عورت، جنسی زندگی اور خوشی کا مغالطہ —– اے واجد خان

0

کچھ دن پہلے ایک خاتون لکھاری کی ’عورت کی جنسی زندگی اور خوشیوں کے متعلق‘ تحریر ایک ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔

محترمہ جو کہ پیشے سے ڈاکٹر ہیں کے بہت سے آرٹیکلز مسلسل شائع ہو رہے ہیں۔ جن مین وہ اپنے نظریہ کی تبلیغ کرتی رہتی ہیں۔اور پاکستانیوں کی جہالت وغیرہ پر کبھی رنجیدگی اور کبھی سنجیدگی سے گرفت کرتی رہتی ہیں۔

اس مضمون میں مصنفہ نے بہت سی عجیب و غریب باتین کیں آغاز قبانی کے قول سے کیا جس میں مذہب اور خاص کر سامی مذاہب کی مٹی پلید کی گئی۔ آخر تک پہنچتے محترمہ خاصی جذباتی سی ہوگئیں اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا سرا کسی نامعلوم عورت اور اسکی جنسی رموز و آشنائیوں کے سرے باندھ دیا۔ خیر یہ سب کوئی معنی نہین رکھتا مجھے جو بات چبھی وہ مصنفہ کے اس بہت ہی لمبے مضمون میں کچھ سائنسی دعوی جات تھے۔۔

میرا موضوع ان دعووں میں سے دو دعوی جات ہیں۔
پہلا دعوی مصنفہ نے یہ کیا کہ عورت ہی تمام انسانیت کی ام الذہانت ہے۔ آج پیدا ہونے والا ہر ذی شعور مرد و عورت جس عقل اور ذہانت پر ناز کرتا ہے وہ عورت کے مائٹو کانڈریا سے منتقل ہوتی ہے بچوں میں۔۔۔۔ دوسرا دعوی یہ تھا کہ عورت پر برقعہ چادر اور حتی کہ لباس تھوپنا ان نیچرل ہے کیونکہ اس سے عورت کو سورج کی الٹوائلیٹ ریز (جی ہان اپ بالکل صحیح پڑھ رہے ہیں محترمہ نے الٹراوائیلیٹ ریز ہی لکھا ہے) جذب کرنے سے روکتے ہیں اور اس وجہ سے عورت کے کولہے کمزور ہوجاتے ہیں جس سے بچوں کی پیدائش میں مسائل پیدا ہوتے ہیں اور عورت کی صحت گر جاتی ہے۔

یہ سب پڑھ کر پہلے تو مجھے لگا محترمہ مذاق کر رہی ہیں۔ پھر احساس ہوا کہ نہیں وہ کوئی طنزیہ کمنٹ کر رہی ہیں جسکی ہم جیسے ادب سے بے بہرہ لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی۔ کافی دیر تک یہ گتھی نہیں سلجھی تو مضمون کو شروع سے آخر تک دوبارہ پڑھا، تب ہمیں احساس ہوا کہ محترمہ اس بات میں پوری سنجیدہ ہیں۔ جس سے ہمیں اپنے علم پر شبہ ہوا کہ ہم جاہلوں نے تو پاکستانی مطالعہ پاکستانی تعلیمی ادارون میں پڑھا ہے۔ اور ہمارے بائیولوجی کی کتاب میں لامارک کے تجربے سے پہلے قرآن کی آیتیں لکھی ہوتی تھین۔۔۔ جبکہ ہمارے استاد ہمیں میتھ کی کلاس میں ہندو کافر اور یہودی سازش پڑھایا کرتے تھے ہو نہ ہو ہمین یہ سبق بھی غلط پڑھایا گیا ہے۔۔۔ بس پھر بغیر دیر کیے ہم نے پہلے تو مائی باپ کی کتابوں اور سائٹس سے فرسٹ ہینڈ انفارمیشن لی اور پھر انکو اپنی اردو میں ترجمہ کیا۔۔ لیکن یہ کیا انگریز بھی اپنے ہی ہم خیال نکلے۔۔۔ نیچر سے لیکر یورپیئین جرنل اف ہیومن جینٹکس تک سب چیخ چیخ کر معذرت کر رہے تھے کہ ابھی تک مائٹو کانڈریا میں ایسی کوئی استعداد ہم نے نہیں دیکھی۔۔۔ ہمیں مایوسی تو بہت ہوئی مگر جو کچھ سامنے ایا اسے اپکے سامنے جوں کا توں رکھنے کا گناہ کر رہیں ہیں۔

محترمہ کا یہ دعوی کہ زہانت مکمل طور پر ماں یا عورت سے بچے کو منتقل ہوتی ہے۔ تو محترمہ سے یہ سوال تو بنتا ہے کہ یہ انکشاف جین سارتر یا فرائیڈ رحمہ الیہ نے کونسی کتاب میں کیا ہے؟ (محترمہ کا مضمون سائنسی حقیقتوں سے عورت کی جنسی زندگی کے ثبوت پر تھا مگر محترمہ نے مذہبی متون کے خلاف قلم کا زور توڑنے کے بعد بعد جو دوسرا کام کیا وہ نفسیات دانوں اور ادیبوں کے حوالے کوٹ کرنے کا تھا جس ہمیں لگتا ہے یہ مائٹو کانڈریا والی ریسرچ بھی ان دو ادیب کم نفسیات دانوں ہی کی ہوگی)۔

جینایتی تعلیم اور جرنلز کے مطابق مائٹوکانڈریا میں ٹوٹل 37 جینز ہوتے ہیں جو کہ تیرہ پروٹینز کو کوڈ کرتے ہیں اور یہ تیرہ پروٹینز سیلز کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ ان تمام انزائمز کے سب یونٹس کو پروڈیوس کریں جو کہ آکسیڈیٹیو فاسفورائیلیشن سسٹم کو رن کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ اور یہ سسٹم ایٹ دا اینڈ مائٹوکانڈریا کو سیل کا پاور ہائوس بناتا ہے۔۔۔

دوسری طرف ذہانت جو کہ انسانی جینیات کا آج تک ایک بہت پیچیدہ اور الجھا ہوا مسلہ ہے اسکے بارے میں آج تک کی تحقیق بتاتی ہے کہ ذہانت کے لئے پچاس فیصد تک جینیٹکس انوالو ہے اور پچاس فیصد تک ماحولیاتی فیکٹر۔ اور یہ پچاس فیصد جینیٹکس تقریبا 500 جینز پر مستمل ہے۔ اور ان 500 جینز میں سے بد قسمتی سے فی الحال کوئی بھی جین مائٹوکانڈرین ڈی این اے کا نہیں ہے۔ البتہ ان 500 میں سے زیادہ تر جینز ایکس کروموسوم پر ضرور پائے جاتے ہیں۔۔ اور یہ ایکس کروموسوم ایک عدد مرد میں بھی پایا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔

اب قبل اسکے کہ محترمہ یا کوئی “فسلفیاتی سیکولر جینیات دان” اٹھے اور بولے کے ایکس کروموسوم بھی تو ماں سے انہیرٹ ہوتا ہے بچوں میں تو انکو بتاتا چلوں کہ اب اگر کوئی مصنفہ کی طرح خاتون پیدا ہوگی تو اس میں جو زہانت کے لئے جینز ہونگے وہ ایکس ایکس کروموسومز سے ڈیرائیو ہوں گے اور اس میں اگر ہم سمپل مینڈیلیئن انہیریتینس کے لاء اف انڈیپینڈنٹ اسارٹمنٹ کو امپلیمنٹ کریں تو 50 فیصد زہانت لبنی مرزا میں انکے والد کی طرف سے آئی ہو گی اور پچاس فیصد انکی والدہ کی طرف سے۔ (موصوفہ کو بتاتا چلوں کہ ایکسپشنز ان انہیریٹینس پیٹرنز یا ماڈرن جینیٹکس کے رولز کو میں جان بوجھ کر نہیں اپلائے کر رہا کیونکہ اس سے انکا عورت مضبوط و توانا و ارسطو والا مقدمہ مزید زمین بوس ہونے کے نوے فیصد چانسز ہیں۔۔)
ہاں مرد حضرات میں وہ ذہانتی جینز جو کہ ایکس کروموسوم پر لوکیٹڈ ہیں وہ سارے کے سارے اسکی ماں سے ٹرانسفر ہونگے۔ کیوں کہ اس میں دوسرا ایکس کروموسوم ایگزسٹ ہی نہیں کرتا۔۔۔۔

اب یہاں پر محترمہ کو اگر یہ غلط فہمی لاحق ہوتی ہے کہ یہ بات تو انکے حق میں جاتی ہے تو انکی اطلاع کے لئے عرص کروں کہ ابھی کہانی شروع ہوئی ہے۔۔۔۔ یہ ایکس وائی کا جو کنسیپٹ ہے اس کو ہم اگر ویری بیگننگ کی طرف لیکر جائیں تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو دونوں جوڑے کی شکل میں تھے یا پہلے مرد بنا۔۔۔ عورت کے اکیلے اور پہلے آنے کے محترمہ کے مقدمہ میں جان نہیں رہتی۔۔ کیوں کہ وائی کروموسوم کا مخمصہ پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ کہان سے آگیا۔۔۔

اور ہاں یہ ایکس کروموسمول جینز جو کہ زہانت کے لئے رسپانسبل ہوسکتے ہیں یہ بھی ابھی تک اندازے ہیں اور کوئی مکمل ثبوتوں کے ساتھ یہ بات اسٹیبلش نہیں ہوئی کیوں کہ زہانت میں جو رول انوائرمنٹ پلے کرتی ہے وہ بہت کروشل اور کریٹیکل ہے۔۔۔ اور مختلف سٹدیز ظاہر کرتی ہیں کہ اچھی انوائرمنٹ بری جینیٹکس پر غالب آجاتی ہے بہت سے کیسز میں۔۔۔۔۔

اب آتے ہیں محترمہ کے دوسرے دعوے کی طرف۔۔۔

ذہانت والی بات کے فورا بعد محترمہ الٹراوائیلٹ ریز اور سورج کی شعائیں اور وٹامن ڈی کو برقعہ مذہبیت اور کپڑوں کے ساتھ جوڑ کر عریانیت کا پرچار کر کے اپنے تئیں ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ بس صبح اٹھ کر آپ اگر ننگے پنگے ہوکر سورج کی طرف منہہ کرکے نہیں لیٹتے تو بس آپکی اولاد اور وٹامن ڈی کی کمی سے آپکی کولہوں کی صحت بس اب گئی کہ تب گئی والی بات ہوجائے گی، تو اس پر عرض ہے کہ الٹراوائیلیٹ ریز ڈائیرکیٹ سکن کینسر کاز کرتی ہیں اور انتہائی کارسنیوجینک ہیں۔۔۔۔

یہ بات ٹھیک ہے کہ ان شعائوں میں وٹامن ڈی بھی ہے لیکن ان کا جو الٹی میٹ افیکٹ ہے وہ کارسیونجینک ہے۔ اس ضمن میں ان شعائوں کی تباہ کاری اور انکے اندر موجود وٹامن ڈی کو سمجھنے کے لئے اپ یہ سمجھ لیں کہ جیسے کوئی کہے کہ انڈین فوج کے کشمیر میں ڈیپلائے ہونے کے بہت سے نقصانات کے ساتھ ساتھ کچھ فوائد بھی کشمیریوں کو ہیں مثلا وہاں کے کچھ کشمیری ان فوجیوں پر خوراک یا ایندھن بیچ کر اپنے پیٹ پوجا کر سکتے ہیں اور اس بناء پر کشمیریوں کو چاہیئے کہ انڈین فوج کو چھوٹ دی جائے اور انکی اطاعت کی جائے تو کم ازکم لیول پر بھی ایسے بندے کی دماغی حالت پر شک ہی کیا جا سکتا ہے۔ بالکل ایسی ہی میڈیکل ڈاکٹر اگر روز آپکو بغیر سکن پروٹیکشن کے سن باتھ لینے کا بولے تو اسکی میڈیکیل کی ڈگری پر بھی اور پریکٹس پر بھی۔۔۔۔ اچھا میں کچھ نہیں کہتا آپ خود ہی سمجھ لیں کہ کیا کرنا چاہیئے۔

مکمل بات یہ سامنے آتی ہے کہ محترمہ کے دعوی نمبر ایک اور دو مکمل طور پر جھوٹ اور جہالت ہیں اور محترمہ پر اب یہ بات چھوڑی جاتی ہے کہ وہ اس بات کو کیسے ریسپانڈ کرتے ہیں کیونکہ لبرل ازم میں تو شائد کہانیاں اور رامائنیں چل جائیں لیکن سائنس میں ایسے پبلک پلیٹ فارم پر وہ بھی اکیسویں صدی میں جھوٹ اور تہمتیں باندھنا بہت دل گردے کا کام ہے۔ اور یہ کام پاکستانی اور پاکستان سے مائیگریٹڈ لبرلز ہی اتنے دھڑلے سے کر سکتے ہیں۔

نوٹ: ماں سے بچوں میں زہانت کی انہیرتنس پر پورے انٹر نیٹ پر ایک برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ موجود ہے محترمہ نے شائد اس رپورت کو پڑھ کر اس میں اپنی مرضی سے مائٹو کاندریا کوٹ کر دیا ہے۔ سو اس رپورٹ کا کمنٹس میں زکر کر کے اپنی جہالت کا ثبوت دینے سے گریز کیجیے گا۔۔۔ کیوں کہ وہ ابزرویتری سٹڈی ہے اور کلینکل اور انوٹرو سے ایسے کوئی بھی ثبوت نہیں موجود۔۔۔ اور ایسی رپورٹس آپ ہر دوسرے دن پڑھتے ہوتے ہیں کہ کدو کھانے سے دل کی گردش تیز ہونے کی نئی سائینسی تحقیق۔۔۔ جبکہ دوسرے دن لکھا ہوتا ہے کہ کدو کے پتے کھانے سے دل کا دورہ پڑھنے کے چانسز۔۔۔۔۔ اسی وجہ سے ایسی ابزرویٹری سٹڈیز جو کہ رونامچوں ور ماہناموں میں پبلش ہوتی ہین انکی سائنس کی دنیا مین کوئی ویلیو نہیں ہے جب تک کہ وہ کسی ویلڈ سائنس کے جرنل میں نہ پبلش ہوجائے۔

مزید نوٹ: انسان خواہ وہ عورت ہی کیوں نہ ہو اگر پورے ہفتے میں صرف 15 سے بیس منٹ تک دھوپ میں رہے تو اس کو جسم کے لئے مطلوبہ وٹامن ڈی کی مقدار حاصل ہوجاتی ہے۔

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20