یقین — فرحان کامرانی کا افسانہ

0

عبدالقدوس صاحب سے ان کی تینوں اولادیں ڈرتی تھیں اور ان کی بیگم شاکرہ صاحبہ کانپتی رہتی تھیں۔وہ پچھلے سال ہی ملٹری اکاؤنٹس سے بحیثیت لوئر ڈویژن کلرک رٹائر ہوئے تھے۔ رٹائرمنٹ سے پہلے جب آپ دفتر میں ہوتے آپ کے بچوں کو آپ سے چند گھنٹے کے لئے نجات مل جایا کرتی تھی مگر اب آپ چوبیس گھنٹے سب کے سر پر مسلط رہتے۔ رٹائرمنٹ کے بعد آپ نے داڑھی بڑھا لی تھی اور بہت مذہبی ہو گئے تھے۔ سب گھر والوں کو تلقین کرتے رہتے کہ جن رسوم میں ان کی پرورش ہوئی ہے وہ سب مبنی برشرک و بدعت ہیں۔

لڑکیوں کے لئے ایک اور تلوار سر پر لٹک رہی تھی کہ کہیں ابا جان انہیں جامعہ سے نہ ہٹوا دیں کہ وہاں مخلوط تعلیم ہے۔ بڑی بیٹی سعدیہ کی تو محترم کی مذہبیت کی شروعات کے دو ماہ بعد ہی شادی ہو گئی اور وہ اپنے سسرال سدھار گئی جب کہ فاطمہ کو جامعہ سے ہٹانے کی نوبت یوں نہ آئی کہ وہ شعبہ نفسیات میں پڑھتی تھی جہاں لڑکے شاذ و نادر ہی داخلہ لیتے اس لئے وہ تو مخلوط تعلیم نہیں بلکہ تقریباً پردہ پارک میں پڑھ رہی تھی۔

اگست ۸۸ء میں جب جنرل ضیاء الحق کا طیارہ تباہ ہوا تو عبدالقدوس صاحب ہچکیاں لے کر روئے۔ ویسے تو فاطمہ اپنے والد صاحب سے بہت ڈرتی اور دل سے نفرت کرتی تھی مگر ان کے نئے مذہبی عقائد اس کو کافی مناسب معلوم ہوتے تھے کیونکہ اب محنت کم تھی۔ پہلے تو شب برات پر حلوے بناؤ، میلادوں میں جاؤ، گھر میں میلاد پڑھو، الغرض بڑے محنت کے کام رہتے تھے۔ مگر اب یان سب رسومات سے جان چھوٹ گئی تھی۔اس کی والدہ بھی فوراً اپنے شوہر کے عقائد پر ایمان لے آئیں، اسی دوران گھر کا بڑا بیٹا راشد نوکری کرنے دبئی چلا گیا۔ ہفتے میں ایک دن اس کا فون آتا تھا جو سننے کے لئے فاطمہ اپنی والدہ کے ساتھ رخسانہ آنتی کے گھر جاتی۔ وہ دبئی میں بہت خوش تھا، وہاں باپ کی گھنی چھاؤں نہیں تھی۔ وہ مزے سے وی سی آر پر ہندی فلمیں دیکھتا۔ 1989ء میں واپس آیا اور اس کی شادی کر دی گئی۔ وہ اور اس کی نک چڑھی بیوی ایک ماہ ان کے ساتھ رہے، پھر وہ بیوی کو لے کر دبئی چلا گیا۔ اگلے مہینے جو خط آیا اس میں ایک تصویر بھی تھی۔اس کی بیوی کلر ٹی وی اور فرج کے سامنے کھڑی تھی۔

خیر ایسا نہ تھا کہ وہ گھر پر پیسے نہ بھیجتا ہو۔ اب فاطمہ کے گھر میں بھی کلر ٹی وی تھا، فرج تھا اور ایک ایئر کنڈشنر بھی تھا۔ طرح طرح کی چاکلٹیس اور ٹافیاں بھی دبئی سے آنے والے دوستوں کے ہاتھوں وہ ہر ماہ ہی بھجواتا رہتا۔ راشد دبئی کے مشاعروں، اسٹیج شوز اور قوالی کے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا۔اس نے بڑے شوق سے قوالی کے پروگراموں میں اپنی اور صابری برادران کی تفصیلی ملاقات اور کھڑے ہو کر رنگ اور سلام پرھنے کا احوال ایک خط میں لکھ بھیجا۔ اماں نے خط پرھ کر فاطمہ سے کہا
”یہ خط چھپا دے، ابا کو نہ بتانا، بلاوجہ ناراض ہوں گے۔“

فاطمہ نے ماں کی ہدایت پر عمل کیا۔ ایسے میں ایک روز فاطمہ کی خوشی کی انتہا نہ رہی کہ اس کے ابا نے اپنی جمع پونجی، نوکری کے بقایا جات اور راشد کے بھیجے کچھ پیسوں کو ملا کر نارتھ ناظم آباد ”ایل“بلاک میں اپنا مکان خرید لیا ہے۔ فاطمہ بہت خوش تھی کہ اب وہ لوگ کرائے کے بجائے اپنے مکان میں رہیں گے اور اچھی بات یہ تھی کہ مکان دو منزلہ تھا اور اس میں فون بھی تھا۔ مکان کی نچلی منزل پر کرائے دار رہتے تھے جو اب عبدالقدوس صاحب کے کرائے دار تھے۔ یہ شریف لوگ تھے اور”کمپنی لیز“ پر رہ رہے تھے جبکہ اوپری منزل اب اس گھرانے کا نیا آشیانہ تھی۔

جامعہ میں فاطمہ کو بہت سکون ملتا۔ یہاں وہ اپنے گھر کے حبس سے نکل آتی۔فرسٹ ایئر میں اس کی ایک لڑکے سے دوستی بھی ہوئی تھی مگر وہ ڈرتی بہت تھی۔ وہ اس کو جامعہ کے باہر بھی ملنا چاہتا تھا مگر اس کی ہمت نہ پڑتی تھی۔ اس وجہ سے وہ لڑکا اس سے دور ہو گیا۔ بعد میں کوئی لڑکا اس کی زندگی میں نہ آیا اور اس بات سے فاطمہ کسی حد تک سکون میں آ گئی۔ وہ ”تیز“ لڑکیوں سے بھی تھوڑا دور ہی رہتی۔ اپنی کلاس میں اس کی دوستی صرف ایک لڑکی کے ساتھ تھی۔ وہ لڑکی بہت خاموش طبع تھی اور ایک نوع کی فلسفی تھی۔ وہ ایک ہندو لڑکی تھی جس کا نام سنیتا بھیمانی تھا۔ فاطمہ نے فرسٹ ایئر میں ایک مرتبہ دیکھا تھا کہ سنیتا سے چند جماعتی لڑکیوں نے عقائد پر بحث کی تو اس نے انہیں چپ کرا دیا۔ کبھی کبھی اس کا بھی دل چاہتا کہ وہ اپنی سہیلی سے عقائد پر بحث کرے، شاید وہ اسے ”ہدایت“ پر لے آئے مگر وہ یہ سوچ کر رک جاتی کہ کہیں وہ اپنی واحدسہیلی بھی نہ کھو دے۔

