گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب ——– غلام شبیر

0

سیدنا ابراہیم ؑ کو جب حضرت ہاجرہ اور اسماعیلؑ کو بے آب و گیاہ وادی بطحا میں چھوڑ آنے کا اذن ہوا تو یہ دراصل ایشیاء، افریقہ اور یورپ کے سنگم پر تہذیب نو کی تخم ریزی تھی۔ کیونکہ ایک وقت مقررہ پر سرزمین فارس و روما کے خیاباں جہان گندم و جو ثابت ہونے تھے، صحرائے عرب میں فصل گل و لالہ کی حنابندی ہونا تھی، وہ شاخ تاک جس کی قلم خود ابراہیم ؑ نے لگائی تھی، نے قرآن کی مئے لال فام مہیا کرنا تھی تا پھر “رقص میں لیلیٰ رہے لیلیٰ کے دیوانے رہیں”۔ اس لیے کہ تہذیب انسانی نے چار ہزار سال مکمل کرکے بانجھ پن کا شکار ہونا تھا۔

یہ سنت الٰہیہ ہے کہ جب کوئی کمیونٹی خیر سے خالی ہونے لگے تو اندر سے کوئی انقلابی قوت اٹھتی ہے اور اس کا دامن خیر سے بھر دیتی ہے یا پھر اس کمیونٹی یا امت کے پہلو سے کوئی دوسری کمیونٹی نئے جوہر علم و ثقافت سے اس کہنہ کمیونٹی پر غلبہ پاتی ہے۔ اس کے دامن سے بچے کچھے خیر کو اپنی خوبیوں میں جمع کرلیتی ہے۔ جدید و قدیم کے اس امتزاج کو Symbiosis کہا جاتا ہے اور یہ تاریخ کا مرغوب ترین طریق عمل ہے۔ قوموں کے درمیان غلبے کی اس جنگ میں اگرچہ جانیں تلف ہوتی ہیں تاہم قرآن کا بیانیہ اسے سودمند قرار دیتا ہے کہ حق و باطل کے درمیان یہ معرکہ آزمائی تاریخ و آدم کی شریانوں میں تازہ خون بھرتی رہتی ہے جس سے دونوں جواں اورتازہ دم رہتے ہیں۔ درحقیقت تاریخ کے قدموں میں نہ تو زنجیر ہے کہ آگے نہ بڑھ سکے اور نہ ہی چکر ہے کہ خود کو دہراتی رہے۔ پالوکوہیلو نے کیا خوب کہا ہے کہ “تاریخ خود کو تب تک دہراتی رہتی ہے جب تک کوئی اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھتا” ورنہ تاریخ کا سفر دائرہ وار کے بجائے مرحلہ وار آگے کیطرف ہوتاہے۔ تاہم جب کوئی تہذیب مکمل طور پر کھوکھلی ہوچکی ہو تو پھر نہ تو اندر سے تبدیلی آتی ہے نہ پہلو سے کوئی قوم اٹھتی ہے، اس شجر تہذیب کا اتلاف ناگزیر ٹھہرتا ہے اور خدائے لم یزل کی قدرت کاملہ کی نظر نخلستانوں کے بجائے صحرائوں اور کہستانوں پرجا ٹھہرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ولادت مصطفیٰ کا مقدمہ لکھتے ہوئے کارلائل کو کہنا پڑاـ “یوں لگتا تھا کہ عظیم تہذیب انسانی کا شیرازہ بکھرنے کوہے جس کی پرداخت و نشونما میں چار ہزار سال صرف ہوئے تھے انسانیت پھر تاریخ کے اس دہانے پر کھڑی تھی جہاں ہر قبیلہ و گروہ باہم دست و گریباں تھا۔۔۔

عیسائیت کی اقدار تازہ کہنگی کا شکار ہو کر اتفاق و اتحاد کے بجائے ابن آدم کو تقسیم درتقسیم کیے جارہی تھیں۔ اس تہذیب کا شجر رعونت جڑوں سمیت اکھڑنے کو تھا کیونکہ اس کے تنے سے جاں نثاری و تکریم انسانی کا جوہر ختم ہوچکا تھا۔ حیات عالم ایک نئے کلچرکی منتظر تھی کیونکہ قدیم اقدار جواز کھو چکی تھیں۔ ۔ فطری تھا کہ اسلام صحرائے عرب کے بندگان حریت کے ضمیروں پر اترے جنہیں کسی آس پاس کے کلچر نے چھوا تک نہ ہو اور ان کا جغرافیہ تین براعظموں کا سنگم ہو”۔ یہ نیا کلچر اتحاد آدم کی بنا اصول توحید پر اٹھا رہا تھا جس کی تخم ریزی خود سیدنا ابراہیم نے فرمائی تھی۔

اس جدید و عظیم کلچر نے نفس مصطفیٰﷺ سے فروغ پانا تھا۔ آنحضورﷺ کو جو نبوت عطا ہوئی وہ آپ کے کسب ذات اور رحمت خداوندی کا حسیں امتزاج ہے۔ قرآن سائنسی اور مذہبی دونوں پیرائے میں بات کرتا ہے، سلسلہ ہائے علت و معلول کو سائنسی طور پر بیان کرتاہے اور جب یہ سلسلہ دم توڑتا ہے تو علت حتمی کا مذہبی پیرائے میں بیان کردیا جاتا ہے جو سائنسی پیرائے کا متبادل ہرگز نہیں بلکہ اسے اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ جب اہلیان مکہ پوچھتے ہیں کہ آپ کو ہی کیوں نبوت ملی اور یہ قرآن دو شہروں (مکہ اورطائف) کے کسی بڑے آدمی پرکیوں نازل نہیں ہوا (43:31)۔ قرآن سائنسی اور مذہبی دونوں پیرائے میں جواب دیتاہے۔ کیا یہ لوگ تیرے خداکی رحمت تقسیم کرتے ہیں(43:33)۔ یہ مذہبی پیرایہ اظہار ہے۔ مگرجب وہ کہتاہے کہ تیرا خدا جانتا ہے کہ نبوت کس کو تفویض کرنی ہے(6:124) یہ سائنسی پیرایہ اظہار ہے جو یہ بتاتا ہے کہ نبوت کیلئے کوئی میرٹ ہے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ ابتلاء و آزمائش کی کسوٹی پر پورے اترے تو حکم باری تعالیٰ ہوا کہ اے ابراہیم ہم آپ کو انسانیت کا امام بنائے دیتے ہیں، پوچھا میری اولاد کے متعلق کیا حکم ہے؟ ظالموں سے ہمارا کوئی وعدہ نہیں؟ جو یہ بتاتا ہے کہ یہ عطائے محض نہ تھی بلکہ ابراہیمؑ کا کسب تھا۔ اگرچہ قرآن کہتا ہے کہ اے پیغمبرکیا آپ نے کبھی گمان بھی کیا تھا کہ آپ کو نبوت عطا ہوگی؟ یعنی ذاتی طور پر آپ نبوت کے متمنی تو کیا ہوتے سان و گمان تک نہ رکھتے تھے مگر “ہم جانتے ہیں کہ نبوت کا تاج کس کے سر پر سجاناہے!ـ بتاتاہے کہ آپ نے غیر شعوری طور پرخود میں ایک حساسیت ضرور پیدا کرلی تھی جو نبوت کیلئے درکار ہوا کرتی ہے، اسی نے غار حرا کو بقعہ نور بنایا، جو تاریخ کے چہرے کا غازہ بنا۔ اور ہاں یہ رتبہ و مقام کسی باب رعایت کے بجائے فصیل شہرمیں در پیدا کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ ورنہ اس کے عدل پر انگلی اٹھ سکتی ہے۔

نفس انسانی صالح اور طالع جبلتوں کا مرکب عظیم ہے، جس طرح مظاہر فطرت میں رات اور دن، اندھیرا اجالا زمین اور آسمان ایک دوسرے کا متضاد ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کی تکمیل ہوتے ہیں، بعینہ خصائل نفس اخلاقی تناو کے باوجود ایک عظیم توازن لیے ہوتے ہیں جو مثل ایسے دو سمندروں کے ہیں جن کے آپس میں ملنے کے اسباب بہم ہوں مگر درمیان میں کوئی ان دیکھا پردہ حائل ہو اور وہ ملاپ سے گریزپا ہوں۔ تخلیق نفس، تخلیق کائنات سے کوئی کم عجوبہ ہرگز نہیں ہے۔ سورۃ شمس میں شمس و قمر، لیل و نہار اور ارض و سماء کی قسم کھا کر بتایا گیا ہے کہ جس طرح یہ عظیم چھ مظاہر فطرت Cosmic order کی ہم آہنگی اور حسن کی چغلی کھا رہے ہیں، نفس انسانی اپنے تضادات کے باوصف تناسب و توازن کا مرقع ہے۔ جس طرح مادہ منویہ (genome) والدین کی طرف سے ملنے والے خواص کا ایک پیکیج ہوتا ہے اسی طرح نفس باہم متجازب و متحارب مگر ناقابل جدا لہروں کا قلزم ہے۔ انسان نفس جملہ خوابیدہ کے بجائے تعبیر شدہ صلاحیتوں کا جوابدہ ہے۔ نفس آدم کو ارادہ و اختیار بخشا گیا چاہے تو خود کو گمراہ کرے چاہے تو ہدایت پائے ہر دو صورت میں خالق حقیقی کو رفیق کار پائے گا۔ مصور کائنات نے یوم ازل متصور کیا تھا کہ نفس کی خوابیدہ صلاحیتوں کا حقیقت میں ڈھلنے کا ایک نکتہ معراج ہے، مقام محمود ہے جو اسے پائے گا محمد کہلائے گا۔ اقبال یہ کہنے میں بجاہے کہ آدم سے عیسیٰ تک ہر نبی میں محمد کے مختلف مدارج تھے، یہ سلسلے گویا Muhammad in the making (تکمیل محمد) کی منازل تھے۔ معراج مصطفیٰ روحانی ہو یا جسمانی ہردو صورت میں نفس مصطفیٰ کی اس وسعت عظیم کا بیان ہے جس نے کارخانہ ہست و بود کی تمام تر حقیقتوں کو کلیت میں اپنے اندر سمو لیا، یہ ادراک کلی کے کشف کا مظہر عظیم ہے۔ افق اعلیٰ پر نفس مصطفیٰ کا حقیقت ازلی سے مصافحہ و معانقہ ہو یا سدرۃ المنتہیٰ پر محمل حقیقت مطلقہ پر سے دست محمد سے پردوں کے سرکنے کا بیان ہو (53:5-18) بہرصورت حقائق اپنی حتمی حالت میں منکشف ہو رہے ہیں۔

۔ عقل و دل مصطفیٰ کے رباب سے وہ نغمے نکلنے لگے جو ساز الہام سے ہم آہنگ ہوئے۔ فکان قاب قوسین اوادنیٰ عالم بشریت وعرش الوہیت کے دو کمان کامل اتصال کے مقام پر پہنچ جاتے ہیں۔ کھلے جاتے ہیں اسرارنہانی،،، گیا دورحدیث لن ترانی۔ موسیٰ زہوش رفت بہ یک جلوہ صفات،،، تو عین ذات نگری و درتبسمی۔ جس ذات کے جلوے نے موسیٰ کا ہوش اڑا دیا تھا تو اس کی بارگاہ میں حالت تبسم میں پہنچا۔ اقبال بتاتے ہیں جرمنی میں ایک ریاضی کے مشاق پروفیسر تھے طلبہ ان سے کوئی مشکل ترین سوال پوچھ بیٹھتے تو وہ جھٹ سے جواب دیتے تھے طلبہ تشریع پوچھتے تو کہتے اس کیلئے دو ہفتوں کی مہلت درکار ہے، المختصر عقل اور وحی کا تطابق ہر فن کے اہل کمال میں پایا جاتا ہے۔ مصطفیٰ کے حضور “زندگی جہد است و استحقاق نیست,, جز بہ علم انفس و آفاق نیست”۔ سو انفس و آفاق کے جملہ حقائق نفس مصطفیٰ میں سمٹ کر وہ حیثیت اختیار کرگئے جو سمندرمیں بلبلے کی ہوا کرتی ہے “لوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجودالکتاب،،، گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

“خطباتِ اقبال” کے پانچویں باب “روح ثقافت اسلامیہ” میں اقبال پیغمبر اسلام کو قدیم و جدید دنیا کے درمیان حیی و قائم دیکھتے ہیں۔ رسول اللہ کا سرچشمہ الہام دنیائے قدیم کی چیز ہے، مگر روح الہام دنیائے جدید سے تعلق رکھتی ہے۔ یوں پیغام مصطفیٰ سے اہل جہاں کو استخراجی عقل (Deductive logic) کی جگہ استقرائی عقل (Inductive logic) ملی۔ باب نبوت تکمیل کو پہنچا، ابن آدم سے وحی کی بیساکھی لیکر اسے اپنے ذرائع (Resources) پر انحصار سکھایا گیا۔ یوں قلیل مدت میں ثقافت اسلامیہ کا لائٹ ہائوس تین براعظموں ایشیاء، افریقہ اور یورپ کو نشان منزل دکھا رہا تھا۔ مغربی اسکالرشپ کی بددیانتی نے راجر بیکن اور ڈیکارٹ کو استقرائی عقل کا موجد قرار دیا جسے ضیاء گو کلپ جیسے مسلم معذرت خواہ اسکالرز نے قبول کرتے ہوئے یہ فراموش کر دیا کہ انہوں نے درسگاہ اسلامیہ کی خوشہ چینی سے کسب فیض کیا تھا اسی لیے اقبال مغربی کلچر کو ثقافت اسلامیہ کی وسیع شکل (Extended form) قرار دیتے ہوئے جاوید نامہ میں کہتے ہیں۔

ہر کجا بینی جہان رنگ و بو
آنکہ از خاکش بر وید آرزو

یاز نور مصطفیٰ اور ابہاست
یا ہنوز اندر تلاش مصطفیٰ است

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20