوے سے بھی محروم کردوگی۔
جب تم رحمت للعالمین کو بتاؤ گی کیسی اذیت گزری تھی موت سے پہلے۔
جب پہلے پتھر کی چوٹ کہو گی تو مار ہی ڈالو گی
جب تم بتاؤ گی جو پتھر دل پر لگا تھا وہ کیسا جان لیوا تھا۔

جب تم نے پارساؤں کے ہجوم میں کوئی عاصی تلاش کرنا چاہ تھا تو پتھر تمہاری آنکھ سے ٹکرائے تھے۔ مجھے لگتا ہے تم یہاں تک پہنچو گی تو قریب سے کہیں خطاب کا بیٹا ہمارے سر قلم کرنے کی اجازت طلب کرئے گا۔ لیکن وہ عمر کے نہیں عمر اور ہم سب کے رب کے انصاف کا دن ہوگانا تو ظاہر ہے اس کا انصاف بھی انسانی ذہن اور سوچ سے کہیں بلند کہیں بڑا ہوگا۔

جانے کیا سزا سنائے وہ ہمیں۔ تم پر روا رکھے جانے والے ظلم پر کسی ہلکی سزا کے تو منتظر تو ہم بھی نہیں۔ لیکن کتنی سخت کسقدر اذیت ناک اس کو سوچتے سوچتے جو باقی زندگی کاٹنا ہے ہمیں یہ اپنی ذات میں ایک سزا ہے۔
تمہاری موت پر کسی سٹیٹ کسی قانون کسی حاکم کسی محکوم کو نہیں پکارنا مجھے کہیں درخواست نہیں گزارنی کسی سے انصاف نہیں مانگنا۔

میرا قلم اب تھکنے لگا ہے گل سماؤں کے قصے لکھتے لکھتے مقدسوں کی کہانیاں کہتے کہتے سنبلوں زینبوں کے نوحے پڑھتے پڑھتے تھکن اب میری روح میں اترنے لگی ہے۔
اور افسوس ہے کہ یہ تھکن حاکموں کا کچھ نہیں بگاڑ پاتی۔ مجھے معاف کردینا کہ اس سے زیادہ میرے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں میں تمہارے بچپن کا کوئی قصہ نہیں چھیڑ پائی میں تمہیں بچپن کے رنگوں سے روشناس نہیں کراپائی میں بس اپنی بے بسی کے قصے ہی لکھ سکتی ہوں۔

سنو ہم غلاموں کے سماج میں بے اختیاری کے ساتھ پیدا ہوئی ہیں سنو ہمیں ایسے ہی مرجانا ہے۔
سنو اپنے مرنے کا غم مت کرنا کہ تم نجات پا گئی ہو۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20