فاطمہ کی کوئی سہیلیاں اس لئے بھی نہ تھیں کہ وہ ان سے کس موضوع پر بات کرتی؟ لڑکیاں ہندی فلمیں وی سی آر پر دیکھ کر آتیں اور ان پر باتیں کرتیں۔ اس کے گھر میں وی سی آر نہ تھا اور نہ ہی اس نے کبھی کوئی بھارتی فلم دیکھی تھی۔ایک مرتبہ ”دور درشن“ ٹی وی پر کیچ ہونے پر اس نے ایک بھارتی فلم تھوڑی سی دیکھی تھی تو والد صاحب گھر آ گئے تھے اور سلسلہ منقطع ہو گیا تھا۔ لڑکیاں اپنے منگیتروں اور بوائے فرینڈز کی باتیں کرتیں، اس کا یہ خانہ بھی خالی تھا، وہ چاہتی تو وہ شدید مذہبی لڑکیوں کی ٹولی میں شامل ہو سکتی تھی مگر یہاں اسے اپنے والد کی بو آ تی اس لئے وہ ان سے بھی دور رہتی۔ ان حالات میں اس کے لئے صرف سنیتا ہی بچی تھی جو اپنے مختلف عقیدے کے وجہ سے سب سے جدا رہتی تھی اور یوں دونوں پکی سہیلیاں بن گئیں۔

ایک روز میڈم فرخ نے سائیکو انالیسزپڑھاتے ہوئے فرائیڈ کا حوالہ دیا۔
“Well girls, Freud was an unrepentant atheist, you know what an atheist is?”
ایک لڑکی نے جواب دینے کے لئے ہاتھ اٹھایا۔
“yes?”
“madam, Communist”
“not exactly, Communism is a social and economic system and yes communists are also atheists but not all atheists are communist”
“Madam!”
“Yes Sunita?”
“Atheist is a person who does not believe in any God or religion”
“yes! that’s right. thank you Sunita, So, Freud was an atheist and He wrote, “The Dogma of religion must fall before the onslaught of reality and science’ for him the reality was science, not religion…”
کلاس کے بعد فاطمہ نے سنیتا سے حیرت سے پوچھا۔
”یار ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو کسی خدا کو نہیں مانتے؟“
”ہاں بالکل، ایسے بہت سے لوگ ہوتے ہیں اور ایسے کئی ملک ہیں جہاں کسی خدا کے ماننے والے بہت ہی کم ہیں، جیسے سوویت یونین، چین، البانیہ وغیرہ۔“
فاطمہ فرائیڈ سے نفرت کرتی تھی، اب اور زیادہ نفرت کرنے لگی۔

دو دن بعد عبدالقدوس صاحب کا خاندان اپنے نئے مکان میں منتقل ہو گیا۔سامان کی منتقلی میں خاندان کے دو لڑکوں نے کافی مدد فراہم کی۔ یہ دونوں کزن فاطمہ میں کافی دلچسپی لیتے تھے۔ نئے گھر میں پانچ کمرے تھے۔ایک کمرہ تو عبدالقدوس صاحب اور ان کی اہلیہ کا ہوا۔ ایک راشد کے لئے رکھ چھوڑا گیا۔ ایک مہمانوں کے رکنے کا کمرہ تھا۔ایک ڈرائنگ روم تھا جب کہ ایک کمرہ فاطمہ کا تھا۔ فاطمہ کا کمرہ سیڑھی چڑھتے ہی بالکل سامنے تھا۔ فاطمہ کو نئے گھر میں آ کر بہت اچھا لگا، مگر ا س نسبتاً بڑے گھر میں اکیلا پن کافی محسوس ہوتا، اس کا دل چاہتا کہ راشد اور سعدیہ بھی آ جائیں، سعدیہ تو خیر مہینے میں ایک دن اپنے میکے رکنے آتی۔ اس کے بیٹے کی وجہ سے گھر میں رونق ہو جاتی۔

یہ لوگ اس نئے مکان میں جمعرات کے دن منتقل ہوئے، اگلے روز جمعہ تھا، یعنی چھٹی۔ گھر کی منتقلی میں کافی تھکاوٹ ہو گئی۔ رات کو عبدالقدوس صاحب، ان کی بیگم صاحبہ اور فاطمہ بے سدھ سوئے، صبح آدھی سوئی آدھی جاگی حالت میں فاطمہ نے ایک عجیب منظر دیکھا کہ ایک نوجوان لڑکا شیروانی پہنے کھڑا ہے اور کمرے میں ہر چیز کو اور فاطمہ کو حیرت سے دیکھ رہا ہے۔ایک لمحے کو یہ لڑکا حیرت اور وحشت سے فاطمہ کو تکتا رہا۔ پھر کمرے میں دیوار میں بنی الماری کو کھول کر چیزوں کو عجیب حیرت سے دیکھتا رہا۔ فاطمہ نے اسی آدھی سوئی آدھی جاگتی حالت میں اس لڑکے کی جرأت پر شدید غصہ ہوتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کی۔ اس کو شدید غصہ یہ دیکھ کر آیا کہ لڑکا اس کا زیر جامہ ہاتھ میں اٹھا کر حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ پھر بڑی تیزی سے وہ لڑکا کمرے سے چلا گیا۔

