’’صادقین، شاعر، مصور، خطاط‘‘ پر عمدہ کتاب ——– نعیم الرحمٰن

0

صادقین پاکستان کے مشہورِ عالم مصور تھے۔ جن کا انتقال صرف ستاون برس کی عمر میں 10 فروری 1987ء کو ہوا تھا۔ فن مصوری سے دلچسپی رکھنے والے دنیا بھر کے شائقین صادقین کے نام اور کام سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ صرف مصور ہی نہیں بہت عمدہ خطاط اور باکمال شاعر بھی تھے۔ شاعری میں صادقین نے رباعی جیسی مشکل صنف کو اختیار کیا تھا۔ جس میں صرف چار مصرعوں میں شاعر کو اپنی بات پیش کرنا ہوتی ہے اور اس کا وزن بھی قائم رکھنا ہوتا ہے۔ عمر خیام کا نام ان کی رباعیات کی وجہ سے ہی زندہ ہے۔ راشد اشرف صاحب نے صادقین کی حیات و خدمات کے بارے میں انتہائی دلچسپ کتاب زندہ کتابیں کے سلسلے میں شائع کی ہے۔ جس کا نام ’’صادقین، شاعر، مصور، خطاط‘‘ ہے۔ بہترین کاغذ پر چار سو چھپن صفحات اور سولہ بلیک اینڈ وائٹ تصاویر سے مزین کتاب کی قیمت حسب سابق صرف پانچ سو روپے ہے۔ یہ مطالعہ کے شوقین افراد کے لیے تحفہ خاص کی حیثیت رکھتی ہے۔

اس کتاب میں صادقین کی زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں بھرپور معلومات موجود ہیں۔ صادقین کا پورا نام سید صادقین احمد نقوی تھا۔ وہ تیس جون انیس سوتیس کو امروہہ بھارت میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے آگرہ یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ 1960ء میں صادقین پاکستان آگئے۔ ساری دنیا میں ان کے شاہکاروں کی نمائش ہو چکی ہیں جن میں یورپ، امریکا اور بے شمار ممالک شامل ہیں۔ کراچی اورلاہور میں فن پاروں کی لاتعداد نمائشیں ہوئیں۔ انہوں نے ملک اور ملک سے باہر بہت بڑے میورل بھی بنائے۔ اُنہیں اپنے فن سے عشق تھا۔ صادقین کا فن منہ سے بولتا ہے۔ اُن کا کوئی فن پارہ یا خطاطی کے شاہکار کو دیکھنے والا فوراً سمجھ لے گا کہ صادقین کا جادو ہے۔ امروہہ بھارت کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ لیکن یہاں بہت سے عالمی شہرت حاصل کرنے والے مصور، شاعر، نثر نگار اور فلم نگری کے لوگوں کا تعلق امروہہ سے ہے۔ صادقین بہت اچھے رباعی کہنے والے شاعر تھے۔ انہوں نے ایک رباعی میں اظہار کیا ہے۔

قدرت نے بنایا ہے مصور اے دوست
اور ساتھ میں خوشخطی کا بھی ماہر اے دوست
میں محفل ِ مہر و شاں میں لیکن اکثر
کچھ دیر کو ہو جاتا ہوں شاعر اے دوست

رباعی چار مصرعوں کی ایک مختصر ترین نظم ہوتی ہے لیکن اس میں عقل و دانش، پند و اخلاق، جذبات و تاثرات، رنگ و نور اور جذب و مستی کا عالم پنہاں ہوتا ہے۔ خیام کی رباعی خمریات کا لازوال تحفہ ہے اِس وقت تک زندہ رہے گی جب تک فارسی زبان زندہ ہے۔ یافٹز جیرالڈ کی ترجمے والی زبان دنیا میں بولی اور سمجھی جاتی رہے گی۔ احمد ندیم قاسمی کا کہنا ہے۔

