فکشن کی تفہیم میں تنقید کا کردار —– محمد حمید شاہد

0

(کراچی آرٹس کونسل پاکستان کے زیر اہتمام بارہویں عالمی اردو کانفرنس کراچی کے چوتھے روز تنقید کے سیشن کی صدارت ہندوستان سے تشریف لائے محترم نقاد، شاعر اور دانشورجناب شمیم حنفی اور معروف شاعر اور نقاد جناب تحسین فراقی نے کی۔ اس نشست میں ناصر عباس نیر، ڈاکٹر ضیاالحسن، ڈاکٹر آصف فرخی، مسلم شمیم اور ڈاکٹر انوار احمد نے مقالات پیش کیے۔ معاصر اردو تنقید کی اس نشست میں مجھے ’’فکشن کی تفہیم میں تنقید کا کردار‘‘ کا موضوع دیا گیا تھا۔ کانفرنس میںپیش کی گئی گزارشات’’دانش‘‘ کے دوستوں کے ذوق مطالعہ کی نذر۔)


جن دِنوں فکشن کے اِس طالب علم کا محمد عمر میمن مرحوم سے ماریو برگس یوسا کی کتاب ’’نوجوان ناول نگار کے نام خطوط‘‘ پر مکالمہ چل رہا تھا، تو یہ موضوع بھی زیر بحث آیا تھا کہ فکشن کو سمجھنے کے باب میں تنقید کا منصب کیا ہے؟ لگ بھگ ہم دونوں اِس بات پر متفق تھے کہ اردو میں فکشن پر جس قرینے کی تنقید لکھی جانے چاہیے تھی ویسی لکھی نہیں گئی؛ کچھ نام ضرور تھے جو بہ قول میمن صاحب فرض کفایہ کی ادائی تک اہم تھے اور بس۔خیر اس باب میں کوئی کلی طور پر میمن صاحب سے متفق نہ ہو تو بھی یہ بات سامنے کی ہے کہ فکشن کی فنی عملیات پر مباحث ہمارے ہاں لگ بھگ نہ ہونے جیسے رہے ہیںاور واقعہ یہ ہے کہ اس جانب توجہ دیے بغیر فکشن کی ڈھنگ سے تفہیم ممکن ہی نہیں ہے۔

فکشن کی تنقید پر ڈھنگ کا کام کیسے ہو کہ ابھی تو ہم لفظ فکشن پر ہی اٹکے ٹھہرے ہوئے ہوئے ہیں۔ معترضین کا کہنا ہے کہ فکشن نگاری کی اصطلاح کو کیوں کر تسلیم کیا جاسکتا ہے جب کہ دونوں الگ الگ زبانوں کے الفاظ ہیں اور یہ کہ یہ اصطلاحی ٹانکا بے جوڑ ہو کر اسے غیر فصیح بنا دیتا ہے۔ ان احباب سے بصد ادب یہ کہنا ہے کہ نہیں صاحب! یہ اصطلاح بے جوڑ ہے نہ غیر فصیح۔ واقعہ یہ ہے کہ ایسی کوئی اصطلاح ہمارے کھیسے میں تھی ہی نہیں جو ناول اور افسانے، دونوں پر بہ سہولت اور یکساں طور پر برتی جا سکتی۔ ایسی اصطلاح کی ہمیں ضرورت تھی اور تلاش بھی اور دوم یہ کہ یہ اصطلاح اپنی اسی خصوصیت کے سبب ناول نگاری اور ڈرامہ نگاری جیسی اوّل اوّل مردود ہونے والی اصطلاحوں کی طرح ترویج پا چکی ہے۔ صاحب! اُردو زباں کے اصول وضع کرنے والوں نے ایک اصول یہ بھی تو بتا رکھا ہے کہ جو رائج ہو گیا وہی فصیح ہے۔

اور ہاں یہ جو میمن صاحب نے فکشن کی تنقید پر فرض کفایہ والی پھبتی کسی تھی اور مغربی ادیبوں کے فن فکشن نگاری پر مکالموں کو اردو میں ڈھال کر یہ کمی پورا کرنا چاہی تھی، وہ کسی حد تک اس باب کی تنقید پر پھبتی بھی ہے تاہم کم سہی مگر اس باب میں ایسا کام بھی ہو چکا ہے کہ اس سے کنی کاٹ کر نکلنا ممکن نہیں ہے۔حسن عسکری، ممتاز شیریں، مہدی جعفر، سیدوقار عظیم، مجتبیٰ حسین، احتشام حسین، شمس الرحمن فاروقی، گوپی چند نارنگ، عبدالمغنی، انیس ناگی، وارث علوی، عابد سہیل، دیوندر اِسر، شمیم حنفی، ڈاکٹر سلیم اختر، مرزا حامد بیگ، ڈاکٹر انوار احمد اور دوسرے ناقدین کے فکشن پر قائم کیے گئے مباحث سے لے کر سکند احمد کی کتاب ’’افسانے کے قواعد‘‘ تک چلے آئیں اور ان میں آصف فرخی، ضیا الرحمن، مبین مرزا اور امجد طفیل کے مضامین کا اضافہ کرکے ناصر عباس نیر کے اُس کارگر حیلے کو دیکھ لیں جس کے ذریعے انہوں نے اس فن کو سمجھانے کے لیے افسانوں کی کتاب میں کہانی میں تنقید کا قرینہ برت لیاتھا۔ اور ہمارے بعد والے ناقدین میں نسیم عباس احمر کی کتاب ’’اُردو افسانے کے نظری مباحث‘‘ اور فرخ ندیم کی ’’فکشن کلامیہ اور ثقافتی مکانیت‘‘ تک ایسا کام ہے جسے اُردو فکشن کی تفہیم میں کام میں لایا جاسکتا ہے۔

فکشن کی تنقید کے اتنے بڑے سرمائے کے باوجود اگر تشنگی کا اِحساس ہوتا ہے تو اِس کا سبب یہ ہے کہ بالعموم فکشن کے موضوعات کی سطح پر یا زمانی اعتبار سے فہرست سازی کرلینے اور اس باب کے اشتراکات کو مفصل زیر بحث لے آنے کو ہی فکشن کی تنقید سمجھ لیا گیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی زمانے کے مجموعی تخلیقی مزاج کی یہ تنقیدی تشکیل ایسی گمراہ کن ثابت ہوئی ہے کہ سیاسی سماجی موضوعات اور رجحانات پر لکھنے والے تو اہم ہوئے ہیں خود عمدہ فکشن کے نمونے ایسے عمومی مباحث کے نیچے دبتے چلے گئے ہیں۔مرے کو مارے شاہ مدار، اس پر نئی تنقید کے نام پر تھیوری کے مباحث کا ایسا شور اُٹھا کہ تین دہائیاں ڈکار گیا، ایسے میں المیہ یہ رہا فکشن پاروں کی تعیین قدراہم نہ رہی۔اگر کچھ ہوا تو یہ کہ فن پارے کو اپنی ’کل‘ میں دیکھنے اور تفہیم کی صورتیں سجھانے کی بجائے اس کے حصے بخرے کرکے تجزیے کو ترجیح دی جاتی رہی۔ یہی سبب ہے کہ اس سارے عرصے میں فن پار بہ طور تخلیق ایک عمومی متن سے زیادہ اہم نہیں رہا۔ اچھے برے کی تمیز ختم ہو کر رہ گئی۔ باقی بچے تو وہ لسانی اور فلسفیانہ مباحث جنہیں پڑھ کر ایک بار شمس الرحمن فاروقی نے کہا تھا :’’اِن میں ادب کہاں ہے؟‘‘

آج کا موضوع ’’فکشن کی تفہیم میں تنقید کا کردار‘‘، مجھے یوں لگا ہے کہ ہماری اس تنقید ی روش پر عدم اطمینان کا اظہار بھی ہے۔ مجھے اس موضوع پرجو سوجھا اور اس باب کے سوچنے والوں کو پڑھ کر جتنا میں اخذ کر پایا ہوں، کوشش کرتا ہوں کہ اس کا ملخص اپنے لفظوں میں پیش کردوں۔

۱۔  فکشن کی تنقید کا پہلا وظیفہ تو یہی ہے کہ وہ ایک عام متن اور فکشن کے تخلیقی متن میں تمیز کر سکے۔ یادرہے کہ عام متن اپنے روایتی معنوں سے بندھا ہواہوتا ہے جب کہ تخلیقی عمل میں فکشن ہو جانے والا متن کئی معنیاتی امکانات کھولنے لگتا ہے۔ کہہ لیجئے وہ زبان جو کچھوے کی طرح اپنے خول میں سمٹی سمٹائی ہوتی ہے، اس خول سے نکلتی ہے اور نئے معنی جذب کرنے لگتی ہے۔ ایسا زبان سے تہذیبی اور ثقافتی معنی کی بے دخل کیے بغیر ہوتا ہے؛ کہہ لیجئے ایک ایسا جادو سا چل جاتا ہے کہ اُن میں توسیع اور نمو کو ممکن ہو جاتی ہے۔ جس طرح مکڑی جالا بن لیا کرتی ہے، کچھ ایسے ہی ایک معنیاتی ویب بن جاتا ہے۔ اور ہاں یہاں یہ اضافہ بھی کیے دیتا ہوں کہ ہر کہانی فکشن نہیں ہوتی مگر ہر فکشن پارہ کہانی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ ماجرا نگاری فکشن میں اہم ہے، بہت اہم ہے لیکن وہ جو پُشکن نے کہا تھا کہ ’’آہ! ننگی حسین نہیں ہوتی، کھٹکتی ہے‘‘ تویہ کہا اِس باب کا بھی یوں سچ ہے کہ محض واقعہ کا بیان کہانی کو ننگا کرکے اُتھلا بنا دیتا ہے جبکہ فکشن کے قرینے اس ننگے بدن کا وہ مہین لباس ہیں جن سے اس کی جمالیات مرتب ہوتی ہے۔

۲۔  فکشن کی تنقید کا دوسرا وظیفہ یہی ہے کہ وہ یہ سوال قائم کرے کہ فن پارے کی جمالیات کن وسائل سے مرتب ہو رہی ہے۔ ہر فنکار کے ہاں مرتب ہونے والی جمالیات میں وسائل چاہے بہت معمولی سطحوں پر ہی سہی بہت مختلف ہو جایا کرتے ہیں۔ ہم جنہیں بالعموم معمولی سمجھ کر نظر اندازکر رہے ہوتے ہیں وہ اتنے معمولی بھی نہیں ہوتے۔ جس طرح انگوٹھے کی لکیریں معمولی سے ردو بدل سے ایک شخص کا دوسرے سے مختلف شناخت نامہ مرتب کرتی ہیں؛ بہ ظاہر ایک جیسے اور ایک جتنے اعضا کے مالک ایک الگ شخصیت کا شناخت نامہ، بعینہ یہاں جمالیاتی وسائل کا یہی معمولی سا فرق ایک تخلیق کار کا تخلیقی شناخت نامہ مرتب کرتا ہے۔ ایک فکشن نگار کے ہر فن پارے کی جمالیات اپنے تخلیقی مزاج کے دائرے کے اندر مرتب ہوتی ہیں مگروہ تخلیقی مواد کے پیش نظر اس کا مزاج بدل لیا کرتاہے یوں جیسے ایک مصور پورٹریٹ بناتے ہوئے محض طے شدہ لکیروں کے بہائو میں ایک لرزش رکھ کر چہرے کے تاثرات بدل کر رکھ دیتا ہے۔ایک تخلیق کار کے ہاں برتے جانے والے فکشن کے جمالیاتی قرینوں کے گرد جو بڑا دائرہ بنتا ہے وہ اس کے اسلوب کا ہے۔

۳۔  اسلوب، فکشن کی تنقید کا بہت محبوب موضوع رہا ہے۔ جس طرح فکشن پڑھنے کا طبعی میلان نہ رکھنے والا فکشن سے حظ اٹھا سکتا ہے نہ اُس پر اس کی ترسیل ممکن ہے، بالکل اسی طرح، کسی فکشن نگار کا اسلوب سمجھے بغیر اُس کے فکشن سے استفادہ ممکن نہیں ہے۔ یاد رہے ہر فکشن نگار اپنے تخلیقی عمل میں یہ اسلوب اپنے اسلوب حیات سے اخذ کرتا ہے۔ کہہ لیجئے اسلوب میں اکتساب کم کم اور خداداد صلاحیت کہیں زیادہ کام کر رہی ہوتی ہے۔ یہ اسلوب ہی ہے جو لکھنے والے کے ہاں گداز اور Pathos کی وہ لہریں رکھ دیتا ہے جو قاری کے دل کی دھڑکنیں قابو میں کر لیتی ہیں۔ یہی میں یہ بھی کہہ دوں کہ فکشن لکھنے والا اپنے تخلیقی عمل میں ایک اور سطح وجود پر اپنی ذات کی دریافت بھی کر رہا ہوتا ہے۔ یہ دریافت ہونے والی ذات زندگی کے عام ہنگاموں میں مصروفِ کار فرد کی شخصیت کا اظہار نہیں ہوتی بلکہ پوٹینشل کے اعتبار سے بہت مختلف اہم اور بھیدوں بھری ہوتی ہے جو ایک اسلوب کو یوں ڈھالتی ہے جیسے کسی سانچے میں کھولتی بہتی دھاپ کو ڈال کر ڈھال لیا جاتا ہے۔ ایک ہی زمانے میں رہنے والے، ایک جیسے موضوعات برتنے والے، ایک جیسے لسانی وسیلوں کو کام میں لانے والے، اسی اسلوب کے وسیلے سے تخلیقی سطح پر مختلف ہو جاتے ہیں؛ بالکل اس طرح، جیسے ایک ہی گھر میں، ایک ہی باپ کے نطفے سے، ایک ہی ماں کی کوکھ سے پیدا ہونے والے بچے مختلف ہو جایا کرتے ہیں۔ فکشن کی تنقید اس وقت تک فن پاروں کی ڈھنگ سے تفہیم کا فریضہ ادا نہ کرپائے گی جب تک اس اسلوب کو ڈھنگ سے آنکنے کے لائق نہ ہو گی۔

۴۔  ناقدین کی یہ بات بھی گرہ میں باندھنے کے لائق ہے کہ فکشن کا بیانیہ ایک زاویہ نظر کے تحت مرتب ہوتا ہے۔ لکھنے والا ایک زمانے میں اور ایک زمین پر اور ایک خاص مقام سے اور خاص نظر ایک منظر دیکھتا ہے۔ ایک ایسا منظر جس میں بہ حیثیت انسان اس کے لیے دلچسپی کا سامان موجود ہوتا ہے، یا اس منظر میں سے کچھ رِس رِس کر اُس کے وجود میں جذب ہو رہا ہوتا ہے؛ یوں ایک تناظر قائم ہوتا ہے۔ یہ تناظر ایسا ہے جو ایک تخلیق کار اور اُس کے ناقدکے ہاں عین مین قائم نہیں ہو پاتا۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ایسا ہو پائے بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ خود تخلیق کار اپنی تخلیق کو قاری کی حیثیت سے پڑھتے ہوئے بھی اس تناظر میں قدرے ترمیم کر لیتا ہے؛ تاہم ایسا نہیں ہے کہ اس تناظر کو کلی طور پر منہا کرکے نئے تناظر میں فن پارے کی زیادہ بہتر تفہیم کو ممکن بنا لیا جائے۔ فکشن کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ اپنی زمین پر پورے قدم جماکر چلتاہے، اور اپنے زمانے میں پورے سانس لیتا ہے تاہم یہ سب ایسے قرینے سے ہوتا ہے کہ وہ اپنی الگ اقدار مرتب کرلیتا ہے جو زماں و مکاں بدلنے سے بھی اپنی پہلی معنویت کو ترک کیے بغیر نئی معنویت کے لیے گنجائشیں پیدا کر لیتا ہے بالکل اس قدیم شاہکار فن پارے کی طرح جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اسی تخلیقی قدر کے سبب بہ ظاہر نئے زمانے سے اُچٹا ہوا اور اُکھڑا ہو اہو کر بھی ہمیشہ بامعنی، زیادہ قیمتی اور لائق توجہ ہو جایا کرتا ہے۔

۵۔  فکشن کی تنقید کو ان تیکنیکی وسیلوں کو بھی آنکنا ہو گا جو ایک فکشن نگار کہیں تو تمثیل کی صورت متن میں مرتب کرتا ہے اور کہیں ماجرائی قرینے سے، کہیں وہ شعور کی رو کے پیچھے بگ ٹٹ دوڑتا ہے اور کہیں مونتاژ بناتا چلا جاتا ہے۔ خود کلامی وسیلہ ہوئی ہے تو کیوں؟ مکالمہ آیا ہے تو کیسے؟ اور کہانی کن وسیلوں سے ایک عام سے واقعے سے اُٹھ کر ایک گوں کے لوگوں، اُن کے دُکھ سکھ اور اُن کے رویوں کی علامت ہو گئی ہے۔ تخلیق کار نے روایتی پلاٹ کو برتا ہے یا اس کو توڑ کر اس میں نے امکانات پیدا کر لیے ہیں۔

۶۔  بجا کہ فکشن کا معاملہ ایک زمانے اور ایک زمین سے ہوتا ہے مگر اس میں دیوار سے پرے جھانکنے اور وقت سے آگے دیکھنے کی للک اسے ماورائے حقیقت علاقوں اور زمانوں کی طرف بھی دھکیل دیتی ہے شاید اس لیے کہ فکشن نگار خلوص دِل سے سمجھتا ہے کہ ماوراء بھی حقیقت کی ہی توسیع ہے اور کون جانے کب جسے ماورا سمجھا جارہا ہے وہ حقیقت ہو جائے کہ وہ جو اقبال نے کہا تھا ’’کہ آرہی ہے دَما دَم صدائے کن فیکون‘‘، تو ہم نے اس دمادم آنے والی صداکے ساتھ کبھی ماورائے حقیقت سمجھے جانے والے مظاہر کو حقیقت میں بدلتے دیکھا ہے۔

اور آخر میں مجھے فکشن کی تفہیم کی تنقیدی ابجد جو سوجھ رہی ہے اس کی صورت یوں بنتی ہے:

الف۔  یہ سمجھنا ہوگا کہ اجتماعی سطح پر برتی ہوئی اور مسلی ہوئی مادی دنیا والی زندگی اور ایک سیدھ میں چلنے والی حقیقت جو تاریخ نگاروں اور وقائع نویسوں کو مرغوب ہو جایا کرتی ہے، اسے سمجھنے اور فکشن کی حقیقت کو سمجھنے کے قرینے جداگانہ ہیں۔ بالعموم فکشن کی حقیقت کو گھڑی ہوئی سمجھ کر جھوٹ کے خانے میں رکھ لیا جاتا ہے۔ ایسا سمجھنے والے فکشن کی حقیقت کو پا ہی نہیں سکتے جس میں زماں اور مکاں دونوں کو ازسر نو ترتیب دے کر ایک نئی حقیقت ممکن بنالی جاتی ہے۔ برتی ہوئی گدلی حقیقت سے زیادہ یقینی اور تابناک اور بامعنی حقیقت۔

ب۔  فکشن نگار ہمیشہ خیر کے عمل سے جڑا ہوا ہوتا ہے اور جہاں جہاں اسٹیٹس کو اس عمل خیر میں مزاحم ہوتا ہے وہ وہاں وہاں بغاوت کرکے نئی اخلاقیات مرتب کرتا ہے۔ یہ فکر کی زمین پر نہیں بلکہ احساس کی زمین پر قدم جماتا ہے یہی سبب ہے کہ یہ علاقائی اور زمانی سرحدوں کو پھاند کر خیر کے آفاق کی سمت جست لگاتارہتا ہے۔ ایسا کن قرینوں سے اور کہاں کہاں ممکن ہوا ہے تنقید کو اسے نشان زد کرکے تفہیم کے دریچے وا کرنا ہوتے ہیں۔

ج۔  یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ فکشن محض گزرے واقعات کی روداد ہوتی ہے نہ حال کا روزنامچہ کہ اِس کی جست ماضی کی جانب ہوتی ہے اور مستقبل کی طرف بھی۔ ماضی میں اِس لیے کہ وہاں سے اِجتماعی لاشعور کی تہذیبی بازیافت ہوتی ہے اور مستقبل میں یوں کہ وہ اُمید کے نورپانیوں سے کناروں تک بھرا ہوا ہوتا ہے۔تنقیدکو جہاں اُن سرچشموں کا سراغ لگانا ہوتا ہے جہاں سے فکشن نے اِکتساب کیا، اُن جہتوں کو بھی نشان زد کرنا اسی کا وظیفہ ہے جہاں سے نئی معنویت کا استقبال ممکن ہو پاتا ہے۔

د۔  یہ بھی آنکنا ہوگا کہ فکشن محض لسانی ترتیب ہے نہ تیکنیکی ساخت، پلاٹ، کردار، مکالمہ، تناظر، رمزیت ایمائیت انہیں سمجھے بغیر فکشن پارے کو ڈھنگ سے سمجھنا ممکن نہیں۔ کہاںکون سی تیکنیک برتی گئی ہے، بیانیہ کن اجزا سے متشکل ہوا ہے، کہاں کہانی نے پلٹا کھایا ہے، شعور کی رو، خود کلامی، فلیش بیک، مکالمے، کولاژ، ڈرامہ، خبر کیا کچھ کہانی میں منقلب ہوا اور کیوں اور اس سے فن پارے کی کُل سے کیا معنویت برآمد ہوتی ہے۔

آج کا فکشن محض کہانی کی سماعی روایت کا زائدہ نہیں ہے یہ مواد اور تیکنیک کے اعتبار سے بہت پیچیدہ ہے اور اپنے ظاہری اسٹریکچر کے اندر ایک اور معنیاتی اسٹریکچر کی تعمیر کرتا ہے اسے محض موضوعات قائم کرکے اور ان موضوعات کی ذیل میں رکھ کرسمجھا جا سکتا ہے نہ محض زمانی دہائیوں کی تقسیم کے اندر رکھ کر۔اردوتنقید کو اس باب میں زیادہ یکسوئی سے اور اُن سارے حیلوں کو برت کر تفہیم ممکن بنانا ہوگی جن سے آج کے انسان کی اپنی حسیات مرتب ہو رہی ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس ضمن میں ابھی بہت سا کام ہونا باقی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20