صبح تقریباً بارہ بجے فاطمہ کی آنکھ کھلی۔ اسے وہ منظر اچھی طرح یاد تھا جو شاید اس نے تین یاچار گھنٹے قبل دیکھا تھا۔ اس کو لگا کہ شاید وہ خواب تھا، بلکہ یقینا وہ خواب ہی تھا۔ اس لئے کہ دروازہ اندر سے مقفل تھا اور کون سا لڑکا شیروانی پہن کر یوں گھومتا ہے؟ وہ اپنے اس خواب کو بھول گئی۔ابا خلاف معمول اچھے موڈ میں تھے اور صبح سویرے حلوہ پوری اور کچوری لے آئے تھے، سب نے ناشتہ کیا۔ابا تیار ہو کر جمعے کی نماز پڑھنے چلے گئے۔ شام کو سعدیہ آ گئی، وہ رات کو رک گئی اور منے کے ساتھ فاطمہ کے کمرے میں ہی سوئی۔ صبح فاطمہ جامعہ چلی گئی۔ ڈاکٹر امام کی کلاس میں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ امام صاحب Hallucinations کی بات کر رہے تھے، ایسے میں بولے،
”ویسے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ Hallucinations صرف Psychotics کو ہوتے ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔ میں خود ایک مرتبہ Hallucinate کر چکا ہوں۔ میں نے اپنے مرحوم والد کو ان کے انتقال کے کئی سال بعد اپنے سامنے کھڑا دیکھا۔ مگر ظاہر ہے میں نے کسی عام آدمی کی طرح اس react نہیں کیا۔ ارے بھئی میں نفسیات کا پروفیسر ہوں، میں تو جانتا ہوں کہ اگر میں مردوں کو دیکھ رہا ہوں تو میں بیمار ہوں نہ کہ مردے مجھ سے ملنے چلے آئے ہیں۔
“I went to professor Mussart Hussain, He is a good friend of mine”
”سر۔ مسرت حسین، مرد کا نام ہے؟“ شازیہ ہنسی۔
”ارے بھی، اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے؟، جب ”فرخ ظہور احمد“ عورت کا نام ہو سکتا ہے تو ”مسرت حسین“ مرد کیوں نہیں ہو سکتا؟“ یہ کہہ کر امام صاحب خود زور سے ہنسنے لگے اور پوری کلاس بھی ہنسی۔
”خیر خیر، تو میں کہاں تھا۔ ہاں میں مسرت حسین کے پاس گیا اور اسے بتایاکہ مجھے Hallucinations ہو رہے ہیں، and I asked for Meditation وہ ہنسے اور بولے کہ اگر مجھے یقین محکم ہو کہ وہ ایک Hallucination تھا، میرے والد اصل میں نہیں تھے تو مجھے دوا کی ضرورت نہیں، Hallucination خود ہی غائب ہو جائے گا اور ہوا بھی ایسا ہی۔“

فاطمہ نے دل میں سوچا کہ وہ بھی اپنا واقعہ سر کو بتائے مگر بھری کلاس میں اس نے یہ واقعہ بتانے کی خود میں ہمت نہ پائی۔ کلاس ختم ہونے کے بعد وہ ہمت کر کے امام صاحب تک گئی۔ ”سر مجھے آپ سے ایک اہم بات کرنی ہے“
”ہوں۔ بتاؤ“ وہ رک گئے۔
”سر مجھے بھی Hallucination ہوا۔ آدھی سوئی، آدھی جاگی حالت میں۔“
”اس کو Hallucination نہیں کہتے۔ Hallucination جاگتی حالت میں ہوتا ہے جیسے تم مجھے دیکھ رہی ہو۔ویسے تمہیں کوئی نظر آئے، سنائی دے، بلکہ بعض لوگوں کو Tactile Hallucination بھی ہوتے ہیں۔ سوتے ہوئے ہو تو Its a dream اور وہ جو آدھے سوتے آدھے جاگتے میں ہوتا ہے Its called… اس کا Exact نام یاد نہیں آ رہا، Glossary دیکھ کر کل بتا دوں گا، Ok۔۔۔ “So its nothing serious”
”مگر سر بالکل اصلی جیسا لگا جیسے“
”ہاں تو اس میں کیا حیرت ہے؟ خواب میں انسانی Logic ختم ہو جاتی ہے۔۔ ویسے دیکھا کیا تھا؟“
”سر۔۔ وہ شیروانی میں ایک لڑکا“ امام صاحب زور سے ہنسے اور فاطمہ شرمندہ ہو گئی۔
“My child, its not Hallucination, its wishful thinking”
”میں جب تمہاری عمر کا تھا تو مجھے بھی خواب میں دلہنیں نظر آتی تھیں۔ میں نے خواب اپنی اماں کو بتایا تو انہوں نے جلدی سے میری شادی کر دی۔تم بھی جلدی سے اماں کو بتا دو خواب۔
“Nothing to worry, its perfectly normal in your age”
یہ کہہ کر وہ اپنے دفتر میں چلے گئے۔
سنیتا اس کے پاس آئی۔ ”تم سر سے کیا پوچھ رہی تھی؟“
”کچھ نہیں یار، ایک خواب دیکھا تھا۔“
”اچھا کیا خواب؟“ اور فاطمہ نے تفصیل سے ساری بات سنیتا کو بتائی جو اس نے بہت دھیان سے سنی، پھر تھوڑی دیر سوچتی رہی اور بولی۔
”آج نہیں آیا وہ لڑکا؟“
”نہیں تو آج نہیں آیا۔“
”ٹھیک ہے، تو پھر آرام سے سونا، اب کیا گھبراہٹ ہے؟“
گھر آنے پر فاطمہ کو معلوم ہوا کہ خلاف معمول سعدیہ آج بھی یہیں رکے گی، اسے خوشی ہوئی۔وہ منے سے کھیلتی رہی۔
اگلے دن جب وہ جامعہ سے واپس آئی تو دروازے کے پاس نیچے والی آنٹی نے اسے روک لیا۔
”ارے ماشاء اللہ کتنی پیاری بچی ہے، تم قدوس بھائی کی بیٹی ہو ناں؟ آؤ ناں، گھڑی بھر ہمارے گھر بھی بیٹھو۔“ آنٹی ضد کر کے اسے اپنے گھر لے گئیں، فاطمہ کو عجیب سا احساس ہوا۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ وہ اپنے کرائے دار کے گھر میں داخل ہو رہی تھی۔ اس نے اب تک کی تمام زندگی بحیثیت کرائے دار گزاری تھی۔ آنٹی کے شوہر سرکاری ملازم تھے اور ان کے تین بیٹے تھے جو جوان تھے اور سب اس کو دیکھ کر ڈرائنگ روم میں آ کر جم کر بیٹھ گئے اور اپنی ماں کی موجودگی میں ہی بے چاری کو بری طرح تاڑنے لگے۔ اماں یہ دیکھ کر مسکرائیں اور چائے بنانے اندر چلی گئیں۔ اب بڑی عجیب صورتحال تھی۔ کمرے میں وہ اکیلی لڑکی تھی سامنے تین عجیب لڑکے بیٹھے تھے۔ وہ تو شکر خدا کا کہ اسی لمحے آنٹی کی بیٹی جو فاطمہ کی ہم عمر تھی وہ بھی ڈرائنگ روم میں آ گئی۔ تینوں لڑکے بہت شوخ تھے اور بڑے کھلے انداز میں پورا خاندان ہر موضوع پر بات کرتا۔

”اچھا فاطمہ، آپ کراچی یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں؟ میں نے بھی وہیں سے ماسٹرز کیا ہے“ متھن چکروتی جیسی صورت اور حلیے والا لڑکا بولا۔
”کس مضمون میں؟“
”میں نے کیمسٹری میں ماسٹرز کیا ہے، ابھی ایک سال مکمل ہوا ہے، یہ سعید پریمیئر کالج سے بی کام کر رہا ہے اور مراد نے انٹر کیا ہے اور فرزانہ سماجیات میں ہے، بی اے آنرز میں۔“
”اچھا آپ بھی KU میں پڑھتی ہیں؟“
”جی ہاں میں نے آپ کو دیکھا ہے، میں نفسیات کے پریکٹیکل میں آئی تھی سبجیکٹ بن کر۔۔ وہ جو آپ لوگ کرواتے ہیں ناں ایک ہاتھ گرم پانی میں ڈلواتے ہیں، ایک ہاتھ ٹھنڈے پانی میں، پھر دونوں ہاتھ نارمل پانی میں۔“
”جی جی ایسا ایک پریکٹیکل ہوتا ہے۔“
”بیٹی تم آج ہمارے ساتھ ہی کھانا کھا کر جاؤ“ آنٹی دوبارہ ڈرائنگ روم میں آ گئیں۔ ہاتھ میں چائے کے بجائے سفید چاول کی ٹرے تھی۔ سعید اور مراد بھی تیزی سے اندر گئے اور رکابیاں،دال کا پیالہ اور جھینگے کا سالن لے آئے۔ کمرے میں اشتہا انگیز کھانے کی خوشبو بھر گئی، فاطمہ اب تکلف میں منع نہ کر سکی۔ سب نے ایک ساتھ کھانا کھایا جو بے حد لذیز تھا۔ ایسا کھانا فاطمہ نے اپنی عمر میں نہیں کھایا تھا۔
متھن چکروتی کا ہم شکل لڑکا(جس کا نام جاوید تھا) اس سے بہت اعتماد سے بات کرتا رہا اور تھوڑی دیر میں ”آپ“ کے بجائے ”تم“ سے کلام کرنے لگا۔
”فاطمہ تمہارا آگے کیا ارادہ ہے؟“ جاوید بولا۔
”ارادہ مطلب؟“
”مطلب نوکری، لوگوں کا ذہنی علاج کرنا یا پھر۔۔۔۔“ وہ مسکرایا۔
”کیسے عجیب لوگ ہیں، اتنے فرینک قسم کے“ فاطمہ نے سوچا۔
”میرا پی ایچ ڈی کرنے کا ارادہ ہے“ فاطمہ نے جھوٹ بولا۔
”یعنی پھرا ہوا دماغ؟“ کمرے میں سب ہنسنے لگے۔
”بیٹی اس کی باتوں کا برا مت منانا۔ یہ ایسا ہی ہے، جب کہ سعید اور مراد خاموش طبع ہیں۔ تم سے پہلے اوپر جو لوگ رہتے تھے وہ بھی بہت اچھے تھے مگر اچانک ہی گھر چھوڑ کر چلے گئے۔ خیر ہم نے بھی الحمد اللہ اپنا گھر نارتھ ناظم آباد میں ہی خرید لیا ہے۔ یہیں بارہویں گلی میں، مگر کرائے داروں کو جانے میں کچھ ماہ لگیں گے۔وہ کینیڈا منتقل ہو رہے ہیں۔“
”پہلے کون لوگ رہتے تھے اوپر؟“ فاطمہ کو تجسس ہوا۔

”پہلے غلام غوث صاحب۔ وہ بھی کرائے دار تھے اس سے پہلے اوپر والی منزل خالی رہی ہے کئی سال، مطلب جب سے ہم یہاں شفٹ ہوئے ہیں تب سے تو خالی ہی تھی اوپر کی منزل، پھر غوث صاحب آئے اور 4 ماہ میں ہی چھوڑ کر چلے گئے۔ وہ بھی کمپنی لیز پر تھے۔ ہمارے پرانے مالک مکان کبھی اس مکان میں خود نہیں رہے۔ بس دونوں منزلیں کرائے پر کمپنی لیز والوں کو ہی دیتے رہے۔ غلام غوث صاحب مقتدرہ قومی زبان میں تھے۔ آپ کے ابو کیا کام کرتے ہیں۔“
”وہ رٹائرڈ ہیں، ملٹری اکاؤنٹس میں نوکری کرتے تھے۔“
”کوئی بھائی نہیں ہے آپ کا“ جاوید نے دریافت کیا۔
”بھائی دبئی میں نوکری کرتا ہے۔“
”اچھا بیٹی پھر امی کو بھی لے کر آنا“ نیچے والی آنٹی نے بہت اخلاق سے دعوت دی۔
جب فاطمہ سیڑھی سے اوپر چڑھی تو اس کی والدہ اور بڑی بہن کھانا کھانے میں مشغول تھے۔
”آج بہت دیر کر دی تم نے؟“
”ابا کہاں ہیں؟“ فاطمہ نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے دریافت کیا۔
”بازار گئے ہیں۔“
”وہ مجھے نیچے والی آنٹی نے روک لیا تھا، میں نے وہیں کھانا کھا لیا۔“
”تیرے ابا کو پتہ چلا کہ تو بغیر بتائے گئی تھی ان کے گھر تو تیری کھال اتار دیں گے۔ تین تین لڑکے ہیں وہاں پر جوان۔“
فاطمہ منہ بنا کر اپنے کمرے میں آ گئی۔
نیچے والی منزل سے دن بھر بھارتی فلموں اور گانوں کی آواز آتی۔ نیچے والوں کے پاس Fx گاڑی بھی تھی، اگلے روز جامعہ میں اس کی ملاقات Zoology کینٹین کے پاس فرزانہ سے ہوئی۔ وہ ایک سنجے دت کا حلیہ بنائے، بڑے بال والے لڑکے ساتھ کھڑی تھی۔ لڑکا APMSO کا تھا اور آرٹس لابی میں اکثر بیٹھا نظر آتا تھا اور کافی بدمعاش مشہور تھا۔ یہ فرزانہ کو “Baby, Baby” کہہ کر بات کر رہا تھا، فاطمہ کو عجیب محسوس ہوا، وہ وہاں سے ہٹ گئی۔

آج سعدیہ اپنے گھر چلی گئی۔ رات کو دیر تک فاطمہ پڑھائی کرتی رہی۔ تقریباً رات کے 1 بجے وہ سو گئی۔ کمرے میں ایک سبز نائٹ بلب جل رہا تھا۔چند گھنٹے بعد کمرے میں کھٹ پٹ کی آواز سے فاطمہ کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے آواز کی سمت میں دیکھا تو سبز روشنی میں اسے ایک لڑکا دیوار میں بنی الماری کھولے کھڑا نظر آیا۔ یہ وہی شیروانی والا لڑکا تھا۔ اس نے خوف سے چیخ ماری۔ لڑکے نے مڑ کر حیرت اور وحشت سے بھری آنکھوں سے فاطمہ کو دیکھا۔ کچھ لمحوں تک اسے یوں دیکھتا رہا جیسے کہ اسے پہچاننے کی سعی کر رہا ہو۔ اس دوران فاطمہ نے چیخ چیخ کر اپنی ماں کو پکارنا شروع کیا، لڑکا کمرے سے نکل گیا۔
تھوڑی دیر میں اس کی والدہ اور والد اس کے پاس بیٹھے تھے، والد صاحب جلال میں تھے۔

”تم کو وہم ہوا ہے۔ میں نے خود تالا ڈالا ہے دروازے میں۔کوئی اندر آ ہی نہیں سکتا اور تم کہہ رہی ہو کہ الماری کھول کر کچھ ڈھونڈ رہا تھا، غور سے دیکھو الماری تو بند ہے۔“
ماں نے بیٹی کو دلاسہ دیا۔ خیر تھوڑی دیر بعد وہ پھر اپنے کمرے میں اکیلی تھی۔ اسے خوف کی وجہ سے نیند نہ آئی۔ وہ کافی دیر بعد فجر کی اذان کے بعد سوئی۔ صبح وہ جامعہ بھی نہ جا سکی، تقریباً 11 بجے گھر کی گھنٹی بجی۔
”جا فاطمہ، برتن لے کر جا، دودھ والا ہو گا۔“
فاطمہ نے دودھ کا برتن اٹھایا اور تیزی سے سیڑھی سے دوڑ کر نیچے پہنچی۔ سامنے ایک بوڑھا شخص سائیکل کے ساتھ کھڑا تھا۔ جس پر دودھ کا بڑا سا دھاتی کنٹینر ایک طرف لٹکا تھا۔ سیڑھی کے سامنے سیمنٹ کی گرل لگی تھی جس کی مد دسے باہر کھڑا شخص اوپر سے آنے والے کو بآسانی دیکھ سکتا تھا۔
دودھ والے نے برتن میں دودھ ڈالا، پھر اپنا سر کھجاتے ہوئے بولا۔
“بیٹا برا نہیں منانا، آپ سیڑھی پر دوڑ کر نہیں اترا کرو۔“
”جی انکل؟ کیوں؟“
”بیٹا، آپ ہماری بیٹی کی عمر کی ہو، اس لئے کہا۔ کبھی ایسے تیزی سے اترنے میں پیر پھسل سکتا ہے، بندہ گر سکتا ہے۔“
”جی انکل“
دوپہر کے وقت جب عبدالقدوس صاحب نماز پڑھنے گئے تو شاکرہ بیگم اپنی بیٹی کے پاس آئیں اور اسے گلے لگا کر بولیں۔
”بیٹا کسی کی باتوں کو اتنا نہیں سوچتے کہ سر پر سوار ہو جائیں۔ تم سے نیچے والی نے یہ لڑکے والی کہانی کہی ناں؟“
”کون سی کہانی؟“ فاطمہ کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔
”یہی دولہا والی؟“
”کیا کہانی؟ کون سا دولہا؟ انہوں نے تو مجھ سے ایسی کوئی بات نہیں کی؟“
”اچھا۔۔“ شاکرہ صاحبہ جیسے سہم گئیں۔ ”اچھا۔۔ بیٹا تم پھر یہ کرو کہ آج سے اس کمرے میں سویا کرو۔“ انہوں نے اپنے کمرے کے برابر والے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔ ”اور یہ پڑھنا مغرب کی نماز کے بعد“
انہوں نے اسے ”منزل“ دی۔
”مگر ابا سے چھپا کے۔ سمجھی وہ یہ سب بدعت سمجھتے ہیں۔“
”لیکن امی آپ کس بات کا ذکر کر رہی تھیں، مجھے کیا بات آپ کے خیال میں نیچے والی آنٹی نے بتائی جو میں نے اپنے ذہن پر طاری کر لی؟ کون سی دولہا والی کہانی؟“
”کچھ نہیں بیٹا، کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے لوگوں کو نئے گھر سے ڈرانے کی، اسے آسیب زدہ ثابت کرنے کی۔ تمہارے ابا کہتے ہیں کہ آسیب وغیرہ کچھ نہیں ہوتا۔ یہ ہندوؤں اور عیسائیوں کا عقیدہ ہے، ہاں جن ہوتے ہیں۔ پہلے تو ہم لوگ نئے گھر میں شفٹ ہونے سے پہلے باہر نقش لگاتے تھے۔ اندر چاروں کونوں پر کیلیں پڑھی ہوئی ٹھونکتے تھے۔ پھر گھر کو سمندر کے پانی سے دھوتے تھے، مگر اب تمہارے ابو نے بتایا ہے کہ یہ سب بدعت ہے۔“

فاطمہ نے ”منزل“ رکھ لی مگر پڑھی نہیں، اسے نہیں لگتا تھا کہ یہ کچھ بھی مافوق الفطرت ہے۔ ہاں اسے یہ ضرور لگا کہ وہ Hallucinate کر رہی ہے۔ اس رات بھی وہ اپنے ہی کمرے میں سوئی۔ اگلے روز وہ جامعہ گئی۔ وہ کلاس کے بعد کینٹین کی طرف جا رہی تھی کہ اسے فرزانہ مل گئی۔ آج وہ اکیلی تھی، اس سے بہت تپاک سے ملی۔
”کیسی ہو؟ آیا کرو ناں ہم لوگوں کے یہاں، تم اس دن کے بعد سے آئی کیوں نہیں؟“
”بس تھوڑی مصروف تھی، تم سناؤ“
”ویسے تم کو کچھ نظر تو نہیں آیا ناں؟“
”کیا مطلب؟ کیا نظر آیا؟“
”ارے تم لوگوں سے پہلے جو تھے ناں اوپر والے ان کو ایک لڑکا نظر آتا تھا وہاں کبھی کبھی، اسی لیے انہوں نے وہ مکان اتنی جلدی چھوڑ دیا۔“
یہ بات سن کر فاطمہ سن ہو گئی۔ اس کے جیسے پیروں سے تلے سے زمین نکل گئی۔
”سوری یار، میرا مقصد تم کو ڈرانا نہیں تھا۔“
”انہیں کیا نظر آتا تھا؟“ فاطمہ نے تھوڑے توقف کے بعد دریافت کیا۔
”بس ایک لڑکا جو شیروانی پہنے ہوئے ہوتا۔“

فاطمہ نے مزید کوئی سوال نہ پوچھا۔ اسے یقین ہو گیا کہ وہ جو دیکھ رہی ہے وہ واقعی میں اس کے دماغ کا خلل نہیں ہے۔ اس کے دماغ میں ہزار خیالات گردش کر رہے تھے، وہ واپس شعبہ نفسیات آئی۔امام صاحب اپنے دفتر سے نکلتے نظر آئے۔ نہ جانے کیوں اس کا دل چاہا کہ انہیں یہ بات بتائے۔ وہ ان کے پاس گئی اور کہا کہ وہ کچھ بتانا چاہتی ہے، وہ رک گئے اور اس کی بات تفصیل سے سنی، پھر مسکرائے۔
”سنو، کیا نام ہے تمہارا؟ ہاں فاطمہ۔۔ Subliminal Perception کے بارے میں پڑھا ہے؟ ہر وقت ہزاروں Stimulus ہمارے ارد گرد ہوتے ہیں مگر ہماری توجہ محض چند پر ہوتی ہے لیکن باقی Stimulus بھی ذہن میں Register ہوتے ہیں جن سے ہم خود بھی آگاہ نہیں ہوتے۔ اب جیسے تمہاری والدہ واقف تھیں اس بھوت والے قصے سے۔ ہو سکتا ہے جو انہوں نے کسی سے اس کا تذکرہ کیا ہو، کسی دوسرے کمرے میں کہ جب تم گھر میں ہو۔ انسانی کان نہایت مدہم آواز بھی سن لیتا ہے مگر وہ شعوری دماغ میں محفوظ نہیں ہوتی مگر لاشعور اسے سے متاثر ہوتا ہے۔پھر نیچے والے آپس میں یہ قصہ دہراتے ہوں گے۔ ایک بات ذہن میں بٹھا لو، انسان مر کر مٹی بن جاتا ہے، روح وغیرہ کچھ بھی نہیں ہوتی۔ جن ون بھی محض قصے کہانیاں ہیں، آگے تم خود سمجھ دار ہو۔“

اب فاطمہ بری طرح کنفیوژڈ تھی۔ وہ سیمینار لائبریری گئی تو سنیتا بیٹھی ایک کتاب پڑھ رہی تھی۔ لائبریری خالی پڑی تھی، اسے سنیتا کو دیکھ کر سکون ملا، وہ اس کے پاس آئی اور اسے ساری بات بتائی۔ وہ غور سے سنتی رہی۔
”تو پھر؟“ سنیتا نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
”تو پھر تم بتاؤ ناں؟“
”میں کیا بتا سکتی ہوں؟ تمہارے ابا کے بقول بھوت نہیں ہوتے، ہاں، جن ہوتے ہیں۔ امام صاحب کے بقول بھوت، جن، روح ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا، آدمی مر کر مٹی بن جاتا ہے، اس لئے کہ۔۔ اس لئے کہ وہ ڈرتے ہیں کہہ نہیں پاتے کہ وہ خدا کو ہی نہیں مانتے۔ مگر بات یہ ہے کہ تم تو ایک لڑکے کو دیکھ رہی ہو، تھوڑی ہمت کر کے اس لڑکے سے پوچھ لو کہ وہ کون ہے اور کیا چاہتا ہے۔“
”تم پاگل ہو گئی ہو؟ میں جن سے پوچھوں کہ وہ کون ہے؟“
”چلو یہ ہی پوچھ لینا کہ وہ جن ہے یا بھوت۔ ویسے میرے دھرم کے مطابق جن کوئی چیز نہیں ہوتی، مگر آنکھوں دیکھی چیز کو کسی بھی عقیدے یا نظریے سے رد کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اگر مجھے جن نظر آئے تو میں اس لئے انکار کر دوں کہ میرے عقیدے میں جن نہیں اور تم کو بھوت نظر آئے تو تم اس لئے آنکھ دیکھے کا انکار کر دو کہ تمہارے عقیدے میں بھوت نہیں۔ اور امام صاحب ہر چیز کا اس لئے انکار کر دیں کہ ان کے نظریے میں یہ دونوں ہی نہیں۔ برا مت ماننا مگر تم لوگ ہی بتاتے ہو کہ پرانے زمانے میں لوگ تمہارے نبیوں کے معجزوں کا انکار کر دیتے تھے۔ اس لئے کہ وہ ان کے عقیدے کے خلاف تھے۔“

”مگر اس سے بات کیسے ہو سکتی ہے؟“
”بس ایسے ہی جیسے مجھ سے کر رہی ہو مگر پہلے آس پڑوس میں پتہ تو کرو کہ وہ ہے کون؟“
فاطمہ گھر پہنچی تو بالکل سن تھی۔ نیچے کی منزل کے دروازے پر جاوید کھڑا نظر آیا وہ پائپ سے باہر کیاری میں پانی ڈال رہا تھا۔ اس نے فاطمہ کو دیکھتے ہی سلام کیا۔
”امی آپ کو بہت یاد کر رہی تھیں“
”جی، ان کوبھی میرا سلام دیں۔“ یہ کہہ کر فاطمہ جلدی سے سیڑھی چڑھ گئی۔ اس نے کھانا کھایا اور اپنی ماں سے اس موضوع پر کوئی بات نہ کی۔ اس کا ذہن الجھا ہوا تھا۔
شام کے چار بجے دروازے پر گھنٹی بجی۔ فاطمہ نے کھڑکی سے دیکھا تو نیچے دودھ والا کھڑا تھا۔ وہ مہینے کے پیسے لینے آیا تھا۔ فاطمہ نے اپنی والدہ سے پیسے لئے اور نیچے گئی، وہ اپنی عادت کے مطابق دوڑتی ہوئی نیچے آئی اور دودھ والے کو پیسے دیے۔
”بیٹا آپ اس سیڑھی پر دوڑ کر اترتی ہو، آپ کو معلوم ہے اس سیڑھی سے گر کر کسی کی موت ہو چکی ہے؟ تھوڑی احتیاط کیا کرو“ یہ کہہ کر دودھ والا جانے لگا تو فاطمہ نے اس سے دریافت کیا کہ کب اور کس کی موت ہوئی تو وہ رک گیا۔
”بیٹا کوئی چار سال پہلے کی بات ہے، اوپر سلیم صاحب کا خاندان رہتا تھا۔ ان کے بیٹے کی شادی تھی، بارات نکل رہی تھی، سب نیچے سڑک پر کھڑے تھے، لڑکا مکمل تیار تھا، غلطی سے کلاہ اوپر بھول آیا۔ پھر اسے یاد آیا تو خود ہی دوڑا، اوپر اپنی شادی کا کلاہ لانے۔آخری سیڑھی سے نیچے گرا، اس کے سر پر ایسی چوٹ لگی کہ اسپتال جانے تک مر گیا۔ شادی کا گھر ماتم کا گھر بن گیا، بیٹا احتیاط کیا کرو ان سیڑھیوں پر“ یہ کہہ کر دودھ والا جانے والا تھا، فاطمہ کا منہ حیرت سے کھلا تھا۔
”انکل اس کا نام کیا تھا، اس لڑکے کا جو ہلاک ہو گیا تھا سیڑھیوں سے گر کر؟“
”فواد نام تھا اس کا میرے خیال میں! خیر بیٹا، خدا حافظ۔“ دودھ والا چلا گیا۔

فاطمہ کا دماغ بری طرح گھوم رہا تھا۔ ”کیا واقعی سب اس کے دماغ کا خلل تھا؟ کیا لڑکے کا بھوت اصل میں تھا؟کیا بھوت ہوتے ہیں؟“ اسی نوع کے خیالات اسے تنگ کر رہے تھے۔وہ ڈرائنگ روم میں آئی اور کھڑکی سے نیچے دیکھا تو اسے نظر آیا کہ جاوید اور دودھ والا تالی مار مار کر کسی بات پر خوب کھلکھلا کر ہنس رہے ہیں۔ اسے عجیب سا محسوس ہوا۔ اب یہ منظر دیکھ کر اس کے دل میں ایک نیا ہی شک جاگ گیا۔ ”کہیں یہ سب افواہ تو نہیں؟ نیچے والے ہی یہ کہانی پھیلا رہے ہوں اور ان کا ہی کوئی لڑکا رات کوبھیس بدل کر آ جاتا ہو؟“ فاطمہ کے ذہن میں خیالات بری طرح الجھ گئے تھے۔
اس رات وہ اپنے ہی کمرے میں دیر تک جاگتی رہی مگر کوئی نہ آیا۔ اگلے دن وہ جامعہ گئی۔ سنیتا سے ایک مذہبی لڑکی بحث کر رہی تھی۔
”آپ لوگ تو چوہے کی بھی پوجا کرتے ہیں۔چوہا تو اتنی گندی چیز ہے۔اس کو بھی آپ لوگ دیوتا مانتے ہیں!“
”بی بی کائنات کی ہر ہر شے میں خدا کا جلوہ ہے، ہم اس جلوے کی پوجا کرتے ہیں، اس چیز کی نہیں۔“
”لیکن ہم تو صرف ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں۔“
”واقعی؟ اور وہ خدا کہاں ہے؟ کائنات میں ظاہر ہے یا اس سے باہر کہیں ہے؟“
”خدا عرش پر ہے، کائنات میں وہ اپنے علم سے موجود ہے۔“
”اچھا، یعنی جیسے ابھی کوئی کلاس میں نہ ہو مگر اسے معلوم ہو کہ ہم کیا بات کر رہے ہیں؟“
”یہ صحیح مثال نہیں ہے لیکن۔۔“
”ارے آپ نے بولا ناں کہ خدا تو عرش پر ہے؟ اب عرش پر ہے تو ہر جگہ نہیں ہے ناں؟“
”ہر جگہ علم سے ہے۔۔“
”چلو ایسا ہی صحیح۔۔ مگر عرش پر خدا موجود ہے Physically؟“
”خدا کے موضوع پر بحث کرنا منع ہے۔“

”ارے میرے خدا کے موضوع پر تو آپ نے بحث کی ناں۔ اب ایسے Backout کیوں کرتی ہو؟ اب آپ نے فرمایا کہ خدا عرش پر ہے، اس کا مطلب کائنات اس سے جدا ہے، یہ کہہ دینے سے خدا کو محدود کر دیا جاتا ہے۔ آپ نے خدا کے لئے ایک Space متعین کر دی حالانکہ خدا Infinite ہے۔ لامحدود کو ہی محدود بنا دینا ہی خدا کے تصور کو محدود بنا دینے کا عمل ہے جو خدا کے نہیں مخلوق کے شایان شان ہے۔“
بحث کرنے والی لڑکی لاجواب ہو کر چلتی بنی۔
”ہاں بھئی، تم نے بھوت سے بات کی؟“
فاطمہ نے اپنی دوست کو غصے سے دیکھا۔ اسے لگا کہ وہ اس کا مذاق اڑا رہی ہے۔ بہرحال اس نے جو واقعہ دودھ والے سے سنا تھا وہ سنیتا کو سنا دیا۔ پھر یہ بھی بتایا کہ اس نے دودھ والے کو جاوید کے ساتھ ہنستے ہوئے دیکھا اور اسے کیا شک ہوا۔
”بس بات سمجھ میں آ گئی۔ اگر وہ بھوت ہے تو وہ اس لمحے میں اٹک گیا ہے۔ وہ اپنی موت کے صدمے سے نہیں نکل پا رہا۔ اگر وہ تمہارے کرائے داروں کا بیٹا ہے تو وہ تم کو ڈرانا چاہ رہا ہے اور اگر تم خود پاگل ہو تو لاشعوری طور پر پاگل خانے جانا چاہ رہی ہو۔“
”پھر میں کیا کروں؟“
”تینوں ہی صورتوں میں اس سے بات کرنے کی کوشش کرنا۔ اس کا نام لینا، دیکھو۔ وہ کیا بتاتا ہے؟“

اس روز فاطمہ جلدی گھر آ گئی۔بعد میں اسے فون پر اس کی ایک کلاس فیلو نے بتایا کہ دوپہر کو جمعیت اور APMSO میں لڑائی ہوئی اور وہ لڑکا جس کے ساتھ اس نے نیچے والی فرزانہ کو دیکھا تھا۔ بری طرح زخمی ہوا اور اسپتال کے راستے میں دم توڑ گیا۔ جامعہ اب غیر معینہ مدت کے لئے بند تھی۔حالات بہت خراب تھے۔ نیچے والوں کے گھر سے رونے کی آوازیں آئیں۔ فاطمہ اور اس کی والدہ ان کے گھر گئے تو معلوم ہوا کہ وہ لڑکا فرزانہ کا باقاعدہ منگیتر تھا اور دونوں کی پچھلے سال منگنی ہوئی تھی۔ اب کئی دن نیچے والوں کے گھر سے بھارتی فلموں اور گانوں کی آواز نہ آئی۔ جامعہ کے یوں غیر معینہ مدت تک کے لئے بند ہو جانے پر فاطمہ بری طرح بور ہو گئی۔ وہ چھت پر گئی اور کونے میں پڑے کباڑ کا معائنہ کرنے لگی۔ یہ سابق مکین چھوڑ گئے تھے۔ ایک کونے میں ایک بریف کیس پڑا تھا جو ڈیزائن سے پرانا نہیں لگتا تھا مگر دھوپ اور بارشیں سہہ کر بوسیدہ ضرور ہو چکا تھا۔ اس نے آ کر اسے کھولا، اندر تھیلیوں میں بند بے سلے کپڑے تھے۔ یہ مانجے کے کپڑے معلوم ہو رہے تھے۔ ”یہ نئے، بے سلے کپڑے کسی نے پھینک کیوں دیے؟“ برابر میں ایک ڈبہ اور پڑا تھا۔ فاطمہ نے وہ کھولا تو اس میں ایک بوسیدہ سی دلہا کا کلاہ رکھا تھا۔ اس کے ذہن میں عجیب خیال آیا۔ وہ یہ کلاہ مع ڈبے کے اپنے کمرے میں لے آئی اور دیوار میں بنی الماری میں رکھ دیا۔ وہ آج رات بڑے آرام سے سوئی۔ رات گئے کمرے میں کھٹ پٹ سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے دیکھا کہ سامنے وہی دلہا کھڑا تھا۔اس کا دل کانپا مگر ہمت جٹا کر وہ کھڑی ہوئی اور کمرے کی بتی جلا دی۔ اب کمرہ روشن تھا۔ وہ لڑکے کے نقوش وضاحت سے دیکھ سکتی تھی۔ یہ 26 یا 27 سال کا لڑکا تھا۔ خوش شکل تھا، گھنگھریالے بال تھے مگر چہرے پر حیرانی اور وحشت جھلک رہی تھی۔ اس نے الماری کھولی اور ڈبہ کھول کرکلاہ سر پر پہن لیا۔ اس کے چہرے سے پہلی مرتبہ وحشت دور ہو گئی۔ وہ مسکرانے لگا اور مڑا۔ اس کی نظر فاطمہ پر پڑی اور وہ سہم گیا۔
”آپ کون ہیں؟“ اس نے حیرت سے فاطمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
”میں فاطمہ ہوں۔“
”فاطمہ؟ آپ میری شادی میں آئی ہیں؟“
”نہیں“ اب چند جملے بول لینے کے بعد جیسے اچانک فاطمہ میں ہمت آ گئی اور سابقہ خوف رفع ہو گیا۔
”نہیں؟ تو پھر آپ اس کمرے میں کیا کر رہی ہیں، سب لوگ تو نیچے انتظار کر رہے ہیں۔“
”نیچے دیکھیں کوئی بھی انتظار نہیں کر رہا“
لڑکے نے کھڑکی سے نیچے جھانکا اور حیرت سے بے حال ہو گیا۔
وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ ”آج تاریخ کیا ہے؟“
”16 فروری 1990“ فاطمہ نے اسے تاریخ بتائی۔
”1988 نہیں ہے؟ جنوری 12، 1988؟“ یہ کہہ کر وہ کمرے سے چلا گیا۔

فاطمہ کو سکون محسوس ہوا مگر ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے کہ اسے اپنے والد کی چیخ کی آواز آئی۔ وہ باہر نکلی تو عبدالقدوس صاحب زمین پر پڑے تڑپ رہے تھے۔ ان کو دل کا دورہ پڑا تھا۔فاطمہ چیخی چلائی تو اس کی والدہ باہر آئیں۔ دونوں نے محلے والوں کو مدد کے لئے پکارا۔ نیچے سے جاوید، سعید اور مراد آ گئے، وہ قدوس صاحب کو اٹھا کر نیچے لائے اور اپنی گاڑی میں ڈال کر اسپتال لے گئے۔ فاطمہ بھی ان کے ساتھ گئی۔ ضیا ء الدین اسپتال میں عبدالقدوس صاحب کو ایمرجنسی میں ایڈمٹ کیا گیا۔فاطمہ کو لگا کہ اب اس نے اپنے والد کو کھو دیا ہے۔ جاوید اسے مستقل دلاسہ دے رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں وہاں پر شاکرہ بی بی اپنی بڑی بیٹی اور داماد کے ساتھ پہنچ گئیں۔ ڈاکٹر نے انہیں اطلاع دی کہ عبدالقدوس صاحب بچ گئے ہیں۔ابھی بے ہوش ہیں مگر خطرے کی بات نہیں ہے۔سب نے رات وہیں گزری۔ سعید اور مراد چلے گئے مگر جاوید ان لوگوں کے ساتھ ہی رہا۔ عبدالقدوس صاحب کو ہوش آیا تو وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسپتال کے کمرے کو دیکھ رہے تھے۔فاطمہ اندر گئی تو انہوں نے اسے قریب بلایا اور ہاتھ پکڑ کر نقاہت بھری آواز میں بولے۔
”وہ انسان نہیں تھا۔ وہ جو تمہارے کمرے سے نکلا تھا۔ شیروانی اور کلاہ والا۔ میں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی تھی، وہ۔۔ وہ کیا تھا؟“
فاطمہ مسکرائی اور بولی ”وہ’یقین‘ تھا مگر آپ فکر نہ کریں، وہ اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔“

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: