مطلب ——– ڈاکٹر فرحان کامرانی

0

”حمزہ۔۔ حمزہ؟ کہاں ہو تم، ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے“ والدہ نے جھنجلا کر اسے بلایا۔ حمزہ جلدی سے اپنے کمرے سے باہر آیا۔ ڈائننگ ٹیبل پر اس کا بھائی حیدر اور دونوں بہنیں اسکول اور کالج کے یونیفارموں میں ملبوس جلدی جلدی ناشتہ کر رہے تھے جب کہ اس کے والد دفتر جا چکے تھے۔ وہ منہ اندھیرے ہی فیکٹری کے لئے نکل جاتے۔ حمزہ اپنے گھر میں سب سے بڑا تھا۔ وہ بھی نوکری کرتا تھا جب کہ اس کے گھر میں بھائی بہن ابھی تک زیر تعلیم تھے۔ ویسے رجسٹریشن تو حمزہ نے بھی B.Com میں کرا رکھی تھی مگر وہ مستقل فیل ہو رہا تھا۔ ابھی 6 ماہ سے وہ ایک کوریئر سروس میں نوکری کر رہا تھا۔

”آج نواب صاحب صبح کیسے اٹھ گئے؟“ اس نے حیدر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ”اور کالج کا یونیفارم؟ کیا آج کالج جانے کا خیال آ گیا؟“

”بھائی آج میرا امتحان ہے“ حیدر نے مظلوم منہ بناتے ہوئے کہا۔ ”تم سب نے تو نہ پڑھنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ نواب صاحب تین سال سے انٹر میں ہی ہیں۔ آج امتحان ہے اور کل صرف ڈرامہ ہوا ہے پڑھائی کا۔ میں ڈانٹ رہی ہوں، ذلیل کر رہی ہوں مگر وہی موبائل میں گھسے ہوئے ہیں۔“

”میں نے پڑھا تو ہے کل اتنا۔“

”چپ کرو۔۔ تم سب نکمے ہو۔ اب جلدی دفع ہو ورنہ امتحان نکل جائے گا اور تم بھی جلدی دفتر جاؤ۔“

دفتر کے راستے میں مستقل حمزہ کے ذہن میں وہ خواب گھومتا رہا جو اس نے رات کو دیکھا تھا۔ وہ خواب بہت واضح تھا اور کسی تصویر کی طرح اس کے دماغ پر جیسے چھپ گیا تھا۔

اس کا کام باہر کا تھا۔ وہ کوریئر اور پارسل وغیرہ لے کر دفتر سے نکل جاتا اور ان کی منازل پر پہنچاتا۔ کھانا وہ اپنے ساتھ ٹفن بکس میں لے کر جاتا اور درمیان میں جب موقع ملتا، کسی چائے کے ہوٹل یا ڈھابے میں یہ کھانا گرم کروا کر کھا لیتا۔ آج اتفاق سے اسے ایک کوریئر اپنی سگی خالہ کے گھر کا مل گیا۔ وہ بہت خوش ہوا، دوپہر کے وقت اس نے خالہ کے گھر کی گھنٹی بجائی۔

”ارے حمزہ تم!“ خالہ نے ہی دروازہ کھولا۔ وہ حمزہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئیں۔

”یہ لیں خالہ جان۔ آپ لوگوں کا کوریئر آج اتفاق سے میرے ہی ہاتھ لگ گیا۔“

”ارے۔۔ یہ۔۔ یہ تو تمہارے خالو کا ہے۔ میرا خیال ہے ان کے دفتر کا کچھ ہو گا۔ ارے اندر تو آؤ، ایسے کیسے جا رہے ہو۔“ خالہ حمزہ کو اندر لے آئیں، اندر اس کا 4 سال کا کزن لیگو ٹوائے سے کچھ بنا رہاتھا۔“

”حمزہ بھائی!“ وہ آ کر حمزہ سے لپٹ گیا۔ پیچھے سے ایک 9 ماہ کی بچی صرف ڈائپر میں ملبوس گھسکتی ہوئی آ گئی۔ اسے حمزہ نے گود میں بٹھا لیا۔