’’صادقین اِس دور کی ایک نابغہ ِ روزگار ایک جینئس شخصیت تھے۔ ان کو بین الاقوامی شہرت بیٹھے بٹھائے نہیں مل گئی تھی۔ بلکہ انہوں نے اپنے فن، مہارت اور عظمت کو یورپ کے نامور نقادانِ فن سے بھی تسلیم کرایا تھا۔ یورپ کی کتنی ہی آرٹ گیلریاں صادقین کی تخلیقات سے مزین ہیں۔ وہ لوگوں کو متاثر کرنا جانتے تھے۔ مگر اس کے پاس جو مقناطیس تھا وہ دراصل اس کے فن کی انفرادیت تھی۔ اس لیے اس نے جسے بھی اپنے فن سے متاثر کیا۔ اسے ہمیشہ کے لیے مسخر کر لیا۔‘‘

بھارتی حکومت نے امروہہ میں صادقین کے والد کے گھر کی ملکیت انہیں پیش کی لیکن صادقین صاحب نے اسے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہاں ایک لائبریری بنا دی جائے۔ ہندوستان کی کئی یونیورسٹیوں میں انہوں نے شاہکار فن پارے بنائے اور انہیں مفت پیش کر دیا۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے انہیں کچھ دینا چاہا تو انہوں نے لینے سے انکار کر دیا۔ کہا کہ بس ایک شیروانی پر علی گڑھ کابیج لگا دیں تا کہ وہ علی گڑھ یونیورسٹی کا طالب علم ہونے پر فخر کر سکیں۔

’’صادقین، شاعر، مصور، خطاط‘‘ میں عالمی سطح کے مشہور و معروف فنکار کے فن اور شخصیت کے مختلف گوشے بہت خوبی سے جمع کیے گئے ہیں۔ ’طلسم ذات‘ کے زیر عنوان پہلے گوشے میں مختلف نامور افراد کے لکھے صادقین کے فن اور شخصیت پر بیس مضامین یکجا کیے گئے ہیں۔ نامور افسانہ نگار اور شاعر احمد ندیم قاسمی نے ’’صادقین کی انفرادیت‘‘ کے نام سے مضمون لکھا ہے۔ مرحوم دانشور اور کمشنر کراچی ہاشم رضا کی تحریر کا عنوان ہے ’’ایک عہد ساز شخصیت‘‘۔ بیورو کریٹ نور الحسن جعفری مرحوم نے ’’صادقین۔ کچھ یادیں‘‘ لکھا ہے۔ بھارت کے مشہور مزاح نگار مجتبٰی حسین ’’صادقین میری نظر میں‘‘۔ دہلی میں پاکستان کے سابق پریس اتاشی منیر احمد شیخ ’’صادقین ایک عجوبہء روزگار‘‘ جبکہ ڈاکٹر محمود الرحمٰن نے ’’صادقین ایک ان کہی کہانی‘‘ تحریر کیا ہے۔ نامور کالم نگار نصراللہ خان کے خاکے کا عنوان’’ صادقین‘‘ اور منو بھائی کا ’’صادقین کی محبوبہ‘‘ ہے۔ ممتاز دانشور اور مصنف مختار زمن نے ’’زندہء جاوید صادقین‘‘ اور دانشور، کالم نگار و افسانہ نگار زاہدہ حنا کے مضمون کا عنوان ’’صادقین کا تصویری سماج‘‘ ہے۔ ڈاکٹر سلمان عباسی نے’’جو بند تھا بوتل میں‘‘ شیخ عزیز نے’’صادقین آج کا پرومو تھیوسس ‘‘ اور کالم نگار توصیف احمدخان نے ’’داتا نگر سے‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے۔ صادقین کے بھتیجے سلطان احمد نقوی نے’’چچا جان‘‘ کے عنوان سے مرحوم کی یادیں تازہ کی ہیں۔ ستارہ جعفری نے ’’صادقین اور سردار جعفری‘‘ کے نام سے مضمون لکھا ہے۔ حسین امین کا مضمون ’’صادقین درپردہء راز‘‘ ہے۔ جاوید صدیق نے’’صادقین سے بات چیت‘‘ لکھا ہے۔ مجاہد لکھنوی نے ’’صادقین اپنے گھر میں‘‘ پیش کیا ہے۔ حسنین جاوید کا مضمون ’’صادقین ایک نیا روپ‘‘ اور پی ٹی ی کے سابق ڈائریکٹر ڈرامہ اور خاکہ نگار آغا ناصر نے ’’صادقین ‘‘ کے نام سے مضمون لکھا ہے۔

ان تمام مضامین کے عنوانات ہی سے صادقین کی زندگی اور فن کے مختلف گوشے واضح ہوتے ہیں۔ دوسرے حصے میں صادقین کے بارے میں کچھ غیر مطبوعہ خاکے اور مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ منظر عباس نقوی کا مضمون ’’بھائی صادقین علی گڑھ میں کچھ یادیں‘‘ اور سید ولی حیدر کا ’’صادقین صاحب کی یادیں‘‘ مرحوم مصور کے بارے میں دلچسپ واقعات سے مرصع ہیں۔ اشفاق حسین نے ’’صادقین پاکستان کا مایہ ناز مصور‘‘ میں ان کے فن پر قلم اٹھایا ہے

گلزار احمد نقوی نے’’صادقین، وہ رنگا رنگ بزم آرائیاں‘‘ میں مرحوم کی محفل آرائی کے قصے بیان کیے ہیں۔ محمد حیدر نقوی نے ’’رشتوں کا مصور صادقین نقوی‘‘ میں ان کی مصوری کے مخصوص پہلو کو اجاگر کیا ہے۔ اس حصے کے آخری میں صادقین مرحوم کا ایک دلچسپ انٹرویو پیش کیا گیا ہے۔

کتاب کا تیسرا حصہ ’’بقلم خود‘‘ اس کتاب کا سب سے انمول حصہ ہے۔ جس میں صادقین صاحب کے قلم کی کچھ تحریریں جن میں ہندوستانی مصوری پر ان کا معلومات سے بھرپور مضمون، مقدمہ رباعیاتِ صادقین، مختصر خود نوشت اور سفرنامہ اور ’’شعر کیا ہے‘‘ مضمون سب یادگار اور ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔

نقدِفن کے نام سے پانچویں حصے میں صادقین کے فن پر فیض احمد فیض کا ’’صادقین ایک صناع، ایک مفکر‘‘، نامور بھارتی مصور ایم ایف حسین کا ’’مصورِ ہندوستان بنام مصور پاکستان‘‘، علی سردار جعفری کا ’’سفیر محبت‘‘، ڈاکٹر نثار احمد فاروقی کا ’’صادقین، شاعر، خطاط اور مصور‘‘، محمد علی صدیقی کا ’’صادقین ایک یگانہ روزگار مصور‘‘، امجد علی اور ریاض صدیقی کا ’’صادقین کا ابتدائی دور‘‘، ابرار کرتپوری کا ’’عالمی شہرت یافتہ خطاط اور مصور‘‘ اور فاروق جمال کا مضمون ’’صادقین کے ساتھ ایک شام‘‘ سب بہت دلچسپ اور مرحوم مصور کی زندگی کے دلچسپ واقعات سے بھرپور ہیں۔

چھٹے حصے میں ’’نقدِ شعر‘‘ کے عنوان سے صادقین کی شاعری کے حوالے سے سبطِ حسن، مالک رام، ڈاکٹر فرمان فتح پوری اور خاطر غزنوی کے مضامین دیے گئے ہیں۔ آخر میں رباعیات صادقین کا انتخاب اور نذرِ فنکار کے نام سے رئیس امروہوی کی صادقین کے فن پر نظم دی گئی ہے۔ گویا کتاب ’’صادقین شاعر، مصور، خطاط‘‘ سید صادقین احمد نقوی کی حیات، شخصیت اور فن پر ایک مکمل اور بے مثال دستاویز ہے۔

سید ہاشم رضا نے اپنے مضمون میں لکھا ہے۔

’’صادقین کا نام ان کے فن سے زندہ جاوید بن گیا ہے۔ ان کا فن ان کی زندگی پر اس طرح محیط ہوا کہ اُنہیں شریکِ حیات کے انتخاب کی فرصت ہی نہ ملی۔ ایک مرتبہ انہوں نے غالب کا یہ شعر پڑھا۔

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

اور کہا کہ میرا تجربہ غالب کے تجربے کے برعکس ہے۔ میری ہر خواہش اللہ نے پوری کی۔ میں نے کبھی کوئی ایسی خواہش نہیں کی جو میری دسترس سے باہر ہو۔ اُنہیں نفس مطمئنہ کی دولت عطا ہوئی تھی جس سے بڑھ کر دنیا کی کوئی دولت نہیں ہے۔ مجھے ان کے والد ماجد سید سبطین احمد نقوی نے بڑے فخریہ انداز سے اپنے بیٹے کا واقعہ سُنایا: 1961ء میں جب میں کربلائے معلی میں مقیم تھا صادقین نے پیرس سے خط بھیجا جہاں ان کی تصویروں کی نمائش ہو رہی تھی اور لکھا کراچی سے پیرس کا آدھا راستہ آپ طے کر چکے ہیں۔ اب آپ آجائیں کیونکہ ایک عرصے سے میں آپ کی زیارت سے محروم ہوں۔ ٹکٹ بھیج رہا ہوں۔ ساتھ ایک پرچے پر اپنا پتہ لکھ رہا ہوں جس کو احتیاط سے وقت سفر اپنی جیب میں رکھ لیجے گا۔ سبطین مرحوم نے کہا کہ جب میں آرلی ایئرپورٹ پیرس پر پہنچا اور جیب میں ہاتھ ڈالا تو پتہ غائب تھا۔ میں اپنی خبط الحواسی پر ہاتھ مل رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اس وسیع شہر میں صادقین کی رہائش گاہ پر پتے کے بغیر کیونکہ پہنچوں گا۔ میں واپسی کے لیے پر تول رہا تھا کہ ایک ایئر ہوسٹس آئی اور پوچھنے لگی کہ آپ کو کہاں جانا ہے، میں نے صرف دو لفظ کہے صادقین فادر۔ وہ فرطِ عقیدت سے اچھل پڑی کیونکہ وہ صادقین کی مداح اور ان کی تصویروں کی دلدادہ تھی۔ اس نے میرا بریف کیس اپنے ہاتھ میں لیا، میرا اسباب نکلوایا اور میرے ساتھ موٹر میں بیٹھ کر مجھے صادقین کے گھر پہنچا دیا۔ صادقین جب اسکول میں پڑھتا تھا تو اسے ڈرائنگ کی لت پڑ گئی تھی۔ جغرافیہ اور حساب کی کاپیوں میں بھی ڈرائنگ ہی کی مشق کرتا تھا۔ میں اکثر اس کی گوشمالی کرتا تھا اور کہتا تھا کہ کیا تم ڈرائنگ ماسٹر بننا چاہتے ہو۔ مجھے کیا خبر تھی کہ یہی ڈرائنگ اسے بین الاقوامی شہرت عطا کرے گی۔‘‘

اس واقعے سے بچپن سے صادقین کی دلچسپی اور مصوری سے ان کی بین الاقوامی مقبولیت کا علم قارئین کر سکتے ہیں۔

احمد ندیم قاسمی ان کے بارے میں لکھتے ہیں۔

’’صادقین ننھی ننھی تختیوں پر انتہائی فنکاری سے لکھی ہوئی اپنی تازہ رباعیوں کو عجیب و غریب نام دیتا ہے۔ وہ تصویروں کی نمائش کو ’ضیافتِ الوانِ و خطوط‘ قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ بڑی سے بڑی ضیافت میں بھی ننھی ننھی پیالیوں میں چٹنی کا بندوبست ضرور ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ رباعیاں اس ضیافتِ الوان کی چٹنی ہیں۔ میں نے بحٰثیت شاعر اس ضیافت میں شرکت کا آغاز اس چٹنی ہی سے کیا اور یہاں بھی مجھے وہ واضح تبدیلی جلوہ گر نظر آئی جو گیلری میں داخل ہوتے ہی نمایاں نظر آتی ہیں۔ جس طرح نمائش کی یہ پہلی تصویر دیکھنے والوں کو ایک نئے صادقین سے متعارف کراتی ہے، اسی طرح گیلری میں داخل ہونے سے پہلے ہی صادقین کے ہاتھ سے جلی حروف میں لکھی ہوئی ایک رباعی لوگوں کو چونکاتی ہے۔ جس میں صادقین نے بظاہر ایک رندانہ اور لا ابالیانہ سا اعلان کیا ہے مگر دراصل اپنی خطاطی اور خاص طور پر قرآن مجید کی سورتوں اور آیتوں کی خطاطی کے سلسلے میں بعض معترضین کی قطعی متعصبانہ رائے زنی سے متعلق اپنے فنکارانہ رد عمل کا اظہار کیا ہے۔‘‘

وہ رباعی ہے۔

لو کر چکا صادقین ترکِ اسلام خطاطی نہیں اب ہے بناتا اصنام
ماتھے پہ وہ اب کھینچ رہا ہے قشقہ کل لوح پہ لکھتا تھا جو اللہ کا نام

نور الحسن جعفری نے اپنی اہلیہ معروف شاعرہ ادا جعفری کا ایک واقعہ لکھا ہے۔

’’صادقین نے ادا نمائش کی بابت اس کا تاثر پوچھا۔ اس نے کہا بہت اچھی ہے۔ صادقین جواب سے مطمئن نہیں ہوئے۔ پھر کسی شاہکار کے بارے میں پوچھا کہ یہ کیسا ہے؟ ادا نے جواب دیا بہت اچھا۔ ان کا اصرار تھا کہ یہ جواب ناکافی ہے۔ ادا نے ان کو دعائیں دیں اور جواب دیا کہ بس آنسوؤں سے ہی اس کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس کا دل چاہتا ہے کہ بیٹھی رہے ان کو تکتی رہے اور آنسو بہتی رہیں۔ کائنات اور خلاقِ عالم کے بارے میں سوچتی رہے اور آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرتی رہے۔ اب صادقین مطمئن ہو گئے۔ دس بارہ دن بعد صادقین کا لاہور سے فون آیا کہ انہوں نے آرٹ کونسل والوں کو ہدایت کر دی ہے وہ ایک خطاطی جوان کو پسند آئی ہے جا کر لے لیں۔ یہ فقیر کا تحفہ ہے۔ فون پر ادا منع کرتی رہیں اور ان کا اصرار جاری رہا۔ غرض ادا کو جا کر وہ خطاطی لانا ہی پڑی۔‘‘

بند میں لوگوں کی زبانی علم ہوا کہ اس خطاطی کے لیے کسی سفیر نے ایک خطیر رقم پیش کی تھی اور صادقین نے انکار کر دیا تھا۔ صادقین سے میں نے استفسار کیا تو انہوں نے تصدیق کی اور کہا کہ اگر میں فروخت کرنا شروع کر دوں تو پیسے والے میرے جواہر پارے لے جائیں گے اور اپنے ڈرائنگ روم میں لگا لیں گے۔ یہ میری توہین ہے۔ یہ واقعہ صادقین کی بے نیازی اور اپنے فن سے بے پناہ لگاؤ کا انداز ہے۔

یہ مشہور عالم فنکار اپنی حد تک روپے سے قطعی بے نیاز تھے۔ کپڑے اور سگریٹوں کے علاوہ ان کا کوئی خرچ نہیں تھا۔ کپڑے بھی معمولی اور زیادہ تر میلے پہنے رہتے۔ پرانا جوتا یا چپل، پرانا موزہ، سردی میں گلے میں مفلر اور شیروانی کے بٹن عموماً کھلے ہوتے لیکن وہ روپے کی اہمیت اور اپنے فن کے مرتبے سے بخوبی آگاہ تھے۔ جب حکومت کا کام کرتے تو پورا معاوضہ وصول کرتے۔ اپنی لا ابالی طبیعت کے باوجود وقت پر کام ختم کرتے۔

منیر احمد شیخ اپنے مضمون میں لکھتے ہیں۔

’’صادقین ایک عجوبہ روزگار تھا۔ مصوروں سے میری دوستی ذرا کم ہی رہی ہے۔ اس گروہ میں میں نے بہت کم لوگ دیکھے ہیں جن کی پرسنیلٹی میں کوئی ایسی پیچیدگی نہ ہو جو طبیعت میں انقباض پیدا کر دیتی ہے۔ صادقین کا معاملہ بھی خاصا ٹیڑھا تھا۔ اس کی صحبت میں من مار کر بیٹھنا پڑتا تھا۔ گفتگو کا مرکز ہمیشہ اس کی اپنی ذات ہوتی تھی جس سے وہ کم ہی باہر نکل پاتا تھا۔ سُننے والا تھوڑی دیر تک تو دلچسپی کا اظہار کرتا مگر پھر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگ جاتے۔ مگر اس کمزوری کے باوجود صادقین زبان و بیان پہ اس قدر قدرت رکھتا تھا کہ سُننے والا تھوڑی دیر کے لیے مبہوت ہو کے رہ جاتا۔ دراصل سارا جادو اس کی شخصیت میں تھا جو دوسروں سے اس قدر مختلف اور نمایاں تھی کہ خود بخود توجہ کا مرکز بن جاتی۔‘‘

صادقین ایک بین الاقوامی نمائشی میلے میں شرکت کے لیے بھارت گیا جہاں ان کا قیام ایک سال سے زیادہ ہو گیا۔ اس دوران انہوں نے کئی شہروں میں تصاویر اور خطاطی کی نمائشیں کیں علی گڑھ یونیورسٹی، بنارس یونیورسٹی، سرنگاپٹم میں ٹیپو سلطان شہید کے مزار، دہلی اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی دیواروں اور چھتوں پر اپنے فن کے نقش ثبت کیے۔ لیکن بھارت میں دوران قیام انہوں نے اپنے کام کو کوئی معاوضہ لینے سے قطعی انکار کر دیا۔ بعض اداروں نے اس کی خدمت کے پیش نظر اسے مناسب طریقے سے نوازنے کی کوشش بھی کی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ اخراجات کے لیے پیسے کی ضرورت ہوتی تو وہ صدرِ پاکستان کو ایک خط لکھتے کہ اس فقیر نے مشرقِ وسطیٰ سے لوٹتے ہوئے زرِمبادلہ کی اتنے لاکھ رقم سرکارِ دولت مدار کے حوالے کی تھی۔ اس میں سے اسے اتنے ہزار بھجوا دیجئے کیونکہ یہ فقیر اپنے نان نفقہ کے لیے ہندوستان میں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا نہیں چاہتا۔

صادقین شاعر، مصور، خطاط میں اس نادرِ روزگار شخص کے بے شمار دلچسپ واقعات مختلف افراد نے پیش کیے ہیں۔ خود صادقین نے اپنی مختصر خود نوشت میں اپنی زندگی کے کئی پہلو بیان کیے ہیں۔ پچاس صفحات کا سفرنامہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ مصوری سے دلچسپی نہ بھی رکھنے والے افراد اس کتاب سے بہت محظوظ ہوں گے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: