مسلم ہیروز اور ڈاکوؤں کا فرق —– لالہ صحرائی

0

آپ نے یہ رٹا تو بہت سنا ہوگا کہ سب ڈاکو مسلمانوں کے ہیروز ہیں مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے، اصل بات کیا ہے، آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

ڈیموکریسی کو لوک تنتر کہا جاتا ہے، یعنی لوگوں کی دی ہوئی بادشاہت، لوک تنتر سے قبل دنیا بھر میں چھینا جھپٹی کا اصول لاگو تھا جسے راج تنتر کہتے تھے، یعنی جو طاقتور ہے وہ جس پر چاہے چڑھائی کر لے، یہ ایڈونچر ہر بادشاہ نے کیا ہے، کوئی بھی یہاں اس حرکت سے خالی نہیں گزرا۔

قدیم بادشاہتوں میں پرشین اور بازنطین ایمپائرز کے درمیان سوا سو سال تک مسلسل چھینا جھپٹی اور قتل و غارت ہوتی رہی ہے، میدان جنگ میں کبھی ایک جیتا تو کبھی دوسرا مگر ایکدوسرے پر قبضہ کرنے کی پوزیشن میں کبھی کوئی بھی نہ آیا البتہ میدان جنگ سے مال غنیمت دونوں ہی اٹھاتے رہے ہیں۔

یہی صورتحال رومن ایمپائر یعنی موجودہ یورپ کے اندر باہمی لڑائیوں میں بھی صدیوں پر محیط رہی ہے، ان میں برٹش مونارچ جس کی تاریخ بہت وسیع ہے اس میں بھی یہی اصول لاگو تھا، کنگ آرتھر کا عہد برٹش ہسٹری میں آرتھیرین۔ایج یا گولڈن۔ایرا کہلاتا ہے، وہ اپنی مذہبی کوئیسٹ کیلئے بھی بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اس بھلے آدمی کو بھی دوسرے مونارچ اسی راج تنتر کے اصول سے چنے چبواتے رہے ہیں، اپنے عہد کے شروع میں یہ ایکبار قریبی مونارچ کے ہاتھوں یرغمال بھی رہ چکا ہے۔

میڈیوال۔ایرا میں برٹش ہیرو رچرڈ لائن ہارٹ حضرت صلاح الدین ایوبی سے جنگ کر کے واپس جا رہا تھا کہ دوسرے مونارچ نے رستے میں گھات لگا کے اسے اٹھوا لیا تھا تاکہ مال غنیمت چھین سکے، گفت و شنید کے بعد رچرڈ اسے پچانوے ہزار پونڈ کے قریب تاوان دیکر رہا ہوا تھا۔

۔بحوالہ میڈیوال ہسٹری۔

اسی طرح قنوج کے راجہ نے راجہ کنک کو ایک نفیس ریشمی کپڑا تحفے میں بھیجا مگر درزی نے یہ کہہ کر سینے سے انکار کر دیا کہ اس میں انسانی پاؤں کی شبیہ نظر آتی ہے، اس کو جس حساب سے بھی کاٹوں پاؤں کا نشان آپ کے اوپر ہی آئے گا، اس حرکت کو راجہ کنک نے اپنی توہین کے مترادف سمجھا اور قنوج کے راجہ پر نہایت خونخوار قسم کی لشکر کشی کر دی جس میں ہزاروں لوگ مارے گئے۔

۔بحوالہ ابو ریحان بیرونی۔

یہ تو تھی چھینا جھپٹی، قتل و غارت اور مال غنیمت لوٹنے کی صورتحال، اب ہیروز کی پوزیشن دیکھتے ہیں۔

بنوامیہ کے طویل دور میں ہمارے پاس صرف چار متفقہ ہیروز ہیں، قتیبہ بن مسلم جسے بنوامیہ نے سپہ سالار بنایا تھا، اندلس کے ساحل پہ کشتیاں جلانے والے طارق بن زیاد صاحب، فاتح سندھ محمد بن قاسم اور حضرت عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ، باقیوں کو لوگ جانتے بھی ہوں تو وہ مسلم ہیروز یا اسلاف میں نہیں آتے۔

Image result for muslim warriors"عباسیوں میں ہارون الرشید اور مامون جنگی ہیروز نہیں لیکن اپنی علمی و سماجی خدمات کے حساب سے سماجی ہیروز کے طور پہ قابل ذکر ضرور ہیں کیونکہ یہ دونوں عروجِ بغداد کے بانی اور اپ۔ہولڈر تھے اسلئے یاد رکھے جاتے ہیں۔

فاطمیوں میں کوئی قابل ذکر نام کسی کو یاد نہیں۔

سامانی ڈائناسٹی جو سب سے وسیع اور طاقتور تھی، لوگ اس کے نام سے بھی واقف نہیں کجا ان کے بادشاہوں کا نام کسی کو پتا ہو۔

الپتگین خراسان میں انہی کا گورنر تھا مگر ایک غلط فہمی کی وجہ سے عبدالمالک کے بیٹے منصور نے اسے ڈی۔سیٹ کرنے کیلئے لشکر بھیج دیا تو جنگ سے بچنے کیلئے یہ اپنی ذاتی سپاہ جو چند ہزار پر مشتمل تھی وہ لیکر غزنی آگیا اور یہاں اپنی حکومت قائم کرلی۔

سبکتگین جو الپتگین کا داماد تھا اس نے بڑھاپے میں راجہ جیپال کے چھکے چھڑا دیئے مگر سامانیوں سے لڑنے کی سکت نہیں رکھتا تھا، بعد مدت کے منصور کے بیٹے امیر نوح نے سبکتگین کو پیغام بھیجا کہ مجھے جگہ جگہ بغاوتوں کا سامنا ہے اسلئے میری مدد کرو۔

سبکتگین نے جواب بھیجا کہ آپ کا خاندان میرے خاندان کا محسن ہے اسلئے میں ضرور آؤں گا مگر آداب کیلئے گھوڑے سے نہیں اتروں گا، یہ رعایت دی جائے۔

امیر نوح نے یہ شرط قبول کرلی اور ان کے استقبال کیلئے شہر سے باہر بہت دور تک چلا آیا لیکن جب ان کا آمنا سامنا ہوا تو تاریخدان لکھتا ہے کہ سامانی حکمران کا شاہی جاہ و جلال دیکھ کے سبکتگین بڑھاپے کے باوجود بلاتوقف چھلانگ لگا کے گھوڑے سے اترا اور معقول طریقے سے شاہی آداب بجا لایا۔

ان کی بغاوتیں رفو کرنے کے صلے میں ہی محمود غزنوی کو سلطان کا لقب اسی امیرنوح کی طرف سے ملا تھا اور مکمل سپورٹ کی شہہ بھی انہی سے ملی تھی گویا محمود غزنوی سامانیوں کی نوکری کرنے اور ان کا حلیف بننے کے بعد ہی سلطان کہلایا تھا۔

کمزوری کی حالت میں بھی ایسا جاہ و جلال رکھنے والے سامانی ایمپائر کے کتنے بادشاہ مسلمانوں کے ہیرو گنے جاتے ہیں اور کتنوں کو لوگ جانتے ہیں؟

ایک بھی نہیں۔

پھر ہندوستان کے بادشاہوں میں مغلِ اعظم اور عالمگیر کا نام ان دس بارہ بادشاہوں میں شامل ہے جو زمانہ قبل مسیح سے لیکر بہادر شاہ ظفر کے سقوط دہلی تک سب سے بڑے جنگجو مانے جاتے ہیں۔

Image result for سبکتگین"ان درجن بھر لوگوں میں اشوکا اور دسرتھ سمیت سب کے سب ہندو راجے ہیں، تاہم بعض ہسٹورین چند ایک خصوصیات کی بنیاد پر ملکہ رضیہ سلطان اور ٹیپو سلطان کو بھی اس لسٹ میں شامل کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ دو ڈھائی ہزار سال پر محیط ہندوستان کی داستان میں مغل اعظم اور عالمگیر جو متفقہ طور پر مہاجنگجو مانے گئے ہیں، ان کی سلطنت بھی سب سے زیادہ وسیع تھی اور ریوینیو بھی سب سے زیادہ انہی کا تھا پھر بھی نہ انہیں مسلمانوں کا ہیرو سمجھا جاتا ہے نہ چور نہ ڈاکو۔

اورنگزیب عالمگیر کو ہندی مسلمانوں کا آدھا طبقہ ہیرو مانتا ہے، دوسرا آدھا نہیں مانتا کیونکہ عالمگیر گورنمنٹ کے ہاتھوں چند صوفیاء کا قتل ان کے ہاں سخت ناپسندیدہ ہے، بیک وقت ہندو اور سکھ بھی اسے اپنا ولن ہی مانتے ہیں۔

محمد شاہ رنگیلا بھی بادشاہ تھا، خاندان غلاماں اور خلجیوں کے درجن درجن بھر بادشاہ بھی لڑ بھڑ کے ہی آئے تھے، ان میں کون ہیرو اور کون ڈاکو قرار دیا گیا؟

سلطان التمش اور اس کی بیٹی ملکہ رضیہ سلطان جیسے نیک دل اور جینئیس لوگ بھی لڑائی کرکے ہی بادشاہ بنے تھے۔

صرف مسلمان ہونا ہیرو قرار پانے کی کوالیفکیشن ہوتی تو سلطان التمش سے زیادہ نیک، انصاف پسند اور ہردلعزیز حکمران یہاں کوئی بھی نہیں گزرا، التمش صاحب کوئی چھوٹے موٹے بادشاہ نہیں بلکہ سلطان الہند کی حیثیت رکھتے تھے، ان کی سب سے بڑی کوالیفکیشن زیارت نبوی علیہ السلام سے مشرف ہونا اور ثانوی طور پر چشتی اولیائے کبار کا منظور نظر ہونا تھا، نماز قضا ہونا تو دور کی بات ہے ان کی تو تکبیر اولیٰ بھی کبھی مس نہ ہوئی تھی پھر بھی یہ مسلمانوں کے جنگجو ہیروز میں شمار نہیں ہوتے۔

تیمورلنگ بھی بادشاہ تھا اور قتل و غارت سے ہی جیتا تھا، بابر بھی جنگلوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے کے بعد اپنے لئے گھر کی تلاش میں ہندوستان آیا تھا اور مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھ کے گیا، اس کے خاندان نے ہاف۔ملینیئم تک کا طویل ترین عرصہ یہاں پر راج کیا ہے مگر بے نام و نشان رہنے والے ترک غلاموں، خلجیوں، ایبکوں، تغلقوں کی طرح کوئی ایک نام جو ان میں سے مسلمانوں کا ہیرو مشہور ہوا ہو؟

ایک بھی نہیں۔

زمانۂ قدیم سے لیکر بہادر شاہ ظفر کے سقوطِ دہلی تک ان گنت ہندو ڈائناسٹیز نے یہاں راج کیا ہے مگر اشوکا، راجہ دسرتھ، راجہ داہر، جیپال اور مرہٹوں کے علاوہ پڑھا لکھا طبقہ بھی کسی ہندو بادشاہ کا نام تک نہیں جانتا، ایسا کیوں ہے؟

اسلئے کہ یہ لوگ خاص حالات میں سامنے آئے تھے اور اپنی قوم کیلئے کچھ خاص کر گئے تھے یا کرنا چاہتے تھے مگر ناکام ہوکے مظلوم کہلائے۔

اسی طرح قتیبہ بن مسلم سے لیکر ایوبی صاحب اور ان سے لیکر ابدالی صاحب تک صرف چند مسلمان جنگجو ایسے ہیں جن کے مدِمقابل قوتیں اپنی مذہبی آئیڈیالوجی کیساتھ لڑی تھیں اسلئے مقابلۃً یہ حضرات مسلمانوں کے جنگی ہیروز قرار دیئے جاتے ہیں۔

لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ ان میں سے چند ہیروز کے ہاتھوں ہندو کے حلیف “ملتان شریف” کی درگت بھی برابر بنتی رہی ہے، مسلمانوں کے ایک محدود طبقے میں اس بات کا ساڑ(جلن) ہر چیز پر حاوی ہو جاتا ہے۔

امید ہے کچھ بادشاہوں کو مسلمان ہیرو قرار دینے کے پس پردہ آئیڈیالوجی کی سمجھ آگئی ہو گی، نہیں آئی تو بھی کوئی مسئلہ نہیں، آپ بیشک ملتان شریف کے غم میں اور ففتھ جنریشن وار کے چاؤ میں شمال مغرب یا بالی ووڈ کی سائیڈ پر کھڑے ہو جائیں، کوئی مضائقہ نہیں، یہ آپ کا جمہوری حق ہے۔

لیکن تاریخ پڑھنے کے اصول یہ بتاتے رہیں گے کہ رومن مونارچز سے لیکر ایسٹ انڈیا کمپنی تک اگر ایک حملہ آور تھا تو سبھی حملہ آور تھے، اگر ایک ڈاکو تھا تو باقی سب بھی ڈاکو ہی تھے، اگر ایک کا بادشاہی حق تھا تو باقی سب کا بھی بادشاہی حق ہی تھا، اسلئے چند مسلمانوں کو ڈاکو کہنا اور غیر مسلم جنگجؤوں کو مظلوم یا اپنے جیسے انسان دوست سمجھنا تعصب کی نشانی تو ہو سکتی ہے قرین انصاف ہرگز نہیں۔

جنگ کے میدان میں چھوڑا ہوا دشمن کا مال و متاع اٹھانا وار۔بوٹی یا وار ٹرافی کہلاتا ہے، یہ ہر قوم کیلئے آج بھی ایسا ہی ہے، کیا ہمارے ٹینک انڈیا میں اور انڈیا کے ٹینک ہمارے عجائب خانے میں نہیں پڑے ہوئے، پھر چیخ چیخ کے لوٹ لوٹ لیا کی گردان کرنا کونسی علمی دریافت ہے؟

مسئلہ دراصل مسلم آئیڈیالوجی کے بازوئے شمشیر زن سے ہے، جہاں یہ بازو مدمقابل کی مذہبی آئیڈیالوجی سے ٹکراتا ہوا نظر آئے گا وہیں پہ ڈاکو ڈاکو کا شور بلند ہوگا ورنہ ان سے بھی بڑے بڑے حکمران گزرے ہیں ان سے ایسا کوئی مسئلہ ہے نہ ان پر ڈاکو ہونے کا کبھی لیبل ہی لگا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20