”بیٹھو بیٹا میں کھانا لگاتی ہوں“

”نہیں نہیں خالہ جان دیر ہو جائے گی۔“

”ارے پانچ منٹ لگیں گے کھانا تیار ہے۔“

”امی نے بھی تو کھانا دیا ہے، وہ ضائع ہو جائے گا۔“

”ارے وہ بھی ساتھ کھا لینا ناں بیٹا۔“ خالہ نے ایک نہ سنی اور دستر خوان پر جلدی سے کھانا چن دیا۔

حمزہ نے اپنا ٹفن خالہ کو کھلا دیا اور ان کا پکایا ہوا کھانا خود کھایا اور انہیں تیزی سے اپنا خواب سنانے لگا۔

”بہت اچھا خواب ہے بیٹا یہ“

”آپ کو خوابوں کی تعبیر آتی ہے خالہ؟“

”ہاں میں رسالوں میں پڑھتی رہتی ہوں۔ بادشاہ کو خواب میں دیکھنا تو اچھی علامت ہے۔“

”لیکن خالہ جان ان کی زبان میری سمجھ میں نہیں آئی“

”چلو کوئی بات نہیں لیکن اچھا خواب ہے یہ“

”مگر بادشاہ سے جو سفید چادر لپٹا ہوا آدمی بات کرتا ہے، بادشاہ اشارہ کر کے اسے دو سپاہیوں سے پکڑوا دیتا ہے۔وہ آدمی بادشاہ کو خوف سے دیکھ رہا ہے اور محل بہت خوبصورت ہے، بہت بڑا ہے۔“

”اچھا۔۔ بادشاہ کو دیکھنا اچھا خواب ہے۔“

”کیا ہوا امی اتنی غصے میں کیوں ہیں آج؟“ حمزہ نے اپنی سب سے چھوٹی بہن عائشہ سے دریافت کیا۔

”حیدر بھائی نے آج امی سے بولا ہے ان کو شادی کرنی ہے، امی نے ان کو جوتے سے مارا ہے۔“

”شادی کرنی ہے نواب صاحب کو!“ حمزہ جلدہ سے چھت پر گیا تو دیکھا کہ کونے میں حیدر اندھیرے میں چھپا سگریٹ پی رہا تھا۔

”نواب صاحب، سنا ہے آپ شادی کر رہے ہیں؟“

”تو کوئی گناہ ہے شادی؟“

”اپنی عمر تو دیکھو؟ پہلے کوئی جاب کرو، پھر امی سے اپنی بات کرو۔“

”بھائی مجھ پر بہت پریشر ہے۔“

نیچے سے دونوں کو رات کے کھانے کے لئے بلایا گیا۔دونوں نیچے آ گئے۔ حمزہ کے والد ابھی دفتر سے واپس آئے تھے۔ان کے چہرے پر بھی جلال کے آثار نمایاں تھے۔ شاید والدہ نے بیٹے کا شادی کا مطالبہ والد صاحب تک پہنچا دیا تھا۔ اس لئے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھتے ہی حمزہ نے اپنے خواب کا قصہ چھیڑ دیا۔ اس کی والدہ اور والد نے بے دلی سے خواب سنا۔ مگر بہرحال حیدر کی ڈانٹ کا سیشن نہیں ہوا۔

رات کو پھر حمزہ نے وہی خواب دیکھا۔ ایک بہت وسیع و عریض محل۔ ایک بہت عالیشان دربار جس کے در و دیوار منقش۔ دربار کی دیواروں پر بہت سے سپاہیوں کے ڈھال لئے ہوئے مجسمے کڑھے ہوئے۔ دربار میں سیکڑوں لوگ ہاتھ باندھے، سر جھکائے کھڑے ہیں۔ ایک بہت وسیع پلیٹ فارم کے اوپر ایک سونے کا تخت ہے۔ اس تخت کے اوپر وسط میں ایک گھنگریالے بالوں اور گھنگریالی داڑھی والے شخص کا چہرہ ایک پہلو کو کیا ہوا مجسمہ لگا ہے۔ اس شخص کے دونوں ہاتھوں کی جگہ کبوتر جیسے پر لگے ہیں جو اس نے کھول رکھے ہیں۔ مجسمے کے سر پر ایک ٹوپی بھی ہے۔ درباریوں کی وضع بھی اس مجسمے جیسی ہی ہے۔بس ان کے پر نہیں ہیں۔ بادشاہ کے سامنے ایک شخص سفید احرام نما لباس پہنے کھڑا ہے۔ بادشاہ اس شخص کو ایک نامانوس زبان میں کچھ بتاتا ہے۔یہ شخص پوری بات ادب سے سنتا ہے۔ پھر بادشاہ کے آگے جھک کر کچھ عرض کرتا ہے جو سن کر بادشاہ کی تیوری پر بل پڑ جاتے ہیں اور وہ اس شخص کی طرف اشارہ کر کے کچھ کہتا ہے اور اس شخص کو دو سپاہی بڑھ کر بازوؤں سے تھام کر لے جاتے ہیں۔ خواب ختم۔

صبح حمزہ حیران اٹھا۔ا س کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اس نے ایک خواب دو مرتبہ دیکھا ہو اور خواب بھی ایسا جو کسی فلم کا سین معلوم ہوتا ہو۔ اس نے ناشتے پر یہ بات امی کو بتائی۔

”اچھا“ انہوں نے سوچتے ہوئے کہا۔ ”کل اتوار ہے۔تم گھر پر ہو گے تو ایسا کرنا کہ مسجد کے مولانا صاحب کو اپنا خواب سنا دینا۔“

آج بھی پورے دن حمزہ کے ذہن میں اپنا خواب گھومتا رہا۔ اگلے دن اس نے اپنی والدہ کی ہدایت کے مطابق یہ خواب مولانا صاحب کو سنایا۔ مولانا صاحب کافی فربہ تھے۔ نماز کے بعد صحن میں کھڑے حمزہ کو مل گئے تو اس نے فوراً اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں خواب سنا دیا۔

”یہ خواب آپ نے رات کے کس پہر میں دیکھا۔“

”بیچ رات میں مولانا صاحب۔“

”اچھا۔۔ ٹھیک ہے، آپ ایسا کریں کہ کچھ پیسے فقراء و مساکین کو صدقہ کر دیں اور یہ دعا پڑھ کر سویا کریں۔“ مولانا صاحب نے ایک دعا بتائی۔ پھر حمزہ کو دہرانے کو کہا جس میں اس نے غلطی کی تو انہوں نے دو مرتبہ اور دعا دہرائی اور چلے گئے۔ خواب کا مطلب مولانا صاحب نے بتایا نہیں اور حمزہ میں پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اس نے اگلے دن سو روپے صدقہ کر دیے۔ دفتر سے گھر واپس آیا تو معلوم ہوا کہ حیدر کی پٹائی ہوئی ہے اور اوپر چھت پر رو رہا ہے۔ وہ چھت پر گر گیا۔

”کیا ہوا؟ یہ ڈرامہ کیوں کر رہے ہو؟“

”تم اپنا کام کرو!“

”اچھا اچھا ٹھیک ہے بھائی، رو۔۔ دل کھول کر رو۔“

گھر کے ماحول میں بدمزگی تھی۔وہ تھوڑی دیر کمپیوٹر استعمال کرتا رہا مگر اس کا دل کسی چیز میں لگ نہیں رہا تھا۔ اس کے دل میں اپنے خواب کے حوالے سے بار بار خیالات آ رہے تھے۔ اس نے کمپیوٹر بند کر دیا اور سو گیا۔ صبح کو وہ دفتر سے کوریئر اور پارسلز وغیرہ لے کر نکلا۔ ایک پارسل ایک شبیر چشتی صاحب کے نام پر تھا۔ حمزہ جب گھر کے سامنے پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ کسی قسم کا روحانی آستانہ ہے۔دروازہ کھلا تھا اور اندر لوگ ایک ہال میں بیٹھے تھے۔ سامنے ایک پیر صاحب بیٹھے تھے۔اس نے کوریئر ایک خادم کو دے دیا۔ معلوم ہوا کہ کوریئر انہی صاحب کے نام ہے جو سامنے بیٹھے لوگوں کے مسائل سن رہے ہیں۔ حمزہ کے دل میں آیا کہ انہیں اپنا خواب سنا دے۔ وہ بھی لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا۔ جب اس کی باری آئی۔ اس نے جھجکتے ہوئے اپنا خواب پیر صاحب کو سنا دیا۔

”خواب لکھ کر لایا کرو، ایسے سنانا مناسب نہیں۔“ پھر پیر صاحب نے ایک صاحب کو کوئی اشارہ کیا۔ اب اسے ہٹنا پڑا۔دروازے کے پاس ایک صاحب نے اسے بلا کر کچھ تعویز دے دیے۔

”ان کو ہر روز جسم پر مل کر جلا دینا۔“

وہ سمجھا کہ اسے کچھ پیسے دینے پڑیں گے مگر یہاں پیسے نہیں لئے جاتے تھے۔بہر حال وہ آستانے سے نکل کر واپس کوریئر اور پارسل تقسیم کرنے چلا گیا۔

گھر آ کر اس نے تعویز جسم پر مل کر جلایا۔ وہ جلدی سو گیا۔ اسے کوئی خواب نہ آیا، صبح اس کے دماغ پر وہی خواب طاری تھا۔ اس کے دل کو سکون نہ تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ اس خواب کے بار بار آنے کا مطلب آخر کیا ہے؟ مگر کہیں سے اسے جواب نہ ملتا تھا۔

”تم سُن کیوں ہو میاں؟“ حمزہ کے باس نے اس سے دریافت کیا۔ ”ایک مہینے سے تم دیر سے آتے ہو۔ کام الٹا سیدھا کرتے ہو۔ کبھی ریسیونگ نہیں لیتے۔ کبھی غلط ایڈریس پر سامان پہنچا دیتے ہو۔ تم چاہ کیا رہے ہو؟“
”آئی ایم سوری سر۔“

”کیا آئی ایم سوری؟میں تم کو آخری وارننگ دے رہا ہوں۔ اس سے پہلے میں تم کو دو مرتبہ وارن کر چکا ہوں۔ ایک مہینہ تو ہو گیا مگر تم اسی طرح کام تباہ کر رہے ہو۔ اگلی مرتبہ وارننگ نہیں، ٹرمینیشن لیٹر ملے گا۔“

”جی سر، اب کوئی غلطی نہیں ہو گی۔“ حمزہ نے شرمندگی سے کہا۔ اسے ایک مہینے سے ہر چند روز بعد وہی خواب آ رہا تھا۔ اب اسی دربار کا ایک اور خواب بھی اسے اکثر نظر آتا۔ اب بادشاہ کے سامنے ایک کالے لبادے والا شخص ہاتھ باندھے کھڑا ہے۔ بادشاہ اسے کچھ بتا رہا ہے۔ جب بادشاہ بات مکمل کرتا ہے تو وہ کچھ کہتا ہے۔ جو سن کر بادشاہ کے چہرے پر جلال کا تاثر نمودار ہوا ہے اور وہ اشارہ کر کے کچھ کہتا ہے۔ دو سپاہی آگے بڑھتے ہیں اور سیاہ لبادے والے کو بازوؤں سے پکڑ کر لے جاتے ہیں۔ یہ خواب بار بار آتے اور حمزہ کو ان کا کوئی جواب نہ ملتا، کوئی تاویل نہ ملتی۔ دن بھر اس کے ذہن پر یہ خواب طاری رہتے۔ جب وہ اپنی ماں کو ان خوابوں کے بارے میں بتاتا تو وہ اس کو ڈانٹ دیتیں۔ دوست بھی اس موضوع پر بات سن کر چڑنے لگے تھے۔ سب اس کو منع کرتے کہ فضول باتیں نہ کرے۔ اسے لگنے لگا کہ وہ اس موضوع پر سوچ سوچ کر پاگل ہو جائے گا۔

ایک روز صدر میں ایک پارسل پہنچانے کے بعد وہ ایک کلینک کے پاس رک گیا۔ یہاں پر نفسیاتی علاج کے بارے میں بھی لکھا تھا۔ وہ اس بوسیدہ سی کلینک میں داخل ہوا۔ یہ کسی سائیکاٹرسٹ کا کلینک تھا۔ اس نے ریسیپشن پر بیٹھے صاحب سے ڈرتے ہوئے دریافت کیا کہ یہاں پر علاج کرانے کا کیا طریقہ ہے؟

”جی۔۔ پیشنٹ کون ہے؟“

”میں“ حمزہ نے ڈرتے ہوئے کہا۔

”اچھا۔ دیکھو سر یہاں پر شام میں ڈاکٹر ”اپّو“ بیٹھتے ہیں، وہ سائیکاٹرسٹ ہیں۔ یعنی ڈپریشن وغیرہ کا دوا سے علاج کرتے ہیں۔ ویسے دن میں شازیہ مخدوم یہاں پر کونسلنگ کرتی ہے۔ ابھی ہے اندر، خالی ہے۔ آپ بولو تو آپ کو بھیجتا ہوں۔“

”کونسلنگ کیا ہوتا ہے؟“

”ارے بات چیت۔ وہ فلموں میں دکھاتے ہیں ناں جو۔“

”وہ جو لٹا کر آنکھوں کے آگے پینڈولم گھماتے ہیں؟“

”نہیں نہیں۔ بس بات چیت کر کے سمجھاتے ہیں۔ میں تو کہتا ہوں آپ کے لئے یہ زیادہ صحیح ہے، بات چیت میں کوئی سائیڈ افیکٹ نہیں ہوتے ناں۔“

”تو اس کی فیس“

”فیس 500 روپے ہے۔ مگر 45 منٹ بات چیت ہو گی۔ اچھی میڈم ہے، آپ کرا لو کونسلنگ۔“

حمزہ نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور بھاری دل سے 500 روپے ادا کئے اور اس نے ایک پرچی بنا کر اسے دے دی۔ پھر انٹرکام پر اندر بات کی اور حمزہ کو اندر جانے کا اشارہ کیا۔

اندر کلینک میں ہر طرف مختلف ادویات کے پوسٹر لگے تھے اور درمیان میں ایک بوسیدہ سائیڈ ٹیبل رکھا تھا جس پر ایک کمپیوٹر لگا تھا اور اس کے ساتھ ایک انٹرکام رکھا تھا۔ ٹیبل کی دوسری طرف ایک بڑی سی کرسی پر ایک لڑکی اسکارف پہنے بیٹھی تھی، اس کے ہاتھ میں موبائل فون تھا جس پر یہ گیم کھیل رہی تھی۔ حمزہ ٹیبل کے سامنے ڈرتے ہوئے رک گیا۔

”پلیز سٹ ڈاؤن۔ یس، آپ کا نام کیا ہے؟“

”حمزہ علی۔۔ میڈم میں۔۔۔۔“

”جی جی۔۔ آپ کی age کتنی ہے؟“ وہ کسی روبوٹ کی طرح اس سے سوال پوچھ رہی تھی اور سامنے رکھی فائل میں لکھ رہی تھی۔

”23 سال“

”اچھا۔ آپ سائیکولوجیکل اسسمنٹ کرائیں گے یا صرف کونسلنگ؟“

”میڈم میں تو۔۔ وہ باہر جو ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ نفسیاتی علاج ہوتا ہے۔“

”جی جی وہی ہوتا ہے۔ اگر چھوٹی پرابلم ہو تو صرف کونسلنگ کر دیں گے آپ کی۔ اگر بڑی پرابلم ہو تو پھر سائیکوتھراپی کی ضرورت ہو گی جس کے لئے اسسمنٹ ضروری ہے۔“

حمزہ کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا، وہ خاموشی سے ڈرا ہوا اسے دیکھتا رہا۔

”چلیں آپ اپنی پرابلم بتائیں۔“

”میڈم مجھے ایک مہینے سے مستقل کچھ خواب آ رہے ہیں۔ ہر خواب میں مجھے ایک بادشاہ نظر آتا ہے، ایک محل۔۔۔۔۔“ اس لمحے شازیہ کا فون زور سے بجا۔

”سوری ایک منٹ“ یہ کہہ کر اس نے کال ریسیو کر لی۔ ”جی شکیل۔۔ جی۔۔ آپ ہینڈل کر لو ناں۔ میرے کو کیوں آپ سیشن کے اندر ڈسٹرب کرتے ہو۔ ہاں۔۔ ہاں ٹھیک ہے۔ سوئٹی کو آپ سمجھا لو۔۔۔ ہاں میں یہاں سے کلاس لینے جاؤں گی پھر۔۔ ہاں ٹھیک ہے۔ آپ نیچے سے بند کباب یا کاٹھیاواڑی چھولے لا کر کھا لو۔“ اس نے فون کاٹا پھر حمزہ پر متوجہ ہوئی۔ ”سوری ہاں، آپ پرابلم بتاؤ۔“

”جی میں کچھ خواب بار بار دیکھ رہا ہوں۔۔۔“

حمزہ نے اپنے خواب سنائے اور شازیہ کچھ نوٹس لیتی رہیں۔

”OK۔۔۔ اور کوئی سمپٹمز ہیں؟“

حمزہ کی سمجھ میں نہ آیا۔ اسے یہ انگریزی کا لفظ نہ آتا تھا۔

”Ok۔۔ تو آپ ایسا کرو کہ ڈائری لکھا کرو۔ آپ کی جو Needs ہیں، ان کا کتھارسس ہو جائے گا۔“

حمزہ کو ”کتھارسس“ بھی سمجھ نہیں آیا۔ اس کے بعد بار بار گھڑی دیکھ کر شازیہ اس سے اس کی تعلیمی زندگی، اس کے ماں باپ سے تعلقات اور دیگر سوالات پوچھتی رہی، جیسے ہی 45 منٹ مکمل ہوئے تووہ بولی۔

”اچھا آپ ایک ہفتے تک ڈائری لکھیے گا اور پھر میں آپ کو اگلے پیر کا اپوائنٹمِنٹ دے دیتی ہوں۔

”میڈم، مگر میں یہ خواب کیوں دیکھ رہا ہوں؟“ حمزہ کا یہ سوال سن کر شازیہ گھبرا گئی۔

”وہ Needs ہوتی ہیں انسان کی۔ انسان جو چاہتا ہے وہ خواب میں دیکھ لیتا ہے، مطلب“

”نہیں میڈم، ایسی کوئی بات نہیں، میں تو بادشاہوں والی فلمیں بھی کبھی نہیں دیکھتا۔“

”تو آپ ایسا کریں کہ اپنی اسسٹمنٹ کرا لیں، پھر کلیئرلی سمجھ میں آجائے گا سب کچھ۔“

”تو میڈم ابھی تو مجھے کچھ بتا دیں کہ مجھے یہ خواب کیوں آ رہے ہیں؟“

”وہ آپ جو ڈائری لکھئے گا ناں وہ لیتے آئیے گا۔ میں وہ پڑھ کر آپ کی Psycho analysis کر دوں گی۔“

”یہ کیا ہوتا ہے میڈم؟“

”بس آپ بے فکر رہیں۔ آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔۔۔“شازیہ نے بات گھماتے ہوئے کہا۔

حمزہ ذہنی طور پر تھکا ہوا اس کمرے سے باہر نکلا۔ اس کا دل اپنے پانچ سو روپوں کے لئے دکھ رہا تھا۔ باہر وہ ریسیپشن والا شخص بھی غائب تھا۔ ایسے میں حمزہ کی نظر ریسیپشن کی پشت پر دیوار میں لٹکی ایک تصویر پر رک گئی۔ وہ ٹھٹک کر اس تصویر کو حیرت سے دیکھنے لگا۔

ایسے میں برابر میں ایک دروازہ کھلا (جو بیت الخلاء کا تھا) اور اس سے ریسیپشنسٹ برآمد ہوا۔

”ہو گیا آپ کا سیشن؟“

”جی“

”کیا یہ تصویر دیکھ رہے ہو؟“

”جی یہ کیا ہے؟“

”یہ بیٹا! یہ پارسیوں کی مذہبی شخصیت ہیں کوئی۔ یہ ڈاکٹر’اپّو‘ پارسی ہے جس کا کلینک ہے۔“

تصویر میں وہی گھنگریالے بالوں اور داڑھی والا شخص بنا تھا جس کے ہاتھوں کی جگہ پر لگے تھے۔

”یہ ادھر ایک اور بھی ہے تصویر“ اس شخص نے اپنے سامنے کی طرف اشارہ کیا۔ ادھر ایک شخص کی اسی نوع کی تصویر لگی تھی جیسی عموماً حضرت عیسیٰؑ کی عیسائیوں کے گھروں میں لگی ہوتی ہیں۔ یہ ایک باریش شخص کی تصویر تھی جن کے سر کے گرد روشنی کا حلقہ تھا اور آنکھیں آسمان میں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں۔ سر پر ٹوپی لگی تھی۔ نیچے زرتشت تحریر تھا۔ حمزہ نے دونوں تصویروں کو اپنے موبائل میں محفوظ کر لیا۔ وہ کلینک سے باہر آیا تو بہت خوش تھا۔ اسے لگا کہ اسے کوئی سرا مل گیا ہے۔ اس دن اس نے خوب دل لگا کر اپنا کام کیا۔ شام کو گھر آیا تو کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر زرتشت لکھ کر سرچ کرنے لگا۔ الگ الگ پیج کھلنے لگے۔ ایک پیج پر اس مذہب کی تاریخ درج تھی۔ حمزہ کی انگریزی کمزور تھی مگر پھر بھی وہ ہر صفحے کو پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایسے میں ایک تصویر دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا۔ اس نے جلدی سے اس تصویر پر کلک کیا۔ اب تصویر پوری اسکرین پر تھی۔ یہ ایک کھنڈر کی تصویر تھی، بوسیدہ اور خستہ حال دیوار پر بہت سے فوجیوں کے مجسمے کڑھے تھے۔ گھنگریالے بالوں اور گھنگریالی داڑھیوں والے سپاہی ہاتھوں میں نیزے اور ڈھال لیے کھڑے ہیں، نیچے لکھا تھا

The court of Persepolis (Taught-e-Jamshed) Iran.

یہ اسی محل کے کھنڈر کی تصویر تھی جو ایک مہینے سے حمزہ کے خوابوں میں آ رہا تھا۔ حمزہ کی آنکھیں جیسے پھٹی رہ گئیں۔ وہ دوڑتا ہوا اپنی ماں کے پاس آیا اور انہیں پوری بات بتائی۔

”تو پھر؟“

”تو پھر یہ کہ امی مجھے وہاں جانا ہو گا اس محل میں۔ مجھے ایران جانا ہو گا۔“

”پاگل ہو گیا ہے! چار پیسے ہیں نہیں گھر میں۔ کرائے کے مکان میں سڑ رہے ہیں اور یہ ایران جائیں گے کھنڈر دیکھنے! چھوٹے بھائی اور نکمے ہیں۔ ان کے سرپر شادی سوار ہے۔ ان کے سر پرکھنڈر سوار ہو گیا ہے۔ وہاں اگر کسی جادو سے چلے بھی گئے تو کیا وہاں کھنڈر سے پوچھو گے کہ تم میرے خواب میں کیوں آتے ہو؟ آئندہ میں اس موضوع پر ایک لفظ نہ سنوں ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ یو گا!“ ڈانٹ سن کر حمزہ کا ولولہ ٹوٹ گیا۔ وہ خاموش ہو گیا۔ ایک دو دن اس خیال نے اسے تنگ کیا مگر پھر اسے کبھی یہ خواب نہ آیا۔

”شاہ آج اتنے جلال میں کیوں تھے؟ انہوں نے کاہن کا سر کیوں قلم کروا دیا؟“

”ارے تجھے نہیں معلوم؟ کاہن بھی شاہ کے خواب کی تسلی بخش تعبیر نہ بتا سکا۔“

”تُو تو قریب تھا، تُو نے خواب سنا؟“

”ہاں وہی ایک لڑکا جس کا نرالا لباس اور گھنگریالے بال اور سامنے ایک جادوئی آئینہ جس میں ہمارا یہ محل کھنڈر نظر آتا ہے اور لڑکا حیرت سے یہ دیکھ رہا ہے۔“

”تو کاہن نے کیا تعبیر بتائی؟“

”یہی کہ شاہ کا بخت بلندی پر ہے۔ان کے قبضے میں سارا عالم آ جائے گا اور وہ شاہ سائرس کی طرح عالمگیر ہوں گے۔“

”عجیب بات ہے، اچھی تعبیر بھی شاہ کو پسند نہ آئی؟“

”بس بس۔ اگر اپنی جان عزیز ہے تو خاموشی اختیار کر۔“

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: